সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

مقدمہ دارمی - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৪৭ টি

হাদীস নং: ১৬১
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) کی بارگاہ میں جب کوئی شخص مسئلہ لے کر آتا تو وہ اللہ کی کتاب سے رہنمائی لیتے اگر وہ اللہ کی کتاب میں سے کوئی ایسا حکم پالیتے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکتے تو اس کے مطابق فیصلہ کردیتے اگر اللہ کی کتاب میں وہ بات موجود نہ ہوتی اور اس معاملے میں اللہ کے رسول کی سنت کا علم ہوتا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کردیتے اگر یہ بھی نہ ہوتا تو پھر وہ مسلمانوں سے اس بارے میں دریافت کرتے اور ارشاد فرماتے میرے پاس فلاں فلاں شخص کو لے آؤ اور ارشاد فرماتے کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ کے رسول نے اس بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آپ کے پاس جو لوگ جمع ہوتے تو وہ اس بات کا ذکر کرتے کہ اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا فیصلہ ہے تو حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمارے درمیان ایسے حضرات رکھے ہیں جو ہمارے نبی کے فرامین کا علم رکھتے ہیں لیکن اگر اس بات کا بھی پتہ نہ چلتا کہ اللہ کے رسول کی سنت کا علم نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر (رض) سمجھدار اور بزرگ لوگوں کو اکٹھا کرکے ان سے مشورے کرتے اور جس معاملے میں ان کی رائے متفق ہوتی اس کا فیصلہ کردیتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ الْخَصْمُ نَظَرَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدَ فِيهِ مَا يَقْضِي بَيْنَهُمْ قَضَى بِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ وَعَلِمَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْأَمْرِ سُنَّةً قَضَى بِهِ فَإِنْ أَعْيَاهُ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَتَانِي كَذَا وَكَذَا فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي ذَلِكَ بِقَضَاءٍ فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّفَرُ كُلُّهُمْ يَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ قَضَاءً فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَلَى نَبِيِّنَا فَإِنْ أَعْيَاهُ أَنْ يَجِدَ فِيهِ سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ رُءُوسَ النَّاسِ وَخِيَارَهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَإِنْ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَمْرٍ قَضَى بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
حضرت ابوسہیل بیان کرتے ہیں میری بیوی پر مسجد حرام میں تین دن تک اعتکاف کرنا لازم تھا میں نے اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سوال کیا اس وقت ان کے پاس ابن شہاب موجود تھے۔ ابوسہیل کہتے ہیں میں نے یہ کہا میرے خیال میں اس عورت پر روزہ بھی لازم ہے ابن شہاب نے فرمایا روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے دریافت کیا کیا یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے انھوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا کیا حضرت ابوبکر (رض) سے منقول ہے انھوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سوال کیا کیا حضرت عمر سے منقول ہے انھوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا حضرت عثمان سے منقول ہے انھوں نے جواب دیا نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا میرے خیال میں اس پر روزے رکھنا لازم نہیں ہیں ابوسہیل بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا میری ملاقات طاؤس بن ابی رباح سے ہوئی میں نے ان دونوں حضرات سے سوال کیا طاؤس نے جواب دیا ابن عباس (رض) کے نزدیک ایسی عورت پر روزہ رکھنا لازم نہیں ہے البتہ اس نے روزے کی بھی نذر مانی ہو تو لازم ہوگا عطاء نے جواب دیا میری بھی یہی رائے ہے۔
. أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ قَالَ كَانَ عَلَى امْرَأَتِي اعْتِكَافُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَسَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعِنْدَهُ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ قُلْتُ عَلَيْهَا صِيَامٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا يَكُونُ اعْتِكَافٌ إِلَّا بِصِيَامٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَعَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ عُمَرَ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ لَا قَالَ عُمَرُ مَا أَرَى عَلَيْهَا صِيَامًا فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ طَاوُسًا وَعَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَسَأَلْتُهُمَا فَقَالَ طَاوُسٌ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى عَلَيْهَا صِيَامًا إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ عَلَى نَفْسِهَا قَالَ وَقَالَ عَطَاءٌ ذَلِكَ رَأْيِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
ابونضرہ بیان کرتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ بصرہ تشریف لائے تو میں اور حضرت حسن بصری ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے حضرت حسن بصری سے کہا تم حسن ہو بصرہ میں مجھے سب سے زیادہ تم سے ملاقات کی خواہش تھی اس کی وجہ یہ کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اپنی رائے کے مطابق فتوی دیتے ہو تم اپنی رائے کے مطابق فتوی نہ دیا کرو بلکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے حوالے سے یا اللہ کی کتاب کے حکم کے حوالے سے فتوی دیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو سَلَمَةَ الْبَصْرَةَ أَتَيْتُهُ أَنَا وَالْحَسَنُ فَقَالَ لِلْحَسَنِ أَنْتَ الْحَسَنُ مَا كَانَ أَحَدٌ بِالْبَصْرَةِ أَحَبَّ إِلَيَّ لِقَاءً مِنْكَ وَذَلِكَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُفْتِي بِرَأْيِكَ فَلَا تُفْتِ بِرَأْيِكَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ كِتَابٌ مُنْزَلٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
حضرت جابر بن زید بیان کرتے ہیں وہ طواف کے دوران حضرت ابن عمر (رض) سے ملے تو حضرت ابن عمر (رض) نے ان سے کہا اے ابوشعثاء تم بصرہ کے فقہاء میں سے ایک ہو تم صرف قرآن کے حکم کے ذریعے فتوی دیا کرو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے ذریعے فتوی دیا کرو اگر تم اس کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے فتوی دو گے تو تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرو گے۔
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَقِيَهُ فِي الطَّوَافِ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ إِنَّكَ مِنْ فُقَهَاءِ الْبَصْرَةِ فَلَا تُفْتِ إِلَّا بِقُرْآنٍ نَاطِقٍ أَوْ سُنَّةٍ مَاضِيَةٍ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں ہمارے اوپر ایسا زمانہ آگیا ہے جس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم یہاں رہ سکتے ہیں لیکن بیشک اللہ نے معاملہ طے کردیا ہے ہم نے تبلیغ کردی ہے۔ جیسا کہ تم جانتے ہو آج کے بعد جس شخص کو کوئی مسئلہ درپیش ہو وہ اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں جو موجود ہے اس کے مطابق فیصلے دے اگر ایسی صورت حال ہو جس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں بھی حکم موجود نہ ہو اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کوئی فیصلہ نہ دیا ہو تو وہ اس بارے میں وہ فیصلہ دے جو نیک لوگ فیصلہ کرتے ہیں اور یہ نہ کہے مجھے یہ اندیشہ ہے یا میری رائے ہے کیونکہ حرام واضح ہے اور حلال واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان متشابہہ امور ہیں اس لیے جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر اسے اختیار کر جو شک میں مبتلا نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ لَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَدَّرَ مِنْ الْأَمْرِ أَنْ قَدْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءَهُ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ جَاءَهُ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ وَلَا يَقُلْ إِنِّي أَخَافُ وَإِنِّي أُرَى فَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَالْحَلَالَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
حضرت عبیداللہ بن ابویزید بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) سے جب کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا جاتا وہ قرآن میں موجود ہوتا تو وہ اس حوالے سے بتا دیتے تھے اگر وہ قرآن میں موجود نہ ہوتا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے منقول ہوتا تو وہ اس بارے میں بھی بتا دیتے تھے اگر ایسا بھی نہ ہوتا تو حضرت عمر یا حضرت ابوبکر (رض) سے منقول ہوتا تو وہ اس بارے میں بتا دیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو وہ اپنی رائے کے مطابق جواب دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ فَكَانَ فِي الْقُرْآنِ أَخْبَرَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ قَالَ فِيهِ بِرَأْيِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
شریح بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے انھیں خط میں لکھا اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود ہو تو تم اس کے مطابق فیصلہ کرو اس کے بارے میں لوگوں کی طرف توجہ نہ کرو۔ اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو تو اس بارے میں اللہ کے رسول کی سنت کا جائزہ لو اور اس کے مطابق فیصلہ دو اگر تمہارے پاس ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت موجود نہ ہو تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ لوگ جس معاملے پر متفق ہوں اس کے بارے میں فیصلہ دو اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے اللہ کی کتاب کا حکم موجود نہ ہو اور اس بارے میں سنت موجود نہ ہو اور تم سے پہلے لوگوں نے اس بارے میں کوئی رائے نہ دی ہو تو تم دو میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرسکتے ہو اگر تم چاہو اجتہاد کر کے اپنی رائے کے ذریعے فیصلہ دے کر آگے آسکتے ہو اور اگر چاہو تو اس مسئلے میں سے پیچھے ہٹ جاؤ میرے خیال میں تمہارا اس مسئلے سے پیچھے ہٹ جانا زیادہ بہتر ہے۔
. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَيْهِ إِنْ جَاءَكَ شَيْءٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَاقْضِ بِهِ وَلَا تَلْفِتْكَ عَنْهُ الرِّجَالُ فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَانْظُرْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ بِهَا فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَخُذْ بِهِ فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ قَبْلَكَ فَاخْتَرْ أَيَّ الْأَمْرَيْنِ شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ رَأْيَكَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرْ وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
عمروبن حارث جو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے بھتیجے ہیں۔ وہ حمص سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذ کے شاگردوں کے حوالے سے یہ بات روایت کرتے ہیں حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب انھیں یمن بھیجا تو دریافت کیا اگر تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش کیا جائے تو تم کیا سمجھتے ہو تم کس طرح اس کا فیصلہ کرو گے۔ حضرت معاذ نے جواب دیا : میں اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اگر وہ حکم اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو ؟ حضرت معاذ نے عرض کی اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اگر وہ مسئلہ اللہ کی کتاب میں بھی موجود نہ ہو ؟ تو حضرت معاذ نے عرض کی۔ پھر میں اپنی رائے کے ذریعے اجتہاد کرنے کی کوشش کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے اللہ کے رسول کے نمائندے کو اس بات کی توفیق عطا کی جس کے ذریعے وہ اللہ کے رسول کو راضی کر دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ نَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ كَيْفَ تَقْضِي قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ فتوی دینا اور اس کے بارے میں شدت
حریث بن ظہیر بیان کرتے ہیں میرا یہ خیال ہے کہ حضرت عبداللہ نے یہ بات بیان کی تھی۔ ہمارے سامنے ایک ایسا وقت آگیا ہے جہاں ہم میں سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ہماری یہ حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تقدیر میں طے کی تھی کہ میں بھی وہاں تک پہنچوں جو تم دیکھ رہے ہو جب تم لوگوں سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تو تم اللہ کی کتاب میں اسے تلاش کرو۔ اگر اسے اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو اللہ کے رسول کی سنت میں تلاش کرو۔ اگر اس مسئلے کو اللہ کے رسول کی سنت میں بھی نہ پاؤ تو جس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہو (اس کے مطابق حکم بیان کرو) اور اگر وہ ایسا مسئلہ ہو جس کے بارے میں مسلمانوں کا اتفاق نہ ہو تو تم اپنی رائے کے ذریعے اجتہاد کرو لیکن یہ نہ کہنا کہ مجھے یہ اندیشہ ہے اور میں اس بات سے خوفزدہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں اس لیے تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اور اسے اختیار کرو جس کے بارے میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ أَحْسَبُهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَمَا نُسْأَلُ وَمَا نَحْنُ هُنَاكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْتُ مَا تَرَوْنَ فَإِذَا سُئِلْتُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْظُرُوا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ فَمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَاجْتَهِدْ رَأْيَكَ وَلَا تَقُلْ إِنِّي أَخَافُ وَأَخْشَى فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ جو شخص فتوی دینے سے بچے اور مبالغہ آمیز اور بدعت کے بیان کو ناپسند کرے۔
اعمش بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے لوگو ! عنقریب تم نئی باتیں پیدا کرو گے اور تمہارے سامنے نئی باتیں پیدا ہوں گی۔ جب تم کسی نئی بات کو دیکھو تو پہلے حکم کو اپنے اوپر لازم رکھو۔

حفص نامی راوی یہ بات بیان کرتے ہیں پہلے میں اس روایت کی سند حبیب کے حوالے سے ابوعبدالرحمن کے حوالے سے نقل کرتا تھا لیکن پھر مجھے اس بارے میں شک ہوگیا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ سَتُحْدِثُونَ وَيُحْدَثُ لَكُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مُحْدَثَةً فَعَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْأَوَّلِ قَالَ حَفْصٌ كُنْتُ أُسْنِدُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ دَخَلَنِي مِنْهُ شَكٌّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ جو شخص فتوی دینے سے بچے اور مبالغہ آمیز اور بدعت کے بیان کو ناپسند کرے۔
محمد (نامی راوی) بیان کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے حضرت ابن مسعود (رض) کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ فتوی دیتے ہیں حالانکہ آپ امیر نہیں ہیں اس (بھاری ذمہ داری) کی شدت بھی اسی شخص کے حوالے کرو جو اس کے فائدے کا نگران ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَلَمْ أُنْبَأْ أَوْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تُفْتِي وَلَسْتَ بِأَمِيرٍ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں جو شخص لوگوں کو ہر معاملے میں فتوی دے دیتا ہے وہ دیوانہ ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ الَّذِي يُفْتِي النَّاسَ فِي كُلِّ مَا يُسْتَفْتَى لَمَجْنُونٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں تین طرح کے لوگ دوسروں کو فتوی دے سکتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو حکمران یا ولی ہو۔ دوسرا وہ شخص جو قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم رکھتا ہو۔ لوگوں نے دریافت کیا اے حذیفہ یہ کون شخص ہے (جسے قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم ہو) تو انھوں نے جواب دیا : حضرت عمر بن خطاب (حضرت حذیفہ فرماتے ہیں تیسرا وہ شخص ہے) جو بیوقوف ہو اور اپنی طرف سے ایجاد کرکے گڑھ کر جواب دے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ إِمَامٌ أَوْ وَالٍ وَرَجُلٌ يَعْلَمُ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ الْمَنْسُوخِ قَالُوا يَا حُذَيْفَةُ وَمَنْ ذَاكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৪
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں۔ تین میں سے ایک قسم کا شخص لوگوں کو فتوی دے سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم ہو۔ لوگوں نے دریافت کیا وہ کون شخص ہے حضرت حذیفہ نے جواب دیا وہ حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ حضرت حذیفہ نے مزید بتایا یا دوسرا وہ امیر جس کی ذمہ داری ہی فتوی دینا ہو اور تیسرا وہ بیوقوف شخص جو اپنی طرف سے فتوی دے۔

یہ روایت نقل کرنے کے بعد محمد نامی راوی نے یہ کہا میں پہلی دو قسموں سے تو تعلق رکھتا اور مجھے یہ امید ہے کہ میں تیسری قسم میں بھی شامل نہیں ہوں گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ أَحَدُ ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ عَلِمَ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ مَنْسُوخِهِ قَالُوا وَمَنْ ذَاكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ وَأَمِيرٌ لَا يَجِدُ بُدًّا أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ فَلَسْتُ بِوَاحِدٍ مِنْ هَذَيْنِ وَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ الثَّالِثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৫
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں تم میں سے جس شخص کو جس چیز کا علم ہو اسے اس کے بارے میں بتا دینا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ چونکہ جب کسی عالم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے جس کا علم نہ ہو اور وہ یہ کہ دے اللہ بہتر جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔

تم فرمادو میں اس بات پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگ رہا اور نہ ہی میں اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات بیان کرتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ الْعَالِمَ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
ابومہلب بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی نے اپنے خطبے میں یہ بات بیان کی جو شخص کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ اس کی تعلیم لوگوں کو دے اور کوئی ایسی بات بیان کرنے سے بچے جس کا علم نہ ہو ورنہ دین سے نکل کر ان لوگوں کو صف میں شامل ہوجائے جو اپنی طرف سے بات بنا کر بیان کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ فِي خُطْبَتِهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ وَإِيَّاهُ أَنْ يَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
ابوبختری اور زاذان بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا ہے کلیجے کے لیے سب سے زیادہ ٹھنڈی بات یہ ہے کہ جب مجھ سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا مجھے علم نہ ہو تو میں جواب میں یہ کہہ دوں کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَزَاذَانَ قَالَا قَالَ عَلِيٌّ وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ أَنْ أَقُولَ اللَّهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
ابوبختری حضرت علی (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں یہ بات کلیجے کے لیے کتنی ٹھنڈک کا باعث ہے کہ جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں یہ کہہ دو اللہ بہتر جانتا ہے۔
152. أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ يَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
حضرت علی بن ابوطالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا تمہیں علم نہ ہو تو بھاگنے کی کوشش کرو۔ لوگوں نے دریافت کیا امیرالمومنین بھاگا کیسے جاسکتا ہے۔ حضرت علی (رض) نے جواب دیا تم یہ کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَيْرُ بْنُ عَرْفَجَةَ حَدَّثَنَا رَزِينٌ أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِذَا سُئِلْتُمْ عَمَّا لَا تَعْلَمُونَ فَاهْرُبُوا قَالُوا وَكَيْفَ الْهَرَبُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ تَقُولُونَ اللَّهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০
مقدمہ دارمی
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں
عذرہ تمیمی بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی یہ بات کلیجے کے لیے کتنی ٹھنڈک کا باعث ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا اے امیرالمومنین وہ کیا بات ہے حضرت علی (رض) نے فرمایا جب انسان سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا علم نہ ہو تو وہ جواب میں یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
152. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ عَزْرَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوا وَمَا ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنْ يُسْأَلَ الرَّجُلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক: