মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৪০৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤٠٥) حضرت عبداللہ بن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں اس جنازے کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے جس میں زور سے رونے کی آواز ہو۔
(۱۱۴۰۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نُہِینَا أَنْ نَتْبَعَ جِنَازَۃً مَعَہَا رَانَّۃ۔
(ابن ماجہ ۱۵۸۳۔ طبرانی ۱۲)
(ابن ماجہ ۱۵۸۳۔ طبرانی ۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤٠٦) حضرت حسن اور حضرت محمد عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۴۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَا یَکْرَہَانِ أَنْ تَتْبَعَ النِّسَائُ الْجَنَائِزَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤٠٧) حضرت سوید ارشاد فرماتے ہیں کہ عورت کا گھر کے دروازے سے جنازے کے ساتھ نکلنا مناسب نہیں ہے۔
(۱۱۴۰۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد، قَالَ : لاَ یَنْبَغِی لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَابِ الدَّارِ مَعَ الْجِنَازَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤٠٨) حضرت عمرو بن قیس فرماتے ہیں ہم ایک جنازے میں تھے اور اس جنازے میں حضرت ابو امامہ بھی تھے، آپ اس جنازے میں ایک عورت دیکھی تو اس کو دور کردیا۔
(۱۱۴۰۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ : کُنَّا فِی جِنَازَۃٍ وَفِیہَا أَبُو أُمَامَۃَ فَرَأَی نِسْوَۃً فِی الْجِنَازَۃِ فَطَرَدہُنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤٠٩) حضرت عبداللہ بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسروق کو دیکھا وہ جنازہ میں عورتوں کے چہروں پر مٹی پھینکتے تھے اور ان کو کہتے تھے واپس لوٹ جاؤ۔ اگر وہ لوٹ جاتیں تو جنازہ میں شرکت کرتے ورنہ واپس ہوجاتے اور جنازہ میں شرکت نہ کرتے۔
(۱۱۴۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : رَأَیْتُہ یَحْثِی التُّرَابَ فِی وُجُوہِ النِّسَائِ فِی الْجِنَازَۃِ وَیَقُولُ لَہُنَّ : ارْجِعْنَ ، فَإِنْ رَجَعْنَ مَضَی مَعَ الْجِنَازَۃِ ، وَإِلاَّ رَجَعَ وَتَرَکَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
(١١٤١٠) حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا ہے اور یہ ہم پر لازم اور ضروری نہیں ہے۔
(۱۱۴۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ ، عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : نُہِینَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا۔ (مسلم ۶۴۶۔ ابوداؤد ۳۱۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
(١١٤١١) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازہ میں شریک تھے حضرت عمر نے ایک عورت کو دیکھا جو چیخ رہی تھی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر سے فرمایا : اے عمر چھوڑ دو بیشک آنکھیں اشک بار ہیں اور نفس غم میں مبتلا ہے اور عہد (وعدہ مقررہ) قریب ہے۔
(۱۱۴۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی جِنَازَۃٍ فَرَأَی عُمَرُ امْرَأَۃً فَصَاحَ بِہَا ، فَقَالَ لَہُ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعْہَا یَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَیْنَ دَامِعَۃٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَۃٌ وَالْعَہْدَ قَرِیبٌ۔ (احمد ۲/۴۴۴۔ حاکم ۳۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
(١١٤١٢) حضرت جبار الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام مصعب بن زبیر کے جنازہ میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس بھی سفید گدھی پر سوار موجود تھے جس کو لگام پکڑ کر چلا جا رہا تھا۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس بھی موجود تھے تو انھوں نے چلانے اور چیخنے کی آواز سنی تو میں نے ابن عباس سے عرض کیا یہاں پر یہ ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی یہاں موجود ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے جبارھم سے خود کو دور رکھو (ہم اس کے مکلف نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے۔
(۱۱۴۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ جُبَارِ الطَّائِیِّ ، قَالَ : شَہِدْت جِنَازَۃَ أُمِّ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَفِیہَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی أَتَانٍ لَہُ قمراء یقاد وَعَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، وَابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : فَسَمِعُوا أَصْوَاتَ صَوَائِحَ ، قَالَ : قُلْتُ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ یُصْنَعُ ہَذَا وَأَنْتَ ہَاہُنَا ؟ قَالَ : دَعْنَا مِنْک یَا جُبَارِ ، فَإِنَّ اللَّہَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
(١١٤١٣) حضرت حسن ایک جنازے کے ساتھ نکلے تو اس میں چیخنے کی آوازیں تھی، حضرت ثابت لوٹے تو حضرت حسن نے ان سے کہا کیا آپ باطل کے لیے (کی وجہ سے) حق کو چھوڑ رہے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں (یہ سن کر) وہ جنازے کے ساتھ چل پڑے۔
(۱۱۴۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : خَرَجَ فِی جِنَازَۃٍ فَجَعَلُوا یَصِیحُونَ عَلَیْہَا فَرَجَعَ ثَابِتٌ ، فَقَالَ لَہُ : الْحَسَنُ تَدَعُ حَقًّا لِبَاطِلٍ ، قَالَ : فَمَضَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
(١١٤١٤) حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم کو دیکھا آپ جنازے کے آگے آگے چل رہے ہیں اور عورتیں جنازے کے پیچھے۔
(۱۱۴۱۴) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمًا وَالْقَاسِمَ یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ وَالنِّسَائَ خَلْفَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤١٥) حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ حضرت سعید بن زید پڑھائیں۔
(۱۱۴۱۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : أَوْصَتْ أمُّ سَلَمَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤١٦) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت یونس بن جبیر نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت انس بن مالک پڑھائیں۔
(۱۱۴۱۶) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَوْصَی یُونُسُ بْنُ جُبَیْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤١٧) حضرت عبیدہ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت اسود پڑھائیں۔
(۱۱۴۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی حَصِین : أَنَّ عَبِیدَۃََ أَوْصَی أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ الأَسوَدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤١٨) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مسلمان کے قاضی حضرت شریح پڑھائیں۔
(۱۱۴۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، أَنَّ أَبَا مَیْسَرَۃَ أَوْصَی أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ قَاضِی الْمُسْلِمِینَ شُرَیْحٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤١٩) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت عبداللہ بن یزید پڑھائیں۔
(۱۱۴۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَوْصَی الْحَارِثُ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ یَزِیدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤٢٠) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے ہاں مگر وہ شخص (زیادہ حقدار ہے) جس کے لیے مرنے والا وصیت کرے، اور اگر مرنے والا وصیت نہ کرے تو اھل بیت میں سے جو سب سے افضل ہے وہ جنازہ کی نماز پڑھائے۔
(۱۱۴۲۰) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : مَا عَلِمْت أَنَّ أَحَدًا أَحَقُّ بِالصَّلاَۃِ عَلَی أَحَدٍ إِلاَّ أَنْ یُوصِیَ الْمَیِّتُ ، فَإِنْ لَمْ یُوصِ الْمَیِّتُ صَلَّی عَلَیْہِ أَفْضَلُ أَہْلِ بَیْتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪২০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
(١١٤٢١) حضرت محارب فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ امام وقت کے علاوہ کوئی اور پڑھائے۔
(۱۱۴۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ أَوْصَتْ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہَا سِوَی الإِمَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪২১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام وقت (امام محلہ) کو جنازہ پڑھانے کے لیے مقدم کرنا
(١١٤٢٢) حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امام زیادہ حقدار ہے جو نماز پڑھائے کسی جنازے کی۔
(۱۱۴۲۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عبد العزیز بن عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : الإِمَامُ أَحَقُّ مَنْ صَلَّی عَلَی الجِنَازَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪২২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام وقت (امام محلہ) کو جنازہ پڑھانے کے لیے مقدم کرنا
(١١٤٢٣) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابراہیم کے ساتھ ایک جنازے پر گیا جس کے والی حضرت ابراہیم (خود) تھے۔ آپ نے محلہ کے امام کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(۱۱۴۲۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ذَہَبْت مَعَ إبْرَاہِیمَ إلَی جِنَازَۃٍ ہُوَ وَلِیُّہَا ، فَأَرْسَلَ إلَی إمَامِ الْحَیِّ فَصَلَّی عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪২৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام وقت (امام محلہ) کو جنازہ پڑھانے کے لیے مقدم کرنا
(١١٤٢٤) حضرت غنام بن طلق فرماتے ہیں حضرت ابو بردہ اپنے غلام کے جنازے پر حاضر ہوئے آپ نے محلہ کے امام کو حکم فرمایا کہ وہ آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائیں۔
(۱۱۴۲۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَمِّہِ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : شَہِدَ أَبُو بُرْدَۃَ مَوْلاَۃً لَہُ فَأَمَرَ إمَامَ الْحَیِّ فَتَقَدَّمَ عَلَیْہَا۔
তাহকীক: