মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১৪৮৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٨٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے، حضرت ابوبکر وعمر ھمارے لیے نماز جنازہ میں (کوئی مخصوص) دعا ظاہر نہیں فرمائی۔
(۱۱۴۸۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَا بَاحَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ أَبُو بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ بِشَیْء ۔ (ابن ماجہ ۱۵۰۱۔ احمد ۳/۳۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٨٦) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے اور تیس صحابہ کرام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نماز جنازہ کے بارے میں نہیں دوام کرتے تھے کسی چیز کے بارے میں (کوئی مخصوص دعا نہ پڑھتے تھے) ۔
(۱۱۴۸۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ ثَلاَثِینَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُمْ لَمْ یَقُومُوا عَلَی شَیْئٍ فِی أَمْرِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٨٧) حضرت ابراھیم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مخصوص دعا نہیں ہے جو دل چاہے مانگو۔
(۱۱۴۸۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: لَیْسَ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ دُعَائٌ مُوَقَّتٌ، فَادْعُ بِمَا شِئْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٨٨) حضرت سعید بن المسیب اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میت کے لیے کوئی مخصوص اور مقرر دعا نہیں ہے۔
(۱۱۴۸۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : لَیْسَ عَلَی الْمَیِّتِ دُعَائٌ مُوَقَّتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٨٩) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد سے نماز جنازہ کی دعا کے بارے میں دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا ہمیں تو کوئی مخصوص اور مقرر دعا معلوم نہیں ہے۔ جو اچھی دعا آپ کو معلوم ہو وہ پڑھ لو۔
(۱۱۴۸۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ ، فَقَالَ : مَا نَعْلَمُ لَہُ شَیْئًا مُوَقَّتًا ادْعُ بِأَحْسَنَ مَا تَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٩٠) حضرت بکر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر اور مخصوص دعا نہیں ہے۔
(۱۱۴۹۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد ، عَنِ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ شَیْئٌ مُوَقَّتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٩١) حضرت موسیٰ الجھنی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم ، حضرت شعبی ، حضرت عطائ اور حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے۔ سب حضرات نے فرمایا : نہیں، آپ تو اس کی سفارش (شفاعت) کرنے والے ہیں، پس جو اچھی سفارش آپ جانتے ہو وہ پڑھ لو۔ (کر لو) ۔
(۱۱۴۹۱) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَالشَّعْبِیَّ وَعَطَائً وَمُجَاہِدًا أَفِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ شَیْئٌ مُوَقَّتٌ ؟ فَقَالُوا : لاَ إنَّمَا أَنْتَ شَفِیعٌ فَاشْفَعْ بِأَحْسَنَ مَا تَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
(١١٤٩٢) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سنا۔ آپ فرماتے ہیں نماز جنازہ میں کوئی مقرر دعا نہیں ہے۔
(۱۱۴۹۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَیِّتِ لَیْسَ فِیہِ شَیْئٌ مُوَقَّتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے کی تکبیرات اربع کے بعد کیا پڑھے گا
(١١٤٩٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ پہلی تکبیر میں ابتدا کرے گا حمد وثنا سے ، دوسری تکبیر میں درود پڑھے گا اور تیسری تکبیر میں میت کے لیے دعا اور چوتھی کے بعد سلام۔
(۱۱۴۹۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ فِی التَّکْبِیرَۃِ الأُولَی ، یُبْدَأُ بِحَمْدِ اللہِ وَالثَّنَائِ عَلَیْہِ ، وَالثَّانِیَۃُ صَلاَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالثَّالِثَۃُ دُعَائٌ لِلْمَیِّتِ ، وَالرَّابِعَۃُ لِلتَّسْلِیمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے کی تکبیرات اربع کے بعد کیا پڑھے گا
(١١٤٩٤) حضرت علاء بن المسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی جب نماز جنازہ پڑھتے تو اللہ کی حمد سے ابتدا کرتے پھر درود پڑھتے پھر یہ دعا پڑھتے۔

اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَحْیَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَی قُلُوبِ خِیَارِنَا۔
(۱۱۴۹۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا صَلَّی عَلَی مَیِّتٍ یَبْدَأُ بِحَمْدِ اللہِ وَیُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ یَقُولُ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَحْیَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِنَا ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا ، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَی قُلُوبِ خِیَارِنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے کی تکبیرات اربع کے بعد کیا پڑھے گا
(١١٤٩٥) حضرت سعید بن ابی المقبری فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ سے دریافت فرمایا کہ آپ نماز جنازہ کیسے ادا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں بتاؤں گا، تکبیر پڑھتا ہوں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتا ہوں، پھر میں یہ دعا پڑھتا ہوں۔ اللَّہُمَّ عَبْدُک ، أَوْ أَمَتُک، کَانَ یَعْبُدُک لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ، إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِی إحْسَانِہِ ، وَإِنْ کَانَ مُخْطِئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ ، اللَّہُمَّ لاَ تَفْتِنَّا بَعْدَہُ ، وَلاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ ۔
(۱۱۴۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدٍ بن أبی سعید الْمَقْبُرِیِّ ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ : کَیْفَ تُصَلِّی عَلَی الْجِنَازَۃِ ؟ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَنَا لَعَمْرُ اللہِ أُخْبِرُک أُکَبِّرُ ، ثُمَّ أُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقُولُ: اللَّہُمَّ عَبْدُک ، أَوْ أَمَتُک ، کَانَ یَعْبُدُک لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئًا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ، إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِی إحْسَانِہِ ، وَإِنْ کَانَ مُخْطِئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ ، اللَّہُمَّ لاَ تَفْتِنَّا بَعْدَہُ ، وَلاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے کی تکبیرات اربع کے بعد کیا پڑھے گا
(١١٤٩٦) حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام شعبی سے سنا، آپ فرماتے ہیں، پہلی تکبیر میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا پڑھے، دوسری میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھے، تیسری میں میت کے لیے دعا کرے اور چوتھی کے بعد سلام ہے۔
(۱۱۴۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُہ یَقُولُ : فِی الأُولَی ثَنَائٌ عَلَی اللہِ تَعَالَی، وَفِی الثَّانِیَۃِ صَلاَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَفِی الثَّالِثَۃِ دُعَائٌ لِلْمَیِّتِ، وَفِی الرَّابِعَۃِ تَسْلِیمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازے کی تکبیرات اربع کے بعد کیا پڑھے گا
(١١٤٩٧) حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہ سے سنا وہ حضرت سعید بن المسیب سے بیان کرتے ہیں کہ نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے سورة الفاتحہ پڑھیں، پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھیں، پھر میت کے لیے دعا کی جائے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤ اور یہ صرف ایک بار پڑھنا اور پھر اپنے جی میں سلام پھیرنا۔
(۱۱۴۹۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : مِنَ السُّنَّۃِ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْجِنَازَۃِ أَنْ تَقْرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، ثُمَّ تُصَلِّیَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ یُخْلِصَ الدُّعَائَ لِلْمَیِّتِ حَتَّی یَفْرُغَ ، وَلاَ تَقْرَأَ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ تُسَلِّمَ فِی نَفْسِکِ۔

(عبدالرزاق ۶۴۲۸۔ ابن الجارود ۵۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٤٩٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر جنازے کی ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔
(۱۱۴۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ عَلَی الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(٩٩ ١١٤) حضرت غیلان بن انس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نماز جنازہ کی ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے۔
(۱۱۴۹۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ من تکبیر الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٥٠٠) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نماز جنازہ کی ہر تکبیر میں رفع یدین فرماتے، اور جو ان کے پیچھے (مقتدی) تھے وہ بھی رفع یدین کرتے۔
(۱۱۵۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ وَمَنْ خَلْفَہُ یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٥٠١) حضرت موسیٰ بن نعیم جو کہ حضرت زید بن ثابت کے غلام تھے، فرماتے ہیں سنت میں سے ہے کہ نماز جنازہ کی ہر تکبیر میں رفع یدین کیا جائے۔
(۱۱۵۰۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ نُعَیْمٍ مَوْلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ تَرْفَعَ یَدَیْک فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ مِنَ الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٥٠٢) حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو دیکھا کہ آپ نے جنازے پر چار تکبیرات پڑھیں اور ہر تکبیر میں پر ہاتھ اٹھا رہے تھے۔
(۱۱۵۰۲) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمًا کَبَّرَ عَلَی جِنَازَۃٍ أَرْبَعًا ، یَرْفَعُ یَدَیْہِ عِنْدَ کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٥٠٣) حضرت عمر بن ابی زائدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قیس بن ابی حازم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے ہر تکبیر میں رفع یدین کیا۔
(۱۱۵۰۳) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عُِمَرِ بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَلَی جِنَازَۃٍ فَکَبَّرَ أَرْبَعًا ، یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع یدین کرنا، بعض کہتے ہیں ہر تکبیر میں رفع یدین ہے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں صرف ایک بار رفع یدین ہے
(١١٥٠٤) حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا جب آپ نماز جنازہ پڑھتے تو پہلی تکبیر میں رفع یدین کرتے پھر باقی تکبیرات میں رفع یدین نہ کرتے، اور وہ چار تکبیرات کہتے تھے۔
(۱۱۵۰۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ جُمَیْعٍ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : رَأَیْتُ إبْرَاہِیمَ إذَا صَلَّی عَلَی الْجِنَازَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ لاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِیمَا بَقِیَ وَکَانَ یُکَبِّرُ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক: