মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১৫২৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٢٥) حضرت موسیٰ بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید سے دریافت کیا کیا میت پر (نماز جنازہ میں) کچھ پڑھا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
(۱۱۵۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قُلْتُ لِفَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْد ہَلْ یُقْرَأُ عَلَی الْمَیِّتِ شَیْئٌ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٢٦) حضرت سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا، کیا میں نماز جنازہ میں سورة الفاتحہ پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
(۱۱۵۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ لَہُ رَجُلٌ أَقْرَأُ عَلَی الْجِنَازَۃِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ؟ قَالَ : لاَ تَقْرَأْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٢٧) حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ سے نماز جنازہ میں قراءت کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں صرف ایک حدیث سنی ہے۔
(۱۱۵۲۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنِ الْقِرَائَۃِ عَلَی الْجِنَازَۃِ ، فَقَالَ : مَا سَمِعْنَا بِہَذَا إِلاََ حَدِیثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٢٨) حضرت ابو حصین اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں قراءت (فاتحہ) نہیں ہے۔
(۱۱۵۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ إیَاسٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَعَنْ أَبِی الْحَصِینِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالاَ : لَیْسَ فِی الْجِنَازَۃِ قِرَائَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٢٩) حضرت ابن طاؤس سے مروی ہے کہ ان کے والد اور حضرت عطائ نماز جنازہ مں قراءت (فاتحہ) کا انکار فرماتے تھے۔
(۱۱۵۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، وَعَطَائٍ أَنَّہُمَا کَانَا یُنْکِرَانِ الْقِرَائَۃَ عَلَی الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٣٠) حضرت بکر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ جنازہ میں قرات ہے کہ نہیں۔
(۱۱۵۳۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ؟ قَالَ : لاَ أَعْلَمُ فِیہَا قِرَائَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٣١) حضرت معقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمون سے نماز جنازہ میں قرات (فاتحہ) اور درود کے بارے میں دریافت کیا ؟ تو آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم (میں کچھ نہیں جانتا) ۔
(۱۱۵۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ مَعْقِلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَیْمُونًا عَلَی الْجِنَازَۃِ قِرَائَۃٌ ، أَوْ صَلاَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَا عَلِمْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٣٢) حضرت عبداللہ بن ابی سارہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے نماز جنازہ میں قرات (فاتحہ) کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا نماز جنازہ میں قرات نہیں ہے۔
(۱۱۵۳۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَارَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمًا فَقُلْت : الْقِرَائَۃُ عَلَی الْجِنَازَۃِ ؟ فَقَالَ : لاَ قِرَائَۃَ عَلَی الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنازے میں قراءت نہیں ہے
(١١٥٣٣) حضرت حضرت ابو معبد فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے نماز جنازہ میں سورة الفاتحہ سنتے اور جنازے پر تین تکبیریں کہی گئی۔
(۱۱۵۳۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَانَ یُسمع النَّاسَ بِالْحَمْدِ وَیُکَبِّرُ عَلَی الْجِنَازَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١٣١٣٤) حضرت یزید بن ثابت سے مروی ہے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خاتون کی قبر پر نماز (جنازہ) پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں چار تکبیرات کہیں۔
(۱۱۵۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی قَبْرِ امْرَأَۃٍ فَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٣٥) حضرت امامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خاتون کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیرات کہیں۔
(۱۱۵۳۵) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی قَبْرِ امْرَأَۃٍ فَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٣٦) حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی، اور اس میں چار تکبیرات پڑھی۔
(۱۱۵۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سَلِیمِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مِینَائَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی أَصْحَمَۃَ النَّجَّاشِی فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (بخاری ۳۸۷۹۔ مسلم ۶۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٣٧) حضرت سعید سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع کی طرف نکلے اور نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات پڑھیں۔
(۱۱۵۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إلَی الْبَقِیعِ فَصَلَّی عَلَی النَّجَاشِیِّ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٣٨) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نجاشی فوت ہوگیا ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ بقیع کی طرف نکلے، ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صفیں باندھیں، اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے آگے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار تکبیرات کہیں۔
(۱۱۵۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابہ إلَی الْبَقِیعِ ، فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَبَّرَ أَرْبَعَ تَکْبِیرَاتٍ۔

(بخاری ۱۳۳۳۔ مسلم ۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٣٩) حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہں ھ کہ حضرت زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو حضرت عمر نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں، پھر ازواج مطہرات سے دریافت کیا کہ ان کو قبر میں کون اتارے ؟ انھوں نے فرمایا : جو ان کی زندگی میں ان کے پاس آیا کرتا تھا۔ (جس کا ان سے پردہ نہیں تھا وہ) ۔
(۱۱۵۳۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ووَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، قَالَ : مَاتَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا عُمَرُ أَرْبَعًا ، ثُمَّ سَأَلَ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُدْخِلُہَا قَبْرَہَا فَقُلْنَ مَنْ کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا فِی حَیَاتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٤٠) حضرت عبدخیر فرماتے ہیں کہ حضرت علی کا انتقال ہوا اس حال میں کہ آپ نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے۔
(۱۱۵۴۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، قَالَ : قُبِضَ عَلِیٌّ وَہُوَ یُکَبِّرُ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٤١) حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کے پیچھے حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی۔ آپ نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں۔
(۱۱۵۴۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ عَلِیٍّ عَلَی یَزِیدَ بْنِ الْمُکَفِّفِ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٤٢) حضرت علی سے اسی طرح منقول ہے۔
(۱۱۵۴۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٤٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ سے نماز جنازہ کی تکبیرات کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جنازے میں ہر طرح کا عمل کیا گیا ہے اور میں نے لوگوں کو (صحابہ کرام ) کو چار تکبیرات پر جمع پایا۔
(۱۱۵۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللہِ ، عَنِ التَّکْبِیرِ عَلَی الْجَنَائِزِ ، فَقَالَ: کُلُّ ذَلِکَ قَدْ صُنِعَ وَرَأَیْت النَّاسَ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَی أَرْبَعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
(١١٥٤٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں چار تکبیرات ہیں تکبیر خروج سمیت۔
(۱۱۵۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْیَانَ وَشُعْبَۃُ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ التَّکْبِیرُ عَلَی الْجَنَائِزِ أَرْبَعُ تَکْبِیرَاتٍ بِتَکْبِیرِ الْخُرُوجِ۔
tahqiq

তাহকীক: