মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৬৪৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے جنازہ رکھنے سے قبل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(١١٦٤٥) حضرت سعید المقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ اور مروان کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا، پھر وہ دونوں بیٹھ گئے، حضرت ابو سعید الخدری تشریف لائے اور فرمایا : اے امیر کھڑے ہو جاؤ، اس کو (ابوھریرہ کو) معلوم ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ نہ رکھ دیا جاتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہ رکھتے۔
(۱۱۶۴۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَمَرْوَانَ یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجِنَازَۃِ ، ثُمَّ جَلَسَا فَجَائَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ ، فقَالَ : قُمْ أَیُّہَا الأَمِیرُ فَقَدْ عَلِمَ ہَذَا ، یَعْنِی أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا اتَّبَعَ الْجِنَازَۃَ لَمْ یَجْلِسْ حَتَّی تُوضَعَ۔
(بخاری ۱۳۱۰۔ مسلم ۶۶۰)
(بخاری ۱۳۱۰۔ مسلم ۶۶۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٤٦) حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ نماز جنازہ کے بعد واپس نہ لوٹتے جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لیتے۔
(۱۱۶۴۶) حدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : کَانَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ لاَ یَرْجِعُ حَتَّی یُؤْذَنَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٤٧) حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں جب تم نے نماز جنازہ ادا کرلی تو تم نے اپنا حق ادا کرلیا، اب اس کے اور اس کے اھل کو تنہا (خالی) چھوڑ دو ۔
(۱۱۶۴۷) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : إذَا صَلَّیْتُمْ عَلَی الْجِنَازَۃِ فَقَدْ قَضَیْتُمْ مَا عَلَیْکُمْ ، فَخَلُّوا بَیْنَہَا وَبَیْنَ أَہْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٤٨) حضرت جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ جتنا چاہو جنازے کے ساتھ چلو پھر واپس لوٹ آؤ جب تمہارے لیے ظاہر ہوجائے۔
(۱۱۶۴۸) حدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : امْشِ مَعَ الْجِنَازَۃِ مَا شِئْت ، ثُمَّ ارْجِعْ إذَا بَدَا لَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٤٩) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد اجازت لینے کو ضروری نہ سمجھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ وہ ہم پر نگہبان نہیں ہیں۔
(۱۱۶۴۹) حدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی لَہُمْ إذْنًا وَیَقُولُ : مَا سُلْطَانُہُمْ عَلَیْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٠) حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جیر کو دیکھا کہ آپ نے نماز جنازہ پڑھی اور واپس لوٹ گئے۔
(۱۱۶۵۰) حدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ صَلَّی عَلَی جِنَازَۃٍ ، ثُمَّ رَجَعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥١) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت نافع سے دریافت کیا کیا حضرت عبداللہ بن عمر نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد اجازت سے قبل ہی واپس لوٹ جایا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا اجازت لینے سے قبل نہیں لوٹا کرتے تھے۔
(۱۱۶۵۱) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِنَافِعٍ أَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرْجِعُ مِنَ الْجِنَازَۃِ قَبْلَ أَنْ یُؤْذَنَ لَہُ بَعْدَ فَرَاغِہِمْ ، قَالَ : مَا کَانَ یَرْجِعُ حَتَّی یُؤْذَنَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ دو شخص عہدہ امارت پر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہی سمجھے جاتے ہیں ایک جنازے کا مالک جب تم نماز جنازہ ادا کرلو تو اجازت کے بغیر نہ لوٹو، اور حاجن عورت اپنے ساتھیوں کے پاس جب وہ حائضہ ہوجائے۔
(۱۱۶۵۲) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِأَمِیرِینَ صَاحِبُ الْجِنَازَۃِ إذَا صَلَّیْت عَلَیْہَا لَمْ تَرْجِعْ إِلاَّ بِإِذْنِہِ وَالْمَرْأَۃُ الْحَاجَّۃُ عَلَی رُفْقَتِہَا إذَا حَاضَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی نہ امیر ہونے کے باوجود بھی امیر ہی سمجھے جاتے ہیں، جنازے والا، اور حائضہ عورت اپنے ساتھیوں میں۔
(۱۱۶۵۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی جَنَابٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِأَمِیرِینَ صَاحِبُ الْجِنَازَۃِ وَالْحَائِضُ فِی الرُّفْقَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٤) حضرت عمر سے اسی کے مثل منقول ہے۔
(۱۱۶۵۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٥) حضرت طلحہ الیامی فرماتے ہیں دو آدمی امیر نہ ہوتے ہوئے بھی امیر ہیں۔ جنازہ امیر ہے اس شخص کا جو اس کی اتباع کرے اور حاجن عورت اپنے ساتھیوں پر جب وہ حائضہ ہوجائے۔
(۱۱۶۵۵) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سَعِیدٍ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِآمِرَیْنِ الْجِنَازَۃُ عَلَی مَنْ یَتْبَعُہَا وَالْمَرْأَۃُ الْحَاجَّۃُ عَلَی رُفْقَتِہَا إذَا حَاضَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٦) حضرت داؤد بن ابی القصاف فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو قلابہ کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، جب آپ نے نماز پڑھی آپ واپس لوٹ گئے، میں نے ان سے عرض کیا اجازت سے پہلے ہی آپ واپس جارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا وہ ہم پر حکمران (اور مسلط) ہیں ؟۔
(۱۱۶۵۶) حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی القصاف ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی قِلاَبَۃَ فِی جِنَازَۃٍ ، فَلَمَّا صَلَّی انْصَرَفَ ، قَالَ : فَقُلْت لَہُ قَبْلَ أَنْ یُؤْذَنَ لَکَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَہُمْ أُمَرَائُ عَلَیْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٧) حضرت ابو داؤد الطیالسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عقیل سے دریافت کیا جو شخص جنازے کے ساتھ ہو اس کے لیے (واپس جانے کے لیے) اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن آدمی کی حیا میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اجازت کے بغیر نہ لوٹے۔
(۱۱۶۵۷) حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ أَبِی عَقِیلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ عَلَی مَنْ تَبِعَ الْجِنَازَۃَ إذْنٌ ؟ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ یَحْتَشِمُ الرَّجُلُ أَنْ یَرْجِعَ حَتَّی یُؤْذَنَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں دو امیر ایسے ہیں جو حقیقت میں امیر نہیں ایک وہ عورت جو کسی جماعت کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے جائے اور وہ حائضہ ہوجائے اب وہ جماعت اس وقت کوچ نہیں کرسکتی جب تک وہ پاک نہ ہوجائے یا ناپاکی کی حالت میں انھیں چلے جانے کی اجازت نہ دے دے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی جنازے کے ساتھ چلا جائے اب وہ اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کو اجازت نہ مل جائے یا جب تک میت کو دفن نہ کردیا جائے۔
(۱۱۶۵۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِآمِرَیْنِ : الْمَرْأَۃُ تَکُونُ مَعَ الرُّفْقَۃِ فَتَحُجُّ ، أَوْ تَعْتَمِرُ فَیُصِیبُہَا أَذًی مِنَ الْحَیْضِ ؟ قَالَ : لاَ تَنْفِرُوا حَتَّی تَطْہُرَ وَتَأْذَنَ لَہُمْ وَالرَّجُلُ یَخْرُجُ مَعَ الْجِنَازَۃِ لاَ یَرْجِعُ حَتَّی یُؤْذَنَ لَہُ ، أَوْ یَدْفِنُوہَا ، أَوْ یُوَارُوہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٥٩) حضرت حبیب بن ابی محمد فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، پھر جب لوگوں کو اجازت دی گئی تو میں نے حضرت حسن سے کہا اجازت دے دی گئی ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا کیا ہمارے لیے اذن (ضروری) ہے ؟
(۱۱۶۵۹) حدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ فِی جِنَازَۃٍ ، فَلَمَّا أُذِنَ لَہُمْ قُلْتُ لِلْحَسَنِ قَدْ أُذِنَ لَہُمْ ، قَالَ : وَہَلْ عَلَیْنَا إذْنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٦٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جنازے کے ساتھ چلے جتنا اس کے لیے ظاہر ہو (گنجائش ہو) اور واپس لوٹ جائے جب اس کے لیے ظاہر ہوجائے۔
(۱۱۶۶۰) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : یَتْبَعُ الْجِنَازَۃَ مَا بَدَا لَہُ وَیَرْجِعُ إذَا بَدَا لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٦١) حضرت حسن سے اسی کے مثل منقول ہے۔
(۱۱۶۶۱) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اس کو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے ؟
(١١٦٦٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی امیر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہیں، کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو وہ بغیر اجازت کے واپس نہ لوٹے، اور کوئی عورت (حج کے سفر میں) ہے اور اس کو طواف سے پہلے یوم النحر میں حیض آجائے، تو ان کے لیے اس عورت کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز نہیں ہے۔
(۱۱۶۶۲) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِآمِرَیْنِ الرَّجُلُ یُصَلِّی عَلَی الْجِنَازَۃِ لَیْسَ لَہُ أَنْ یَرْجِعَ إِلاَّ بِإِذْنِ أَہْلِہَا ، وَالْمَرْأَۃُ تَکُونُ مَعَ الْقَوْمِ فَتَحِیضُ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ یَوْمَ النَّحْرِ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَنْفِرُوا إِلاَّ بِإِذْنِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کہاں کھڑا ہوا جائے نماز جنازہ میں اور مرد کے کہاں کھڑا ہوا جائے
(١١٦٦٣) حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت کا جنازہ پڑھایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
(۱۱۶۶۳) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُکْتِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی امْرَأَۃٍ فَقَامَ وَسَطَہَا۔ (بخاری ۱۳۳۲۔ ابوداؤد ۳۱۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کہاں کھڑا ہوا جائے نماز جنازہ میں اور مرد کے کہاں کھڑا ہوا جائے
(١١٦٦٤) حضرت ابو الغالب فرماتے ہیں کہ حضرت انس کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تو آپ اس کی چارپائی کے سر کے پاس کھڑے ہوئے اور ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو آپ اس کے سینے کے پاس کھڑے ہوئے، حضرت علاء بن زیاد نے دریافت کیا، کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر آپ ھماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس کو یاد کرلو۔
(۱۱۶۶۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَمَّامٍ ، عَنْ غالب أو أَبِی غَالِبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّہُ أُتِیَ بِجِنَازَۃِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِیرِ وَجِیئَ بِجِنَازَۃِ امْرَأَۃٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ عِنْدَ السَّرِیرِ ، فَقَالَ : الْعَلاَئُ بْنُ زِیَادٍ ہَکَذَا رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ ، قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا ، فَقَالَ : احْفَظُوہُ۔(ترمذی ۱۰۳۴۔ احمد ۳/۱۱۸)
তাহকীক: