মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬৭ টি
হাদীস নং: ১১৮৪৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
(١١٨٤٥) حضرت امام شعبی فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لحد مبارک پر بانسوں کی گٹھری رکھی گئی۔
(۱۱۸۴۵) حدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُعِلَ عَلَی لَحْدِہِ طُنُّ قَصَبٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
(١١٨٤٦) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں (میرے مرنے کے بعد) مجھ پر بانسوں کی گٹھری رکھ دینا، بیشک میں نے دیکھا ہے کہ مہاجرین (صحابہ کرام ) دوسری چیزوں سے زیادہ اس کو پسند فرماتے ہیں۔
(۱۱۸۴۶) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، أَنَّہُ قَالَ : اطْرَحُوا عَلَیَّ أَطْنَانًا مِنْ قَصَبٍ ، فَإِنِّی رَأَیْت الْمُہَاجِرِینَ یَسْتَحِبُّونَہُ عَلَی مَا سِوَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
(١١٨٤٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اس بات کو ضروری سمجھتے تھے کہ قبر کے اندر پاک اینٹ استعمال کی جائے۔ اور فرماتے ہیں کہ وہ کچی اینٹوں کے رکھنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے اگر اینٹیں نہ ملیں تو لکڑی (بانس) سے کام چلا لو۔
(۱۱۸۴۷) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُجْعَلَ فِی اللَّحْدِ إِلاَّ لَبِنٌ نَظِیفٌ ، قَالَ : وَکَانَ یَکْرَہُ الآجُرَّ ، وَقَالَ : إِنْ لَمْ یَجِدُوا لَبِنًا فَقَصَبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
(١١٨٤٨) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت میسرہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر پر لکڑیوں (بانسوں) کی گٹھری رکھ دینا۔
(۱۱۸۴۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ ، أَنَّہُ أَوْصَی ، قَالَ : اجْعَلُوا عَلَی قَبْرِی طُنًّا مِنْ قَصَبٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
(١١٨٤٩) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ قبر پر ساگوان کی یا بانس کی لکڑی رکھی جائے۔ لیکن پکی اینٹوں کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۱۸۴۹) حدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالسَّاجِ وَالْقَصَبِ وَکَرِہَ الآجُرَّ ، یَعْنِی فِی الْقَبْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اینٹوں کو قبر پر گاڑ دیا جائے گا یا ان کو کھڑا کیا جائے گا ؟
(١١٨٥٠) حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر اینٹوں کو گاڑ دیا گیا تھا۔
(۱۱۸۵۰) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِیسَی ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، قَالَ نُصِبَ اللَّبِنُ عَلَی قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصَبًا۔ (ابن سعد ۲۹۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اینٹوں کو قبر پر گاڑ دیا جائے گا یا ان کو کھڑا کیا جائے گا ؟
(١١٨٥١) حضرت حسن اور حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اینٹوں کو کھڑا کر کے لگا دو اور اگر چاہو تو ان کو گاڑ دو ۔
(۱۱۸۵۱) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ قَالاَ : إِنْ شِئْتَ بَنَیْت الْقَبْرَ بِنَائً ، وَإِنْ شِئْتَ نَصَبْت اللَّبِنَ نَصْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اینٹوں کو قبر پر گاڑ دیا جائے گا یا ان کو کھڑا کیا جائے گا ؟
(١١٨٥٢) حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر اینٹوں کو گاڑ دیا گیا تھا۔
(۱۱۸۵۲) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ أَنَّ قَبْرَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصَبُوا عَلَیہ اللَّبِنَ نَصْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اینٹوں کو قبر پر گاڑ دیا جائے گا یا ان کو کھڑا کیا جائے گا ؟
(١١٨٥٣) حضرت ابو جعفر، حضرت سالم اور حضرت قاسم فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک، حضرت صدیق اکبر، اور حضرت عمر کی قبر مبارک قبلہ کی طرف جھکی ہوئی (قبلہ رخ) تھیں اور ان پر اینٹیں گاڑ دی گئی تھیں۔
(۱۱۸۵۳) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ قَالُوا : کَانَ قَبْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ جُثًا قِبْلَۃً ، نُصِبَ لَہُمُ اللَّبِنُ نَصْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٤) حضرت ابو جعفر، حضرت سالم اور حضرت قاسم فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک، حضرت صدیق اکبر، اور حضرت عمر کی قبر مبارک قبلہ کی طرف جھکی ہوئی (قبلہ رخ) تھیں اور ان پر اینٹیں گاڑ دی گئی تھیں۔
(۱۱۸۵۴) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ قَالُوا : کَانَ قَبْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ جُثًا قِبْلَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٥) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے شہداء کی قبروں کو دیکھا جو جھکی ہوئی تھیں اور ان پر (عمدہ قسم کی) گھاس اگی ہوئی تھی۔
(۱۱۸۵۵) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ قُبُورَ شُہَدَائِ جُثًا قَدْ نبتت عَلَیْہَا النَّصِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٦) حضرت سفیان التمار فرماتے ہیں کہ میں اس مکان میں داخل ہوا جس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک ہے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک اور حضرت ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر کی قبر کو دیکھا وہ کوہان نما تھیں۔
(۱۱۸۵۶) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ سُفْیَانَ التَّمَّارِ ، قَالَ : دَخَلَتُ الْبَیْتَ الَّذِی فِیہِ قَبْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَیْت قَبْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَبْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ مُسَنَّمَۃً۔ (بخاری۱۳۹۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٧) حضرت ابی نعامہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت موسیٰ بن طلحہ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا آپ نے (جنازے کے بعد) فرمایا اس کی قبر اٹھی ہوئی کوہان نما بناؤ۔
(۱۱۸۵۷) حدَّثَنَا الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ ، قَالَ شَہِدْت مَعَ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ جِنَازَۃً ، فَقَالَ : جَمہرُوہ ، جَمہرُوہ ، یَعْنِی سَنِّمُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٨) حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں شہداء احد کی قبریں دیکھی وہ جھکی ہوئیں کوہان نما تھیں۔
(۱۱۸۵۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : رَأَیْتُ قُبُورَ شُہَدَائِ أُحُدٍ جُثًا مُسَنَّمَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا
(١١٨٥٩) حضرت خالد بن عثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کو دفن کرنے کے کچھ دنوں بعد ان کی قبر کو دیکھا تو وہ اٹھی ہوئی کوہان نما تھی۔
(۱۱۸۵۹) حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ قَبْرَ ابْنِ عُمَرَ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِأَیَّامٍ مُسَنَّمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر نشانی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا
(١١٨٦٠) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد قبر پر نشانی لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۸۶۰) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُعَلَّمَ الْقَبْرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر نشانی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا
(١١٨٦١) حضرت سلیم بن حیان، حضرت حماد اور حضرت ابراہیم قبر پر نشانی لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۱۱۸۶۱) حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سَلِیمِ بْنِ حَیَّانَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یُعْلِمَ الرَّجُلُ قَبْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر نشانی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا
(١١٨٦٢) حضرت المطلب بن عبداللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جنت البقیع میں دفن فرمایا اور پھر ایک شخص سے فرمایا : فلاں چٹان کے پاس جا کر ایک پتھر لے کر آؤ تاکہ میں اس کو اس کی قبر پر بطور نشانی نصب کر دوں جس کی وجہ سے اس کو (بعد میں) ہم پہچان لیں۔
(۱۱۸۶۲) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانَ بْنُ مَظْعُونٍ دَفَنَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِیعِ ، وَقَالَ لِرَجُلٍ اذْہَبْ إلَی تِلْکَ الصَّخْرَۃِ فَآتِنِی بِہَا حَتَّی أَضَعَہَا عِنْدَ قَبْرِہِ حَتَّی أُعَرِّفَہُ بِہَا۔ (ابوداؤد ۳۱۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر نشانی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا
(١١٨٦٣) حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے وصیت فرمائی کہ اے بیٹے ! میری قبر پر مت لکھنا، اور میری قبر کو زیادہ بلند نہ کرنا مگر اتنا کہ اس سے پانی ہٹ جائے، (پانی نہ روکے) ۔
(۱۱۸۶۳) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، عَنْ أَفلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّہُ أَوْصَی ، قَالَ : یَا بُنَیَّ لاَ تَکْتُبْ عَلَی قَبْرِی ، وَلاَ تُشَرِّفَنَّہُ إِلاَّ قَدْرَ مَا یَرُدُّ عَنِّی الْمَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر نشانی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا
(١١٨٦٤) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبر پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا، اور دوسری روایت میں آیا ہے اس پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(۱۱۸۶۴) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبْنَی عَلَیْہِ ، وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی ، عَنْ جَابِرٍ وَأَنْ یُکْتَبَ عَلَیْہِ۔ (ابوداؤد ۳۲۱۷۔ ترمذی ۱۰۵۲)
তাহকীক: