মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২০৮৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٦٧) حضرت محمد صرف نقصان کی صورت میں اجیر کو ضامن قرار دیتے تھے۔
(۲۰۸۶۷) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یُضَمِّنُ الأَجِیرَ إلاَّ مِنْ تَضْیِیعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٦٨) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ہر وہ اجیر جو اجرت لے وہ ضامن ہے، البتہ دشمن اور وہ اجیر ضامن نہیں جس کا ہاتھ تیرے ہاتھ کے ساتھ ہے۔
(۲۰۸۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کُلُّ أَجِیرٍ أَخَذَ أَجْرًا ، فَہُوَ ضَامِنٌ إلاَّ مِنْ عَدُوٍّ مُکَابِرٍ ، أَوْ أَجِیرٍ یَدُہُ مَعَ یَدِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٦٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مشاہرہ والے اجیر پر ضمان لازم نہیں۔
(۲۰۸۶۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی أَجِیرِ الْمُشَاہَرَۃِ ضَمَانٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٧٠) حضرت شریح ملاح کو کشتی کے ڈوب جانے یا جل جانے کی صورت میں ضامن قرار نہیں دیتے تھے۔
(۲۰۸۷۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یُضَمِّنُ الْمَلاَّحَ غَرَقًا ، وَلاَ حَرَقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٧١) حضرت علی (رض) اجیر مشترک کو ضامن قرار دیتے تھے۔
(۲۰۸۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِینَارٍ ، أَنَّ عَلِیًّا رضی اللہ عنہ کَانَ یُضَمِّنُ الأَجِیرَ الْمُشْتَرَکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٧٢) حضرت ابو ہیثم عطار کہتے ہیں کہ میں نے ایک مزدور کو کرائے پر لیا کہ وہ میرا بوجھ اٹھائے، اس نے میرا سامان توڑ دیا، میں اس کا مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں گیا تو انھوں نے اسے ضامن قرار دیا اور فرمایا کہ انھوں نے تمہیں اس لیے اجرت پر لیا تھا تاکہ تم سامان پہنچاؤ اس لیے نہیں لیا تھا کہ تم اسے توڑ دو ۔
(۲۰۸۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَش ، عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ العَطَّار ، قَالَ : اسْتَأْجَرْتُ حَمَّالاً یَحْمِلُ لِی شَیْئًا فَکَسَرَہُ، فَخَاصَمْتُہُ إلَی شُرَیْحٍ فَضَمَّنَہُ ، وَقَالَ : إنَّمَا اسْتَأْجَرَکَ لِتُبَلِّغَہُ وَلَمْ یَسْتَأْجِرْکَ لِتَکْسِرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اجیر (کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا ؟
(٢٠٨٧٣) حضرت زہیر عنسی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ پر کام کرنے کے لیے کرائے پر لیا، اس نے اونٹ کو ایسا مارا کہ اس کی آنکھ پھوڑ دی، وہ آدمی اس کا مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں گیا تو حضرت شریح نے اسے ضامن قرار دیا اور فرمایا کہ تمہیں کام سنوارنے کے لیے اس نے مزدوری پر رکھا تھا کام بگاڑنے کے لیے نہیں رکھا تھا !
(۲۰۸۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر ، حدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ زُہَیْرٍ الْعَنْسِیّ ، أَنَّ رَجُلاً اسْتَأْجَرَ رَجُلاً یَعْمَلُ عَلَی بَعِیرٍ فَضَرَبَہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ فَخَاصَمَہُ إلَی شُرَیْحٍ فَضَمَّنَہُ ، وَقَالَ : إنَّمَا اسْتَأْجَرَکَ لِتُصْلِحَ وَلَمْ یَسْتَأْجِرْک لِتُفْسِدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٤) حضرت حکیم بن حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول 5! ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کا سوال کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہے، کیا میں اس سے معاملہ کرکے وہ چیز بازار سے لے کر اسے بیچ سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں، اس چیز کو نہ بیچو جو تمہارے پاس نہ ہو۔
(۲۰۸۷۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ، الرَّجُلُ یَأْتِینِی یَسْأَلُنِی الْبَیْعَ لَیْسَ عِنْدِی ما أَبِیعہُ مِنْہُ ، أَبْتَاعُہُ لَہُ مِنَ السُّوقِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : لاَ ، لاَ تَبِعْ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ۔ (ترمذی ۱۲۳۳۔ ابوداؤد ۳۴۹۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٥) حضرت ابو رزین کہتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ مجھے گھی اور تیل چاہیے، یہ چیزیں میرے پاس نہیں ہوتیں، کیا میں اس سے معاملہ کرکے منگوا سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں، ان چیزوں کو خرید کر اپنے پاس رکھو، پھر جب وہ آئے تو اسے بیچ دو ۔
(۲۰۸۷۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَسْرُوقٍ : یَأْتِینِی الرَّجُلُ یَطْلُبُ مِنِّی السَّمْنَ وَلَیْسَ عِنْدِی أَشْتَرِیہِ ، ثُمَّ أَدْعُوہُ لَہُ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِ اشْتَرِہِ فَضَعْہُ عِنْدَکَ ، فَإِذَا جَائَکَ فَبِعْہُ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٦) حضرت عبد الملک بن ایاس فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اور حضرت ابراہیم ایک جگہ جمع ہوئے، ان دونوں سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے سامان کا مطالبہ کرے، وہ سامان اس کے پاس نہ ہو تو کیا وہ اس سے معاملہ کرکے ان چیزوں کو منگوا سکتا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے اس معاملہ کو مکروہ قرار دیا، جبکہ حضرت عامر نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ بعد میں یہ معاملہ چھوڑنا چاہے تو چھوڑ سکتا ہے۔
(۲۰۸۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ إیَاسٍ ، أَنَّ عَامِرًا وَإِبْرَاہِیمَ اجْتَمَعَا فَسَأَلَہُمَا عَنْ رَجُلٍ یَطْلُبُ مِنَ الرَّجُلِ الْمَتَاعَ ، وَلَیْسَ عِنْدَہُ فَیَشْتَرِیہِ ، ثُمَّ یَدْعُوہُ إلَیْہِ ، فَقَالَ إبْرَاہِیمُ : یُکْرَہُ ذَلِکَ ، وَقَالَ عَامِرٌ : لاَ بَأْسَ إِنْ شَائَ أَنْ یَتْرُکَہُ تَرَکَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٧) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی سے کوئی ایسی چیز خریدنا چاہے جو اس کے پاس معلوم نہ ہو، وہ دونوں ثمن پر اتفاق کرلیں تو کیا وہ اس کو خرید کردے سکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا وہ دوسرے سے معاہدہ مکمل کرنے سے پہلے اسے خریدے۔
(۲۰۸۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ یُرِیدُ مِنَ الرَّجُلِ الْبَیْعَ لَیْسَ عِنْدَہُ ، فَإِنْ تَوَاطَآ عَلَی الثمنِ اشْتَرَاہُ ؟ قَالَ : لاَ یَشْتَرِہِ إلاَّ عَلَی غی مُوَاطَأَۃ مِنْ صَاحِبِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٨) حضرت سعید بن مسیب بیع مراوضہ کو مکروہ قرار دیتے تھے، جس کی صورت یہ ہوتی کہ آدمی ایسی چیز کا معاملہ کرے جو اس کے پاس موجود نہ ہو، انھوں نے اس بات کو بھی مکروہ قرار دیا کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس کپڑا دیکھے اور اس سے پوچھے کہ کیا تمہیں اس کی ضرورت ہے ؟ پھر اس سے اس لیے خریدے تاکہ اسے بیچ دے۔
(۲۰۸۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ المراوضۃ : أَنْ تُوَاصِفَ الرَّجُلَ بِالسِّلْعَۃِ لَیْسَتْ عِنْدَکَ ، وَکَرِہَ : الرجل أن یری للرجل الثَّوْبَ لَیْسَ لہ فیَقُولَ مِنْ حَاجَتِکَ ہَذَا ؟ یَشْتَرِیہِ لِیَبِیعَہُ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٧٩) حضرت حکم بن ابی فضل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے سوال کیا کہ ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے ایسے ریشم کا معاملہ کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں، پھر میں بازار سے خرید کرا سے فروخت کرتا ہوں کیا یہ درست ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ مواصفہ ہے اور انھوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
(۲۰۸۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ أَبِی الْفَضْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : یَأْتِینِی الرَّجُلُ فَیُسَاوِمُنِی بِالْحَرِیرِ لَیْسَ عِنْدِی ، قَالَ : فَآتِی السُّوق ، ثُمَّ أَبِیعُہُ ، قَالَ : ہَذِہِ الْمُوَاصَفَۃُ فَکَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
(٢٠٨٨٠) حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلہ خریدا، کچھ بائع کے پاس تھا اور کچھ نہیں تھا، اس نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر (رض) سے اس بارے میں سوال کیا توا نہوں نے فرمایا کہ جو اس کے پاس تھا اس میں بیع جائز ہے اور جو اس کے پاس نہیں تھا اس کی بیع جائز نہیں ہے۔
(۲۰۸۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : اشْتَرَی رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ طَعَامًا ، بَعْضُہُ عِنْدَہُ وَبَعْضُہُ لَیْسَ عِنْدَہُ ، فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ عُمَر ، فَقَالاَ : مَا کَانَ عِنْدَہُ ، فَہُوَ جَائِزٌ ، وَمَا کَانَ لَیْسَ عِنْدَہُ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨١) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانوروں کے پیٹ میں موجود بچوں کی خریدو فروخت سے منع فرمایا جب تک وہ پیدا نہ ہوجائیں، اسی طرح تھنوں میں موجود دودھ کی خریدو فروخت سے منع فرمایا جب تک اسے نکال کر ماپ نہ لیا جائے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع سے، اور مال غنیمت کی بیع سے جب تک انھیں تقسیم نہ کردیا جائے، زکوۃ میں آنے والی چیزوں کو خریدنے سے جب تک ان پر قبضہ نہ کرلیا جائے اور سمندر میں غوطہ لگانے والے سے یہ معاملہ کرنے سے بھی منع کیا کہ وہ سمندر میں غوطہ لگائے گا اور جو کچھ ملے گا وہ مشتری کو دے دے گا۔
(۲۰۸۸۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَہْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ شِرَائِ مَا فِی بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّی تَضَعَ ، وَعَمَّا فِی ضُرُوعِہَا إلاَّ بِکَیْلٍ ، وَعَنْ شِرَائِ الْعَبْدِ وَہُوَ آبِقٌ ، وَعَنْ شِرَائِ الْمَغَانِمِ حَتَّی تُقْسَمَ ، وَعَنْ شِرَائِ الصَّدَقَاتِ حَتَّی تُقْبَضَ ، وَعَنْ ضَرْبَۃِ الْغَائِصِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨٢) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اون جب تک جانور کے جسم پر ہو اور دودھ جب تک تھنوں میں ہو بیچنا جائز نہیں۔
(۲۰۸۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لاَ تَبَایَعُوا الصُّوفَ عَلَی ظُہُورِ الْغَنَمِ ، وَلاَ اللَّبَنَ فِی الضُّرُوعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ گم شدہ سواری اور بھاگے ہوئے غلام کو جب تک مل نہ جائے مت بیچو۔ کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ نہ ملیں اور تمہارا مال ضائع ہوجائے۔
(۲۰۸۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ بِشْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ : لاَ تَشْتَرِی الْغَرَرَ مِنَ الدَّابَّۃِ الضَّالَّۃِ ، وَلاَ الْعَبْدِ الآبِقِ ، فَإِنَّک لاَ تَدْرِی لَعَلَّکَ لاَ تَجِدُہُمَا أَبَدًا ، وَیُؤْکَلُ رَأْسُ مَالِکَ بَاطِلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر موجود چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
(۲۰۸۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ۔ (مسلم ۱۱۵۳۔ ابوداؤد ۳۳۶۹)q
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے سے بھاگا ہوا غلام خریدا تو حضرت سنان بن سلمہ نے اس بیع کو ختم کرادیا۔
(۲۰۸۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سنان بْنِ سَلَمَۃَ ، أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ عَبْدًا آبِقًا فَرَدَّ الْبَیْعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غیرموجود چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی بیع کا بیان
(٢٠٨٨٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر موجود چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
(۲۰۸۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ۔ (احمد ۱۴۴۔ ابن حبان ۴۹۷۲)
tahqiq

তাহকীক: