মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

فرائض کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬১৭ টি

হাদীস নং: ৩২১১৮
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھر دونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کا وارث ان میں سے کون ہو گا ؟
(٣٢١١٩) شعبی فرماتے ہیں کہ اس بچے کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے قیافہ شناسوں کے قول کے مطابق فیصلہ فرمایا۔
(۳۲۱۱۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قضَی عُمَرُ فِیہِ بِقَوْلِ الْقَافَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১১৯
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھر دونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کا وارث ان میں سے کون ہو گا ؟
(٣٢١٢٠) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے باندی کو بلایا اور پوچھا کہ یہ بچہ ان دونوں میں سے کس کا ہے ؟ وہ کہنے لگی مجھے پتہ نہیں، ان دونوں نے مجھ سے ایک طہر میں جماع کیا ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو ان دونوں میں تقسیم فرما دیا۔
(۳۲۱۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : دَعَا عُمَرُ أَمَۃً فَسَأَلَہَا مِنْ أَیِّہِمَا ہُوَ؟ فَقَالَتْ : مَا أَدْرِی وَقَعَا عَلَیَّ فِی طُہْرٍ ، فَجَعَلَہُ عُمَرُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২০
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھر دونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کا وارث ان میں سے کون ہو گا ؟
(٣٢١٢١) زید بن ارقم (رض) نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی یمن سے آیا جبکہ حضرت علی (رض) یمن میں ہی تھے، اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باتیں اور خبریں بتانے لگا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! علی (رض) کے پاس تین آدمی آئے اور وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑنے لگے، ہر ایک یہ گمان کرتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے، جبکہ انھوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تم برابر شریک ہو، اور میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام قرعہ نکل آئے بچہ اسی کے لیے ہوگا، اور اس پر دوسرے دو ساتھیوں کے لیے دیت کا دو تہائی دینا لازم ہوگا، کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، اور جس کے نام قرعہ نکلا اس کو بچہ دے دیا، اور اس پر دو تہائی دیت لازم کردی، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس اٹھے یہاں تک کہ آپ کی آخری داڑھیں یا آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔
(۳۲۱۲۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْخَلِیلِ الْحَضْرَمِیِّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ أَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ الْیَمَنِ وَعَلِیٌّ بِہَا فَجَعَلَ یُحَدِّثُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیُخْبِرُہُ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَتَی عَلِیًّا ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ فَاخْتَصَمُوا فِی وَلَدٍ کُلُّہُمْ زَعَمَ أَنَّہُ ابْنُہُ وَقَعُوا عَلَی امْرَأَۃٍ فِی طُہْرٍ وَاحِدٍ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : إنَّکُمْ شُرَکَائُ مُتَشَاکِسُونَ ، وَإِنِّی مُقْرِعٌ بَیْنَکُمْ ، فَمَنْ قَرَعَ فَلَہُ الْوَلَدُ وَعَلَیْہِ ثُلُثَا الدِّیَۃِ لِصَاحِبَیْہِ ، قَالَ : فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَقُرِعَ أَحَدُہُمْ ، فَدَفَعَ إلَیْہِ الْوَلَدَ وَجَعَلَ عَلَیْہِ ثُلُثَیَ الدِّیَۃِ ، فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ ، أَوْ أَضْرَاسُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২১
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھر دونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کا وارث ان میں سے کون ہو گا ؟
(٣٢١٢٢) عبد الرحمن بن حاطب روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے دو آدمیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا جنہوں نے ایک مجہول النسب آدمی کے نسب کا دعویٰ کیا تھا، اور آپ نے اس مجہول النسب سے کہا، ان دونوں میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔
(۳۲۱۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ قَضَی فِی رَجُلَیْنِ ادَّعَیَا رَجُلاً لاَ یُدْرَی أَیُّہُمَا أَبُوہُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِلرَّجُلِ : اِتْبَعْ أَیَّہمَا شِئْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২২
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٣) شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح نے فرمایا کہ آدمی کو میراث کی سب سے زیادہ ضرورت قید کی حالت میں ہی ہوا کرتی ہے۔
(۳۲۱۲۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ شُرَیْحٍ، قَالَ: أَحْوَجُ مَا یَکُونُ إلَی مِیرَاثِہِ وَہُوَ أَسِیرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৩
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٤) قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعید نے فرمایا کہ وہ شخص وارث ہوگا۔
(۳۲۱۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : یَرِثُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৪
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٥) قتادہ حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قیدی اپنے رشتہ دار کی میراث کا محتاج ہے۔
(۳۲۱۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ: فِی مِیرَاثِ الأَسِیرِ، قَالَ: أَنَّہُ لِمُحْتَاجٍ إلَی مِیرَاثِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৫
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٦) ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں کہ زہری نے فرمایا کہ قیدی وارث ہوگا۔
(۳۲۱۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : یَرِثُ الأَسِیرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৬
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٧) سفیان ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم کو یہ فرماتے سنا کہ قیدی وارث نہیں ہوگا۔
(۳۲۱۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَمَّنْ سَمِعَ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ : لاَ یَرِثُ الأَسِیرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৭
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٨) قتادہ حضرت سعید بن مسیب سے اس قیدی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو دشمنوں کے قبضے میں ہو، فرمایا کہ وہ وارث نہیں ہوگا۔
(۳۲۱۲۸) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : فِی الأَسِیرِ فِی أَیْدِی الْعَدُ ، قَالَ : لاَ یَرِثُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৮
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٢٩) داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب قیدی کو وارث نہیں بناتے تھے۔
(۳۲۱۲۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یُوَرِّثُ الأَسِیرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১২৯
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن قید کر لے اور پھر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے ، کیا وہ اس سے کسی چیز کا وارث ہو گا ؟
(٣٢١٣٠) ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں کہ حضرت زہری نے فرمایا کہ قیدی اور اس کی بیوی کے مال کو وراثت میں تقسیم کیا جائے گا۔
(۳۲۱۳۰) حَدَّثَنَا مَعْن بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : یُوَرَّثُ مَالُ الأَسِیرِ وَامْرَأَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩০
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣١) ہشام حضرت حسن اور ابن سیرین سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ بچے کو اسی صورت میں وارث بنایا جائے گا جبکہ وہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے۔
(۳۲۱۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ ، قَالاَ : لاَ یُوَرَّثُ الْمَوْلُودُ حَتَّی یَسْتَہِلَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩১
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٢) ابن غالب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت حسن بن علی (رض) سے بچے کی میراث کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا : جب وہ آواز نکالے تو اس کو دینا اور وارث بنانا واجب ہے۔
(۳۲۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ عَنِ الْمَوْلُودِ ؟ فَقَالَ : إذَا اسْتَہَلَّ وَجَبَ عَطَاؤُہُ وَرِزْقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩২
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٣) بشر بن غالب کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر حضرت حسین بن علی (رض) سے ملے اور ان سے کہا : اے ابو عبداللہ ! ہمیں اس بچے کے بارے میں مسئلہ بیان کریں جو اسلام میں پیدا ہو، آپ نے فرمایا اس کو دینا اور وارث بنانا واجب ہے۔
(۳۲۱۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : لَقِیَ ابْنُ الزُّبَیْرِ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، أَفْتِنَا فِی الْمَوْلُودِ یُولَدُ فِی الإسْلاَمِ ، قَالَ : وَجَبَ عَطَاء ہُ وَرِزْقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩৩
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٤) ابو زبیر حضرت جابر (رض) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکال دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر وہ پیدا ہونے کے بعد آواز بھی نہ نکالے تو اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
(۳۲۱۳۴) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: إذَا اسْتَہَلَّ الصَّبِیُّ صُلِّیَ عَلَیْہِ، وَوَرِثَ ، وَإِذَا لَمْ یَسْتَہِلَّ لَمْ یُوَرَّثْ وَلَمْ یُصَلَّ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩৪
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٥) مطرّف روایت کرتے ہیں کہ حضرت شعبی نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر وہ آواز نہ نکالے، تو اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس کو وارث بنایا جائے گا۔
(۳۲۱۳۵) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا اسْتَہَلَّ الصَّبِیُّ صُلِّیَ عَلَیْہِ وَوَرِثَ ، وَإِذَا لَمْ یَسْتَہِلَّ لَمْ یُصَلَّ عَلَیْہِ وَلَمْ یُوَرَّثْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩৫
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٦) مغیرہ حضرت ابراہیم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکال لے تو اس کی عقل اور اس کی میراث تام ہوجاتی ہے۔
(۳۲۱۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا اسْتَہَلَّ تَمَّ عَقْلُہُ وَمِیرَاثُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩৬
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٧) معمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت زہری نے پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فرمایا کہ اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا، اور اس میں کامل دیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے۔
(۳۲۱۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّہُ قَالَ فِی الْمَوْلُودِ : لاَ یُصَلَّی عَلَیْہِ ، وَلاَ یُوَرَّثُ ، وَلاَ تَکْمُلُ فِیہِ الدِّیَۃُ حَتَّی یَسْتَہِلَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১৩৭
فرائض کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
(٣٢١٣٨) عمرو حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ جو عورت بچہ جنے اور وہ بچہ آواز نکالے تو اس کا حکم یہ ہے اگر وہ حرکت کرے اور اس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی حرکت زندگی کی وجہ سے ہے اختلاج کی وجہ سے نہیں تو اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر اس کی حرکت اختلاج کی وجہ سے ہو ، زندگی کی وجہ سے نہ ہو تو اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا۔
(۳۲۱۳۸) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی الْمَرْأَۃِ تَلِدُ وَلَمْ یَسْتَہِلَّ ؟ قَالَ : إذَا تَحَرَّکَ فَعُلِمَ أَنَّ حَرَکَتَہُ مِنْ حَیَاۃٍ وَلَیْسَتْ مِنَ اخْتِلاَجٍ وَرِثَ ، وَإِنْ کَانَ إنَّمَا حَرَکَتُہُ مِنَ اخْتِلاَجٍ وَلَیْسَتْ مِنْ حَیَاۃٍ لَمْ یُوَرَّثْ۔
tahqiq

তাহকীক: