মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৩২৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٣) حضرت خباب فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ شدید گرمی میں نماز پڑھنا مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری اس شکایت کو قبول نہ فرمایا۔
(۳۲۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ خبّاب ، قَالَ : شَکَوْنَا إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلاَۃَ فِی الرَّمْضَائِ ، فَلَمْ یُشْکِنَا۔ (مسلم ۱۸۹۔ احمد ۵/۱۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٤) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ میں شدید گرمی کی وجہ سے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑتا اور اسے پہلے ایک ہتھیلی میں اور پھر دوسری ہتھیلی میں رکھتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں، پھر میں انھیں سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کی جگہ رکھتا تھا۔
(۳۲۹۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ ، فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنَ الْحَصَی فَأَجْعَلُہَا فِی کَفِّی ، ثُمَّ أُحَوِّلُہَا إلَی الْکَفِّ الأُخْرَی حَتَّی تَبْرُدَ ، ثُمَّ أَضَعُہَا لِجَبِینِی حِینَ أَسْجُدُ ، مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ۔
(ابوداؤد ۴۰۲۔ احمد ۳/۳۲۷)
(ابوداؤد ۴۰۲۔ احمد ۳/۳۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتے تھے، کبھی تو ہمیں سایہ مل جاتا جس میں ہم بیٹھتے اور کبھی ہمیں بیٹھنے کے لیے سایہ نہ ملتا۔
(۳۲۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی مَعَہُ الظُّہْرَ أَحْیَانًا نَجِدُ ظِلاًّ نَجْلِسُ فِیہِ ، وَأَحْیَانًا لاَ نَجِدُ ظِلاًّ نَجْلِسُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٦) حضرت خشف بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت شدید گرمی کی وجہ سے ٹڈیاں ادھر ادھر اچھل رہی تھیں۔
(۳۲۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عَبْدُ اللہِ وَإِنَّ الْجَنَادِبَ لَتَنْقُِزُ مِنْ شِدَّۃِ الرَّمْضَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٧) حضرت ابو العنبس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت علی کے ساتھ نماز پڑھی ہے، مجھے بتائیے کہ وہ ظہر کی نماز کیسے پڑھتے تھے ؟ انھوں نے بتایا کہ وہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔
(۳۲۹۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ أَبِی الَعَنْبَسِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبِی ، قُلْتُ : صَلَّیْتَ مَعَ عَلِیٍّ ، فَأَخْبِرْنِی کَیْفَ کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ ؟ فَقَالَ : إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٨) حضرت حسین بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر سے ظہر کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب سورج زائل ہوجائے۔ پھر فرمایا کہ غور سے سن لو کہ آدمی ظہر کی نماز کو اتنا مؤخر کردے کہ عصر کی نماز کا وقت ہوجائے ، اس سے بہتر ہے کہ سورج کے زوال سے پہلے ظہر کی نماز پڑھ لے۔
(۳۲۹۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَعْفَرًا عَنْ وَقْتِ الظُّہْرِ ؟ فَقَالَ : إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : تسْمَعْ ، لأَنْ یُؤَخِّرَہَا رَجُلٌ حَتَّی یُصَلِّیَ الْعَصْرَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یُصَلِّیَہَا قَبْلَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٢٩٩) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔
(۳۲۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، یَعْنِی الظُّہْرَ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔
(بخاری ۳۲۵۹۔ احمد ۳/۵۹)
(بخاری ۳۲۵۹۔ احمد ۳/۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ دوپہر کی گرمی جہنم کی پھونک ہے۔
(۳۳۰۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ حَرَّ الظَّہِیرَۃِ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔ (بخاری ۵۳۶۔ مسلم ۴۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠١) حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، حضرت بلال نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو ۔ کچھ دیر بعد پھر انھوں نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا ذرا ٹھنڈا ہونے دو ۔ یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ پھر انھوں نے اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔
(۳۳۰۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُہَاجِرُ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَسِیرٍ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ یُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدْ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ ، فَقَالَ : أَبْرِدْ ، حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ ، ثُمَّ أَذَّنَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ۔
(بخاری ۵۳۵۔ مسلم ۴۳۱)
(بخاری ۵۳۵۔ مسلم ۴۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٢) حضرت ابو موسیٰ فرمایا کرتے تھے کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔
(۳۳۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٣) حضرت عبدالرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ نے مکہ میں ظہر کی اذان دی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! کیا میں نے ابھی تمہاری آواز سنی ہے۔ انھوں نے کہا جی ہاں، اے امیر المؤمنین ! میں نے اپنی آواز اس لیے بلند کی تاکہ آپ سن لیں۔ حضرت عمرنے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! تم ایک ایسی سرزمین میں ہو جہاں شدید گرمی پڑتی ہے، اس لیے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو۔ اس کے بعد سے حضرت ابو محذورہ ظہر کو ٹھنڈا کیا کرتے تھے۔
(۳۳۰۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : أَذَّنَ أَبُو مَحْذُورَۃَ بِصَلاَۃِ الظُّہْرِ بِمَکَّۃَ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَصَوْتُک یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ الَّذِی سَمِعْتُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَخَرْتُہُ لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لأَسْمِعَکَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ ، إنَّک بِأَرْضٍ شَدِیدَۃِ الْحَرِّ ، فَأَبْرِدْ بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ أَبْرَدَ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔
(۳۳۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : الْحَرُّ ، أَوْ شِدَّۃُ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالظُّہْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٥) حضرت صفوان سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔
(۳۳۰۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا بَشِیر بْن سَلْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَبْرِدُوا بِصَلاَۃِ الظُّہْرِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔
(بخاری ۲۹۲۳۔ احمد ۴/۲۶۲)
(بخاری ۲۹۲۳۔ احمد ۴/۲۶۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٦) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ اس وقت جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔
(۳۳۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : إسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : أَبْرِدُوا بِالظُّہْرِ فَإِنَّ أَبْوَابَ جَہَنَّمَ تُفْتَحُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
(٣٣٠٧) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔
(۳۳۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : أَبْرِدُوا بِالظُّہْرِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جاسکتی ہے ؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے ؟
(٣٣٠٨) حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ظہر کا اول وقت یہ ہے کہ تم اپنے قدموں کی طرف دیکھو، اگر تین سے پانچ قدموں کا اندازہ ہو تو یہ اول وقت ہے اور اس کا آخری وقت یہ ہے کہ تم اپنے پاؤں کو دیکھو اور پانچ سے سات قدموں کا اندازہ ہو۔ حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ بات سردیوں کے بارے میں فرمائی۔
(۳۳۰۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُدْرِکٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّہْرِ أَنْ تَنْظُرَ إلَی قَدَمَیْک فَتَقِیسَ ثَلاَثَۃَ أَقْدَامٍ إلَی خَمْسَۃِ أَقْدَامٍ ، وَإِنَّ أَوَّلَ الْوَقْتِ الأَخِرِ خَمْسَۃُ أَقْدَامٍ إلَی سَبْعَۃِ أَقْدَامٍ ، أَظُنُّہُ قَالَ : فِی الشِّتَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جاسکتی ہے ؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے ؟
(٣٣٠٩) حضرت عمارہ فرماتے ہیں اسلاف ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سایہ قائم ہوتا تھا۔
(۳۳۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، قَالَ : کَانُوا یُصَلُّونَ الظُّہْرَ وَالظِّلُّ قَامَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جاسکتی ہے ؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے ؟
(٣٣١٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی چیز کا سایہ تین ذراع ہو تو اس وقت تک ظہر کی نماز ادا کرنی چاہیے۔ اگر کسی آدمی کو جلدی ہو تو اس سے پہلے ادا کرلے اور اگر کوئی مجبوری ہو تو اس کے بعد ادا کرلے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ میں نے منصور سے پوچھا کہ یہ ان کی مراد گرمیوں کے موسم میں نہیں تھی ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔
(۳۳۱۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُصَلَّی الظُّہْرُ إذَا کَانَ الظِّلُّ ثَلاَثَۃَ أَذْرُعٍ ، وَإِنْ عَجَّلَتْ بِرَجُلٍ حَاجَۃٌ صَلَّی قَبْلَ ذَلِکَ ، وَإِنْ شَغَلَہُ شَیْئٌ صَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ ، قَالَ زَائِدَۃُ : قُلْتُ لِمَنْصُورٍ : أَلَیْسَ إِنَّمَا یَعْنِی ذَلِکَ فِی الصَّیْفِ ؟ قَالَ : بَلَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جاسکتی ہے ؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے ؟
(٣٣١١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب آدمی کا سایہ تین ذراع ہوجائے تو یہ ظہر کی نماز کا وقت ہے۔
(۳۳۱۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : إذَا کَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ ثَلاَثَۃَ أَذْرُعٍ فَہُوَ وَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جاسکتی ہے ؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے ؟
(٣٣١٢) حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کے ساتھ نماز پڑھی اور میں نے ارادہ کیا کہ میں ان کی نماز کا اندازہ لگاؤں۔ میں نے نماز کے بعد اپنے سائے کو ناپا تو وہ تین ذراع تھا۔
(۳۳۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَأَرَدْت أَنْ أَقِیسَ صَلاَتَہُ ، فَفَطِنْتُ لِظِلِّی فَقِسْتُہُ ، فَوَجَدْتُہُ ثَلاَثَۃَ أَذْرُعٍ۔
তাহকীক: