মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৩৫৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٣) حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل کے پیچھے یمن میں فجر کی نماز ادا کی، انھوں نے اس میں سورة النساء کی تلاوت کی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے { وَاتَّخَذَ اللَّہُ إبْرَاہِیمَ خَلِیلاً } تو پیچھے سے ایک آدمی نے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی !
(۳۵۷۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ، یُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ؛ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّی الصُّبْحَ بِالْیَمَنِ فَقَرَأَ بِالنِّسَائِ، فَلَمَّا أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ: {وَاتَّخَذَ اللَّہُ إبْرَاہِیمَ خَلِیلاً} قَالَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ: لَقَدْ قَرَّتْ عَیْنُ أُمِّ إبْرَاہِیمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٤) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر فجر کی نماز میں سورة یوسف اور سورة الکہف کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۳۵۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: کَانَ یَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ بِالسُّورَۃِ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا یُوسُفُ، وَالَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا الْکَہْفُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٥) حضرت حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہمارے امام فجر میں ” مئین “ میں سے کسی سورت کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۳۵۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد، قَالَ: کَانَ إمَامُنَا یَقْرَأُ بِنَا فِی الْفَجْرِ بِالسُّورَۃِ مِنَ الْمِئِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٦) حضرت نعمان بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ فجر کی نماز میں سورة الرحمن اور اس کی مثل سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۳۵۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عبیدَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ {الرَّحْمَنِ} ، وَنَحْوَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٧) حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عرفجہ کے پیچھے نما زپڑھی ہے، وہ اکثر فجر میں سورة المائدۃ پڑھا کرتے تھے۔
(۳۵۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: صَلَّیْت خَلْفَ عَرْفَجَۃَ فَرُبَّمَا قَرَأَ بِالْمَائِدَۃِ فِی الْفَجْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٨) حضرت ابن ادریس کے دادا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، انھوں نے اس میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت کی۔
(۳۵۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ جَدِّ ابْنِ إدْرِیسَ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیٍّ الصُّبْحَ، فَقَرَأَ بِـ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٧٩) حضرت ابو سوار قاضی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی اور انھیں یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا ہے { أَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّک بِعَادٍ إرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ }
(۳۵۷۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَوَّارٍ الْقَاضِیَ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ الزُّبَیْرِ الصُّبْحَ فَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ: {أَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّک بِعَادٍ إرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٠) حضرت ولید بن جمیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ فجر کی نماز میں سورة یس اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ وہ تیز قراءت کرنے والے تھے۔
(۳۵۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ إبْرَاہِیمَ، فَکَانَ یَقْرَأُ فِی الصُّبْحِ بـ: (یس) وَأَشْبَاہَہَا، وَکَانَ سَرِیعَ الْقِرَائَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨١) حضرت ابو عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی سے زیادہ قرآن کا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة الانبیاء کی تلاوت کی۔ انھوں نے جب ستر آیات مکمل کیں تو ایک آیت چھوڑ دی اور اس کے بعد والی آیت پڑھ لی۔ پھر جب انھیں یاد آیا تو واپس گئے اور اسے پڑھا۔ پھر اس جگہ واپس ہوگئے جہاں سے پڑھ رہے تھے، جب انھیں اٹکن محسوس ہوئی۔
(۳۵۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ أَنَّہُ قَالَ: مَا رَأَیْت رَجُلاً أَقْرَأَ مِنْ عَلِیٍّ، إِنَّہُ قَرَأَ بِنَا فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ بِالأَنْبِیَائِ، قَالَ: إذَا بَلَغَ رَأْسَ سَبْعِینَ تَرَکَ مِنْہَا آیَۃً فَقَرَأَ مَا بَعْدَہَا، ثُمَّ ذَکَرَ فَرَجَعَ فَقَرَأَہَا، ثُمَّ رَجَعَ إلَی مَکَانِہِ الَّذِی کَانَ قَرَأَ، لَمَّا یَتَتَعْتَعْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٢) حضرت ضحاک بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو فجر کی نماز میں طوال مفصل میں سے دو سورتیں پڑھتے دیکھا ہے۔
(۳۵۸۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَرَأَ فِی الْفَجْرِ بِسُورَتَیْنِ مِنْ طِوَالِ الْمُفَصَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٣) حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ حضرت عمرفجر کی نماز میں سورة بقرہ کی سو آیات پڑھتے اور ان کے ساتھ مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔ اور اگر سورة آل عمران کی سو آیات پڑھتے تو ان کے ساتھ بھی مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔
! سورة الحجرات سے لے کرآخرِ قرآن تک کی سورتوں کو ” مفصل “ کہا جاتا ہے۔” مفصل “ کی تین قسمیں ہیں : طوال، اوساط اور قصار۔ طوال مفصل سورة الحجرات سے لے کر سورة البروج تک، اوساط مفصل سورة الطارق سے سورة البینۃ تک اور قصار مفصل سورة القدر سے لے کر سورة الناس تک ہیں۔ مذکورہ روایت میں ” مفصل کے شروع “ سے مراد طوال مفصل کی سورتیں۔ ہیں۔
! سورة الحجرات سے لے کرآخرِ قرآن تک کی سورتوں کو ” مفصل “ کہا جاتا ہے۔” مفصل “ کی تین قسمیں ہیں : طوال، اوساط اور قصار۔ طوال مفصل سورة الحجرات سے لے کر سورة البروج تک، اوساط مفصل سورة الطارق سے سورة البینۃ تک اور قصار مفصل سورة القدر سے لے کر سورة الناس تک ہیں۔ مذکورہ روایت میں ” مفصل کے شروع “ سے مراد طوال مفصل کی سورتیں۔ ہیں۔
(۳۵۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنِ الْجُریرِیِّ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ: کَانَ عُمَرُ یَقْرَأُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ بِمِئَۃٍ مِنَ الْبَقَرَۃِ، وَیُتْبِعُہَا بِسُورَۃٍ مِنَ الْمَثَانِی، أَوْ مِنْ صُدُورِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ بِمِئَۃٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ، وَیُتْبِعُہَا بِسُورَۃٍ مِنَ الْمَثَانِی، أَوْ مِنْ صُدُورِ الْمُفَصَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٤) حضرت حصین بن سبرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ انھوں نے پہلی رکعت میں سورة یوسف کی تلاوت کی، دوسری مرتبہ میں سورۃ النجم کی تلاوت کی ۔ پھر انھوں نے سجدہ کیا پھر جب کھڑے ہوئے تو سورة الزلزال کی تلاوت کی، پھر رکوع کیا۔
(۳۵۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ سَبْرَۃَ، قَالَ: صَلَّیْت خَلْفَ عُمَرَ، فَقَرَأَ فِی الرَّکْعَۃِ الأَولَی بِسُورَۃِ یُوسُفَ، ثُمَّ قَرَأَ فِی الثَّانِیَۃِ بِالنَّجْمِ، فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ: {إذَازُلْزِلَتِ الأَرض} ثُمَّ رَکَعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٥) حضرت عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ فجر کی نماز میں، میں آخری صفوں میں تھا کہ میں نے حضرت عمر کے رونے کی آواز سنی، وہ اس آیت کی تلاوت کررہے تھے {إنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إلَی اللہِ }
(۳۵۸۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیینَّۃَ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَشِیجَ عُمَرَ
وَأَنَا فِی آخِرِ الصُّفُوفِ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ وَہُوَ یَقْرَأُ: {إنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إلَی اللہِ}۔
وَأَنَا فِی آخِرِ الصُّفُوفِ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ وَہُوَ یَقْرَأُ: {إنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إلَی اللہِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٦) حضرت علقمہ بن وقاص سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۳۵۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ؛ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٧) حضرت ابو حمزہ اعور کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ہمیں جمعہ کے دن فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں کہیعص کی تلاوت کی۔
(۳۵۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ الأَعْوَرِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ صَلَّی بِہِمْ یَوْمَ جُمُعَۃٍ الْفَجْرَ، فَقَرَأَ بِـ: (کہیعص)۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٨) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ ظہر کی پہلی دو رکعات میں آپ تیس آیات کے قریب تلاوت فرماتے اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے آدھا قیام فرماتے۔ اسی طرح عصر کی پہلی دو رکعات میں آپ ظہر کی آخری دو رکعات کے برابر قیام فرماتے اور عصر کی دوسری دو رکعات میں پہلی دو رکعات سے آدھا قیام فرماتے۔
(۳۵۸۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ الْہُجَیْمِیِّ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیق، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: کُنَّا نَحْزُرُ قِیَامَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الظُّہْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِقَدْرِ ثَلاَثِینَ آیَۃً، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔ (ابوداؤد ۸۰۰۔ احمد ۳/۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٨٩) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز میں سورۃ الاعلیٰ اور فجر کی نماز میں اس سے بھی لمبی سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(۳۵۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ بِـ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَفِی الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِکَ۔
(مسلم ۳۳۸۔ احمد ۵/۸۶)
(مسلم ۳۳۸۔ احمد ۵/۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٩٠) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی نماز میں سورة الطارق اور سورة البروج کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(۳۵۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرب، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِـ: {السَّمَائِ وَالطَّارِقِ} ، وَ {وَالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوجِ}۔
(طیالسی ۷۷۴۔ ابن حبان ۱۸۲۷)
(طیالسی ۷۷۴۔ ابن حبان ۱۸۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٩١) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ظہر کی پہلی دو رکعتیں اس طرح پڑھاتے کہ پہلی رکعت میں زیادہ قرات فرماتے اور دوسری میں کم، فجر کی نماز بھی اس طرح پڑھاتے کہ پہلی رکعت میں زیادہ قراءت فرماتے اور دوسری میں کم۔ اور عصر کی پہلی دو رکعات بھی اسی طرح پڑھایا کرتے تھے۔
(۳۵۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، یُطِیلُ فِی الأُولَی وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ، یُطِیلُ فِی الأُولَی وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ۔ (بخاری ۷۵۹۔ مسلم ۳۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
(٣٥٩٢) حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ظہر کی نماز میں قراءت کا اندازہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ الم تنزیل جیسی کسی سورت کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۳۵۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ، قَالَ: حزَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِرَائَتَہُ فِی الظُّہْرِ نَحْوًا مِنْ (أَلم تَنْزِیلُ)۔
তাহকীক: