সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৫৯ টি

হাদীস নং: ৮৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نماز کی تعلیم دینے کا حکم اس (کو چھوڑنے کی وجہ سے ) مارنے کا حکم اور ستر کا حکم جس کا چھپانا لازم ہے
880 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے : میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں ، اس وقت تک جب وہ یہ گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ، تو پھر ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہوجائیں ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے جبکہ ایک سند کے ہمراہ حضرت انس (رض) کے حوالے سے حضرت ابوبکر (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح منقول ہے۔
880 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ قَدْ حُرِّمَ عَلَىَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ». وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. وَكَذَلِكَ قَالَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِى بَكْرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
881 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے : میں مشرکین کے ساتھ اس وقت تک لڑائی کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں وہ ہماری طرح نماز ادا کریں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ بھی کریں ہمارے ذبائح کو کھائیں تو ان کے اموال اور خون ہم پر حرام ہوجائیں گے البتہ ان کا حق برقرار رہے گا : ان کو ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمان کو حاصل ہوگی ان پر ہر وہ چیز لازم ہوگی جو مسلمان پر لازم ہوتی ہے۔
881 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
882 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) کے حوالے سے یہی روایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
882 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
883 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی کی مانند منقول ہے۔
883 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
884 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
884 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقِرْمِيسِينِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَنْسِىُّ حَدَّثَنِى جَدِّى الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
885 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
885 - حَدَّثَنَا ابْنُ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
886 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کرلیں گے البتہ اسلام کے حق کا حکم مختلف ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔
886 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى حَرَمِىُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّى دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
887 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
887 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
888 ۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ اور گواہی دیں۔
888 - حَدَّثَنَا ابْنُ خَلاَّدٍ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِىُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا ». مِثْلَهُ سَوَاءً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
889 ۔ عبداللہ بن محریز بیان کرتے ہیں : یہ صاحب حضرت ابومحذورہ (رض) کے زیر پرورش تھے جب انھیں شام بھیجا جانے لگا تو یہ بیان کرتے : میں نے حضرت ابومحذورہ (رض) سے کہا : چچاجان۔ میں شام جانے لگاہوں مجھے یہ اندیشہ ہے میں آپ سے آپ کی اذان کے بارے میں دریافت نہیں کرسکوں گا : تو آپ مجھے اس بارے میں بتائیے تو انھوں نے جواب دیا : ہاں ! میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا ہم حنین کے راستے میں تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ہمارا (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قافلے) سے سامنا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن نے نماز کے لیے اذان دی حضرت ابومحذورہ فرماتے ہیں : ہم نے موذن کی اذان سنی تو ہم نے بھی بلند آواز میں ان الفاظ کو دہرایا ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آواز کو سن لیا : آپ نے ہمیں لینے کے لیے کسی کو بھیجا یہاں تک کہ ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لا کر کھڑا کردیا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم میں سے وہ کون شخص ہے جس کی آواز بلند تھی اور میں نے سنی ؟ سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا : انھوں نے ٹھیک کہا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ! میں اٹھا اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حکم مجھے دیا تھا میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی چیز نہیں تھی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بذات خود اذان دینے کا طریقہ سکھایا اور فرمایا : تم یہ پڑھو :

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اسے دوبارہ پڑھو ! اور اپنی آواز کو پھیلاؤ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اب تم یہ پڑھو :

اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

جب میں نے اذان مکمل کرلی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطاء کی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک حضرت محذورہ کی پیشانی پر رکھا پھر ہاتھ ان کے چہرے پر پھیرا ان کے سینے پر پھیرا پھر ان کے جگر پر پھیرا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک حضرت ابومحذورہ کی ناف تک پھیرا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے اور تمہارے اوپر برکتیں نازل فرمائے۔ میں تمہیں اس بات کی اجازت دیتاہوں اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے میرے من میں جتنی بھی ناپسندیدگی تھی وہ سب ختم ہوگئی اور وہ سب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں تبدیل ہوگئی پھر میں حضرت عتاب بن اسید کے پاس گیا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کردہ گورنر تھے تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اذان دینا شروع کردی۔

ابن جریج نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے حضرت ابومحذورہ (رض) کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے اسی طرح یہ روایت سنی ہے جس طرح ابن محیریز نے مجھے یہ حدیث سنائی تھی یہ روایت ربیع نامی راوی کی نقل کردی ہے اس کے الفاظ بھی انہی کے ہیں۔
889 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِىُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو أُمَيَّةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُوَرَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ - وَكَانَ يَتِيمًا فِى حِجْرِ أَبِى مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ - قَالَ فَقُلْتُ لأَبِى مَحْذُورَةَ أَىْ عَمِّ إِنِّى خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّى أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِى قَالَ نَعَمْ خَرَجْتُ فِى نَفَرٍ فَكُنَّا فِى بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالصَّلاَةِ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ فَسَمِعَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّكُمُ الَّذِى سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ». فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَىَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِى فَقَالَ « قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاَةِ ». فَقُمْتُ وَلاَ شَىْءَ أَكْرَهُ إِلَىَّ مِنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَمَا يَأْمُرُنِى بِهِ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَلْقَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ « قُلِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ » ثُمَّ قَالَ لِىَ « ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ ». ثُمَّ قَالَ لِىَ « قُلْ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ». ثُمَّ دَعَانِى حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِى صُرَّةً فِيهَا شَىْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِى مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أَمَرَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِى مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِى بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ. فَقَالَ « قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ » وَذَهَبَ كُلُّ شَىْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ كَرَاهِيَةٍ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَذَّنْتُ بِالصَّلاَةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِى مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِى مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ. هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ وَلَفْظُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت ابومحذورہ (رض) کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
890 ۔ ربعی بیان کرتے ہیں : امام شافعی نے یہ بات بتائی ہے : میں نے ابراہیم بن عبدالعزیز کو پایا انھوں نے اسی طرح اذاد دی جس طرح ابن محیریز نے بیان کی ہے میں نے انھیں اپنے والد کے حوالے سے ابن محیریز کے حوالے سے حضرت ابومحذورہ (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اسی مفہوم کی روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے جیسی ابن جریج نے بیان کی ہے میں نے انھیں اقامت کہتے ہوئے سنا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

میرا یہ خیال ہے انھوں نے اس اقامت کو اسی روایت کے طور پر بیان کیا ہے جس طرح انھوں نے اذان کا واقعہ بیان کیا ہے۔
890 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِىُّ قَالَ وَأَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِى مَحْذُورَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَسَمِعْتُهُ يُقِيمُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. وَأَحْسَبُهُ يَحْكِى الإِقَامَةَ خَبَرًا كَمَا يَحْكِى الأَذَانَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت ابومحذورہ (رض) کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
891 ۔ حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین تشریف لے گئے، میں مکہ کے دس آدمیوں کے ساتھ پیچھے گیا۔ وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کو نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا تو ہم بھی اٹھ کر اذان دینے لگے، ہم ان کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے ان لوگوں میں ایسے شخص کی اذان سنی ہے ، جس کی آواز بہت اچھی ہے ، پھر آپ نے ہمیں بلوایا، پھر ہم میں سے ہر ایک شخص نے الگ الگ اذان دی ، میں نے سب سے آخر میں اذان دی ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم آگے آؤ ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے سامنے بٹھالیا پھر میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے تین مرتبہ دعا کی ، پھر ارشاد فرمایا : جاؤ اور بیت اللہ کے پاس اذان دو میں نے عرض کی : وہ کیسے ؟ یارسول اللہ ! تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اذان کا طریقہ سکھایا ، جس طرح آج کل اذان دی جاتی ہے۔ (اذان کے الفاظ یہ تھے ):

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

یہ صبح کی پہلی اذان میں الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

'' الصلاۃ خیر من النوم الصلاۃ خیر من النوم ''

حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اقامت کے کلمات بھی دو مرتبہ کہنے کا طریقہ تعلیم دیا ہے (اس کے الفاظ یہ ہیں :)

'' قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ ''
891 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِىُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ أَخْبَرَنِى أَبِى وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِى مَحْذُورَةَ قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَطْلُبُهُمْ قَالَ فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ لِلصَّلاَةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ سَمِعْتُ فِى هَؤُلاَءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ ». فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَأَذَّنَّا كُلُّنَا رَجُلاً رَجُلاً فَكُنْتُ آخِرَهُمْ فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ « تَعَالَ ». فَأَجْلَسَنِى بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِى وَبَارَكَ عَلَىَّ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ « اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ » قُلْتُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَعَلَّمَنِى الأَذَانَ كَمَا تُؤَذِّنُونَ الآنَ « اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِى الأُولَى مِنَ الصُّبْحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ». قَالَ وَعَلَّمَنِى الإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ « اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ عُثْمَانُ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِى مَحْذُورَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت ابومحذورہ (رض) کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
892 ۔ حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں : میں دس نوجوانوں کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کے لیے روانہ ہوا اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے ، ہم اٹھ کر اذان دینے لگے ہم (دراصل ان لوگوں کا ) مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان نوجوانوں کو میرے پاس لاؤ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اذان دو ! ان لوگوں نے اذان دی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! یہ وہ شخص ہے جس کی میں نے اذان سنی تھی تم جاؤ اور اہل مکہ کے لیے اذان دیا کرو۔ اور تم عتاب سے کہو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے : میں اہل مکہ کے لیے اذان دوں، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور کہا : تم یہ کہو۔

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ

یہ کلمات دو مرتبہ ہیں، اشھد ان لاالہ الا اللہ ، تم دو بار یہ پڑھو اشھد ان محمد رسول اللہ ، حی علی الصلاۃ، دو مرتبہ حی علی الفلاح دو مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ۔ جب تم صبح کی پہلی اذان دو تو یہ کہو : الصلاۃ خیر من النوم یہ کلمات دو مرتبہ ہیں جب تم اقامت کہو، تو ان کلمات کو دو مرتبہ کہو : قدقامت الصلاۃ ، کیا تم نے یہ بات سن لی ہے ؟:

راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابومحذورہ (رض) اپنی پیشانی کے بال نہیں کٹواتے تھے اور وہاں مانگ نہیں نکالتے تھے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
892 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ أَبِى مَحْذُورَةَ قَالاَ قَالَ أَبُو مَحْذُورَةَ خَرَجْتُ فِى عَشْرَةِ فِتْيَانٍ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى حُنَيْنٍ وَهُوَ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيْنَا فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « ائْتُونِى بِهَؤُلاَءِ الْفِتْيَانِ ».

فَقَالَ « أَذِّنُوا » فَأَذَّنُوا فَكُنْتُ آخِرَهُمْ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « نَعَمْ هَذَا الَّذِى سَمِعْتُ صَوْتَهُ اذْهَبْ فَأَذِّنْ لأَهْلِ مَكَّةَ وَقُلْ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ أُؤَذِّنَ لأَهْلِ مَكَّةَ ». وَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِى وَقَالَ « قُلِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ ارْجِعْ فَاشْهَدْ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَرَّتَيْنِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ مَرَّتَيْنِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ مَرَّتَيْنِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا أَذَّنْتَ بِالأُولَى مِنَ الصُّبْحِ فَقُلِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ مَرَّتَيْنِ وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ انْبَعِثْ ». قَالَ فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لاَ يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلاَ يَفْرُقُهَا لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَسَحَ عَلَيْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت ابومحذورہ (رض) کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
893 ۔ حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان کے یہ الفاظ سکھائے تھے :

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔
893 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّى عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِى مَحْذُورَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَبِى مَحْذُورَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَلْقَى هَذَا الأَذَانَ عَلَيْهِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : حضرت سعدالقرظ کا تذکرہ
894 ۔ عماربن سعد اپنے والد حضرت سعدسعد القرظ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : یہ اذان حضرت بلال (رض) کی اذان ہے ، جس کا حکم انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا تھا۔

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ ثم یرجع فیقول اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

ان کی اقامت کے الفاظ یہ ہیں : اقامت کے الفاظ ایک ایک ہوگئے، اسی طرح یہ جملہ بھی ایک مرتبہ کہا جائے گا۔ قدقامت الصلاۃ۔ حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے یہ فرمایا تھا : اسے سعد ! جب تم بلال کو میرے ساتھ نہ دیکھو تو تم اذان دے دیاکرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا اور ارشاد فرمایا اے سعد ! اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ! جب تم بلال کو میرے ساتھ نہ دیکھو تو اذان دے دیاکرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضڑت سعد نے قباء میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تین مرتبہ اذان دی ۔

راوی بیان کرتے : جب حضرت بلال نے (اس وقت کے خلیفہ) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی، تو حضرت عمر (رض) نے ان سے دریافت کیا : اے بلال اب میں اذان کا کام کس کے سپرد کروں ؟ تو انھوں نے جواب دیا : سعد کے ، کیونکہ انھوں نے قباء میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اذان دی ہے ، تو حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد کو بلایا اور فرمایا : اذان دینے کا کام تمہارے سپرد ہے اور تمہارے بعد تمہارے اولاد کے سپرد ہوگا، پھر حضرت عمر (رض) نے انھیں وہ نیز عطا کیا جسے حضرت بلال (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اٹھایا کرتے تھے اور حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا تم اسے لے کر میرے آگے چلا کرو ، حضرت بلال (رض) اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے چلا کرتے تھے اور اسے عید گاہ میں گاڑ دیا کرتے تھے ، تو حضرت سعد نے ایسا ہی کیا۔
894 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَائِذٍ الْقَرَظِ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ وَعَمَّارٌ وَعُمَرُ ابْنَا حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الأَذَانَ أَذَانُ بِلاَلٍ الَّذِى أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِقَامَتُهُ وَهُوَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ وَاحِدَةٌ وَيَقُولُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ مَرَّةً وَاحِدَةً. قَالَ سَعْدُ بْنُ عَائِذٍ وَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَا سَعْدُ إِذَا لَمْ تَرَ بِلاَلاً مَعِى فَأَذِّنْ وَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأْسَهُ وَقَالَ « بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا سَعْدُ إِذَا لَمْ تَرَ بِلاَلاً مَعِى فَأَذِّنْ ». قَالَ فَأَذَّنَ سَعْدٌ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقُبَاءَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَلَمَّا اسْتَأْذَنَ بِلاَلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فِى الْخُرُوجِ إِلَى الْجِهَادِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ إِلَى مَنْ أَدْفَعُ الأَذَانَ يَا بِلاَلُ قَالَ إِلَى سَعْدٍ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقُبَاءَ فَدَعَا عُمَرُ سَعْدًا فَقَالَ لَهُ الأَذَانُ إِلَيْكَ وَإِلَى عَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَعْطَاهُ عُمَرُ رضى الله عنه الْعَنَزَةَ الَّتِى كَانَ يَحْمِلُ بِلاَلٌ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ امْشِ بِهَا بَيْنَ يَدَىَّ كَمَا كَانَ بِلاَلٌ يَمْشِى بِهَا بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى تَرْكُزَهَا بِالْمُصَلَّى. فَفَعَلَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
895 ۔ ابراہیم بن عبدالعزیز یہ بیان کرتے : میں نے اپنے جد امجد اپنے والد اور اپنے دیگر رشتہ داروں کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے : وہ ان الفاظ میں اقامت پڑھا کرتے تھے ۔

اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان الاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح قد قامت الصلوۃ اللہ اکبر لاالہ الا اللہ۔
895 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ قَالَ أَدْرَكْتُ جَدِّى وَأَبِى وَأَهْلِى يُقِيمُونَ فَيَقُولُونَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
896 ۔ ابراہیم بن ابومحذورہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابومحذورہ کو بلایا اور انھیں اذان دینے کا طریقہ تعلیم دیا اور انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ مکہ میں اذان دیں، جس میں اللہ اکبر دو مرتبہ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی کہ وہ اقامت کے کلمات ایک مرتبہ پڑھا کریں۔
896 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِى مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَعَا أَبَا مَحْذُورَةَ فَعَلَّمَهُ الأَذَانَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِى مَحَارِيبِ مَكَّةَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
897 ۔ حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اقامت کے انیس کلمات سکھائے تھے اذان کے الفاظ یہ ہیں :

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

اسی طرح اقامت کے الفاظ دو مرتبہ ادا کیے جائیں گے اور دہرائے نہیں جائیں گے ۔
897 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِىُّ أَخْبَرَنِى أَبُو الْوَلِيدِ ح وَحَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَّمَهُ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ الأَذَانُ « اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ » وَالإِقَامَةُ هَكَذَا مَثْنَى مَثْنَى لاَ يَعُودُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
898 ۔ حضرت ابومحذورہ (رض) بیان کرتے ہیں : میں کم سن لڑکا تھا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے فجر کی اذان دی یہ حنین کا واقعہ ہے جب میں ان کلمات پر پہنچا، حی علی الفلاح، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اس میں یہ جملہ شامل کرلو : الصلاۃ خیر من النوم : نماز نیند سے بہتر ہے۔
898 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنِى الْحِمَّانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَحْذُورَةَ يَقُولُ كُنْتُ غُلاَمًا صَيِّتًا فَأَذَّنْتُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حُنَيْنٍ الْفَجْرَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْحَقْ فِيهَا الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
899 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : جب مسلمان مدینہ منورہ آئے تو نماز کے وقت اکٹھے ہوجایا کرتے تھے انھیں اس کے لیے (باقاعدہ طور پر) بلایا نہیں جاتا تھا ایک دن انھوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو کسی نے کہا : تم لوگ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح ناقوس بجایاکرو، کچھ نے یہودیوں کی طرح بوق بجایاکرو، تو حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا تم لوگ کچھ لوگوں کو بھیجتے کیوں نہیں ؟ تاکہ وہ نماز کے لیے اعلان کردیاکریں، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے بلال تم اٹھو اور اذان دو۔
899 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ وَلَيْسَ يُنَادَى بِهَا فَكَلَّمُوهُ يَوْمًا فِى ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ بُوقًا مِثْلَ بُوقِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه أَلاَ تَبْعَثُونَ رِجَالاً يُنَادُونَ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا بِلاَلُ قُمْ فَأَذِّنْ ».
tahqiq

তাহকীক: