কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০২ টি

হাদীস নং: ২৭৯৩০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27930 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : طلاق کا اختیار مردوں کو حاصل ہے اور عدت گزارنا عورتوں کا کام ہے۔ (رواہ البیہقی) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الاثر 385 ۔
27930- عن علي قال:"الطلاق بالرجال والعدة بالنساء". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27931 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے پھر رجوع پر گواہ بنا لے حالانکہ عورت کو اس کا علم نہ ہو تو آپ (رض) نے فرمایا : وہ پہلے شخص کی بیوی ہے دوسرے خاوند نے خواہ دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔ (رواہ الشافعی والبیہقی)
27931- عن علي قال: "في الرجل يطلق امرأته، ثم يشهد على رجعتها ولم تعلم بذلك قال: هي امرأة الأول دخل بها الآخر أو لم يدخل". "الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27932 ۔۔۔ ” ایضاء “ حبیب بن ابی ثابت اپنے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دی ہیں ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : تین طلاقوں نے تو اسے تمہارے اوپر حرام کردیا ہے اور باقی طلاقیں اپنی بیویوں پر تقسیم کر دو ۔ (رواہ البیہقی)
27932- "أيضا" عن حبيب بن أبي ثابت عن بعض أصحابه قال: "جاء رجل إلى علي فقال: طلقت امرأتي ألفا قال: ثلاث تحرمها عليك واقسم سائرها بين نسائك". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27933 ۔۔۔ ” ایضاء “ عطا بن ابی رباح روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک کیس گیا وہ یہ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تیری رسی تیری گردن پر ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے فرمایا : ان کے درمیان فیصلہ کرو چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے مرد سے حلف لیا کہ تم نے اس سے کیا مراد لیا ہے ، وہ بولا : میں نے طلاق کا ارادہ کیا ہے ، چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اس کی طلاق کو نافذ رکھا ۔ (رواہ الشافعی فی القدیم والبیہقی)
27933- "أيضا" عن عطاء بن أبي رباح "أن عمر رفع إليه رجل طلق قال لامرأته: حبلك على غاربك فقال لعلي: اقض بينهما فاستحلفه على ما أراد؟ قال: أردت الطلاق فأمضاه علي". "الشافعي في القديم، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27934 ۔۔۔ ” ایضاء “ شعبی (رح) کہتے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تو خلیہ ” قید نکاح سے آزاد “ بریہ “ عقد نکاح سے بری بائن اور حرام ہے اور جب اس سے طلاق کی نیت کرے تو تین طلاقیں ہوں گی ۔ (رواہ البیہقی)
27934- "أيضا" عن الشعبي قال: "قال علي: الخلية والبرية والبتة والبائن والحرام إذا نوى فهو بمنزلة الثلاث". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27935 ۔۔۔ ” ایضاء “ زاذان کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس تھے آپ (رض) نے خیار کا تذکرہ کیا اور فرمایا : امیر المؤمنین نے مجھ سے خیار کے متعلق پوچھا : میں نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق بائن ہوگی اگر اپنے خاوند کو اختیار کرے تو ایک طلاق ہوگی اور اسے رجوع کا حق حاصل ہوگا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : یوں نہیں ہے۔ لیکن اگر عورت اپنے خاوند کو اختیار کرتی ہے تو کوئی طلاق نہیں ہوگی اگر اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے تو ایک طلاق ہوگی اور خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوگا ، میں صرف امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی اتباع کی طاقت رکھتا ہوں جب معاملہ میرے سپرد ہوگا اور مجھے معلوم ہوگا کہ میں عورتوں کا مسؤل ہوں تو اس وقت میں وہی اختیار کروں گا جو بہتر سمجھوں گا ، لوگوں نے کہا : بخدا اگر آپ امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے قول پر پختہ رہتے ہیں اور اپنے قول کو چھوڑ دیتے ہیں تو یہ تفرد سے ہمیں زیادہ محبوب ہوگا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ہنس کر فرمایا : سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے زید بن ثابت (رض) کو پیغام بھیج کر یہی مسئلہ دریافت کیا تو زید (رض) نے میری مخالفت کی ہے اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی مخالفت کی ہے وہ تو کہتے ہیں : اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرے گی تو اسے تین طلاقیں ہوں گی اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرے گی تو اسے ایک طلاق ہوگی اور خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوگا ۔ (رواہ البیہقی)
27935- "أيضا" عن زاذان قال: "كنا عند علي فذكر الخيار فقال: إن أمير المؤمنين قد سألني عن الخيار فقلت: إن اختارت نفسها فواحدة بائنة وإن اختارت زوجها فواحدة وهو أحق بها فقال عمر: ليس كذلك ولكنها إن اختارت زوجها فليس بشيء، وإن اختارت نفسها فواحدة وهو أحق بها، فلم أستطع إلا متابعة أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه فلما خلص الأمر إلي وعلمت أني مسؤل عن الفروج أخذت بالذي كنت أرى، فقالوا: والله لئن جامعت عليه أمير المؤمنين عمر وتركت رأيك الذي رأيت إنه لأحب إلينا من أمر تفردت به بعده، قال: فضحك ثم قال: أما إنه قد أرسل إلى زيد بن ثابت فسأل زيدا فخالفني وإياه فقال زيد: إن اختارت نفسها فثلاث وإن اختارت زوجها فواحدة وهو أحق بها". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27936 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کو اس کے گھر والوں کے سپرد کر دے ، اگر گھر والے اسے قبول کرلیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی اور اگر گھر والے عورت کو واپس کردیں تو ایک طلاق ہوگی اور خاوند کو رجوع کا حق ہوگا ۔ (رواہ البیہقی)
27936- "عن علي في رجل وهب امرأته لأهلها فقال: إن قبلوها فهي تطليقة بائنة وإن ردوها فهي واحدة وهو أملك برجعتها". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27937 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : جب مرد اپنی بیوی کو طلاق کا ایک ہی بار مالک بنا دے اور وہ عورت کچھ فیصلہ کر دے تو اس کے معاملے میں کچھ نہیں ہوگا اگر فیصلہ نہ کرے تو ایک طلاق ہوگی اور معاملہ مرد کے پاس ہوگا (رواہ البیہقی)
27937- عن علي قال: "إذا ملك الرجل امرأته مرة واحدة فإن قضت فليس له من أمرها شيء، وإن لم تقض فهي واحدة وأمرها إليه". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27938 ۔۔۔ ” ایضاء “ شعبی (رح) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر دے ؟ فرمایا لوگوں نے کہا : حضرت علی (رض) اسے تین طلاقیں قرار دیتے تھے شعبی (رح) نے کیا : سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے یہ نہیں کہا، انھوں نے یہ کہا ہے کہ میں نہ اسے حلال کرتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں (رواہ البیہقی)
27938- "أيضا" عن الشعبي "في الرجل يجعل امرأته عليه حراما؟ قال: يقولون: إن عليا جعلها ثلاثا قال الشعبي: ما قال علي هذا إنما قال: لا أحلها ولا أحرمها". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৩৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الطلاق ۔۔۔ از قسم افعال : احکام طلاق :
27939 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جو شخص اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے تو عورت اس حیض کو (جس میں اسے طلاق ہوئی ) شمار نہ کرے ۔ (رواہ اسماعیل الخطی فی الثانی من حدیثہ)
27939- عن علي "في رجل طلق امرأته وهي حائض؟ قال: لا تعتد بتلك الحيضة". "إسماعيل الخطبي في الثاني من حديثه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات طلاق :
27940 ۔۔۔ شقیق بن سلمہ روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اپنی بیوی کو حالت میں طلاق دے دی، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کو رجوع کرلینے کا حکم دیا اور فرمایا : یہ حیض شمار میں نہ لایا جائے ۔ (رواہ العدنی)
27940- عن شقيق بن سلمة "أن ابن عمر طلق امرأته وهي حائض فذكر ذلك عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فأمره أن يرتجعها وقال: "لا تعتد بتلك الحيضة". "العدني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات طلاق :
27941 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جبکہ بیوی حالت حیض میں تھی ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتوی طلب کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ سے کہو : بیوی سے رجوع کرے پھر اسے اپنے پاس روکے رکھے حتی کہ جب پاک ہوجائے پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو پھر اگر طلاق دینا چاہے تو طاہر (یعنی طہر میں بغیر جماع کرنے کی) حالت میں اسے طلاق دے جماع کرنے سے قبل ، پس طلاق دینے کا یہ طریقہ ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ (رواہ مالک والشافعی وابن عدی واحمد بن حنبل وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن منذر وابو یعلی وابن مردویہ والبیہقی)
27941- عن ابن عمر "أنه طلق امرأته وهي حائض فاستفتى عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "مر عبد الله فليراجعها ثم ليمسكها حتى تطهر ثم تحيض فتطهر، فإن بدا له أن يطلقها فليطلقها طاهرا قبل أن يمسها فتلك العدة التي أمر الله أن يطلق لها النساء". "مالك والشافعي، عد، حم وعبد بن حميد، خ، م، د، ن، هـ وابن جرير وابن منذر، ع وابن مردويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات طلاق :
27942 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی ام ولد ام سعید کہتی ہیں : میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) پر وضو کے لیے پانی بہایا آپ (رض) نے فرمایا : اے ام سعید ! مجھے دلہا بننے کا شوق ہے میں نے عرض کیا : امیر المؤمنین آپ کو کس چیز نے روکا ہے ؟ فرمایا : کیا چار بیویوں کے بعد دلہا بن سکتا ہوں ؟ میں نے عرض کیا : چار میں سے ایک کو طلاق دے دیں اور ایک اور سے شادی کرلیں ۔ فرمایا : میں طلاق کو بہت قبیح سمجھتا ہوں ۔ (رواہ البیہقی)
27942- "مسند علي رضي الله عنه" عن أم سعيد أم ولد علي قالت: "كنت أصب على علي الماء وهو يتوضأ فقال: يا أم سعيد قد اشتقت أن أكون عروسا فقلت ما يمنعك يا أمير المؤمنين؟ قال: أبعد أربع؟ قالت: فقلت تطلق واحدة منهن وتزوج أخرى قال: إن الطلاق قبيح أكرهه". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب طلاق :
27943 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کبھی تمہارے لیے طلاق میں بردباری تھی لیکن تم نے بردباری کو جلد بازی سے بدل دیا ہم بھی جلد بازی کے حکم کو نافذ کردیتے ہیں۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ) ۔ فائدہ : ۔۔۔ یعنی سوچ سمجھ کر طلاق دینی چاہیے پہلے ایک طلاق دے اگر ندامت ہوجائے تاکہ رجوع بھی کرے لیکن اگر کوئی تین طلاقیں دے تو اس نے شریعت کی طرف سے دی ہوئی بردباری کو ٹھکرایا اور اس کی یہ طلاقیں نافذ ہوجائیں گی ۔
27943- عن طاوس قال: "قال عمر بن الخطاب: قد كان لكم في الطلاق أناة فاستعجلتم أناتكم وقد أجزنا عليكم ما استعجلتم من ذلك". "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب طلاق :
27944 ۔۔۔ حسن روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو اشعری (رض) کو خط لکھا : میں نے ارادہ کیا تھا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے میں اس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دوں لیکن لوگوں نے اپنے اوپر تین طلاقیں لازم کردی ہیں (ان سے کم کا نام ہی نہیں لیتے) لہٰذا ہم بھی ہر نفس کو وہ چیز لازم کریں گے جو وہ خود اپنے اوپر لازم کرے گا ۔ جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا : تو مجھ پر حرام ہے ، تو وہ اس پر حرام ہوگی ، اور جس نے اپنی بیوی سے کہا : تجھے تین طلاقیں ہیں۔ تو اسے تین طلاقیں ہوں گی ، (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
27944- عن الحسن "أن عمر بن الخطاب كتب إلى أبي موسى الأشعري: لقد هممت أن أجعل إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس أن أجعلها واحدة، ولكن أقواما جعلوا على أنفسهم فألزم كل نفس ما ألزم نفسه، من قال لامرأته: أنت علي حرام فهي حرام، ومن قال لامرأته، أنت بائنة فهي بائنة، ومن قال: أنت طالق ثلاثا فهي ثلاث". "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب طلاق :
27945 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوئیں تو آپ (رض) اس کی پیٹھ پر مارتے تھے ۔ (رواہ ابونعیم فی الحلیۃ)
27945- عن أنس قال: "كان عمر إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره". "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب طلاق :
27946 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ : جو شخص طلاق سنت دیتا ہے اسے کبھی ندامت نہیں اٹھانی پڑتی ۔ (رواہ ابن منیع وصحح)
27946- عن علي قال: "ما طلق الرجل طلاق السنة فندم أبدا". "ابن منيع وصحح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک نکاح سے قبل طلاق دینے کا بیان :
27947 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن روایت کی ہے کہ ایک شخص سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : ہر وہ عورت جس سے میں شادی کروں اسے تین طلاقیں ہیں ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس سے فرمایا یہ ایسا ہی ہے جیسا تم نے کہہ دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27947- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن "أن رجلا أتى عمر بن الخطاب فقال: "كل امرأة أتزوجها فهي طالق ثلاثا فقال له عمر: فهو كما قلت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک نکاح سے قبل طلاق دینے کا بیان :
27948 ۔۔۔ مالک کی روایت ہے کہ انھیں حدیث پہنچی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سالم بن عبداللہ ، قاسم بن محمد (رض) سلیمان بن یسار (رض) ، اور ابن شہاب (رض) کہتے کہتے تھے جب کوئی شخص کسی عورت کی طلاق کا حلف اٹھالے اس سے نکاح کرنے سے قبل پھر اس نے قسم توڑ دی تو یہ حلف (یعنی طلاق) اس پر لازم ہوجائے گا جب اس عورت سے نکاح کرے گا ۔ (رواہ مالک)
27948- عن مالك أنه بلغه "أن عمر بن الخطاب وعبد الله بن عمر وعبد الله بن مسعود وسالم بن عبد الله والقاسم بن محمد وسليمان بن يسار وابن شهاب كانوا يقولون: إذا حلف الرجل بطلاق المرأة قبل أن ينكحها ثم أثم إن ذلك لازم له إذا نكحها". "مالك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯৪৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی طلاق کا بیان :
27949 ۔۔۔ ایوب سختیانی سے مروی ہے کہ ایک مکاتب (وہ غلام جسے آقا کہے اتنے پیسے لاؤ مجھے دو تم آزاد ہو) کے نکاح میں آزاد عورت تھی اس نے عورت کو دو طلاقیں دیں پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) اور زید بن ثابت (رض) کے پاس آیا اور ان سے مسئلہ دریافت کیا : ان دونوں حضرات نے فرمایا : وہ عورت تجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ طلاق مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ رواہ البیہقی)
27949- عن أيوب السختياني "أن مكاتبا كان تحته حرة فطلقها تطليقتين فأتى عثمان بن عفان وزيد بن ثابت فسألهما عن ذلك، فابتدأ كل واحد منها يقول: حرمت عليك والطلاق بالرجال". "ق".
tahqiq

তাহকীক: