কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

زینت اور آراستگی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩ টি

হাদীস নং: ১৭২০৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17206 اثمد سرمہ لگاؤ۔ وہ نگاہ تیز کرتا ہے اور (پلکوں اور ابرؤ وں کے) بال اگاتا ہے۔

النسائی، مستدرک الحاکم ، ابن حبان عن ابن عباس (رض)
17206- "اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر". "ن ك حب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17207 تمہارے سرموں میں سے بہترین سرمہ اثمد ہے جو نگاہ بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے۔

النسائی، مستدرک الحاکم، ابن حبان عن ابن عباس (رض)
17207- "إن من خير أكحالكم الإثمد إنه يجلو البصر وينبت الشعر ". "ن ك حب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17208 دونوں آنکھوں میں سرمہ لگانا نگاہ تیز کرتا ہے اور مسواک کرنا منہ کی ڈاڑھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ الدیلمی عن حذیفہ (رض)
17208- "الكحل في العينين يجلو البصر، والسواك يثبت الأضراس في الفم". "الديلمي عن حذيفة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17209 تمہارے سرموں میں سے بہترین سرمہ سوتے وقت اثمد سرمہ لگانا ہے۔ جو بالوں کو اگاتا ہے اور نگاہ تیز کرتا ہے۔ ابن حبان عن ابن عباس (رض)
17209- "خير أكحالكم الإثمد عند النوم، ينبت الشعر ويجلو البصر". "حب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیل لگانا
17210 جب تم میں سے کوئی تیل لگائے تو پہلے اپنی ابرؤ وں پر لگائے وہ سردردی کو رفع کرتا ہے۔ ابن السنی ، ابونعیم فی الطب عن قتادہ مرسلاً ، مسند الفردوس عن انس (رض)
17210- "إذا ادَّهن أحدكم فليبدأ بحاجبيه فإنه يذهب بالصداع أو يمنع الصداع". "ابن السني وأبو نعيم في الطب عن قتادة مرسلا، فر عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیل لگانا
17211 تیل لگانا محتاجگی کو بھگاتا ہے (اچھا) لباس پہننا غنی کو ظاہر کرتا ہے، خادم کے ساتھ احسان کرنا دشمن کو ناکام کرتا ہے۔ ابن السنی ، ابونعیم فی الطب عن طلحۃ

کلام : ضعیف الجامع :3023 ۔
17211- "الدهن يذهب بالبؤس، والكسوة تظهر الغنى، والإحسان إلى الخادم مما يكبت الله به العدو". "ابن السني وأبو نعيم في الطب عن طلحة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیل لگانا
17212 تیلوں کا سردار تیل گل بنفشہ ہے۔ بنفشہ کے تیل کی فضیلت تمام تیلوں پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمام لوگوں پر ہے۔ الشیرازی فی الالقاب عن انس (رض) وھو قل ضرف۔

کلام : التنکیت والا فادۃ 145، ضعیف الجامع :3317، الکشف الالٰہی 453 ۔
17212- "سيد الأدهان دهن البنفسج، وإن فضل البنفسج على سائر الأدهان كفضلي على سائر الرجال". "الشيرازي في الألقاب عن أنس وهو أمثل طرقه".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیل لگانا
17213 جس نے تیل لگایا اور بسم اللہ نہیں پڑھی اس کے ساتھ ستر شیاطین نے تیل لگایا۔

ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ عن دوید بن نافع القرسی مرسلاً

کلام : الضعیفۃ 651 ۔
17213- "من ادَّهن ولم يسم ادهن معه سبعون شيطانا". "ابن السني في عمل يوم وليلة عن دويد بن نافع القرشي مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17214 لبان (کندر) تیل لگاؤ۔ یہ تمہارے لیے تمہاری عورتوں کے پاس زیادہ فائدہ والا ہے گل بنفشہ کا تیل لگاؤ وہ گرمیوں میں ٹھنڈا ہے اور سردیوں میں گرم ہے۔

الکامل لابن عدی، الدیلمی عن علی (رض)
17214- "ادهنوا باللبان فإنه أحظى لكم عند نسائكم وادهنوا بالبنفسج فإنه بارد في الصيف حار في الشتاء". "عد والديلمي عن علي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17215 جب تم میں سے کوئی تیل لگائے تو اپنی ابرؤ وں سے ابتداء کرے وہ سردردی کو رفع کرتا ہے اور یہ بال ابن آدم پر سب بالوں سے پہلے اگتے ہیں۔ الحکیم عن قتادہ عن انس (رض)
17215- "إذا أدهن أحدكم فليبدأ بحاجبيه فإنه يذهب بالصداع وذلك أول ما ينبت على ابن آدم من الشعر". "الحكيم عن قتادة عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17216 (سرکے) سارے بالوں کو منڈوا دو یا سارے چھوڑ دو ۔

ابوداؤد، النسائی عن ابن عمر (رض)
17216- "احلقوه كله أو اتركوه كله". "د، ن عن ابن عمر"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17217 مونچھوں کو اچھی طرح کترو۔ اور ڈاڑھی کو بڑھاؤ۔

مسلم، الترمذی، النسائی عن ابن عمر (رض) ، الکامل لا بن عدی عن ابوہریرہ (رض)
17217- "أحفوا الشوارب وعفوا اللحى". "م ت ن عن ابن عمر، عد عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17218 مونچھوں کو اچھی طرح کترو اور ڈاڑھی کو چھوڑو او یہود کے ساتھ مشابہت نہ کرو (جو اس کی مخالفت کرتے ہیں) ۔ الطحاوی عن انس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :217، الضعیفۃ 2107، کشف الخفاء 142 ۔
17218- "أحفوا الشوارب وأعفوا اللحى ولا تشبهوا باليهود". "الطحاوي عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17219 مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو اور ڈاڑھی کو بڑھتا چھوڑو۔ اور ناک کے بالوں کو اکھیڑو۔

الکامل لا بن عدی، شعب الایمان للبیہقی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جد ہے

کلام : ضعیف الجامع :216، ذخیرۃ الحفاظ 129 ۔
17219- "أحفوا الشوارب وأعفوا اللحى وانتفوا الشعر الذي في الآناف". "عد هب عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17220 جس نے زیر ناف بالوں کو نہیں کاٹا، اپنے ناخنوں کو نہیں تراشا اور اپنی مونچھوں کو مختصر نہیں کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ مسنداحمد عن رجل میں بنی غفار

کلام : ضعیف الجامع :5838 ۔
17220- "من لم يحلق عانته ويقلم أظفاره ويجز شاربه فليس منا". "حم عن رجل من بني غفار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17221 مونچھوں کے بالوں کو بالکل صاف کرو اور ڈاڑھی چھوڑو۔ البخاری عن ابن عمر (رض)
17221- "انهكوا الشوارب واعفوا اللحى". "خ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17222 ڈاڑھیوں کو بڑھنے دو ، مونچھوں کو تراشواؤ، اپنی سفیدی (بڑھاپے) کو تبدیل کرلو اور یہود و نصاریٰ سے مشابہت اختیار نہ کرو۔ مسند احمد عن ابوہریرہ (رض)
17222- "أعفوا اللحى وجزوا الشوارب وغيروا شيبكم ولا تشبهوا باليهود والنصارى". "حم عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17223 مونچھوں کو ترشوانا اور ڈاڑھی کو چھوڑو اور مجوس کی مخالفت کرو۔ مسلم عن ابوہریرہ (رض)
17223- "جزوا الشوارب وأرخوا اللحى، خالفوا المجوس". "م عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17224 مشرکین کی مخالفت کرو۔ مونچھیں صاف کرو اور ڈاڑھی پوری کرو۔

البخاری ، مسلم عن ابن عمر
17224- "خالفوا المشركين أحفوا الشوارب وأوفوا اللحى". "ق عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17225 اپنی ڈاڑھیوں کو عرضالو اور طولا چھوڑو۔ ابوعبداللہ محمد بن مخلد الدوری فی جزہ عن عائشہ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2822 ۔
17225- "خذوا من عرض لحاكم واعفوا طولها". "أبو عبد الله محمد بن مخلد الدوري في جزئه عن عائشة رضي الله تعالى عنها".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17226 مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھی چھوڑو۔ مسند احمد عن ابوہریرہ (رض)
17226- "قصوا الشوارب وأعفوا اللحى". "حم عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا حلق کرنا۔۔۔منڈوانا ، قص۔۔۔کاٹنا، تقصیر۔۔۔چھوٹے کرنا
17227 ہونٹوں کے ساتھ (والی) مونچھیں کاٹو۔ الکبیر للطبرانی عن الحکیم بن عمیر

کلام : ضعیف الجامع :4093
17227- "قصوا الشوارب مع الشفاه". "طب عن الحكيم بن عمير".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17228 ناخن تراشنا ، مونچھیں اور زیر ناف بال صاف کرنا فطرت میں داخل ہے۔

ابن ماجہ ابن عمر (رض)
17228- "الفطرة قص الأظفار وأخذ الشارب وحلق العانة". "هـ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17229 ختنہ کرنا ، زیر ناف بالوں کی صفائی کرنا، بغل کے بال لینا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں لینا یہ پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں۔ البخاری ، النسائی عن ابوہریرہ (رض)
17229- "الفطرة خمس: الختان، وحلق العانة، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وحلق الشارب". "خ ن عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17230 فطرت میں سے زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں ہلکی کرنا۔

البخاری عن ابن عمر (رض)
17230- "من الفطرة: حلق العانة وتقليم الأظفار وقص الشارب". "خ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17231 فطرت میں یہ امور شامل ہیں : کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں چھوٹی کرنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال لینا، زیر ناف بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔ ابن ماجہ، الکبیر للطبرانی عن عمار بن یاسر
17231- "من الفطرة المضمضة والاستنشاق والسواك وقص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط والاستحداد وغسل البراجم والانتضاح والاختتان". "هـ طب عن عمار بن ياسر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17232 پانچ چیزیں فطرت کی ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کم کرنا، ناخن کاٹنا اور بغل کے بال لینا۔ مسند احمد، البخاری ، مسلم عن ابوہریرہ (رض)
17232- " خمس من الفطرة: الختان والاستحداد وقص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط". "حم ق عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17233 طہارت چار چیزیں ہیں : مونچھیں کاٹنا، زیر ناف بال کاٹنا، ناخن کاٹنا اور مسواک کرنا۔

مسند البرار، مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی عن ابی الدرداء (رض)

کلام : حدیث ضعیف ہے ذخیرۃ الحفاظ 3479، ضعیف الجامع :3661 ۔
17233- "الطهارة أربع: قص الشارب، وحلق العانة، وتقليم الأظفار، والسواك". "البزار ع طب عن أبي الدرداء".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17234 دس چیزیں فطرت کی ہیں : مونچھیں کاٹنا ، ڈاڑھی چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، بغل کے بال لینا، زیر ناف بال صاف کرنا اور استنجاء کرنا۔

مسند احمد ، مسلم، الکامل لابن عدی عن عائشۃ (رض)

فائدہ : دسواں امر فطرت کلی کرنا ہے مسلم 223/1 ۔ یہ فائدہ میں نے کتاب کے حاشیے ہی سے لیا ہے یوسف بھائی۔
17234- "عشرة من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء". "حم م عد عن عائشة رضي الله تعالى عنها"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17235 رسولوں کی سنت میں سے ہے : بردباری ، شرم وحیاء ، حجامت مسواک، عطر لگانا اور کثرت سے شادیاں کرنا۔ شعب الایمان للبیہقی عن ابن عباس (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : الالحاظ 650، ضعیف الجامع :5304
17235- "من سنن المرسلين: الحلم والحياء والحجامة والسواك والتعطر وكثرة الأزواج". "هب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17236 چار چیزیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں : شرم وحیاداری، عطر لگانا، نکاح کرنا اور مسواک کرنا۔ مسند احمد، الترمذی، شعب الایمان للبیہقی عن ابی ایوب (رض)

کلام : ضعیف الترمذی 184 ۔ ضعیف ابن ماجہ 103 ۔
17236- "أربع من سنن المرسلين: الحياء والتعطر والنكاح والسواك". "حم ت هب عن أبي أيوب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17237 پانچ باتیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں : حیاداری، بردباری ، حجامت ، مسواک اور عطر۔ التاریخ للبخاری، الحکیم، البزار، البغوی، الکبیر للطبرانی، ابونعیم فی المعرفۃ ، شعب الایمان للبیہقی عن حصین الحظمی ۔

کلام : ضعیف الجامع :2858 ۔
17237- "خمس من سنن المرسلين: الحياء والحلم والحجامة والسواك والتعطر". "تخ والحكيم والبزار والبغوي طب وأبو نعيم في المعرفة، هب عن حصين الخطمي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17238 پانچ چیزیں رسولوں کی سنتوں میں سے ہیں حیاء، بردباری ، حجامت ، عطر اور نکاح۔

الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2857 ۔
17238- "خمس من سنن المرسلين: الحياء والحلم والحجامة والتعطر والنكاح". "طب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17239 اپنے ناخن چھوٹے کرو، ناخنوں کے تراشے دفن کردو، انگلیوں کے جوڑ صاف کرو، کھانے سے مسوڑھے صاف کرو اور مسواک کرو اور میرے پاس اکڑتے ہوئے بدبو کے ساتھ داخل نہ ہو۔ الحکیم عن عبداللہ بن کثیر

کلام : ضعیف الجامع :4092، الضعیفۃ 1472 ۔
17239- "قصوا أظافيركم وادفنوا قلاماتكم ونقوا براجمكم ونظفوا لثاتكم من الطعام واستاكوا ولا تدخلوا على فخرا بخرا . "الحكيم عن عبد الله بن كثير".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17240 ناخن کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، جمعرات کے دن کرو اور غسل کرنا، خوشبو لگانا اور لباس پہننا جمع کے دن کرو۔

التیمی فی مسلسلانہ، مسند الفردوس للدیلمی عن علی (رض)

کلام : اسنی المطالب 993 ۔ ضعیف الجامع :4091 ۔
17240- "قص الظفر ونتف الإبط وحلق العانة يوم الخميس والغسل والطيب واللباس يوم الجمعة". "التيمي في مسلسلاته فر عن علي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17241 جس نے جمعہ کے دن اپنے ناخن تراش لیے وہ اگلے جمعہ تک بدی سے محفوظ رہے گا۔ الکبیر للطبرانی عن عائشۃ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :5796، الضعیفۃ 1816 ۔
17241- "من قلم أظفاره يوم الجمعة وقي من السوء إلى مثلها". "طب عن عائشة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17242 جس نے اپنی مونچھیں کم نہیں کی وہ ہم میں سے نہیں۔

الدارقطنی فی السنن، الضعفاء للعقیلی عن زید بن ارقم

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 5565 ۔
17242- "من لم يأخذ من شاربه فليس منا". "قط، عق عن زيد بن أرقم"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17243 ڈاڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں گھٹاؤ، بغل کے بال صاف کرو اور ناخن چھوٹے کرو۔

الاوسط للطبرانی عن ابوہریرہ (رض) ۔

کلام : 6124 ۔
17243- "وفروا اللحى وخذوا من الشوارب وانتفوا الإبط وقصوا الأظافير". "طس عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17244 اپنی ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ۔ شعب الایمان للبیہقی عن ابی امامۃ (رض)
17244- "وفروا عثانينكم ". "هب عن أبي أمامة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطرت کی باتیں
17245 اپنے خون، بال اور ناخن دفن کردیا کرو تاکہ جادو گر ان کے ساتھ کھیل نہ سکیں۔

مسند الفردوس للدیلمی عن جابر (رض)

کلام : ضعیف الجامع :262، الضعیفۃ 2179 ۔
17245- "ادفنوا دماءكم وأشعاركم وأظفاركم لا تلعب بها السحرة". "فر عن جابر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17246 ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھیں ترشواؤ۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
17246- "أوفوا اللحى وقصوا الشوارب". "طب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17247 اپنی مونچھیں کاٹو کیونکہ بنی اسرائیل ایسا نہ کرتے تھے پس ان کی عورتیں زنا کاری میں مبتلا ہوگئیں۔ الدیلمی عن ابن عمر (رض)
17247- "قصوا شاربكم فإن بني إسرائيل لم يفعلوا ذلك فزنت نساؤهم". "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17247 لیکن میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ اپنی مونچھیں ہلکی کرو اور ڈاڑھی چھوڑ دوں۔ ابن سعد عن عبداللہ بن عبداللہ مرسلاً
17248- "لكن ربي أمرني أن أحفي شاربي وأعفي لحيتي". "ابن سعد عن عبد الله بن عبد الله مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17249 جس نے سب سے پہلے اپنی مونچھیں تراشی ہیں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔

الدیلمی عن ابن عمر (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے۔ کشف الخفاء 835 ۔
17249- "أول من قص شاربه إبراهيم". "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17250 جس نے جمعہ کے دن اپنی مونچھیں کم کیں ہر بال جو گرے گا اس کو اس کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔ الدیلمی عن ابن عمر (رض)
17250- "من أخذ شاربه يوم الجمعة كان له بكل شعرة تسقط منه عشر حسنات". "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17251 اس کو لو اور اس کو چھوڑو۔ یعنی مونچھیں ہلکی کرو اور ڈاڑھی چھوڑ دو ۔

الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)
17251- "خذوا من هذا ودعوا هذا، يعني يأخذ من عنفقته ويدع لحيته". "طب عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17252 فطرت پانچ چیزیں ہیں : ختنہ، زیر ناف بالوں کی صفائی، ناخن کاٹنا، بغل کے بال نوچنا اور مونچھیں تراشنا۔

مسند احمد، البخاری، مسلم ، ابوداؤد، الترمذی، النسائی ، ابن ماجہ، ابن حبان عن ابوہریرہ (رض)
17252- "الفطرة خمس: الختان، والاستحداد، وتقليم الأظفار ونتف الإبط، وقص الشارب". "حم، خ، م، د، ت، ن هـ، حب عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17253 فطرت : کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، بغل کے بال نوچنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، ناخن تراشنا، وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔

الترمذی عن عمار بن یاسر
17253- "الفطرة: المضمضة، والاستنشاق، والسواك، وقص الشوارب، ونتف الإبط، وغسل البراجم، وتقليم الأظفار، والانتضاح بالماء، والختان". "ت عن عمار بن ياسر"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17254 زیر ناف بال مونڈنا، بڑھے ہوئے ناخنوں کو تراشنا، مونچھیں چھوٹی کرنا فطرت میں شامل ہیں۔ البخاری عن ابن عمر (رض)
17254- "من الفطرة حلق العانة وتقليم الأظفار وقص الشارب". "خ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17255 فطرت میں کلی کرنا، ناک کا اندر پانی سے صاف کرنا، مسواک کرنا، مونچھیں کا کاٹنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال نوچنا، زیر ناف بال صاف کرنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا، وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا شامل ہیں۔ الکبیر للطبرانی عن عمار بن یاسر
17255- "من الفطرة: المضمضة والاستنشاق والسواك وقص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط والاستحداد وغسل البراجم والانتضاح بالماء والاختتان". "طب عن عمار بن ياسر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17256 اے علی ! جمعرات کو ناخن تراش لیا کر، بغل کے بال نوچ لیا کر اور زیر ناف بال صاف کرلیا کر اور جمعہ کے دن (غسل کرنے کے بعد) خوشبو لگا لیا کر اور اچھا لباس پہنا کر۔

الدیلمی عن علی (رض)
17256- "يا علي، قص الظفر ونتف الإبط وحلق العانة يوم الخميس والطيب واللباس يوم الجمعة". "الديلمي عن علي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انواع زینت کو جامع احادیث۔۔۔الاکمال
17257 اے گروہ انصار ! (اپنے سفید بالوں کو) سرخ کرو، زرد کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ صحابہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اہل کتاب شلواریں پہنتے ہیں بجائے تہبند باندھنے کے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم شلواریں بھی پہنو اور تہبند بھی باندھو اور یوں ان کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ اہل کتاب موزے پہنتے ہیں جوتے نہیں پہنتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو اور یوں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اہل کتاب ڈاڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں لمبی رکھتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : تم مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔

الکبیر للطبرانی، السنن لسعید بن منصور ، مسند احمد ، حلیۃ الاولیاء عن ابی امامۃ (رض)
17257- " يا معشر الأنصار حمروا وصفروا وخالفوا أهل الكتاب، قال: فقلنا يا رسول إن أهل الكتاب يتسرولون ولا يأتزرون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تسرولوا وأتزروا وخالفوا أهل الكتاب، قال: فقلنا يا رسول الله إن أهل الكتاب يتخففون ولا ينتعلون، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: تخففوا وانتعلوا وخالفوا أهل الكتاب، قال: فقلنا يا رسول الله إن أهل الكتاب يقصون عثانينهم ويوفرون سبالهم ، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قصوا سبالكم ووفروا عثانينكم وخالفوا أهل الكتاب". "طب ص حم حل عن أبي أمامة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17258 جمعہ کے دن ناخن تراشنا شفاء لاتا ہے اور بیماری رفع کرتا ہے۔ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا کشادگی لاتا ہے اور فقر کو بھگاتا ہے۔ ابوالشیخ عن ابن عباس (رض)
17258- "التقليم يوم الجمعة يدخل الشفاء ويخرج الداء، والوضوء قبل الطعام وبعده يجلب اليسر وينفي الفقر". "أبو الشيخ - عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17259 تم میں سے کوئی مجھ سے آسمان کی خبریں پوچھتا ہے حالانکہ وہ اپنے ناخن پرندے کے ناخنوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے (اور کاٹتا نہیں ہے) جن کی جنابت، خباثت اور گندگی جمع ہوتی رہتی ہے۔ ابوداؤد عن ابی ایوب (رض)
17259- "يسألني أحدكم عن خبر السماء ويدع أظفاره كأظفار الطير يجتمع فيها الجنابة والخبث والتفث 1". "ط عن أبي أيوب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17260 تم میں سے کوئی مجھ سے آسمان کی خبر کے بارے میں پوچھتا ہے حالانکہ وہ اپنے ناخنوں کو پرندے کے ناخنوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے جن میں جنابت خباثت اور میل کچیل جمع ہوتا رہتا ہے۔ پھر اس کی موجودگی میں آسمانی خبر کیسے آسکتی ہے ؟ الکبیر للطبرانی عن ابی ایوب (رض)
17260- "يسألني أحدكم عن خبر السماء ويدع أظفاره كأظفار الطير يجتمع فيها الجنابة والخبث والتفث". "طب عن أبي أيوب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17261 کیوں مجھے وحی آنے کی تاخیر ہوجاتی ہے کیونکہ تم میرے اردگرد ہوتے ہو : مسواک کرتے ہو اور ناخن تراشتے ہو، نہ اپنی مونچھیں کاٹتے ہو اور نہ انگلیوں کے جوڑوں (کے گڑھوں) کی صفائی کرتے ہو۔ مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی عن ابن عباس (رض)

فائدہ : پوچھا گیا یارسول اللہ ! اب کے جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کے پاس آنے میں دیر کردی ؟ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
17261- "ولم لا يبطئ عني وأنتم حولي لا تستنون ولا تقلمون أظفاركم ولا تقصون شواربكم ولا تنقون رواجبكم". "حم هب عن ابن عباس" أنه قيل: "يا رسول الله لقد أبطأ عنك جبريل قال فذكره".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17262 کیا بات ہے مجھے وحی نہیں آتی کیونکہ تمہارے میل کچیل تمہارے ناخنوں اور پوروں میں موجود ہیں۔ عبدالرزاق عن قیس بن ابی حازم، مرسلاً ، البزار عنہ عن عبداللہ وقال : لا یعلم احمد اسندہ الاالضحاک بن زید، قال ابن حبان : الضحاک لا یجوز الا حتجاج بہ۔

کلام : روایت کی سند میں ضحاک راوی ہے جو اس کو سنداً بیان کرتا ہے اور امام ابن حبان (رح) فرماتے ہیں ضحاک قابل حجت راوی نہیں ہے۔
17262- "مالي لا أوهم ورفغ أحدكم بين ظفره وأنامله". "عبد الرزاق عن قيس بن أبي حازم، مرسلا، البزار عنه عن عبد الله، وقال: لا يعلم أحد أسنده إلا الضحاك بن زيد، قال ابن حبان: الضحاك لا يجوز الاحتجاج به".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناخن کاٹنا۔۔۔الاکمال
17263 کیا بات ہے مجھے وحی نہیں آتی کیونکہ تم میں سے کسی کے ناخنوں میں میل کچیل جمع ہے۔ الکبیر للطبرانی عن ابن مسعود (رض) ، شعب الایمان للبیہقی عن قیس بن ابی حازم مرسلاً
17263- "ومالي لا أوهم ورفغ أحدكم بين ظفره". "طب عن ابن مسعود هب عن قيس بن أبي حازم مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17264 اپنے بالوں کا اکرام کر اور ان کو سنوار کر رکھ۔

النسائی ، ابن منیع، السنن لسعید بن منصور عن ابی قتادہ (رض)

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 628 ۔
17264- "أكرم شعرك وأحسن إليه". "ن وابن منيع، ص عن أبي قتادة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17265: بالوں کا اکرام کیا کرو (یعنی خیال رکھا کرو) ۔ الدیلمی عن عائشۃ (رض)۔
17265- "أكرموا الشعر". "الديلمي عن عائشة رضي الله عنها".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17266: جس کے جمہ بال ہوں اس کو ان کا اکرام کرنا چاہیے۔ مالک، نسائی، عن ابی قتادۃ۔
17266- "من كان له جمة فليكرمها". "مالك ن عن أبي قتادة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17267 جس کے بال ہوں وہ ان کا اکرام کرے ۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! ان کا اکرام کیا ہے ؟ فرمایا : ہر روز تیل لگائے اور کنگھی کرے۔ ابونعیم فی تاریخ اصبھان، ابن عساکر ابن عمر

کلام : روایت کی سند میں اسحاق بن اسماعیل الرملی ہے۔ امام ابونعیم (رح) فرماتے ہیں انھوں نے اپنی یادداشت کے ساتھ کئی احادیث بیان کی ہیں اور ان میں خطا کھائی ہے۔ امام نسائی ن یان کو صالح فرمایا ہے۔ کنز العمال
17267- "من كان له منكم شعر فليكرمه، قيل: يا رسول الله وما إكرامه؟ قال: يدهنه ويمشطه كل يوم". "أبو نعيم في تاريخ أصبهان وابن عساكر عن ابن عمر، وفيه: إسحاق بن إسماعيل الرملي، قال أبو نعيم: حدث بأحاديث من حفظه فأخطأ فيها وقال النسائي: صالح".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17268 ان کا اکرام کر اور ان میں تیل لگا۔ البغوی عن جابر (رض)

فائدہ : حضرت ابوقتادہ (رض) کے شانوں تک بال تھے، انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
17268- "أكرمها وأدهنها". "البغوي عن جابر" قال: كان لأبي قتادة جمة فسأل النبي صلى الله عليه وسلم قال فذكره.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنا اور ان کا (اکرام کرنا) خیال رکھنا۔۔۔الاکمال
17269 ایک دن یا اس سے زیادہ چھوڑ کر کنگھی کیا کر۔ الدیلمی عن عبداللہ بن مغفل
17269- "الترجيل غبا فصاعدا ". "الديلمي عن عبد الله بن مغفل".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17270 پچھنے لگوانے کے سوا گدی کے بال منڈوانا مجوسی پن ہے۔ ابن عساکر عن عمر (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2740 ۔
17270- "حلق القفا من غير حجامة مجوسية". "ابن عساكر عن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17271 حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صرف) گدی کے بال صاف کرانے سے منع فرمایا، مگر پچھنے لگواتے وقت۔ الکبیر للطبرانی عن عمر (رض)

کلام : ضعیف الجامع :6064 ۔
17271- "نهى عن حلق القفا إلا عند الحجامة". "طب عن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17272 بڑھاپا نور ہے۔ جس نے بڑھاپے (سفید بالوں) کو اکھیڑا اس نے اسلام کا نور اکھیڑدیا۔ آدمی جب چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ پاک اس کو تین امراض سے بچا لیتے ہیں، جنون، جذام اور برص۔ ابن عساکر عن انس (رض)

کلام : تحذیر المسلمین 140، ضعیف الجامع :3451 ۔ الضعیفۃ 2353 ۔
17272- "الشيب نور، من خلع الشيب فقد خلع نور الإسلام فإذا بلغ الرجل أربعين سنة وقاه الله الأدواء الثلاثة: الجنون والجذام والبرص". "ابن عساكر عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17273 حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفید بالوں کو نوچنے سے منع فرمایا۔

الترمذی، النسائی ، ابن ماجہ عن ابن عمرو
17273- "نهى عن نتف الشيب". "ت ن هـ عن ابن عمرو".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17274 سفید بالوں کو نہ اکھیڑو۔ ہر مسلمان جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے یہ اس کے لیے قیامت کے روز باعث نور ہوگا۔ ابوداؤد عن ابن عمرو

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6166 ۔
17274- "لا تنتفوا الشيب ما من مسلم يشيب شيبة في الإسلام إلا كانت له نورا يوم القيامة". "د عن ابن عمرو"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17275 جو بال بگاڑ کر مثلہ کرے (سزاء) اپنے یا کسی کے سرکے بال مونڈے یا بدھیئت کرے تو اس کے لیے اللہ کے ہاں کوئی حصہ نہیں ہے۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :5854، الضعیفۃ 421 ۔
17275- "من مثل بالشعر فليس له عند الله خلاق ". "طب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مونڈنے کی ممانعت
17276 حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر ۔

مسند احمد، ابوداؤد، الترمذی، النسائی عن عبداللہ بن مغفل

کلام : المعلۃ 250 ۔
17276- "نهى عن الترجل إلا غبا ". "حم، عن عبد الله بن مغفل".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17277 سفید بالوں کو مت اکھیڑو۔ کیونکہ وہ اسلام میں نور ہے۔ ہر مسلمان جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوگا۔

ابوداؤد، الشیرازی فی الالقاب، الخطیب عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
17277- "لا تنتفوا الشيب فإنه نور في الإسلام ما من مسلم يشيب شيبة في الإسلام إلا كانت له نورا يوم القيامة". "د والشيرازي في الألقاب والخطيب عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17278 سفیدی کو مت نوچو۔ کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے، جو مسلمان اسلام میں بوڑھا ہوجائے اللہ پاک اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک برائی مٹائے گا۔ مسنداحمد، البخاری، مسلم عن ابن عمرو
17278- "لا تنتفوا الشيب فإنه نور المسلم، ما من مسلم يشيب شيبة في الإسلام إلا كتب الله له بها حسنة ورفعه بها درجة وحط عنه بها خطيئة". "حم ق عن ابن عمرو".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17279 سفیدی کو مت اکھیڑو، بیشک وہ قیامت کے دن نور ہوگا اور جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، ایک برائی مٹائی جاتی ہے اور ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے۔ ابن حبان عن ابوہریرہ (رض)

فائدہ : صرف سفید بالوں کو نوچنا اکھیڑنا اور کاٹنا منع ہے ، لیکن اگر مہندی وغیرہ کے ساتھ ان کو رنگ لیا جائے تو ممنوع نہیں بلکہ مستحسن ہے جیسا کہ بعض احادیث میں ابوبکر (رض) کے والد حضرت ابوقحافہ (رض) کو جو بالکل سفید بالوں والے تھے بالوں کا رنگ بدلنے کا حکم دیا گیا۔
17279- "لا تنتفوا الشيب فإنه نور يوم القيامة ومن شاب شيبة في الإسلام كتب له بها حسنة وحط عنه بها خطيئة ورفع له بها درجة". "حب عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17280 جو شخص جان بوجھ کر سفید سفید بالوں کو نوچے وہ بال قیامت کے دن اس کے لیے نیزے بن جائیں گے جو اس کو آکر لگیں گے۔ الدیلمی عن انس (رض)

کلام : التنکیت والا فادۃ 150 ۔
17280- "أيما رجل نتف شعرة بيضاء متعمدا صارت رمحا يوم القيامة يطعن به". "الديلمي عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17281 کوئی شخص اپنی ڈاڑھی طول سے نہ لے بلکہ ڈاڑھی کے جانبین لے لے۔

الخطیب عن ابی سعید (رض)

کلام : تذکرۃ الموضوعات 160، ترتیب الموضوعات 811 ، التنزیہ 274/2 ۔
17281- "لا يأخذن أحدكم من طول لحيته ولكن من الصدغين". "الخطيب عن أبي سعيد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال۔۔۔سفید بال مومن کا نور ہے
17282 اللہ تعالیٰ نے ان بالوں کو (نسک) قابل تکریم شے بنایا ہے اور ظالموں کے لیے ان کو سزاء اور عبرت بنایا ہے۔

عبدالجبار بن عبداللہ الخولائی فی تاریخ داریاوابن عساکر عن عمر بن عبدالعزیز

فائدہ : حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے عبیدۃ بن عبدالرحمن سلمی کو لکھا کہ مجھے خبر ملی ہے ک ہتم سر اور ڈاڑھی مندوا دیتے ہو۔ حالانکہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث پہنچی ہے۔
17282- "إن الله جعل هذا الشعر نسكا وسيجعله الظالمون نكالا". "عبد الجبار بن عبد الله الخولاني في تاريخ داريا وابن عساكر عن عمر بن عبد العزيز" أنه كتب إلى عبيدة بن عبد الرحمن السلمي بلغني أنك تحلق الرأس واللحية وأنه بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فذكره.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجام کے آئینے میں دیکھنا۔۔۔الاکمال
17283 حجام کے آئینے میں دیکھنا گھٹیا پن ہے۔

الدیلمی عن خالد بن عبداللہ عن ابی طوالۃ عن انس (رض)

کلام : کشف الخفاء 2859 ۔
17283- "النظر في مرآة الحجام دناءة". "الديلمي عن خالد بن عبد الله عن أبي طوالة عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17284 انگوٹھی اس اور اس انگلی کے لیے ہے یعنی چھنگلیا اور اس کے ساتھ والی کے لیے ہے۔

الکبیر للطبرانی عن ابی موسیٰ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2047 ۔
17284- "إنما الخاتم لهذه وهذه يعني البنصر والخنصر". "طب عن أبي موسى".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17285 تحقیق پتھر کے نگینے والی انگوٹھی پہنو، وہ مبارک چیز ہے۔

الضعفاء لعقیلی، ابن لال فی مکارم الاخلاق، الحاکم فی التاریخ، شعب الایمان للبیہقی، الکبیر للطبرانی، ابن عساکر ، مسند الفردوس عن عائشہ (رض)

کلام : الاسرار المرفوعۃ 133 ۔ تدکرۃ الموضوعات 159، ترتیب الموضوعات 819 ۔
17285- "تختموا بالعقيق فإنه مبارك". "عق وابن لال في مكارم الأخلاق، ك في تاريخه، هب طب وابن عساكر فر عن عائشة رضي الله تعالى عنها".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17286 تحقیق پتھر کی انگوٹھی پہنو وہ فقر وفاقے کو رفع کرتا ہے۔ الکامل لابن عدی عن انس (رض)

کلام : ترتیب الموضوعات 821، التنزیہ 280/2 ۔
17286- "تختموا بالعقيق فإنه ينفي الفقر". "عد عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17287 حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ۔ مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

مسلم عن ابوہریرہ (رض)
17287- " نهى عن خاتم الذهب". "م عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17288 حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی اور لوہے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

شعب الایمان للبیہقی عن ابن عمر (رض)
17288- "نهى عن خاتم الذهب، وعن خاتم الحديد". "هب عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17289 ہم نے انگوٹھی رکھ لی ہے اور اس کا یہ نقش بنالیا ہے لہٰذا تم میں سے کوئی اس نقش پر نقش نہ بنائے (کیونکہ وہ سرکاری مہر ہے) ۔ البخاری ، النسائی ، ابن ماجہ عن انس (رض)
17289- " إنا قد اتخذنا خاتما ونقشنا فيه نقشا فلا ينقش أحدكم على نقشه". "خ ن هـ عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17290 میں نے چاندی کی انگوٹھی لی ہے اور اس پر محمد رسول اللہ کا نقش بنوایا ہے لہٰذا کوئی شخص ایسا نقش نہ بنوائے۔ مسند احمد، البخاری، مسلم عن انس (رض)
17290- "إني قد اتخذت خاتما من فضة ونقشت عليه محمد رسول الله فلا ينقش أحد على نقشه". "حم ق عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17291 کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش پر نقش نہ بنوائے۔ مسلم ، ابن ماجہ عن ابن عمر (رض)
17291- "لا ينقش أحد على نقش خاتمي هذا". "م هـ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17292 کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر نقش بنوائے۔

مسلم، ابن ماجہ عن ابن عمر (رض)
17292- "لا ينبغي لأحد أن ينقش على نقش خاتمي هذا". "م هـ عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17293 انگوٹھی چاندی کی بنالے اور سونے کی نہ بنا۔ ابن ابی شیبہ عن بریدۃ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :96
17293- "اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا يعنى الخاتم". "ش عن بريدة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17294 اللہ پاک ایسی ہتھیلی کو پاک نہ کرے جس میں لوہے کی انگوٹھی ہو۔

مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی عن سلم بن عبدالرحمن

کلام : ضعیف الجامع :5098
17294- "ما طهر الله كفا فيها خاتم من حديد". "ع، طب عن مسلم بن عبد الرحمن".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17295 کیا بات ہے میں تجھ پر اہل نار (جہنم) کا زیور دیکھ رہا ہوں ، یعنی لوہے کی انگوٹھی۔

ابوداؤد ، الترمذی ، النسائی عن بریدۃ
17295- "مالي أرى عليك حلية أهل النار، يعنى خاتم الحديد". " عن بريدة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17296 تم میں سے کوئی آگ کا انگارہ لیتا ہے اور اس کو اپنے ہاتھ میں پہن لیتا ہے۔

مسلم عن ابن عباس (رض)
17296- "يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده". "م عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17297 سونے کی انگوٹھی پہننے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا۔ الترمذی عن عمران بن حصین
17297- "نهى عن التختم بالذهب". "ت عن عمران بن حصين".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17298 جو زرد یاقوت کی انگوٹھی پہن لے وہ طاعون سے محفوظ ہوجائے گا۔

ابن زنجویہ فی کتاب الخراتیم عن علی وسندہ ضعیف
17298- "من تختم بالياقوت الأصفر منع من الطاعون". "ابن زنجويه في كتاب الخواتيم عن علي وسنده ضعيف".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17299 جو اس جیسی انگوٹھی پہننا چاہے پہن لے مگر ایسا نقش نہ بنوائے۔ النسائی عن انس (رض)

فائدہ : ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انگوٹھی پہن کر نکلے تو لوگوں کو مذکورہ ارشاد فرمایا۔
17299- "من أراد أن يصوغ عليه فليفعل ولا تنقشوا على نقشه". "ن عن أنس" قال: "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اتخذ حلقة من فضة، قال: فذكره".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17300 کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اس کے ہاتھ میں آگ کا انگارہ میرے چہرے پر منعکس ہورہا ہے۔ مستدرک الحاکم وتعقب عن جابر ، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں ابن دغنہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا ۔ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
17300- "ألا تراه ينضح وجهي بجمرة من نار في يده". "ك وتعقب عن جابر أن ثعلبة بن دغنة سلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي أصبعه خاتم من ذهب فلم يرد عليه فقيل له فذكره".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17301 اس پر بڑا انگارہ ہے۔ مسند احمد بن یعلی بن مرۃ

فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو مذکورہ ارشاد فرمایا
17301- "جمرة عظيمة عليه". "حم عن يعلى بن مرة" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا عليه خاتم من ذهب قال فذكره.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17302 تم میں سے کوئی آگ کا انگارہ لیتا ہے اور اس کو اپنے ہاتھ میں پہن لیتا ہے۔

مسلم عن ابن عباس (رض)

فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کو نکلوا کر مذکورہ ارشاد فرمایا۔
17302- "يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده". "م عن ابن عباس" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى خاتما من ذهب في يد رجل فنزعه وقال فذكره.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17303 مہندی کے ساتھ خضاب لگاؤ۔ کیونکہ وہ پاکیزہ خوشبو ہے اور دل کو تسکین بخشتی ہے۔

مسند ابی یعلی الحاکم فی الکنی عن انس (رض)

کلام : روایت کی سند میں حسن بن دعامہ ہے جو عمر بن شریک سے روایت کرتا ہے۔ امام ذہبی (رح) نے دونوں کو ضعفاء میں شامل کیا ہے۔ فیض القدیر 208/1 ۔
17303- "اختضبوا بالحناء فإنه طيب الريح يسكن الروع". "ع والحاكم في الكنى عن أنس"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17304 مہندی کے ساتھ خضاب لگاؤ، وہ تمہارے شباب، جمال اور نکاح کو خوشگوار بناتا ہے۔

البزار، ابونعیم فی الطب عن انس (رض) ، ابونعیم فی المعرفۃ عن درھم

کلام : اسنی المطالب 74، التنکیت والا فادۃ 148 میں اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ علامہ مناوی (رح) فرماتے ہیں : روایت کی سند میں عبدالرحمن بن الحارث الغنوی ہے، جس پر میزان میں ال یعتمد علیہ کا حکم دیا گیا ہے یعنی اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ فیض القدیر 208/1 ۔
17304- "اختضبوا بالحناء فإنه يزيد في شبابكم وجمالكم ونكاحكم". "البزار وأبو نعيم في الطب عن أنس، وأبو نعيم في المعرفة عن درهم"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17305 خضاب لگاؤ، مانگ نکالو اور یہود کی مخالفت کرو۔ الکامل لا بن عدی ابن عمر (رض)

کلام : روایت کی سند میں حارث بن عمران الجعفری ہے۔ میزان میں ابن حبان (رح) سے منقول ہے کہ حارث ثقات پر حدیثیں گھڑتا ہے۔ فیض القدیر 209/1 نیز روایت کے ضعف کے حوالہ کے لیے دیکھئے : ذخیرۃ الحفاظ 139، ضعیف الجامع 229 ۔
17305- "اختضبوا وأفرقوا وخالفوا اليهود". "عد عن ابن عمر"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17306 مہندی کے ساتھ خضاب کرو، بیشک ملائکہ مومن کے خضاب لگانے سے خوش ہوتے ہیں۔ الکامل لا بن عدی عن ابن عباس (رض)

کلام : تخدیر المسلمین 83، کشف الخفاء 152 ۔
17306- "اختضبوا بالحناء فإن الملائكة تستبشر بخضاب المؤمن". "عد عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17307 اس کو لے جاؤ یعنی ابوقحافہ کو ان کی کسی عورت کے پاس وہ ان کے (سفید بالوں کے) رنگ کو تبدیل کردیں، ہاں کالے نہ کرنا۔ مسند احمد، مسلم عن جابر (رض)
17307- "اذهبوا به يعني بأبي قحافة إلى بعض نسائه فليغيره بشيء وجنبوه السواد ". "حم م عن جابر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17308 اس (سفید رنگ) کو کسی رنگ کے ساتھ بدل دو اور سیاہ رنگ کرنے سے اجتناب کرنا۔ مسلم ابوداؤد، النسائی، ابن ماجہ عن جابر (رض)
17308- "غبروا هذا بشيء واجتنبوا السواد". "م، د، ن، هـ عن جابر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17309 افضل چیز جس کے ساتھ تم سفید بالوں کو بدلو وہ مہندی اور کتم ہے (کتم ایک جڑی بوٹی ہے جس کے ساتھ بال قدرے سیاہ ہوجاتے ہیں) ۔ النسائی عن ابی ذر (رض)

کلام : ضعیف الجامع :1051 ۔
17309- "أفضل ما غيرتم به الشمط الحناء والكتم ". "ن عن أبي ذر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17310 اچھی چیز جس کے ساتھ تم خضاب لگاؤ یہ کالا رنگ ہے، یہ تمہاری عورتوں کو تمہارے اندر رغبت دلانے والا اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہارا ڈر بٹھانے والا ہے۔

ابن ماجہ عن صھیب (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 793، ضعیف الجامع :1375 ۔
17310- "إن أحسن ما اختضبتم به لهذا السواد أرغب لنسائكم فيكم وأهيب لكم في صدور عدوكم". "هـ عن صهيب"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17311 یہودونصاریٰ اپنے بالوں کو رنگتے نہیں ہیں تم ان کی مخالفت کرو۔

البخاری ، مسلم ، ابوداؤد، النسائی، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)
17311- "إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم". "ق، د، ن، هـ عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17312 سب سے اچھی چیز جس کے ساتھ تم اس سفیدی کو بدلو مہندی اور کتم ہے۔

مسنداحمد، ابوداؤد ، الترمذی ، النسائی ، ابن ماجہ ، ابن حبان عن ابی ذر (رض)
17312- "إن أحسن ما غيرتم به هذا الشيب الحناء والكتم". "حم حب عن أبي ذر"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17313 سب سے پہلے جس نے مہندی اور کتم کے ساتھ بالوں کو رنگا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ اور سب سے پہلے جس نے سیاہ رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا وہ فرعون تھا۔

مسند الفردوس للدیلمی، ابن النجار عن انس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2145 ۔
17313- "أول من خضب بالحناء والكتم إبراهيم، وأول من اختضب بالسواد فرعون". "فر وابن النجار عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17314 اپنے بڑھاپے کو مہندی کے ساتھ ملالو۔ یہ تمہارے چہروں کو خوبصورت کرے گا تمہارے منہ کو خوشبودار رکھے گا اور تمہاری جماع کو کثرت (وقوت) بخشے گا۔ مہندی جنت کی خوشبوؤں کی سردار ہے۔ مہندی کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرتی ہے۔ ابن عساکرعن انس (رض)

کلام : التنکیت والا فاد، 149، ضعیف الجامع :3408 ۔
17314- "شوبوا شيبكم بالحناء فإنه أسرى لوجوهكم وأطيب لأفواهكم وأكثر لجماعكم، الحناء سيد ريحان الجنة، الحناء يفصل ما بين الكفر والإيمان". "ابن عساكر عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17315 زرد رنگ مومن کا خضاب ہے، سرخ رنگ مومن کا خضاب ہے اور سیاہ رنگ کافر کا خضاب ہے۔ الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم عن ابن عمر (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع : 3553، النافلۃ 123 ۔
17315- "الصفرة خضاب المؤمن والحمرة خضاب المسلم، والسواد خضاب الكافر". "طب ك عن ابن عمر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17316 تم خضابوں کے سردار مہندی کو لگاؤ جو کھال کو خوشبودار اور اچھا کرتی ہے اور جماع۔ ہم بستری میں زیادتی کا باعث بنتی ہے۔ ابن السنی ، ابونعیم عن ابی رافع

کلام : ضعیف الجامع :3785، المتناھیہ 1151 ۔
17316- "عليكم بسيد الخضاب الحناء يطيب البشرة ويزيد في الجماع". "ابن السني وأبو نعيم عن أبي رافع".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17317 سفید بالوں کا رنگ تبدیل کرلو اور یہودونصاریٰ کے ساتھ مشابہت نہ کرو۔

ابن حبان عن ابوہریرہ (رض)

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 3599 ، المعلۃ 102 ۔
17317- "غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود والنصارى". "حم حب عن أبي هريرة"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا
17318 سفیدی کو تبدیل کرلو اور سیاہی کے قریب نہ جاؤ۔ مسند احمد عن انس (رض)
17318- "غيروا الشيب ولا تقربوا السواد". "حم عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17319 اس کو اس کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ وہ اس (کے سفید بالوں) کا رنگ کسی چیز کے ساتھ تبدیل کردے گی۔ سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا۔ مسند احمد عن جابر (رض)

فائدہ : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ابوقحافہ کو لایا گیا۔ ان کا سر بالکل سفید تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
17319- "اذهبوا به إلى بعض نسائه فلتغيره بشيء وجنبوه السواد". "حم عن جابر" قال: "جيء بأبي قحافة إلى النبي صلى الله عليه وسلم وكأن رأسه ثغامة قال: فذكره".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17320 سفیدی بدلنے کے لیے افضل چیز مہندی اور کتم ہے۔ النسائی عن ابی ذر (رض)

کلام : ضعیف الجامع :1051 ۔
17320- "أفضل ما غيرتم به الشمط الحناء والكتم". "ن عن أبي ذر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17321 اپنی سفیدی بدلنے کے لیے تمہارے واسطے بہترین مہندی اور کتم ہے۔

مسند احمد ، ابوداؤد ، الترمذی، حسن صحیح، مستدرک الحاکم، ابن ماجہ، ابن ابی عاصم، ابن سعد، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی عن ابی ذر (رض) الکبیر للطبرانی ، الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیہقی عن ابن عباس (رض)
17321- "إن أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم". "حم د ت: حسن صحيح ك هـ وابن أبي عاصم وابن سعد، حب طب هب عن أبي ذر طب عد هب عن ابن عباس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17322 زرد اور سرخ رنگ لگانے والوں کو خوش آمدید ہو۔ الحسن بن سفیان، ابن ابی عاصم فی الاحاد، البغوی، الباوردی، ابن قانع، ابن السکن، الکبیر للطبرانی عن حسان بن ابی جابر السلمی۔

فائدہ : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) کو دیکھا کہ کچھ نے اپنی ڈاڑھیوں کو زرد رنگ اور کچھ نے سرخ رنگ میں رنگ رنگا تھا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔

کلام : امام ابن السکن (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں نظر ہے۔
17322- "مرحبا بالمصفرين والمحمرين". "الحسن بن سفيان وابن أبي عاصم في الآحاد والبغوي والباوردي وابن قانع وابن السكن، طب عن حسان بن أبي جابر السلمي" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجالا من أصحابه قد صفروا لحاهم وآخرين قد حمروها قال: فذكره. قال ابن السكن: في إسناده نظر.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17323 اسلام کا خضاب زرد رنگ ہے اور ایمان کا خضاب سرخ رنگ ہے۔
17323- "خضاب الإسلام الصفرة، وخضاب الإيمان الحمرة". "الديلمي عن عبد الله بن هداج"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17324 ان بالوں کے رنگ کو نہ بدلا کرو۔ جو ان کو ضرور ہی بدلنا چاہے وہ مہندی اور کتم کے ساتھ بدلے۔ الدیلمی عن انس (رض)
17324- "لا تغيروا هذه الشعور فمن كان مغيرها لا محالة فليغيرها بالحناء والكتم". "الديلمي عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17325 تم پر خضاب کی سردار مہندی لازم ہے وہ کھال کو اچھا کرتی ہے اور جماع میں زیادتی کرتی ہے۔ ابن السنی، ابونعیم، الدیلمی عن ابی رافع

کلام : ضعیف الجامع :3785، المتناھیۃ 1151 ۔
17325- "عليكم بسيد الخضاب الحناء فإنه يطيب البشر ويزيد في الجماع". "ابن السني وأبو نعيم والديلمي عن أبي رافع".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17326 اس (سفید رنگ) کو کسی چیز کے ساتھ تبدیل کرلو اور سیاہ رنگ بےاجتناب کرو۔

مسلم ، ابوداؤد ، النسائی ، ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک الحاکم عن جابر (رض)
17326- " غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد". "م د ن هـ حب ك عن جابر"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17327 اس سفید رنگ کو بدل لو، اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ڈاڑھی کو بڑھتا ہوا چھوڑو اور مونچھیں کاٹتے رہو۔ الشیرازی فی الالقاب عن ابوہریرہ (رض)
17327- "غيروا هذا البياض ولا تشبهوا بأهل الكتاب وأعفوا اللحى وجزوا الشوارب". "الشيرازي في الألقاب عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17328 سفیدی بدل لو اور یہود کے ساتھ مشابہت اختیار کرو اور نہ سیاہ رنگ استعمال کرو۔

السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)
17328- "غيروا ولا تشبهوا باليهود واجتنبوا السواد". "ق عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17329 سفیدی کو بدل دو اس سے تمہاری جوانی ، خوبصورتی اور عورتوں کے ساتھ جماع کرنے میں اضافہ ہوگا۔ الدیلمی عن انس (رض)
17329- "غيروا الشيب فإنه يزيد في شباب أحدكم وجماله ومجامعته النساء". "الديلمي عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17330 اس کو بدل دو اور سیاہی سے اجتناب کرو۔ ابن حبان عن انس (رض)
17330- "غيروه وجنبوه السواد". "حب عن أنس"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17331 اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس شخص کو (نظررحمت سے) نہ دیکھے گا جو سیاہ رنگ کا خضاب استعمال کرے۔ ابن سعد عن عامر، مرسلاً
17331- " إن الله لا ينظر إلى من يخضب بالسواد يوم القيامة". "ابن سعد عن عامر، مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17332 ایک قوم آخر زمانے میں سیاہ رنگ کا خضاب لگائے گی کبوتروں کے پپوٹوں کی طرح ، وہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گے۔ ابوداؤد، النسائی عن ابن عباس (رض)

کلام : امام منذری (رح) فرماتے ہیں اس کی سند میں عبدالکریم ہے جس کی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی اسی کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔ عون العبوذ 266/11 ۔
17332- "يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة". "د ن عن ابن عباس"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے میں ممنوعات چیزوں کا بیان
17333 جس نے سیاہ رنگ کے ساتھ خضاب کیا اللہ پاک قیامت میں اس کو سیاہ چہرہ بنائے گا۔ الکبیر للطبرانی عن ابی الدرداء (رض)

کلام : جنتہ الرتاب 483، ذخیرۃ الحفاظ 5285 ۔
17333- "من خضب بالسواد سود الله وجهه يوم القيامة". "طب عن أبي الدرداء".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے میں ممنوعات چیزوں کا بیان
17334 جو اسلام میں بوڑھا ہوگیا یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوگا جب تک کہ اس کو تبدیل نہ کرے۔ الحاکم فی الکنی عن ام سلمۃ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :5639، المشتھر 151 ۔
17334- "من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا ما لم يغيرها". "الحاكم في الكنى عن أم سلمة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے میں ممنوعات چیزوں کا بیان
17335 اللہ تعالیٰ انتہائی سیاہ بال بنانے والے بوڑھے سے نفرت فرماتا ہے۔

الکامل لابن عدی عن ابوہریرہ (رض)

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 1005، ضعیف الجامع :1688 ۔
17335- "إن الله يبغض الشيخ الغربيب ". "عد - عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے میں ممنوعات چیزوں کا بیان
17336 جس نے سیاہ رنگ کا خضاب کیا قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر (رحمت) نہ کرے گا اور جس نے سفید بالوں کو نوچا اللہ پاک قیامت کے دن آگ کے گرز بنادے گا۔

مستدرک الحاکم عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
17336- "من صبغ بالسواد لم ينظر الله إليه يوم القيامة ومن نتف شيبة قمعه الله بمقامع من نار يوم القيامة". "ك عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17337 مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو مہ کے اور اس کا رنگ مدہم ہو۔ عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور اس کی خوشبو مدہم ہو۔

الترمذی عن ابوہریرہ (رض) ، الکبیر للطبرانی ، الضیاء عن انس (رض)
17337- "طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه وطيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه". "ت عن أبي هريرة، طب والضياء عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17338 مردوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو تیز ہو اور رنگ ہلکا ہو۔ عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ہلکی اور رنگ تیز ہو۔ الضعفاء لعقیلی عن ابی موسیٰ (رض)

کلام : ضعیف الجامع :2913 ۔
17338- "خير طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه وخير طيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه". "عق عن أبي موسى".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17339 آدمیوں کی بہترین خوشبو تیز مہک والی مدہم رنگ والی ہے اور عورتوں کی بہترین خوشبو تیز اور شوخ رنگ والی ہلکی خوشبو ہے۔ الترمذی عن عمران بن حصین
17339- "إن خير طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه، وخير طيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه". "ت عن عمران بن حصين".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17340 جب تم میں سے کسی کو خوشبو پیش کی جائے وہ اس کو واپس نہ کرے کیونکہ خوشبو جنت سے نکلی ہے۔ ابوداؤد فی مراسیلہ، النسائی عن عثمان النھدی مرسلاً
17340- "إذا أعطي أحدكم الريحان فلا يرده فإنه خرج من الجنة". "د في مراسيله ن عن عثمان النهدي مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17341 بہترین خوشبو مشک ہے۔ مسند احمد، مسلم، ابوداؤد عن ابی سعید (رض)
17341- "أطيب الطيب المسك". "حم م د ن عن أبي سعيد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17342 کرامت (کوئی عزت دے تو اس) کو قبول کرو۔ بہترین کرامت خوشبو ہے جس کا بوجھ ہلکا ہے اور خوشبو عمدہ ہے۔ الدارقطنی فی الافراد، الاوسط للطبرانی عن زینب بنت جحش

کلام : ضعیف الجامع :1059 ۔
17342- "اقبلوا الكرامة، وأفضل الكرامة الطيب خفيف أخفه محملا وأطيبه رائحة". "قط في الأفراد طس عن زينب بنت جحش"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17343 جس پر خوشبو پیش کی جائے وہ اس کو رد نہ کرے کیونکہ یہ ہلکا بوجھ ہے لیکن اچھی خوشبو ہے۔ مسند احمد، النسائی عن ابوہریرہ (رض)
17343- "من عرض عليه طيب فلا يرده فإنه خفيف المحمل طيب الرائحة". "حم ن عن أبي هريرة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17344 اہل جنت کی خوشبوؤں کی سردار مہندی ہے۔

الکبیر للطبرانی، التاریخ للخطیب عن ابن عمرو

کلام : الاسرار المرفوعۃ 465، اسنی المطالب 761 ۔
17344- "سيد ريحان أهل الجنة الحناء". "طب خط عن ابن عمرو".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17345 مرزنجوش (دونا مروا) ضرور لو اور اس کو سونگھو وہ بند ناک کے نتھنوں کے لیے بہترین چیز ہے۔ ابن السنی ، ابونعیم فی الطب عن انس (رض)

کلام : النتکیت والا فادہ 145، ضعیف الجامع :4777 ۔
17345- "عليكم بالمرزنجوش فشموه فإنه جيد للخشام. "ابن السني وأبو نعيم في الطب عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17346 مجھے دنیا کی خوشیوں میں صرف خوشبو اور عورتیں محبوب ہیں۔ ابن سعد عن میمون مرسلاً

کلام : ضعیف الجامع :4981، النوافح 1670 ۔
17346- "ما أحببت من عيش الدنيا إلا الطيب والنساء". "ابن سعد عن ميمون، مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17347 تمہاری عمدہ خوشبوؤں میں مشک ہے۔ النسائی عن ابی سعید (رض)
17347- "من خير طيبكم المسك". "ن عن أبي سعيد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17348 مشک عمدہ ترین خوشبو ہے۔ مسلم ، النسائی عن ابی سعید (رض)
17348- "المسك أطيب الطيب". "م ن عن أبي سعيد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17349 آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زعفران لگانے سے منع فرمایا۔

البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی عن انس (رض)
17349- "نهى أن يتزعفر الرجل". "ق عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17350 اگر میں تم کو حکم دیتا کہ اس کو (زعفران) کو دھو دیا جائے (تو اچھا ہوتا) ۔

مسند احمد، ابوداؤد ، النسائی عن انس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :4997 ۔
17350- "لو أمرتم هذا يغسل عنه هذه الصفرة". "حم د ن عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17351 مشک عمدہ خوشبو ہے۔ مسلم ، الترمذی عن ابی سعید (رض)
17351- "المسك أطيب الطيب". "م ت عن أبي سعيد"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17352 جب تم میں سے کسی کے پاس خوشبو لائی جائے تو وہ اس کو چھوئے اور جب حلوی پیش کیا جائے تو اس میں سے کچھ ضرور کھائے۔ الاوسط للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)

کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : فضالۃ بن الحصین عطار اس حدیث میں متفرد ہے اور اس حدیث کو بیان کرنے میں مہتم بھی ہے۔ جس کی وجہ سے حدیث موضوع ہے، دیکھئے : تذکرۃ الموضوعات 161، ذخیرۃ الحفاظ 168 ۔
17352- "إذا أتى أحدكم بالطيب فليمس منه وإذا أتي بالحلوى فليصب منها". "طس هب عن أبي هريرة، وقال هب: تفرد فضالة بن الحصين العطار وكان متهما بهذا الحديث".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17353 جب تم میں سے کسی کو اچھی خوشبو پیش کی جائے وہ اس میں سے ضرور استعمال کرے۔

الکامل لا بن عدی عن جابر (رض)
17353- "إذا أتي أحدكم بريح طيب فليصب منها". "عد عن جابر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17354 جب کسی کے سامنے خوشبو رکھی جائے وہ ضرور لگائے اور اس کو رد نہ کرے۔ اور جب کسی کے سامنے حلوہ رکھا جائے تو وہ اس سے ضرور کھائے اور رد نہ کرے۔

الحاکم فی التاریخ ، شعب الایمان للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)

کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں اس کی سند غیر قوی ہے۔ کنزالعمال
17354- " إذا وضع الطيب بين يدي أحدكم فليصب منه ولا يرده وإذا وضعت الحلوى بين يدي أحدكم فليأكل منها ولا يردها". "ك في تاريخه هب عن أبي هريرة؛ قال هب: إسناده غير قوي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17355 خوشبو کو رد نہ کرو اور نہ شہد کا گھونٹ رد کرو جب تمہارے پاس کوئی لائے۔

ابونعیم فی المعرفۃ عن محمد بن شرجیل

کلام : ابونعیم (رح) فرماتے ہیں : صحیح نام محمود بن شرحبیل ہے جس کی سند ضعیف ہے۔
17355- "لا تردوا الطيب ولا شربة عسل على من أتاكم بها". "أبو نعيم في المعرفة عن محمد بن شرحبيل، وقال: الصحيح محمود بن شرحبيل وسنده ضعيف".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو میں ممنوع باتوں کا بیان
17356 جا غسل کر ، پھر غسل کر آئندہ یہ نہ لگا۔ الترمذی ، حسن، عن یعلی بن مرۃ

فائدہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
17356- "اذهب فاغسله ثم اغسله ثم لا تعد". "ت 1: حسن عن يعلى بن مرة" أن النبي صلى الله عليه وسلم أبصر رجلا متخلقا قال: فذكره.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17357 سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہیں اور میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ الکبیر للطبرانی عن زید بن ارقم وعن واثلۃ
17357- "الذهب والحرير حل لأناث أمتي وحرام على ذكورها". "طب عن زيد بن أرقم وعن واثلة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17358 سونا مشرکوں کا زیور ہے ، چاندی مسلمانوں کا زیور ہے اور لوہا اہل جہنم کا زیور ہے۔

الزمخشری فی جزہ عن انس (رض)

کلام : ضعیف الجامع :3064 ۔
17358- "الذهب حلية المشركين، والفضة حلية المسلمين، والحديد حلية أهل النار". "الزمخشري في جزئه عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17359 مجھے اپنی امت پر سونے سے زیادہ ان پر دنیا کے ٹوٹ پڑنے کا خوف ہے۔ پس کاش کہ میری امت سونا نہ پہنے۔ مسند احمد عن رجل

کلام : ضعیف الجامع :3820 ۔
17359- "عندي أخوف عليكم من الذهب أن الدنيا ستصب عليكم صبا فياليت أمتي لا تلبس الذهب". "حم عن رجل".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17360 سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہے اور ان کے مردوں پر حرام ہے۔ مسند احمد ، النسائی عن ابی موسیٰ (رض)
17360- "أحل الذهب والحرير لأناث أمتي وحرم على ذكورها". "حم ن عن أبي موسى".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17361 جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھے وہ سونا پہنے اور ریشم۔

مسند احمد، مستدرک الحاکم عن ابی امامۃ (رض)
17361- "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس حريرا ولا ذهبا". "حم ك عن أبي أمامة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17362 جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔

مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، ابن ماجہ عن انس (رض)
17362- "من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة". "حم ق ن هـ عن أنس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17363 جس نے ریشم کا کپڑا پہنا، قیامت کے دن اللہ اس کو آگ کا کپڑا پہنائے گا۔

مسند احمد عن جو یریۃ
17363- "من لبس ثوب حرير ألبسه الله ثوبا من النار يوم القيامة". "حم عن جويرية".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیورات اور ریشم
17364 نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیباج ، حریر اور استبرق ۔ ریشم کی مختلف اقسام پہننے سے منع فرمایا ہے۔ ابن ماجہ عن البراء (رض)
17364- " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الديباج والحرير والاستبرق". "هـ عن البراء".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17365 جو شخص چاہے کہ اپنے محبوب کو آگ کا حلقہ پہنائے تو وہ اس کو سونے کا ہار پہنادے۔ اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق پہنانا چاہے وہ اس کو سونے کا طوق پہنا دے۔ جو اپنے محبوب کو آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اس کو سونے کا کنگن پہنادے۔ لہٰذا تم پر چاندی لازم ہے اس کے ساتھ کھیلو۔ مسند احمد، ابوداؤد عن ابوہریرہ (رض) ، الکبیر للطبرانی عن سھل بن سعد
17365- " من أحب أن يحلق حبيبه حلقة من نار فليحلقه حلقة من ذهب، ومن أحب أن يطوق حبيبه طوقا من نار فليطوقه طوقا من ذهب، ومن أحب أن يسور حبيبه سوارا من نار فليسوره سوارا من ذهب، ولكن عليكم بالفضة فالعبوا بها لعبا". "حم، د عن أبي هريرة طب عن سهل بن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17366 یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ مسند احمد عن امراۃ

فائدہ : ایک صحابیہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر سونے کی دو بالیاں دیکھیں تو مذکورہ ارشاد فرمایا۔
17366- "شهابان من نار". "حم عن امرأة" قالت: "رأى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم قرطين من ذهب قال فذكره".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17367 ہم نے عورتوں کو ورس اور ابر (مویشی) ملنے کا حکم دے دیا۔ ورس (تل کی مانند ایک گھاس) جس سے رنگائی کا کام لیا جاتا ہے ان کے پاس یمن سے آئے گی اور مویشی جزیہ والے ذی لوگوں سے لیے جائیں گے۔ ابونعیم، الکبیر للطبرانی عن حرب بن الحارث المحاربی
17367- "قد أمرنا للنساء بورس وأبر 1، أما الورس فأتاهن من اليمن وأما الأبر فتؤخذ من ناس من أهل الذمة مما عليهم من الجزية". "أبو نعيم طب عن حرب بن الحارث المحاربي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17368 کسی بھی عورت کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ چاندی کے موتی بنائے اور پھر زعفران میں اس کو خلط ملط کرلے وہ سونے کی طرح ہوجائے گا۔ الکبیر للطبرانی عن اسماء بنت یزید
17368- "إنما يكفي إحداكن أن تتخذ جمانا من فضة ثم تأخذ شيئا من زعفران فتزيفه ثم تلطخه عليه فإذا هو كأنه ذهب". "طب عن أسماء بنت يزيد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17369 کیا میں تجھے اس سے اچھی چیز نہ بتاؤں تو اس کو چاندی کی بنا کر خلوق خوشبو اور رنگ میں ملالے۔ وہ سونے کی طرح ہوجائے گی۔ الخطیب عن عائشۃ (رض)
17369- "ألا أدلك على خير من ذلك تجعليه من ورق وتخلقيه فيصير كأنه ذهب". "الخطيب عن عائشة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17370 عورتوں کے لیے دو چیزوں کی تباہی ہے سونا اور زعفران ۔ ابونعیم عن عنزہ الاشجعیہ
17370- "ويل للنساء من الأحمرين: الذهب والزعفران". "أبو نعيم عن عنزة الأشجعية".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17371 ابوالاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں مجھ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو پرانے کپڑے دیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : پھر اپنی جان پر انعام کر (خرچ کر) جس طرح اللہ نے تجھ پر انعام کیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا : ایک آدمی کا میرے پاس آنا ہوا تھا میں نے اس کی مہمانی کی تھی۔ لیکن جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے میری مہمانی نہیں کی کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں ؟ ارشاد فرمایا : ہاں۔

ابن النجار
17371- عن أبي الأحوص عن أبيه قال: "أبصر علي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ثيابا خلقان فقال لي: ألك مال؟ قلت: نعم، قال: أنعم على نفسك كما أنعم الله عليك، قلت إن رجلا مر بي فقريته فمررت به فلم يقرني أفأقريه؟ قال: نعم". "ابن النجار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17372 عمر بن ابراہیم ایوب بن یسار سے وہ محمد بن المنکدر سے وہ حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) سفید کپڑوں میں ملبوس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر مسکرائے۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! خوبصورتی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : حق بات کو صحیح طرح ادا کرنا۔ پوچھا : کمال کیا ہے ؟ فرمایا : سچائی کے ساتھ اچھا کام کرنا۔ السنن للبیہقی ، ابن عساکر، ابن النجار

کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : عمر (بن ابراہیم) اس روایت میں متفرد ہے اور وہ قوی راوی نہیں۔
17372- عن عمر بن إبراهيم عن أيوب بن سيار عن محمد بن المنكدر عن جابر قال: "جاء العباس بن عبد المطلب إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثياب بيض فلما نظر إليه تبسم فقال العباس: يا رسول الله ما الجمال؟ قال: صواب القول بالحق، قال: فما الكمال؟ قال: حسن الفعال بالصدق". "هق وقال تفرد به عمر وليس بالقوي، كر ابن النجار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17373 ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس بن عبدالمطلب صاف ستھری اجلی رنگت میں عمدہ جوڑا زیب تن کئے ہوئے تشریف لائے۔ اور آپ کے سر کے بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر مسکرا اٹھے۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ کیوں ہنسے ؟ اللہ آپ کو ہنستا رکھے یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے چچا ! مجھے آپ کے جمال اور حسن نے خوش کردیا تھا۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : آدمی کی خوبصورتی کس میں ہے ؟ ارشاد فرمایا : زبان میں۔ ابن عساکر

کلام : روایت محل کلام ہے : الشذرۃ 329، کشف الخفاء 1075 ۔
17373- عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين قال: "أقبل العباس ابن عبد المطلب وهو أبيض بض وعليه حلة وله ضفيرتان فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم تبسم، فقال له العباس: يا رسول الله مم ضحكت؟ يا رسول الله أضحك الله سنك، قال: أعجبني جمالك يا عم، فقال العباس: يا رسول الله ما الجمال في الرجل؟ قال: اللسان". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب زینت کی انواع میں۔۔۔مردوں کی زینت

سرمہ لگانا
17374 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رمضان کے مہینے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے کا انتظار کیا کہ آپ ام سلمہ (رض) کے گھر سے نکلے۔ آپ (رض) (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ) نے آپ کو اتنا سرمہ لگایا ہوا تھا کہ آپ کی آنکھیں سرمہ سے بھری ہوئی تھیں۔ الحارث
17374- عن علي قال: "انتظرت النبي صلى الله عليه وسلم أن يخرج إلينا في رمضان فخرج من بيت أم سلمة وقد كحلته وملأت عينيه كحلا". "الحارث".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17375 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گدی کے بال استرے کے ساتھ صاف کرانے سے منع فرمایا، مگر پچھنے (سینگی) لگواتے وقت۔

الاوسط، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ وابن النجار، ابن عساکر

کلام : روایت کی سند ضعیف ہے۔
17375- عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حلق القفا بالموسى إلا عند الحجامة". "طس وابن منده في غرائب شعبة وابن النجار، كر، وسنده ضعيف".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17376 حضرت علاء بن ابی عائشہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حلاق (بال مونڈنے والے حجام ) کو بلوایا۔ اس سے استرے کے ساتھ آپ کے بال صاف کئے۔ پھر آپ (رض) لوگوں کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! یہ سنت نہیں ہے، لیکن نورہ (ہڑتال، چونا) عیش و عشرت کا کام ہے، جو مجھے پسند نہیں۔ ابن سعد ، ابن ابی شیبہ
17376- عن العلاء بن أبي عائشة "أن عمر بن الخطاب دعا بحلاق فحلقه بموسى يعني جسده فاستشرف الناس فقال: أيها الناس إن هذا ليس من السنة ولكن النورة من النعيم فكرهتها". "ابن سعد، ش.
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17377 محمد بن ربیعہ بن الحارث سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے بال لمبے تھے اور ہم مقام ذوالحلیفہ میں تھے۔ محمد کہتے ہیں : میں اپنی اونٹنی پر تھا اور ذی الحج ماہ تھا، میرا حج کا ارادہ تھا پس آپ (رض) نے مجھے سر کے بال چھوٹے کرانے کا حکم دیا تو میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔ ابن سعد
17377- عن محمد بن ربيعة بن الحارث "أن عمر بن الخطاب رآه وهو طويل الشعر وذلك في ذي الحليفة قال محمد: وأنا على ناقتى وأنا في ذي الحجة أريد الحج فأمرني أن أقصر من رأسي ففعلت". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17378 حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو سر کے بال منڈوانے (صاف کرانے) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ مثلہ (شکل بگاڑنے کی صورت) ۔ ابن جریر
17378- عن عكرمة "أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن تحلق المرأة رأسها، فقال: هي مثلة". "ابن جرير".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17379 محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن اپنی مونچھیں اور ناخن صاف کرتے تھے۔ ابونعیم
17379- عن محمد بن حاطب "كان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ من شاربه وظفره يوم الجمعة". "أبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17380 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قزع۔ کچھ مال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے سے منع فرمایا۔ ابن عساکر، الکامل لابن عدی
17380- عن ابن عمر "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع". "كر عد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17381 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ماہ نورہ (چونا) استعمال کرتے تھے (یعنی زیر ناف بالوں کی صفائی کے لئے) اور ہر پندرہ دنوں میں ناخن کاٹتے تھے۔ ابن عساکر

کلام : ضعیف الجامع 4536، الضعیفۃ 1750 ۔
17381- عن ابن عمر " أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنور في كل شهر ويقلم أظفاره في كل خمسة عشر يوما ". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17382 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے اپنی پیشانی پر بال سیدھے جہاں تک بھی جاتے ماشاء اللہ پھر ان میں (بیچ کی) مانگ نکالتے۔ ابن عساکر
17382- عن أنس قال: " سدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته ما شاء الله أن يسدل، ثم فرق بعد ذلك". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17383 حضرت عمروبن قیس سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بالوں اور ناخنوں کی صفائی سے طہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مسدد
17383- عن عمرو بن قيس أن عليا قال: "ما زاده إلا طهارة يعني الأخذ من الشعر والظفر". "مسدد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17384 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جمعرات کے روز ناخن کاٹتے تھے۔ پھر فرمایا : اے علی ! ناخن کاٹنا، بغل کے بال نوچنا اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرنا جمعرات کے دن کیا کرو اور جمعہ کے روز غسل کیا کرو، خوشبولگایا کرو اور صاف لباس پہنا کرو۔

ابوالقاسم اسماعیل بن محمد التیمی فی مسلسلاتہ والدیلمی
17384- عن علي قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقلم أظفاره يوم الخميس ثم قال: يا علي قص الظفر ونتف الإبط وحلق العانة يوم الخميس والغسل والطيب واللباس يوم الجمعة". "أبو القاسم إسماعيل بن محمد التيمي في مسلسلاته والديلمي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17385 حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو سر کے بال بالکل صاف کرنے یعنی مونڈنے سے منع فرمایا (صرف دوران حج معمولی چھوٹے کرانے کا حکم دیا) ۔

البزار وسندہ حسن

کلام : ضعیف الترمذی 157، ضعیف الجامع 5998 ۔
17385- عن عثمان قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تحلق المرأة رأسها". "البزار وسنده حسن".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17386 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عجمی وفد جنہوں نے اپنی ڈاڑھیاں مندوا رکھی تھیں اور مونچھیں بڑھا رکھی تھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں کی مخالیت کرو مونچھیں صاف کراؤ اور ڈاڑھی چھوڑ دو ۔ ابن النجار
17386- عن ابن عباس قال: "قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد من العجم قد حلقوا لحاهم وتركوا شواربهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خالفوا عليهم فحفوا الشوارب وأعفوا اللحى". "ابن النجار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیرناف بال صاف کرنا
17387 ہمیں ہشام نے ابوالمشرف لیث بن ابی اسد سے انھوں نے ابراہیم سے روایت نقل کی کہ :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب زیر ناف بالوں پر چونا ملتے تو اپنے ہاتھ سے ملتے تھے۔ ابن ابی شیبہ
17387- حدثنا هشام عن أبي المشرفي ليث بن أبي أسد عن إبراهيم قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا طلى ولي عانته بيده". "ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیرناف بال صاف کرنا
17388 محمد بن قیس اسدی ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) لوہے (یعنی استرے) کے ساتھ زیر ناف بالوں کی صفائی کرتے تھے۔ آپ (رض) سے کسی نے پوچھا : آپ نورہ (چونا) کیوں نہیں استعمال کرتے ؟ فرمایا : وہ عیش و عشرت کا کام ہے جو ہمیں پسند نہیں۔

شعب الایمان للبیہقی
17388- عن محمد بن قيس الأسدي عن رجل قال: "كان عمر بن الخطاب يستطيب بالحديد، فقيل له: ألا تنور؟ قال: إنها من النعيم فإنا نكرهها". "هب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17389 حضرت عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے ک ہمیں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دائیں ہاتھ میں ایک یا دو دفعہ انگوٹھی پہنتے تھے۔ ابن عساکر، ابن النجار
17389- عن عبد الله بن جعفر قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه مرة أو مرتين". "كر وابن النجار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17390 (مسند صدیق (رض)) ابوجعفر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر (رض) اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ ابن سعد، البخاری، مسلم، مصنف ابن ابی شیبہ
17390- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي جعفر أن أبا بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم تختموا في يسارهم. "ابن سعد ق ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17391 حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے سوا اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کسی نے انگوٹھی پہنی ہو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
17391- عن سعيد بن المسيب قال: "ما علمنا أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم تختم إلا أبو بكر وعمر". "ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17392 (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا : اس کو نکال دے۔ اس نے نکال دی پھر اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن لی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی۔ مسند احمد ، رجالہ ثقات لکنہ منقطع
17392- "مسند عمر رضي الله تعالى عنه" عن عمر " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى في يد رجل خاتما من ذهب فقال: ألق ذا فألقاه فتختم بخاتم من حديد، فقال: ذا شر منه فتختم بخاتم من فضة فسكت عنه". "حم ورجاله ثقات لكنه منقطع".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17393 حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اپنی انگوٹھیوں میں نقش نہ کرو اور نہ عربی لکھو۔ ابن ابی شیبہ، الطحاوی
17393- عن أنس بن مالك قال: قال عمر: "لا تنقشوا ولا تكتبوا في خواتمكم بالعربية". "ش والطحاوي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17394 ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا۔ آپ (رض) نے اس کو اتارنے کا حکم فرمایا۔ آدمی نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! میری انگوٹھی لوہے کی ہے (جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے) آپ (رض) نے فرمایا : یہ اس (سونے ) سے زیادہ بدبودار ہے۔ المصنف لعبد الرزاق، شعب الایمان للبیہقی
17394- عن ابن سيرين "أن عمر بن الخطاب رأى على رجل خاتما من ذهب فأمره أن يلقيه، فقال رجل: يا أمير المؤمنين إن خاتمي من حديد، قال: ذلك أنتن". "عب هب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17395 ابوجعفر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔

ابن سعد
17395- عن أبي جعفر "أن عمر بن الخطاب تختم في اليسار". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17396 حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے انگوٹھیوں میں عربی میں کچھ لکھنے سے منع فرمایا۔ رواہ ابن سعد
17396- عن أنس بن مالك قال: "نهى عمر بن الخطاب أن يكتب في الخواتيم شيء من العربية". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17397 حضرت عامر شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے عمال (گورنروں ) کو لکھا : تم جس انگوٹھی میں عربی نقش دیکھو اس کو توڑ دو ، انھوں نے عبسہ بن فرقد عامل کی انگوٹھی میں یہ بات پائی لہٰذا اس کو توڑ دیا۔ ابن سعد
17397- عن عامر الشعبي قال: "كتب عمر إلى عماله لا تجدوا خاتما فيه نقش عربي إلا كسرتموه فوجدوا في خاتم عبسة بن فرقد العامل فكسر". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17398 قیس کے علام عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ابوموسیٰ اور زیاد حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے زیاد کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے سونے کی انگوٹھی رکھی ہے ؟ ابوموسیٰ بولے : میری انگوٹھی تو لوہے کی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ اس سے زیادہ بری یا فرمایا خبیث ہے۔ لہٰذا جو شخص تم میں سے انگوٹھی پہننا چاہے وہ چاندی کی انگوٹھی پہنے۔ ابن سعد، مسدد
17398- عن عبد الرحمن مولى قيس قال: "قدم أبو موسى وزياد على عمر بن الخطاب فرأى في يد زياد خاتما من ذهب فقال: اتخذتم حلق الذهب؟ فقال أبو موسى: أما أنا فخاتمي حديد، فقال عمر: ذاك أنتن أو أخبث، من كان منكم متختما فليتختم بخاتم من فضة". "ابن سعد ومسدد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17399 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی پہنی، اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی طرف کرلیا۔ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں (سونے کی) بنوالیں۔ تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا میں اس کو نہیں پہنتا۔ ابن عساکر
17399- عن ابن عمر " أن النبي صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ذهب فجعل فصه مما يلي كفه فاتخذ الناس خواتيم فطرحه النبي صلى الله عليه وسلم وقال: لا ألبسه". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17400 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

الخطیب فی المتفق والمفترق

کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 1630، المتناھیۃ 1157 ۔
17400- عن ابن عمر "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتختم في يمينه". "خط في المتفق ضعيف".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17401 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی۔ آپ نے وہ انگوٹھی نکال کر پھینک دی اور فرمایا تم آگ کا انگارہ لیتے ہو اور اپنے ہاتھ میں رکھ لیتے ہو۔ مسلم
17401- عن ابن عباس " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى خاتما من ذهب في يد رجل فنزعه فطرحه وقال: يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده". "م".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17402 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

ابن عساکر

کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 1630، المتنا ھیۃ 1157 ۔
17402- عن ابن عباس رضي الله عنه "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتختم في يمينه". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17403 ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی ، قسی ، رنگے ہوئے ، کپڑوں، درندوں کی کھالوں اور چیتے کی کھال کو حرام قرار دیا ۔ الکبیر للطبرانی

کلام : مذکورہ روایت کی سند میں یزید بن ربیعہ رجی متروک راوی ہے مجمع الزوائد 145/5
17403- عن ثوبان "حرم النبي صلى الله عليه وسلم التختم بالذهب والقسي وثياب المعصفر والمفدم والنمور". "طب"
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17404 حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

النسائی
17404- عن البراء قال: "نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يتختم بالذهب". "ن".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17405 حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے غلام سفیان جن کی حضرت علی (رض) سے ملاقات تھی فرماتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے ہو سے سنا :

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ آپ کے پاس ایک انصاری صحابی آیا جس کے ہاتھ میں لوہے کی انگوٹھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا بات ہے میں تمہارے اوپر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے عرض کیا : کیا میں پیتل کی انگوٹھی بنالوں ؟ فرمایا : کیا بات ہے تم سے بتوں کی بوآرہی ہے ؟ پوچھا : کیا میں سونے کی انگوٹھی بنالوں ؟ فرمایا : کیا بات ہے میں تم پر اہل جنت کا زیور دیکھ رہا ہوں۔ نیز فرمایا : اس کو چاندی کی بنالے اور سونے کی نہ بنا۔ المخلصی فی حدیثہ
17405- عن سفيان مولى سعد بن أبي وقاص قال: "سمعت عليا وكان قد أدركه قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فدخل عليه رجل من الأنصار وفي يده خاتم من حديد، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " مالي أرى عليك حلية أهل النار؟ قال: فأتخذه من شبه 1؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: مالي أرى منك ريح الأصنام، قال: فأتخذه من ذهب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لي أرى عليك حلية أهل الجنة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اتخذه من فضة ولا تتمه مثقالا". "المخلصي في حديثه".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17406 حضرت خالد بن سعید سے مروی ہے کہ میں حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ہاتھ میں انگوٹھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خالد ! یہ کیسی انگوٹھی ہے ؟ میں نے عرض کیا : انگوٹھی ہے میں نے بنائی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری طرف پھینک۔ میں نے انگوٹھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھا دی۔ آپ نے دیکھا تو وہ لوہے کی انگوٹھی تھی جس پر چاندی کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : یہ اس کا نقش کیسا ہے ! میں نے عرض کیا : محمد رسول اللہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لے اور پہن لیا۔ پس وہی انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔

الطحاوی ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم ، ابونعیم
17406- عن خالد بن سعيد قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي يدي خاتم فقال: يا خالد ما هذا الخاتم؟ قلت خاتم اتخذته، قال: فاطرحه إلي، فطرحته إليه فإذا هو خاتم من حديد ملوي عليه فضة قال النبي صلى الله عليه وسلم ما نقشه؟ قلت محمد رسول الله فأخذه النبي صلى الله عليه وسلم فلبسه فهو الذي كان في يده". "الطحاوي طب ك وأبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17407 عبدخیر سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس چار انگوٹھیاں تھیں۔ ایک میں یاقوت تھا جو (مال وغیرہ) پانے کے لیے تھا ، ایک میں فیروزہ تھا مدد کے حصول کے لئے۔ یاقوت کا نقش تھا : لا الہ الا اللہ الملک الحق المبین، فیروز کا نقش تھا : اللہ الملک چینی لوہے کی انگوٹھی کا نقش تھا العزۃ للہ اور عقیق کا نقش تین سطریح تھی : ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ استغفر اللہ۔

احاکم فی التاریخ، الصابونی فی الماتین، ابوعبدالرحمن السمی فی امالیہ

کلام : سند میں ابوجعفر محمد بن احمد بن سعید رازی ہے جس ک و امام دارقطنی (رح) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ کنز العمال
17407- عن عبد خير قال: "كان لعلي بن أبي طالب أربعة خواتيم بها ياقوت لنيله فيروزج لنصره حديد صيني لقوته عقيق لحرزه وكان نقش الياقوت لا إله إلا الله الملك الحق المبين، ونقش الفيروزج الله الملك، ونقش الحديد الصيني العزة لله، ونقش العقيق ثلاثة أسطر ما شاء الله لا قوة إلا بالله أستغفر الله". "ك في تاريخه والصابوني في المائتين وأبو عبد الرحمن السلمي في أماليه، وفيه: أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، ضعفه قط".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17408 عبداللہ بن نافع، عاصم بن عمر بن حفص، جعفر بن محمد عن ابیہ کی سند سے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرات حسنین (رض) اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ ابن النجار

فائدہ : ظاہر بات یہ ہے کہ اسناد میں راوی کو وہم ہوگیا ہے اور اصل اسناد علی بن الحسین۔ سے مروی ہے نہ کہ علی بن ابی طالب سے۔ اور روایت مرسل ہے۔
17408- عن عبد الله بن نافع عن عاصم بن عمر بن حفص عن جعفر ابن محمد عن أبيه عن علي بن أبي طالب "أن النبي صلى الله عليه وسلم والحسن والحسين كانوا يتختمون في شمالهم". "ابن النجار والظاهر أنه وقع في الإسناد وهم وإنه عن علي بن الحسين لا عن علي بن أبي طالب فيكون مرسلا".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
حضرت علی (رض) کی انگوٹھی کا نقش

17409 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نقش نعم القادر اللہ تھا۔ اللہ بہترین قادر ہے۔

اور حضرت حسین (رض) کی انگوٹھی کا نقش عقلت فاعمل تھا (تو سمجھ گیا ہے اب عمل کر) ۔ الدینوری
17409- عن جعفر بن محمد عن أبيه "أن خاتم علي بن أبي طالب كان من ورق نقشه نعم القادر الله، وكان خاتم الحسين عقلت فاعمل". "الدينوري".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17410 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ الکجی
17410- عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم في الوسطى". "الكجي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17411 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں یا اس میں پہنوں، یعنی انگوٹھے، اس کے برابر اور اس کے برابر (درمیانی والی) تینوں انگلیوں میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد ، الحمیدی، مسند احمد، العدنی ، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ، مسناء ابی یعلی، الکجی ، ابوعوانہ، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی
17411- عن علي قال: " نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أجعل الخاتم في هذه أو في هذه لإصبعه السبابة والإبهام والوسطى". "ط والحميدي، حم والعدني خ م د ت ن هـ ع والكجي وأبو عوانة وابن منده في غرائب شعبة حب هب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17412 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

ابوداؤد، الترمذی فی الشمائل، النسائی ، ابن حبان، شعب الایمان للبقہی
17412- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه". "د ت في الشمائل ن حب هب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17413 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی اندر کی جانب رکھتے تھے۔ الضیاء للمقدسی
17413- عن علي قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس خاتمه في يمينه ويجعل فصه مما يلي باطن كفه". "ض".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17414 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی ، سخت لباس درندوں کی کھالیں پہننے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد، الترمذی، حسن صحیح، النسائی، ابن ماجہ، الطحاوی، ابن حبان، البخاری، مسلم، السنن لسعید بن منصور
17414- عن علي قال: "نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن لبس القسي وعن الميثرة الحمراء". "د ت وقال: حسن صحيح، ن هـ والطحاوي حب ق ص".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17415 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا آپ نے فرمایا : اس کو پھینک دے۔ پھر اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن لی۔ آپ نے فرمایا : یہ اس سے زیادہ بری ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی۔ اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت فرمایا۔ الجند یسابوری
17415- عن عمر بن الخطاب " أن النبي صلى الله عليه وسلم أبصر على رجل خاتما من ذهب فقال: ألق هذا عنك، فاتخذ خاتما من حديد، فقال: هذا شر منه فاتخذ خاتما من فضة، فسكت عنه النبي صلى الله عليه وسلم". "الجنديسابوري".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17416 حضرت عمر بن عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کی انگوٹھی کا نقش تھا : آمنت بالذی خلق فسوی، میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے پیدا کیا اور ٹھیک ٹھیک بنایا۔

ابن عساکر
17416- عن عمرو بن عثمان بن عفان قال: "كان نقش خاتم عثمان آمنت بالذي خلق فسوى". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17417 ابوجعفر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کی انگوٹھی کا نقش تھا الملک للہ، بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن سعد، ابن عساک
17417- عن أبي جعفر قال: "كان نقش خاتم علي: الملك لله". "عب وابن سعد كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17418 (مسند صدیق (رض)) زہری (رح) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابوبکر (رض) اپنے والد (حضرت ابی قحافہ (رض)) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے۔ ابوقحافہ (رض) کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید تھے۔ گویا سفید پھولوں والا درخت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے بزرگ کو آنے کی زحمت دی۔ میں خود چل کر ان کے پاس چلا جاتا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو خضاب لگاؤ اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا۔ الحارث
17418- "مسند الصديق" عن الزهري "أن أبا بكر أتى النبي صلى الله عليه وسلم بأبيه يوم فتح مكة وهو أبيض الرأس واللحية فكان رأسه ولحيته ثغامة بيضاء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تركت الشيخ حتى أكون أنا آتيه؟ ثم قال: اخضبوه وجنبوه السواد". "الحارث".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17419 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) مہندی اور کتم (وسمہ) سے خضاب کرتے تھے۔ موطا امام مالک، سفیان بن عیینہ فی جامع، ابن سعد، ابن ابی شیبہ
17419- عن عائشة "أن أبا بكر كان يصبغ بالحناء والكتم". "مالك وسفيان بن عيينة في جامعه وابن سعد، ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17420 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ہمارے پاس تشریف لاتے تو آپ کی ریش مبارک تیز سرخی کی وجہ سے عرفج (تیزی سے آگ پکڑنے والے) درخت کی آگ محسوس ہورہی تھی۔ آپ نے مہندی اور کتم کا خضاب کیا ہوا تھا۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ
17420- عن قيس بن أبي حازم قال: "كان أبو بكر يخرج إلينا وكأن لحيته ضرام عرفج من شدة الحمرة من الحناء والكتم". "ابن سعد، ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17421 ابوجعفر انصاری سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھا کہ آپ کا سر اور ڈاڑھی جھاؤ کے درخت کا (جلتا ہوا) انگارہ محسوس ہورہا تھا۔ ابن سعد
17421- عن أبي جعفر الأنصاري قال: "رأيت أبا بكر الصديق ورأسه ولحيته كأنها جمرة الغضا". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17422 حضرت عمر (رض) کو ان کی باندی نے ڈاڑھی خضاب کرنے کے لیے خضاب پیش کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو میرا نور بجھانا چاہتی ہے جس طرح فلاں نے اپنے نور کو بجھا لیا ہے۔

مستدرک الحاکم، ابونعیم فی المعرفۃ
17422- عن عمر "أنه عرضت له جاريته أن تصبغ لحيته، فقال: ما أراك إلا أن تطفئي نوري كما يطفئ فلان نوره". "ك وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17423 ابو قبیل معافری سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اپنا سر اور ڈاڑھی سیا رنگ میں خضاب کر رکھی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : میں عمرو بن العاص ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تو تمہارا بڑھاپے کا حال یاد ہے اور آج تو تو جوان نظر آرہا ہے۔ میں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ میرے پاس سے نکلتے ہی اس سیاہی کو دھودو۔ ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
17423- عن أبي قبيل المعافري قال: "دخل عمرو بن العاص على عمر بن الخطاب وقد صبغ رأسه ولحيته بالسواد، فقال عمر: من أنت؟ فقال: أنا عمرو بن العاص قال: فقال عمر: عهدي بك شيخا فأنت اليوم شاب عزمت عليك إلا ما خرجت فغسلت هذا السواد". "ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17424 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اسلام میں اپنے بڑھاپے (کے سفید رنگ) کو تبدیل نہ کرتے تھے۔ پوچھا گیا : یا امیر المومنین ! آپرنگ کیوں نہیں بدلتے ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے یہ (بڑھاپا اور سفیدی) اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔ لہٰذا میں اپنے بڑھاپے کو بدلنے والا نہیں ہوں۔ ابونعیم فی المعرفۃ
17424- عن ابن عمر "أن عمر بن الخطاب كان لا يغير شيبته في الإسلام فقيل له: يا أمير المؤمنين ألا تغير؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة وما أنا بمغير شيبتي". "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17425 قتادہ (رض) سے منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس کو خضاب لگایا گیا وہ ابوقحافہ (رض) تھے ان کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو ان کا سر سفید پھولوں والا درخت محسوس ہورہا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کسی چیز کے ساتھ تبدیل کرو اور سیاہی سے اجتناب کرو۔ ابن ابی شیبہ
17425- عن قتادة قال: "أول مخضوب خضب في الإسلام أبو قحافة أتي به النبي صلى الله عليه وسلم ورأسه مثل الثغامة، فقال: غيروه بشيء وجنبوه السواد". "ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17426 بنی ھبار کے مولیٰ اسحاق بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوالدرداء (رض) کو زرد رنگ کا خضاب کیے ہوئے دیکھا ، ان پر ایک چھوٹی ٹوپی تھی اور اس کے اوپر عمامہ تھا جس کا شملہ کاندھوں پر جھول رہا تھا۔ ابن عساکر
17426- عن إسحاق بن الحارث مولى بني هبار قال: "رأيت أبا الدرداء يخضب بالصفرة ورأيت عليه قلنسوة مضربة صغيرة ورأيت عليه عمامة قد ألقاها على كتفيه، وفي لفظ: قد أرخى لها بين كتفيه". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17427 عروۃ بن رویم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں ابن قرط حمص کا گورنر تھا۔ حضرت عمر (رض) کو خبر پہنچی کہ ایک دلہن ہودج (ڈولی) میں بٹھا کر لائی گئی ہے اس کے ساتھ آگ جلانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ آپ (رض) نے ہودج توڑ دیا اور آگ بجھادی۔ پھر صبح کو منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا :

میں اہل صفہ کے ساتھ تھا وہ مسجد نبوی (رض) میں مساکین تھے۔ ابوجندل نے امامہ سے نکاح کیا تو دو بڑے لگن کھانے کے بنوائے تھے جو کھانے سے بھرے ہوئے تھے۔ ہم نے کھانا کھایا اور اللہ کی حمدوثناء کی۔ جبکہ گزشتہ رات لوگ آگ کو ساتھ اٹھا کر لاتے ہیں۔ اور اہل کفر کی سنت پر عمل کیا ہے۔

ابراہیم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوئے تو سفیدی کو نور سمجھا اور اس پر اللہ کی حمد کی، جبکہ ابن الحرانیہ اپنا نور بجھا دیا ہے اور اللہ پاک بھی قیامت کے دن اس کا نور بجھائے گا ابن الحرانیہ اہل حمص میں سے پہلا شخص تھا جس نے سیاہ خضاب لگایا تھا۔ ابن عساکر
17427- عن عروة بن رويم قال: "كان ابن قرط واليا على حمص في زمان عمر بن الخطاب فبلغه أن عروسا حملت في هودج وحمل معها النيران فكسر الهودج وأطفأ النيران ثم أصبح فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: إني كنت مع أهل الصفة وهم مساكين في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم وإن أبا جندل نكح أمامة فصنع لها جفنتان من طعام قد ملئتا فأكلنا وحمدنا الله وإن أهل فلان البارحة حملوا النار واستنوا بسنة أهل الكفر وإن إبراهيم لما شاب رآه نورا فحمد الله عليه وإن ابن الحرانية أطفأ نوره والله مطفئه يوم القيامة وكان ابن الحرانية أول من صبغ من أهل حمص بالسواد". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17428 عبدالرحمن بن عائذ الثمانی سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ڈاڑھی کو بیری کے پتوں کے ساتھ رنگتے تھے اور عجمیوں کی مخالفت کا حکم دیتے تھے۔ ابن عساکر
17428- عن عبد الرحمن بن عائذ الثمالي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير لحيته بماء السدر وكان يأمر بالتغيير مخالفة الأعاجم". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17429 عبید بن جریج سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر (رض) کو زردرنگ کا خضاب کرتے دیکھا۔ اور آپ (رض) فرما رہے تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی رنگتے تھے اور آپ (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! وہ چند سفید بال تھے یہاں کے ، (ڈاڑھی بچہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر
17429- عن عبيد بن جريج "أنه رأى ابن عمر يخضب بالصفرة ويخبر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصبغ وقال: يا ابن أخي ذلك الشيب إنما كانت شعرات بيض وأشار إلى عنفقته". "ع كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17430 حسان بن ابی بابر اسلمی سے مروی ہے کہ ہم طائف میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کچھ نے اپنی ڈاڑھیوں کو زرد رنگ میں اور کچھ نے سرخ رنگ میں رنگا ہوا تھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : مرحبا زرد رنگ والوں کو اور سرخ رنگ والوں کو۔ الحسن بن سفیان، ابن ابی عاصم فی الوحدان، البغوی، الباوردی، ابن السکن

ابن السکن فرماتے ہیں : اس کی سند میں نظر ہے۔ ابن قانع، الکبیر للطبرانی ، ابونعیم
17430- عن حسان بن أبي جابر السلمي قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالطائف فرأى قوما قد صفروا لحاهم وآخرين قد حمروها فسمعته يقول: مرحبا بالمصفرين والمحمرين". "الحسن بن سفيان وابن أبي عاصم في الوحدان والبغوي والباوردي وابن السكن وقال: في إسناده نظر، وابن قانع، طب وأبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17431 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ڈاڑھی کو زرد رنگ کا خضاب کیا، حالانکہ آپ کے بیس بال صرف سفید ہوتے تھے۔ ابن عساکر
17431- عن أنس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صفر لحيته وما فيها عشرون شعرة بيضاء". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17432 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدینہ) میں تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں ابوبکر (رض) کے سوا کوئی سفید بالوں والا ن تھا چنانچہ انھوں نے بھی مہندی اور کتم کے ساتھ خضاب کرلیا۔ ابن سعد، ابن عساکر
17432- عن أنس قال: "قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس في أصحابه اشمط غير أبي بكر فغلفها بالحناء والكتم". "ابن سعد كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17433 اسحاق بن الحارث قریشی سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے عمیر بن جابر اور اشرس بن غاضرۃ کندی کو مہندی اور کتم (وسمہ) کے ساتھ خضاب لگائے دیکھا۔ یہ دونوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحبت یافتہ صحابی تھے۔ ابن ابی خیثمہ البغوی، ابن مندہ، ابونعیم
17433- عن إسحاق بن الحارث القرشي قال: "رأيت عمير بن جابر وأشرس بن غاضرة الكندي وكانت لهما صحبة يخضبان بالحناء والكتم". "ابن أبي خيثمة والبغوي وابن منده وأبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17434 حمید (رح) سے مروی ہے کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خضاب لگایا تھا ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بڑھاپا نہیں پہنچا تھا لیکن ابوبکر (رض) نے مہندی اور کتم کا خضاب لگایا اور عمر (رض) نے صرف مہندی کا خضاب لگایا۔ ابن سعد، ابونعیم
17434- عن حميد قال: "سألت أنس بن مالك أخضب النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: لم يصبه الشيب ولكن خضب أبو بكر بالحناء والكتم، وخضب عمر بالحناء". "ابن سعد وأبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17435 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت انس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف معمولی بال سفید ہوئے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے مہندی اور کتم کے ساتھ خضاب لگایا۔ ابن سعد، ابونعیم
17435- عن محمد بن سيرين قال: "سئل أنس عن خضاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن شاب إلا يسيرا ولكن أبا بكر وعمر خضبا بعده بالحناء والكتم". "ابن سعد وأبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17436 عباس بن سہل بن سعد الساعدی سے مروی ہے فرمایا : میرے والد اپنی سفید ڈاڑھی اور سفید سر کو تبدیل نہ کرتے تھے۔ ابن مندہ ابن عساکر
17436- عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي قال: "كان أبي لا يغير شيبه أبيض الرأس واللحية". "ابن منده كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17437 ابن شہاب (رح) سے مروی ہے کہ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص کالے رنگ کا خضاب کرتے تھے۔ ابونعیم
17437- عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب "أن سعد بن أبي وقاص كان يخضب بالسواد". "أبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17438 محمد بن الحنیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے مہندی کا خضاب کیا پھر چھوڑ دیا۔ ابن سعد، ابونعیم فی المعرفۃ
17438- عن محمد بن الحنفية، قال: "اختضب علي بالحناء مرة ثم ترك". "ابن سعد وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17439 عبدالرحمن بن سعد جو اسود بن سفیان کے غلام تھے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان (رض) کو زرد رنگ کا خضاب لگائے دیکھا۔ ابن سعد
17439- عن عبد الرحمن بن سعد مولى الأسود بن سفيان قال: "رأيت عثمان بن عفان مصفرا". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17440 صلت سے مروی ہے کہ میں نے عثمان بن عفان کو خطبہ دیتے دیکھا آپ کے جسم پر سیاہ قمیص تھی اور آپ نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا۔ ابن سعد
17440- عن الصلت قال: "رأيت عثمان بن عفان يخطب وعليه خميصة سوداء وهو مخضوب بحناء". "ابن سعد".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الترجیل۔۔۔کنگھی کرنا
17441 جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوقتادہ (رض) کے شانوں تک بال تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کا اکرام کیا کر۔ چنانچہ آپ (رض) ایک دن چھوڑ کر ایک دن کنگھی کرتے تھے۔ ابن عساکر
17441- عن جابر قال: "كانت لأبي قتادة جمة فقال له رسول الله: "أكرمها"، فكان يرجلها غبا". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آئینہ دیکھنا
17442 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آئینے میں دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے :

الحمد للہ الذی سوی خلقی فعدلہ و کرم صورۃ وجھی فحسنھا وجعلنی من المسلمین،

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری تخلیق برابر کی، میرے چہرے کو عزت بخشی اور اس کو حسین شکل بنایا اور مجھے مسلمانوں میں سے بنایا۔ ابن السنی والدیلمی
17442- عن أنس قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أبصر وجهه في المرآة قال: الحمد لله الذي سوى خلقي فعدله وكرم صورة وجهي فحسنها وجعلني من المسلمين". "ابن السني والديلمي".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17443 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ہانڈی کے ابلتے ہوئے پانی سے ملا جائے یہ مجھے زعفران کے ملنے سے محبوب ہے۔ ابو عبید فی الغریب
17443- عن علي قال: "لأن أطلي بجواء قدر أحب إلي من أن أطلي بزعفران". "أبو عبيد في الغريب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17444 حضرت علی (رض) سے مروی ہے روئے زمین کی خوشبوؤں میں سے اچھی خوشبو سر زمین ہند کی ہے۔ یہییں آدم (علیہ السلام) اترے تھے اور یہاں کے درخت جنت کی خوشبو سے پیدا فرمائے گئے تھے۔ ابن جریر، البیقہی فی البعث، ابن عساکر
17444- عن علي قال: "أطيب ريح الأرض الهمد هبط بها آدم وخلق شجرها من ريح الجنة". "ابن جرير، هق في البعث كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17445 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس سے گزرے ان میں سے ایک آدمی نے خلوق خوشبو لگا رکھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا اور اس شخص سے منہ پھیرلیا ۔ آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے سب پر سلام کیا اور مجھ سے منہ کیوں پھیرلیا ؟ ارشاد فرمایا تیری پیشانی پر انگارہ ہے۔ الاوسط للطبرانی
17445- عن علي: " مر النبي صلى الله عليه وسلم بقوم فيهم رجل متخلق فسلم عليهم وأعرض عن الرجل فقال له الرجل يا رسول الله سلمت عليهم وأعرضت عني؟ فقال: إن بين عينيك لجمرة". "طس".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17446 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیعت کرنے آیا اور اس پر خلوق خوشبو کا اثر تھا۔ آپ نے اس کو بیعت کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے جاکر اس کو دھویا پھر آکر بیعت کی۔ البزار
17446- عن علي قال: " جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليبايعه وعليه أثر الخلوق فأبى أن يبايعه فغسل عنه أثر الخلوق ثم جاء فبايعه". "البزار".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں کی زینت میں مباح زینت
17447 واقد بن عبداللہ تمیمی سے مروی ہے وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے عثمان (رض) کو دیکھا کہ آپ (رض) نے اپنے دانتوں پر سونے کا پانی چڑھوایا تھا۔ مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل
17447- عن واقد بن عبد الله التميمي عمن رأى عثمان "ضبب أسنانه بالذهب". "عم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں کی زینت میں مباح زینت
17448 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی تلوار میں چار سو درہم کی چاندی تھی۔

الخطیب فی رواۃ مالک
17448- عن ابن عمر قال: "كان سيف عمر فيه فضة أربع مائة درهم". "خط في رواة مالك".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی زینت۔۔۔زیورات
17449 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ پہلی عورتیں اپنی قمیص کی آستینوں کو کشادہ کرکے ان میں اپنی انگلیاں چھپا لیتی تھیں جس سے انگوٹھی بھی چھپ جاتی تھی۔ ابن ابی شیہ
17449- عن مجاهد قال: "كانت النساء الأول يجعلن أكمة أدرعهن إزارا تدخله إحداهن في أصبعها تغطي به الخاتم". "ش".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی زینت۔۔۔زیورات
17450 عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موتی لے کر اس میں دھاگہ پرویا پھر اپنی کسی گھر والی کو دے دیا۔ ابونعیم
17450- عن عبد الله بن الحارث بن نوفل "أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ لؤلؤة فجعلها في خيط فأعطاها بعض أهله". "أبو نعيم".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17451 ضحاک بن قیس سے مروی ہے کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جس کا نام ام عطیہ تھا جو کنواری لڑکیوں کا ختنہ کرتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : اے ام عطیہ ! جب تو ختنہ کرے تو پردہ بکارت کو نہ پھاڑا کر اس سے مرد کو زیادہ لطف اور عورت کو سرور میسر ہوگا۔

ابن مندہ، ابن عساکر
17451- عن الضحاك بن قيس قال: "كان بالمدينة امرأة يقال لها أم عطية تخفض الجواري، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أم عطية إذا خفضت فلا تنهكي فإنه أحظى للزوج وأسرى للزوجة". "ابن منده، كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17452 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) حضرت سارہ کی باندی تھیں۔ پھر حضرت سارہ نے وہ اپنے شوہر ابراہیم (علیہ السلام) کو دیدی۔ پھر اسماعیل۔ ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہونے میں سبقت لے گئے۔ اور اسحاق (علیہ السلام) بعد میں سارہ (علیہ السلام) کے بطن سے تولد ہوئے۔ جب اسماعیل اسراہیم (علیہ السلام) کی گود میں بیٹھے تو سارہ (علیہ السلام) (کو غیرت آئی اور انھوں نے) کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کے تین عمدہ اعضاء کو بگاڑ دوں گی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان کو نکٹانہ کردے یا کانوں میں سوراخ نہ کردے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (علیہ السلام) کو فرمایا : تم ایسا کچھ کرو کہ قسم سے بری ہوجاؤ اور (زیادہ تکلیف نہ دو وہ یوں کہ تم) ان کے کان چھیددو اور اس کا ختنہ کردو۔ تب پہلی مرتبہ ختنہ اس عورت کا ہوا تھا۔ شعب الایمان للبیہقی
17452- عن علي قال: "كانت هاجر لسارة فأعطت هاجر إبراهيم فاستبق إسماعيل وإسحاق فسبقه إسماعيل فجلس في حجر إبراهيم، قالت سارة: والله لأغيرن منها ثلاثة أشراف فخشى إبراهيم أن تجدعها أو تخرم أذنيها فقال لها: هل لك أن تفعلي شيئا وتبرئي من يمينك؟ شقي أذنيها وتخفضيها فكان أول الخفاض هذا". "هب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17453 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ میں ایک ختنہ کرنے والی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پیغام بھیجا کہ جب تو ختنہ کیا کرے تو ہلکا سا اشارہ کیا کر اور پردہ کو بالکلیہ نہ ختم کیا کر یہ اس کے چہرے کے لیے خوشگوار اور شوہر کے لیے لطف اندوز ہوگا۔ الخطیب فی التاریخ
17453- عن علي قال: "كانت خفاضة بالمدينة فأرسل إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا خفضت فأشمي ولا تنهكي فإنه أحسن للوجه وأرضى للزوج". "خط".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17454 (مسند صدیق (رض)) قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ حضرت ابوبکر (رض) ہلکے پھلکے جسم والے سفید رنگت کے مالک تھے۔ میں نے (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ گدے ہوئے ہیں اور وہ ان کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) سے (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹا رہی ہیں۔ ابن سعد، ابن منیع ، ابن جریر، ابن عساکر
17454- "مسند الصديق" عن قيس بن أبي حازم قال: "دخلت مع أبي على أبي بكر وكان رجلا خفيف اللحم أبيض فرأيت يدي أسماء بنت عميس موشومة تذب عن أبي بكر". "ابن سعد وابن منيع وابن جرير كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17455 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (رض) سفید رنگت والے ہلکے جسم کے مالک تھے۔ آپ (رض) کے پاس اسماء بنت عمیس تھیں جو آپ پر جھول رہی تھیں ان کے ہاتھ گدے ہوئے تھے بربریوں کی طرح، جاہلیت میں گدوائے تھے۔ پھر آپ (رض) کو دو گھوڑے دیئے گئے۔ آپ (رض) نے ایک گھوڑا مجھے دیدیا اور دوسرا میرے باپ کو دیدیا ۔ ابن جریر
17455- عن قيس بن أبي حازم قال: "دخلت أنا وأبي على أبي بكر فإذا هو رجل أبيض خفيف الجسم عنده أسماء بنت عميس تذب عنه وهي موشومة اليدين كانوا وشموها في الجاهلية نحو وشم البربر، فعرض عليه فرسان فرضيهما فحملني على أحدهما وحمل أبي على الآخر". "ابن جرير".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17456 ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں اپنے بالوں کو کانوں تک لٹکے ہوئے کرلیا کرتی تھیں۔ ابن جریر
17456- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: "كان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يأخذن من شعورهن حتى يدعنه كهيئة الوفرة". "ابن جرير".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17457 (عبدالرزاق کہتے ہیں) مجھے اسماعیل نے خبر دی کہ حضرت عائشہ (رض) شوہر والی عورت کو منع کرتی تھیں کہ وہ پنڈلیوں کو خالی رکھے (بلکہ پازیب پہننے کا حکم دیتی تھیں) نیز آپ (رض) فرمایا کرتی تھیں : عورت کو خضاب نہیں چھوڑنا چاہیے (ہاتھوں کی مہندی) کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مردوں کی طرح رہنے والی عورتوں کو ناپسند کرتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
17457- أخبرني إسماعيل "أن عائشة كانت تنهى المرأة ذات الزوج أن تدع ساقيها لا تجعل فيها شيئا، وإنها كانت تقول: لا تدع المرأة الخضاب فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره الرجلة 1". "عب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17458 زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) عورت کو سر کے بالوں پر مشک لگانے سے منع فرماتی تھیں۔ عبدالرزاق
17458- عن الزهري قال: "كانت عائشة تنهى أن تمشط المرأة بالمسك". "عب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17459 حرب بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جمعہ کے روز برسرمنبر ارشاد فرماتے سنا : ہم نے عورتوں کے لیے ورس (رنگائی کی بوٹی) اور ابر (مویشیوں) کا حکم دیدیا ہے۔ ورس ان کے پاس یمن سے آئے گی اور مویشی یمن کے ذمیوں سے جن پر جزیہ ہے لیے جائیں گے۔ الکبیر للطبرانی ، ابونعیم ، السنن لسعید بن منصور
17459- عن حرب بن الحارث قال: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يوم الجمعة قد أمرنا للنساء بورس وأبر فأما الورس فأتاهن من اليمن وأما الأبر فتؤخذ من ناس من أهل الذمة مما عليهم من الجزية". "طب وأبو نعيم ص".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17460 حسین بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں فاطمہ بنت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا ان کے پاس ہاتھی دانت کا ایک ٹکڑا تھا اور ان کے گلے میں موتیوں کی مالا تھی۔ آپ نے فرمایا : میرے باپ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کو بغیر زیور کے ناپسند کرتے تھے۔ سمویہ
17460- عن حسين بن عبد الله قال: "دخلت على فاطمة بنت علي وعليها مسكة من عاج وفي عنقها خيط من خرز فقالت: إن أبي حدثني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كره التعطل للنساء". "سمويه".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17461 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ہمارے پاس ورس اور زعفران میں سے ہمارا حصہ بھیجتے تھے۔ ابوعبید فی الاموال
17461- عن عائشة قالت: "إن كان عمر ليرسل إلينا بأحظائنا من الورس والزعفران". "أبو عبيد في الأموال".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17462 ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کے زیورات سے منع فرمایا۔ الخطیب فی المتفق
17462- عن أبي هريرة " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن حلية الذهب". "خط في المتفق".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17463 (مسند عمار (رض)) میں ایک سفر سے واپس ہوا تو میری اہلیہ نے مجھے زرد رنگ مل دیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو آپ کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا، جا اور غسل کر۔ میں نے آکر غسل کیا پھر کچھ اثر رہتے ہوئے واپس آپ کی خدمت میں آکر سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دے کر پھر فرمایا : جا اور غسل کر۔ میں واپس آیا اور بچے ہوئے پانی کے ساتھ خوب جلد کو رگڑا حتیٰ کہ مجھے یقین ہوگیا کہ میں صاف ہوگیا ہوں چنانچہ میں حاضر خدم ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وعلیکم السلام بیٹھ جاؤ ۔ پھر فرمایا : ملائکہ کسی کافر کے جنازے میں حاضر ہوئے اور نہ کسی جنبی کے پاس آئے حتی کہ وہ غسل کرلے یا نماز جیسا وضو کرلے اور نہ زرد رنگ میں لتھڑے ہوئے آدمی کے پاس حاضر ہوئے۔ عبدالرزاق
17463- "مسند عمار" قدمت من سفرة فضمخني أهلي بصفرة ثم جئت فسلمت على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: وعليك السلام اذهب فاغتسل، فذهبت فاغتسلت ثم رجعت في أثرها فقلت السلام عليكم، فقال: وعليكم السلام اذهب فاغتسل فذهبت فأخذت بشفة فدلكت بها جلدي حتى ظننت أني قد أنقيت ثم أتيته فقلت السلام عليكم، فقال: وعليكم السلام اجلس ثم قال: إن الملائكة لا تحضر جنازة كافر بخير ولا جنبا حتى يغتسل أو يتوضأ وضوءه للصلاة ولا متضمخا بصفرة". "عب".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17464 حضرت عمر (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی عورت کی طرح اپنی صفائی ستھرائی رکھے اور ہر روز سرمہ لگائے اور عورت کے اپنے بالوں کی طرح ہر روز اپنی ڈاڑھی کو بنائے سنوارے۔ ابوذر الھروی فی الجامع
17464- عن عمر "أنه كره أن يصون الرجل نفسه كما تصون المرأة نفسها ولا يزال يرى كل يوم مكتحلا وأن يحف لحيته كما تحف المرأة". "أبو ذر الهروي في الجامع".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17465 حمید بن عبدالرحمن الحمیری سے مروی ہے کہ میں ایک صحابی رسول سے ملا جو چار سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہا تھا جس طرح ابوہریرہ (رض) ساتھ رہے تھے۔ پھر فرمایا : ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ ہر روز کنگھی کی جائے یا غسل خانے میں پیشاب کیا جائے ، یا آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا عورت آدمی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے لیکن دونوں ایک ساتھ پانی لے سکتے ہیں۔ السنن لسعید بن منصور
17465- عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال: "لقيت رجلا صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أربع سنين كما صحبه أبو هريرة قال: نهانا رسول الله أن يمتشط أحدنا كل يوم وأن يبول في مغتسله وأن يغتسل الرجل بفضل المرأة أو المرأة بفضل الرجل وقال: ليغترفا جميعا". "ص".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17466 ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفید بالوں کے نوچنے سے منع فرمایا۔ ابن عساکر
17466- عن ابن عمرو قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نتف الشيب". "كر".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17467 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! سونے کی انگوٹھی نہ پہن اور نہ عصفور کے ساتھ رنگا ہوا سرخ کپڑا کجاوے پر ڈال۔ عویس فی جزتہ
17467- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا علي لا تتختم بخاتم الذهب ولا تلبس المعصفرة على كورك ميثرة حمراء". "عويس في جزئه".
tahqiqতাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف السین

اس میں دو کتاب ہیں کتاب السفر اور کتاب السحر

کتاب السفر۔۔۔قسم الاقوال

اس میں چار فصول ہیں۔

فصل اول۔۔۔سفر کی ترغیب میں

اس فصل کی تمام احادیث محل کلام (ضعیف ) ہیں۔
17468 سفر کرو صحت مند ہوگے۔ ابن السنی ، ابونعیم فی الطب عن ابی سعید (رض)

کلام : الالحاظ 326، ضعیف الجامع 3209 ۔
17468- "سافروا تصحوا". "ابن السني وأبو نعيم في الطب عن أبي سعيد".
tahqiqতাহকীক: