আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৪৯ টি

হাদীস নং: ৩২৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کپڑا زیادہ ہو تو اسے لپیٹ لے اور اگر کم ہے تو تہبند باندھ لے، نماز کے لیے کافی ہے
(٣٢٩٠) (ا) ام المومنین سیدہ میمونہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھار ایک بڑی چادر میں نماز پڑھتے اس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اور کچھ حصہ آپ پر ہوتا۔ اگرچہ میں حائضہ بھی ہوتی۔

(ب) اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ (رض) سے بھی ثابت ہے۔

(ج) اس حدیث میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ آدمی کے کندھوں پر اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔
(۳۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِی مِرْطٍ ، بَعْضُہُ عَلَیَّ وَبَعْضُہُ عَلَیْہِ وَأَنَا حَائِضٌ۔

وَکَذَلِکَ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔

وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی جَوَازِ الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ عَلَی عَاتِقِہِ مِنْہُ شَیْئٌ۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٢٩١) محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) نے ہمیں ایک قمیص میں امامت کروائی۔ آپ (رض) پر کوئی اور چادر نہ تھی۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قمیص میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
(۳۲۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِیعٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی حَوْمَلٍ الْعَامِرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَمِیصٍ لَیْسَ عَلَیْہِ رِدَائٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِی قَمِیصٍ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۴۰۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٢٩٢) (ا) عبداللہ بن بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے زوجہ رسول ام المومنین سیدہ ام سلمہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کپڑوں میں قمیص سے زیادہ محبوب کوئی لباس نہ تھا۔

(ب) ایک قول کے مطابق وہ خود ام سلمہ (رض) سے روایت نہیں کرتے بلکہ ان کی والدہ نقل کرتی ہیں۔
(۳۲۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ: مَا کَانَ شَیْئٌ مِنَ الثِّیَابِ أَحَبُّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الْقَمِیصِ۔

وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ۔ [حسن لغیرہ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٢٩٣) (ا) عبداللہ بن بریدہ اپنی والدہ کے واسطے سے ام المومنین ام سلمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ قمیص سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی لباس زیادہ محبوب نہ تھا۔

(ب) ایک قول کے مطابق عن عبداللہ بن بریدہ عن ابیہ عن ام سلمہ (رض) بھی ہے۔

(ج) مجاہد کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے سیدنا ابن عمر (رض) سے پوچھا : آپ کے نزدیک کون سا لباس زیادہ محبوب ہے جس میں میں نماز پڑھا کروں ؟ انھوں نے فرمایا : قمیص۔
(۳۲۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو تُمَیْلَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: لَمْ یَکُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الْقَمِیصِ۔رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ زِیَادِ بْنِ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی تُمَیْلَۃَ۔

وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ۔

وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ: أَیُّ ثَوْبٍ وَاحِدٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَصَلِّیَ فِیہِ؟ قَالَ: الْقَمِیصُ۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۲۲۔ النسائی ۷۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر اس کا گریبان کھلا ہو تو تہبند باندھ لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
(٣٢٩٤) سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں شکار کھیلتا ہوں تو کیا میں ایک قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں پڑھ سکتے ہو۔ اسے باندھ لو اگرچہ ایک کانٹے سے ہی ہو۔
(۳۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی رَجُلٌ أَصِیدُ أَفَأُصَلِّی فِی الْقَمِیصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَزُرَّہُ وَلَوْ بِشَوْکَۃٍ۔

رَوَاہُ أَبُو أُوَیْسٍ عَنْ مُوسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَلَمَۃَ۔

[ضعیف۔ اخرجہ احمد ۲/ ۴۷۲۔ ابوداود ۳۲۳۶۹۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر اس کا گریبان کھلا ہو تو تہبند باندھ لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
(٣٢٩٥) (ا) یزید بن خمیر سے روایت ہے کہ میں نے قریش کے ایک غلام کو کہتے ہوئے سنا : ابوہریرہ (رض) اور امیر معاویہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ کمر پر پٹی نہ باندھ لی جائے ۔

(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث نقل کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کا تہبند کھلا ہو۔ اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جاسکے۔ اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
(۳۲۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ مَوْلًی لِقُرَیْشٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ مُعَاوِیَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ حَتَّی یَحْتَزِمَ۔

وَرَوَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ فِی قَمِیصٍ مَحْلُولَۃٌ أَزْرَارُہُ مَخَافَۃَ أَنْ یُرَی فَرْجُہُ إِذَا رَکَعَ حَتَّی یُزِرَّہُ۔قَالَ یَحْیَی: إِذَا لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ إِزَارٌ۔

وَہَذَا وَإِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا فَہُوَ مُوَافِقٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَہُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن سعد فی الطبقات ۴/ ۱۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر اس کا گریبان کھلا ہو تو تہبند باندھ لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
(٣٢٩٦) زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عمر (رض) کو نماز پڑھتے دیکھا اور ان کا تہبند کھلا ہوا تھا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔
(۳۲۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُصَلِّی مَحْلُولٌ أَزْرَارُہُ ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَفْعَلُہُ۔

تَفَرَّدَ بِہِ زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ۔

وَبَلَغَنِی عَنْ أَبِی عِیسَی التِّرْمِذِیِّ أَنَّہُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ حَدِیثِ زُہَیْرٍ ہَذَا فَقَالَ: أَنَا أَتَّقِی ہَذَا الشَّیْخَ، کَأَنَّ حَدِیثَہُ مَوْضُوعٌ، وَلَیْسَ ہَذَا عِنْدِی بِزُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَکَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ یُضَعِّفُ ہَذَا الشَّیْخَ وَیَقُولُ: ہَذَا شَیْخٌ یَنْبَغِی أَنْ یَکُونُوا قَلَبُوا اسْمَہُ۔وَأَشَارَ الْبُخَارِیُّ إِلَی بَعْضِ ہَذَا فِی التَّارِیخِ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَوْجُہٍ دُونَ السَّنَدِ۔

[صحیح لغیرہ۔ ولہ طریق آخر عند البخاری فی تاریخ ۸/ ۱۷۴۔ وسندہ ایضا ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر اس کا گریبان کھلا ہو تو تہبند باندھ لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
(٣٢٩٧) (ا) سعید بن ابی ایوب بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو ہمیشہ تہبند کھولے ہوئے ہی دیکھا۔

(ب) سعید بیان کرتے ہیں : مجھے زہرہ بن معبد قرشی نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب، ابو حازم اور محمد بن منکدر کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے ازار بند کھلے ہوتے۔

(ج) ابن عباس (رض) کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر (رض) سے منقول ہے۔

(د) اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم
(۳۲۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: مَا رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلاَّ مَحْلُولَ الأَزْرَارِ۔

قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنِی زُہْرَۃُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِیُّ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ الْمُسَیَّبِ وَأَبَا حَازِمٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ یُصَلُّونَ وَأَزْرَارُ قُمُصِہِمْ مُطْلَقَۃٌ۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَفْسِہِ۔

وَہُوَ إِذَا کَانَ فِی الصَّلاَۃِ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی مَا لَوْ کَانَ الْجَیْبُ ضَیِّقًا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۴/ ۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چادر میں نماز پڑھنے کا بیان
(٣٢٩٨) (ا) قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گئے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ازار بند کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ اپنی چادر بھی چھوڑ دی اور اس چادر کو لپیٹ لیا اور کھڑے ہوگئے ۔ پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز پڑھا چکے تو فرمایا : کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟

(ب) وہ احادیث جو ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان سے مراد چادر یا اس جیسا کوئی اور کپڑا ہے۔ واللہ اعلم
(۳۲۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَفْدًا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا تَرَی فِی الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَأَطْلَقَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- إِزَارَہُ وَطَارَقَ بِہِ رِدَائَ ہُ ، وَاشْتَمَلَ بِہَا ، وَقَامَ فَصَلَّی بِنَا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: ((أَوَکُلُّکُمْ یَجِدُ ثَوْبَیْنِ))۔

وَالأَحَادِیثُ الَّتِی رُوِّینَاہَا فِی صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ الْمُرَادُ بِہِ الرِّدَائُ أَوْ مَا یُشْبِہُ الرِّدَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ فی ۳۳۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہبند میں نماز پڑھنے کا بیان اور اس کی گرہ گدی پر لگائی جائے
(٣٢٩٩) محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ جابر (رض) نے تہبند میں نماز پڑھی، اس تہبند کو انھوں نے اپنی گدی پر رکھ کر گرہ لگا دی اور ان کے کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا : کیا آپ (کپڑے ہونے کے باوجود) ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : سنو میں نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ تمہاری طرح کے بیوقوف مجھے دیکھ لیں۔ ذرا بتاؤ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں (فقر وغربت کی وجہ سے) ہم میں سے کس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے ؟
(۳۲۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ: صَلَّی جَابِرٌ فِی إِزَارٍ قَدْ عَقَدَہُ مِنْ قِبَلِ قَفَاہُ وَثِیَابُہُ مَوْضُوعَۃٌ عَلَی الْمِشْجَبِ ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: أَتُصَلِّی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّی إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِکَ لِیَرَانِی أَحْمَقُ مِثْلُکَ ، وَأَیُّنَا کَانَ لَہُ ثَوْبَانِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں تہبند کے نیچے سے ستر کھلنے کا بیان
(٣٣٠٠) سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کرتے تو اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے نماز ادا کرتے اور عورتوں کو کہا گیا کہ تم نماز میں اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھاؤ۔ جب تک مرد حضرات سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔
(۳۳۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی وَیُوسُفُ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کَانُوا یُصَلُّونَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُمْ عَاقِدُونَ أُزُرَہُمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَی رِقَابِہِمْ فَقِیلَ لِلنِّسَائِ لاَ تَرْفَعْنَ رُئُ وسَکُنَّ حَتَّی یَسْتَوِیَ الرِّجَالُ جُلُوسًا۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں تہبند کے نیچے سے ستر کھلنے کا بیان
(٣٣٠١) سہل بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھتے۔ کسی نے کہا : اے خواتین کی جماعت ! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھایا کرو جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔
(۳۳۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِی أُزُرِہِمْ فِی أَعْنَاقِہِمْ مِثْلَ الصِّبْیَانِ مِنْ ضِیقِ الأُزُرِ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ قَائِلٌ: یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ لاَ تَرْفَعْنَ رُئُ وسَکُنَّ حَتَّی یَرْفَعَ الرِّجَالُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۸۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں تہبند کے نیچے سے ستر کھلنے کا بیان
(٣٣٠٢) اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو عورت اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک مرد اپنے سر نہ اٹھالیں۔ کہیں ان کی نظر مردوں کے ستر پر نہ پڑجائے۔
(۳۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَکِّلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِی الزُّہْرِیِّ عَنْ مَوْلًی لأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُنَّ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَ تَرْفَعْ رَأْسَہَا حَتَّی یَرْفَعَ الرِّجَالُ رُئُ وسَہُمْ))۔کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَرَیْنَ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۳۱۔ ابوداود ۸۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو ستر کھلنے کے ڈر سے کپڑوں کو ہاتھوں میں سمیٹ لے
(٣٣٠٣) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے صفہ کے ستر طالب علموں کو دیکھا، ان میں سے کسی کے پاس بھی چادر نہ تھی سوائے دھاری دار چادر کے یا موٹے کمبل کے اور اس کو انھوں نے اپنی گردنوں میں باندھا ہوتا ۔ ان میں سے کچھ کے نصف پنڈلی تک ہوتی اور کچھ کے ٹخنوں تک۔ وہ کپڑے کو اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کرلیتے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔

یہی حدیث امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں یوسف بن عیسیٰ کے واسطے سے نقل کی ہے۔
(۳۳۰۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِیُّ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: رَأَیْتُ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ مَا مِنْہُمْ رَجُلٌ عَلَیْہِ رِدَائٌ ، إِمَّا بُرْدَۃٌ وَإِمَّا کِسَائٌ ، قَدْ رَبَطُوہَا فِی أَعْنَاقِہِمْ ، فَمِنْہَا مَا یَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقِ ، وَمَنْہَا مَا یَبْلُغُ الْکَعْبَیْنِ ، فَیَجْمَعُہُ بِیَدِہِ کَرَاہِیَۃَ أَنْ تَبْدُوَ عَوْرَتُہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عِیسَی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے کی کراہت کا بیان
(٣٣٠٤) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : جاؤ وضو کرو، وہ شخص گیا اور وضو کر کے حاضر خدمت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ وضو کرو۔ وہ شخص گیا اور دوبارہ وضو کر کے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں دیا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور جو شخص تہبند لٹکا کر نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔
(۳۳۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: بَیْنَمَا رَجُلٌ یُصَلِّی مُسْبِلٌ إِزَارَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ))۔فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ))۔فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا لَکَ أَمَرْتَہُ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَکَتَّ عَنْہُ؟ فَقَالَ: ((إِنَّہُ کَانَ یُصَلِّی وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ ، وَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یَقْبَلُ صَلاَۃَ رَجُلٍ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ))۔

ہَکَذَا رَوَاہُ أَبَانُ الْعَطَّارُ عَنْ یَحْیَی۔

وَخَالَفَہُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ فِی إِسْنَادِہِ فَرَوَاہُ کَمَا۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے کی کراہت کا بیان
(٣٣٠٥) عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی نے انھیں حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : جاؤ جا کر وضو کرو اس نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پھر فرمایا کہ جاؤ وضو کرو تو ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے آپ اسے وضو کرنے کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہوجاتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس لیے اس کو وضو کرنے کا کہتا تھا کہ تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جو تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھتا ہے۔
(۳۳۰۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْمَدَنِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ حَدَّثَہُ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَدَّثَہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلَ رَجُلٌ یُصَلِّی ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ))۔فَتَوَضَّأَ ثُمَّ عَادَ یُصَلِّی ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ))۔فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا شَأْنُکَ أَمَرْتَہُ أَنْ یَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَکَتَّ عَنْہُ؟ فَقَالَ: ((إِنِّی إِنَّمَا أَمَرْتُہُ أَنْ یَتَوَضَّأَ ، إِنَّہُ کَانَ مُسْبِلاً إِزَارَہُ ، وَلاَ یَقْبَلُ اللَّہُ صَلاَۃَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَہُ))۔

رَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَدَّثَہُ فَأَسْقُطَ مِنْ بَیْنَ یَحْیَی وَعَطَائٍ ۔ [شاذ۔ اخرجہ ابوداود الطیالسی ۳۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے کی کراہت کا بیان
(٣٣٠٦) (ا) ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک دیہاتی کو دیکھا جو ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا اور اسے ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو انھوں نے فرمایا : جس شخص نے نماز میں ازراہ تکبر اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکایا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ نہ جنت حلال کرے گا نہ جہنم حرام ۔

(ب) امام ابوداود (رح) بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عاصم سے عبداللہ بن مسعود (رض) پر موقوف بیان کیا ہے۔ ان میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابو احوص اور ابو معاویہ (رض) ہیں۔

(ج) امام صاحب فرماتے ہیں کہ تہبند لٹکانے کی ممانعت میں منقول احادیث اس کی نماز اور عام حالت میں حرمت کی دلیل ہیں۔
(۳۳۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ وَثَابِتٌ أَبُو زَیْدٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَلَمْ یَرْفَعْہُ ثَابِتٌ: أَنَّہُ رَأَی أَعْرَابِیًّا عَلَیْہِ شَمْلَۃٌ قَدْ ذَیَّلَہَا وَہُوَ یُصَلِّی ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِی یَجُرُّ ثَوْبَہُ مِنَ الْخُیَلاَئِ فِی الصَّلاَۃِ لَیْسَ مِنَ اللَّہِ فِی حِلٍّ وَلاَ حَرَامٍ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَالَ رَوَی ہَذَا جَمَاعَۃٌ عَنْ عَاصِمٍ مَوْقُوفًا عَلَی ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْہُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَأَبُو الأَحْوَصِ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَفِی الأَحَادِیثِ الثَّابِتَۃِ الْمُطْلَقَۃِ فِی النَّہْیِ عَنْ جَرِّ الإِزَارِ دَلِیلٌ عَلَی کَرَاہِیَتِہِ فِی الصَّلاَۃِ وَغَیْرِہَا۔

[منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان
(٣٣٠٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔
(۳۳۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُتَوَکِّلِ أَبُو الْحَسَنِ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ السَّدْلِ فِی الصَّلاَۃِ ، وَأَنْ یُغَطِّیَ الرَّجُلُ فَاہُ۔ [منکر۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان
(٣٣٠٨) عطاء ابوہریرہ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (رض) کپڑا لٹکانے کو ناپسند سمجھتے تھے اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع بیان کرتے تھے۔
(۳۳۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّہُ کَرِہَ السَّدْلَ۔وَرَفَعَ ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ۔

[منکر۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان
(٣٣٠٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں سدل سے منع فرمایا ہے۔
(۳۳۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ہُوَ ابْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ عِسْلٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ السَّدْلِ فِی الصَّلاَۃِ۔ وَصَلَہُ الْحَسَنُ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ وَعِسْلٍ عَنْ عَطَائٍ ۔ وَأَرْسَلَہُ عَامِرٌ الأَحْوَلُ عَنْ عَطَائٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: