আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৪৯ টি
হাদীস নং: ৫৮৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ حاکم اور محکوم وغیرہ کے پیچھے جائز ہے چاہے وہ آزاد ہو یا غلام
(٥٨٥٦) عبید اللہ بن عدی بن خیارفرماتے ہیں کہ وہ حضرت عثمان (رض) نے پاس آئے، جب وہ گھر میں بند تھے اور حضرت علی (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں ان لوگوں کے ساتھ نماز میں حرج محسوس کرتا ہوں اور آپ کا گھیرا کیا ہوا ہیحالاں کہ آپ امام ہیں، ان کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ حضرت عثمان (رض) فرمانے لگے : نماز اچھا کام ہے جب تک لوگ کریں۔ جب وہ اچھائی کریں تو آپ بھی ان کے ساتھ مل کر اچھائی کرو اور جب وہ برائی کریں تو آپ ان سے بچ جاؤ۔
(۵۸۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الدَّارَ وَہُوَ مَحْصُورٌ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی لِلنَّاسِ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی أَتَحَرَّجُ فِی الصَّلاَۃِ مَعَ ہَؤُلاَئِ وَأَنْتَ مَحْصُورٌ ، وَأَنْتَ الإِمَامُ فَکَیْفَ تَرَی فِی الصَّلاَۃِ مَعَہُمْ؟ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ الصَّلاَۃَ أَحْسَنُ مَا یَعْمَلُ النَّاسُ ، فَإِذَا أَحْسَنُوا فَأَحْسِنْ مَعَہُمْ ، وَإِذَا أَسَائُ وا فَاجْتَنِبْ إِسَائَ تَہُمْ۔وَسَائِرُ الآثَارِ فِی ہَذَا الْمَعْنَی قَدْ مَضَتْ فِی بَابِ الإِمَامَۃِ۔ [صحیح۔ تقدم ۵۳۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ حاکم اور محکوم وغیرہ کے پیچھے جائز ہے چاہے وہ آزاد ہو یا غلام
(٥٨٥٧) عبد العزیز بن عبد الملک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب عقبہ بن عامر (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ محمد بن ابو حذیفہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے ، لوگوں کو خطبہ دیا اور لوگوں پر قرآن کی سورت پڑھی۔ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن پڑھے ہوئے تھے۔ عقبہ بن عامر فرمانے لگے کہ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا؛کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن یہ ان کے حلقوں سے نیچے نہ گزرے گا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ابن ابی حذیفہ نے یہ بات سنی تو فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ کو جھوٹا تصور نہیں کرتا بیشک آپ انہی میں سے ہیں۔
(۵۸۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُلَیْلٍ السَّلِیحِیُّ إِلَی قُضَاعَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: کُنْتُ مَعَ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ جَالِسًا قَرِیبًا مِنَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حُذَیْفَۃَ فَاسْتَوَی عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْہِمْ سُورَۃً مِنَ الْقُرْآنِ ، وَکَانَ مِنْ أَقْرَإِ النَّاسِ فَقَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((لَیَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہِمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ))۔فَسَمِعَہَا ابْنُ أَبِی حُذَیْفَۃَ فَقَالَ: وَاللَّہِ لَئِنْ کُنْتَ صَادِقًا وَإِنَّکَ مَا عَلِمْتُ لَکَذُوبٌ إِنَّکَ مِنْہُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُبَارَکِ حَمْلُ ہَذَا الْحَدِیثِ أَنَّہُمْ یُجَمِّعُونَ مَعَہُمْ وَیَقُولُونَ لَہُمْ ہَذِہِ الْمَقَالَۃَ۔ [ضعیف۔ احمد ۴/۱۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچے کے پیچھے جمعہ درست نہیں
(٥٨٥٨) عکرمہ ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ بچہ امامت نہ کروائے جب تک بالغ نہ ہو۔
(۵۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی یَحْیَی عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لاَ یَؤُمُّ الْغُلاَمُ حَتَّی یَحْتَلِمَ۔مَوْقُوفٌ مُطْلَقٌ۔ [ضعیف جدًا۔ عبد الرزاق ۱۸۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے کی امامت پر دلیل کا بیان
(٥٨٥٩) (الف) عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور ان کی قوم کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ، جب لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تاکہ وہ قرآن سیکھیں۔ جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہمیں نماز کون پڑھائے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو قرآن زیادہ یاد ہو۔ وہ اپنی قوم کے پاس آگئے تو انھوں نے سوال کیا، لیکن کوئی بھی مجھ سے زیادہ قرآن کو جمع کرنے والا اور یاد رکھنے والا نہ تھا۔ میں اس وقت بچہ تھا اور میرے اوپر ایک چادر تھی۔ انھوں نے مجھے آگے کردیا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی ۔ فرماتے ہیں : جب بھی یہ لوگ اکٹھے ہوتے تو میں ان کی امامت کرواتا تھا۔ مسعربن حبیب فرماتے ہیں کہ وہ ان کے جنازے بھی پڑھاتے اور وہ اپنی مساجد میں ہوتے۔
(ب) ایوب سختیانی عمرو سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سات یا چھ سال کے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔
(ب) ایوب سختیانی عمرو سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سات یا چھ سال کے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔
(۵۸۵۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ یَعْنِی ابْنَ حَبِیبٍ الْجَرْمِیَّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلِمَۃَ أَنَّ أَبَاہُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِہِ وَفَدُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ أَسْلَمَ النَّاسُ فَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَلَمَّا قَضَوْا حَاجَتَہُمْ قَالُوا: مَنْ یُصَلِّی بِنَا أَوْ لَنَا فَقَالَ: ((یُصَلِّی بِکُمْ أَکْثَرُکُمْ أَخْذًا أَوْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ))۔قَالَ فَجَائُ وا إِلَی قَوْمِہِمْ فَسَأَلُوا فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَوْ أَخَذَ مِنَ الْقُرْآنِ أَکْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ أَوْ أَخَذْتُ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ لِی فَقَدَّمُونِی فَصَلَّیْتُ بِہِمْ فَمَا شَہِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلاَّ وَأَنَا إِمَامُہُمْ إِلَی یَوْمِی ہَذَا۔قَالَ مِسْعَرُ بْنُ حَبِیبٍ: وَکَانَ یُصَلِّی بِہِمْ عَلَی جَنَائِزِہِمْ وَفِی مَسَاجِدِہِمْ حَتَّی مَضَی لِسَبِیلِہِ۔
وَرُوِّینَاہُ فِی بَابِ الإِمَامَۃِ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ عَمْرٍو وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِینَ أَوْ سِتِّ سِنِینَ وَفِی رِوَایَۃٍ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانٍ۔ [صحیح۔ تقدم ۵۱۳۷]
وَرُوِّینَاہُ فِی بَابِ الإِمَامَۃِ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ عَمْرٍو وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِینَ أَوْ سِتِّ سِنِینَ وَفِی رِوَایَۃٍ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانٍ۔ [صحیح۔ تقدم ۵۱۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لکھتے رہتے ہیں کہ پہلے کون آیا۔ جو جمعہ کے لیے پہلے آتا ہے اس کو اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور جو اس کے بعد آیا اسے گائے کی قربانی کا ۔ پھر جو اس کے بعد آئے تو مینڈھے کی قربانی کا یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا اور جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کردیتے ہیں اور خطبہ جمعہ کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں۔
(۵۸۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ: أَبُو مُحَمَّدٍ الْہِلاَلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ-ﷺ-قَالَ: ((إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلاَئِکَۃٌ یَکْتُبُونَ النَّاسَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ، فَالْمُہَجِّرُ إِلَی الصَّلاَۃِ کَالْمُہْدِی بَدَنَۃً ، ثُمَّ الَّذِی یَلِیہِ کَالْمُہْدِی بَقَرَۃً ، ثُمَّ الَّذِی یَلِیہِ کَالْمُہْدِی کَبْشًا حَتَّی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالْبَیْضَۃَ ، فَإِذَا جَلَس الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَاجْتَمَعُوا لِلْخُطْبَۃِ))۔ [صحیح۔ بخاری ۸۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦١) سفیان بن عینہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے لوگوں کے آنے کو ترتیب وار درج کرتے ہیں اور جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور غور سے خطبہ جمعہ سنتے ہیں۔ پھر انھوں نے نماز کے لیے جلدی آنے والے کے لیے بھی بیان کیا ۔
(۵۸۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ الوَرَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ وَقَالَ: ((یَکْتُبُونَ النَّاسَ عَلَی مَنَازِلِہِمْ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ، فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَۃَ))۔ثُمَّ ذَکَرَ الْمُہَجِّرَ بِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ انظر ما قبلہ]
[صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پہلے آنے والوں کا ثواب لکھتے ہیں۔ جلدی آنے والے کے لیے جیسی اونٹ کی قربانی کا ثواب ، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے گائے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے مینڈھے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے جیسے مرغی کا ثواب پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے انڈے کا ثواب۔ جب امام خطبہ کے آتا ہے وہ اپنے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں۔
(۵۸۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَقَفَتِ الْمَلاَئِکَۃُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ وَیَکْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ، فَمَثَلِ الْمُہَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِی یُہْدِی بَدَنَۃً ، ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی بَقَرَۃً ، ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی کَبْشًا ، ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی دَجَاجَۃً ، ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی بَیْضَۃً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَہُمْ وَیَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا۔ پھر وہ جمعہ کے لیے چلا گویا کہ اس نے اونٹ کی قربانی کی اور جو دوسری گھڑی چلا گویا کہ اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی چلا گویا کہ اس نے سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی مسجد میں گیا گویا کہ اس نے مرغی قربان کی اور جو پانچویں گھڑی چلا گویا اس نے انڈے کی قربانی دی ۔ جب امام آجاتا ہے تو فرشتے آجاتے ہیں اور غور سے خطبہ سننے لگتے ہیں۔
(۵۸۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِکَۃُ یَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ))۔لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَاء ٌ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۸۴۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِکَۃُ یَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ))۔لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَاء ٌ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۸۴۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٤) عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے آنے کے اوقات نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کے امام آجائے اور جب امام آجاتا ہے تو رجسٹر لپیٹ لیے جاتے ہیں اور قلمیں اٹھالی جاتی ہیں اور فرشتے آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ فلاں کو کس نے روک لیا، فلاں کو کس نے روک لیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے کہتے ہیں : اے اللہ ! اگر وہ بیمار ہے تو اس کو شفا دے۔ اگر وہ گمراہ ہے تو اس کو ہدایت دے، اگر وہ فقیر ہے تو اس کو غنی کر دے۔
(۵۸۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ أَخْبَرَنَا مَطَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((تَقْعُدُ مَلاَئِکَۃٌ عَلَی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یَکْتُبُونَ مَجِیئَ النَّاسِ حَتَّی یَخْرُجَ الإِمَامُ ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَرُفِعَتِ الأَقْلاَمُ قَالَ فَتَقُولُ الْمَلاَئِکَۃُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: مَا حَبَسَ فُلاَنًا وَمَا حَبَس فُلاَنًا)) قَالَ ((فَتَقُولُ الْمَلاَئِکَۃُ: اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ مَرِیضًا فَاشْفِہِ ، وَإِنْ کَانَ ضَالاًّ فَاہْدِہِ وَإِنْ کَانَ عَائِلاً فَأَغْنِہِ))۔
[ضعیف۔ ابن خزیمہ ۱۷۷۱]
[ضعیف۔ ابن خزیمہ ۱۷۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٥) اوس بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : جس نے اعضاء کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے چلا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا ، خاموش رہا ، غور سے سنتا رہاتو اس کے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بھی معاف کردیے جائیں گے اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے فضول کام کیا۔
(۵۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ: ((مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَکَرَ وَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِیُّ وَحَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ وَذَکَرَ حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ سَمَاعَ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۱۷۶۷]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِیُّ وَحَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ وَذَکَرَ حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ سَمَاعَ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۱۷۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جعمہ وغیرہ کے لیے جلدی آنا جمعہ کے لیے صبح سویرے آنے کی فضیلت
(٥٨٦٦) (الف) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اعضاکو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے جمعہ کے لیے گیا۔ امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خطبہ بغور سنتا رہا اور خاموش رہا تو اس کے لیے ایک قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور روزوں کا اجر ہے۔
(ب) سعید بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو خطمی بوٹی سے دھویا کرتے تھے۔ پھر غسل کرتے تھے۔
(ب) سعید بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو خطمی بوٹی سے دھویا کرتے تھے۔ پھر غسل کرتے تھے۔
(۵۸۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابِرَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عُثْمَانَ الشَّامِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیَّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَدَا وَابْتَکَرَ ، وَدَنَا وَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوہَا أَجْرُ قِیَامِ سَنَۃٍ وَصِیَامِہَا))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ وَالْوَہْمُ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ مِنْ عُثْمَانَ الشَّامِیِّ ہَذَا وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِہِ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ یَعْنِی غَسَلَ رَأْسَہُ وَجَسَدَہُ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ لأَنَّہُمْ کَانُوا یَجْعَلُونَ فِی رُئُ وسِہِمُ الْخَطْمِیَّ أَوْ غَیْرَہُ فَکَانُوا أَوَّلاً یَغْسِلُونَ رُئُ وسَہُمْ ثُمَّ یَغْتَسِلُونَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ احمد ۲/۲۰۹]
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ وَالْوَہْمُ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ مِنْ عُثْمَانَ الشَّامِیِّ ہَذَا وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِہِ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ یَعْنِی غَسَلَ رَأْسَہُ وَجَسَدَہُ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ لأَنَّہُمْ کَانُوا یَجْعَلُونَ فِی رُئُ وسِہِمُ الْخَطْمِیَّ أَوْ غَیْرَہُ فَکَانُوا أَوَّلاً یَغْسِلُونَ رُئُ وسَہُمْ ثُمَّ یَغْتَسِلُونَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ احمد ۲/۲۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٦٧) سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے سناوہ یہی پڑھتے تھی کہ تم اللہ کے ذکر کی طرف چلو۔
(۵۸۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: مَا سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقْرَؤُہَا إِلاَّ فَامْضُوا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ مالک ۲۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٦٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں سعی سے مراد عمل ہے، پاؤں سے چلنا مراد نہیں؛کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : {إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی } [اللیل : ٤] تمہارے محنت و کوشش مختلف ہے۔
اور اللہ فرماتے ہیں : { وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار : ١٩]
اور جو آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے وہ مومن ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا } [الإنسان : ٢٢]
اور تمہاری کوشش کی قدر کی جائے گی۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی } [النجم : ٣٩]
انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا } [البقرۃ : ٢٠٥] ۔
اور جب وہ پھرتا ہے زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے۔
اور اللہ فرماتے ہیں : { وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار : ١٩]
اور جو آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے وہ مومن ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا } [الإنسان : ٢٢]
اور تمہاری کوشش کی قدر کی جائے گی۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی } [النجم : ٣٩]
انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا } [البقرۃ : ٢٠٥] ۔
اور جب وہ پھرتا ہے زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے۔
(۵۸۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَعْقُولٌ أَنَّ السَّعْیَ فِی ہَذَا الْمَوْضِعِ الْعَمَلُ لاَ السَّعْیُ عَلَی الأَقْدَامِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی} [اللیل: ۴] وَقَالَ {وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار: ۱۹] وَقَالَ {وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا} [الإنسان: ۲۲] وَقَالَ {وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی} [النجم: ۳۹] وَقَالَ {وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا} [البقرۃ: ۲۰۵]۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَا یُؤَکِّدُ ہَذَا۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَعْقُولٌ أَنَّ السَّعْیَ فِی ہَذَا الْمَوْضِعِ الْعَمَلُ لاَ السَّعْیُ عَلَی الأَقْدَامِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی} [اللیل: ۴] وَقَالَ {وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار: ۱۹] وَقَالَ {وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا} [الإنسان: ۲۲] وَقَالَ {وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی} [النجم: ۳۹] وَقَالَ {وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا} [البقرۃ: ۲۰۵]۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَا یُؤَکِّدُ ہَذَا۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٦٩) عبداللہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن مسجد کی طرف گیا۔ میں ابو ذر (رض) سے ملا اور ہم چل رہے تھے۔ ہم نے جس وقت اذان کو سنا میں ذرا تیز چلا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : {إِذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ } [الجمعۃ : ٩] جب جمعہ کی دن اذان دے دی جائے تو اس کے ذکر کی جانب کوشش کرو۔ ابوذر (رض) نے مجھے سختی سے کھینچ لیا قریب تھا کہ میں آئندہ ان سے کبھی ملاقات نہ کرتا، پھر فرمایا : کیا ہم عمل میں کوشش نہیں کر رہے ہیں۔
(۵۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُوَیْدٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلَقِیتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَبَیْنَا أَنَا أَمْشِی إِذْ سَمِعْتُ النِّدَائَ فَرَفَعْتُ فِی الْمَشْیِ لِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ} [الجمعۃ: ۹] فَجَذَبَنِی جَذْبَۃً کِدْتُ أَنْ أُلاَقِیَہُ فَقَالَ: أَوَلَسْنَا فِی سَعْیٍ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَفِی السُّنَّۃِ مَا یُؤَکِّدُ جَمِیعَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ وَفِی السُّنَّۃِ مَا یُؤَکِّدُ جَمِیعَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٧٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو تم اس کی طرف دوڑ کر نہ آؤ ، بلکہ چل کر آؤ اور سکونت کو لازم پکڑو۔ جو پالوپڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو پورا کرلو۔
(۵۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَیَّارٍ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ تَأْتُوہَا تَسْعَوْنَ ، وائْتُوہَا تَمْشُونَ وَعَلَیْکُمُ السَّکِینَۃُ ، فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۶۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۶۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٧١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کی اقامت ہوجائے تو تم دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ سکونت کو لازم پکڑو۔ جنتی نماز پالو پڑھ لو اور جو نماز تم سے رہ جائے پوری کر لو؛کیونکہ تم اس وقت بھی نماز میں ہوتے ہو جب تم نماز کا ارادہ کرتے ہو۔
(۵۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ وَإِسْحَاقَ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُمَا أَخْبَرَاہُ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَۃِ فَلاَ تَأْتُوہَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَائْتُوہَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِینَۃُ ، فَما أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ فِی صَلاَۃٍ مَا کَانَ یَعْمِدُ إِلَی الصَّلاَۃِ))۔ [صحیح۔ مسلم ۶۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
(۵۸۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ: صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی الْعَلاَئُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ یَعْمِدُ إِلَی الصَّلاَۃِ فَہُوَ فِی صَلاَۃٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ کَمَا سَبَقَ ذِکْرَہُ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ کَمَا سَبَقَ ذِکْرَہُ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٧٣) عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آدمیوں کا شور ہوا۔ جب نماز مکمل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلوایا۔ فرمایا : تمہاری کیا حالت تھی ؟ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم نے نماز کے لیے جلدی کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جلدی نہ کرو۔ جب تم نماز کو آؤ تو سکونت اختیار کرو۔ جتنی نماز پالو اتنی پڑھ لو اور جو نماز تم سے رہ جائے اس کو پورا کرلو۔
(۵۸۷۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ: أَبُو الْفَضْلِ یَوْمَ الْخَمِیسِ لإِحْدَی عَشْرَۃَ بَقِیَتْ مِنْ شَعْبَانَ سَنَۃَ سَبْعٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ: أَبُو مُعَاوِیَۃَ النَّحَوِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ نُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ سَمِعَ جَلَبَۃَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّی دَعَاہُمْ فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکُمْ؟؟))۔قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَعْجَلْنَا إِلَی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((لاَ تَفْعَلُوا إِذَا أَتَیْتُمُ إِلَی الصَّلاَۃِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شَیْبَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۰۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ: أَبُو الْفَضْلِ یَوْمَ الْخَمِیسِ لإِحْدَی عَشْرَۃَ بَقِیَتْ مِنْ شَعْبَانَ سَنَۃَ سَبْعٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ: أَبُو مُعَاوِیَۃَ النَّحَوِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ نُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ سَمِعَ جَلَبَۃَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّی دَعَاہُمْ فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکُمْ؟؟))۔قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَعْجَلْنَا إِلَی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((لاَ تَفْعَلُوا إِذَا أَتَیْتُمُ إِلَی الصَّلاَۃِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شَیْبَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیدل چل کر جمعہ کے لیے آنا
(٥٨٧٤) حمید حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص تیز چل رہا تھا ، جب وہ لوگوں کے پاس آیا تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ جس وقت وہ نماز میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا : ” الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ ۔ جب نبی نے نماز پوری کی تو پوچھا : کلام کرنے والا کون تھا ؟ اس نے اچھے کلمات کہے ہیں کوئی بری بات نہیں کی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں صف میں ملا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا وہ ان کلمات کو اٹھانے میں جلدی کر رہے تھے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی حالت پر چلتے ہوئے آئے اور جو نماز اس کو مل جائے وہ پڑھ لے اور جو گزر جائے اس کو پوری کرلے۔
(۵۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ فَأَسْرَعَ الْمَشْیَ فَانْتَہَی إِلَی الْقَوْمِ وَقَدِ انْبَہَرَ فَقَالَ حِینَ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ: الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ -ﷺ- الصَّلاَۃَ قَالَ: ((مَنِ الْمُتَکَلِّمُ أَوْ مَنِ الْقَائِلُ؟ فَإِنَّہُ قَدْ قَالَ خَیْرًا لَمْ یَقُلْ بَأْسًا))۔قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ انْتَہَیْتُ إِلَی الصَّفِّ وَقَدِ انْبَہَرْتُ وَحَفَزَنِی النَّفَسُ قَالَ: ((لَقَدْ رَأَیْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مَلَکًا یَبْتَدِرُونَہَا أَیُّہُمْ یَرْفَعُہَا))۔ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَلْیَمْشِ عَلَی ہَیْنَتَہُ وَیُصَلِّی مَا أَدْرَکَ وَیَقْضِی مَا سَبَقَہُ))۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کی طرف سواری کے بغیر چل کے آنے کی فضیلت
(٥٨٧٥) (الف) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھی بات بھی صدقہ ہے اور مسجد کی طرف چل کے آنا بھی صدقہ ہے۔
(ب) معمر کی حدیث میں ہیکہہر قدم جو مسجد کی طرف اٹھتا ہے نماز کے لیے صدقہ ہے۔
(ب) معمر کی حدیث میں ہیکہہر قدم جو مسجد کی طرف اٹھتا ہے نماز کے لیے صدقہ ہے۔
(۵۸۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((الْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ، وَمَشْیُکَ إِلَی الْمَسْجِدِ صَدَقَۃٌ))۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ((وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یَمْشِیہَا إِلَی الصَّلاَۃِ صَدَقَۃٌ))۔ وَمِنْ ذَلِکَ الْوَجْہِ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ وَہُوَ مُخَرَّجٌ فِی آخِرِ کِتَابِ الزَّکَاۃِ بِمَشِیئَۃِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ احمد ۲/۳۱۲]
وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ((وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یَمْشِیہَا إِلَی الصَّلاَۃِ صَدَقَۃٌ))۔ وَمِنْ ذَلِکَ الْوَجْہِ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ وَہُوَ مُخَرَّجٌ فِی آخِرِ کِتَابِ الزَّکَاۃِ بِمَشِیئَۃِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ احمد ۲/۳۱۲]
তাহকীক: