আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৩ টি
হাদীস নং: ১৭১২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢١) حضرت محمد بن ابی بکر نے حضرت علی کو لکھا کہ ایک مسلمان نے ایک عیسائی عورت سے زنا کرلیا تو آپ نے اسے جواب دیا کہ مسلمان پر حد قائم کر دو اور عورت کو اس کے دین والوں کی طرف لوٹا دو ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔
(۱۷۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ کَتَبَ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ مُسْلِمٍ زَنَی بِنَصْرَانِیَّۃٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَنْ أَقِمِ الْحَدَّ عَلَی الْمُسْلِمِ وَادْفَعِ النَّصْرَانِیَّۃَ إِلَی أَہْلِ دِینِہَا۔ [حسن]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عِنْدَکَ فَہُوَ یَدُلُّکَ عَلَی أَنَّ الإِمَامَ مُخَیَّرٌ فِی أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَوْ یَتْرُکَ الْحُکْمَ عَلَیْہِمْ فَعُورِضَ بِحَدِیثِ بَجَالَۃَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عِنْدَکَ فَہُوَ یَدُلُّکَ عَلَی أَنَّ الإِمَامَ مُخَیَّرٌ فِی أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَوْ یَتْرُکَ الْحُکْمَ عَلَیْہِمْ فَعُورِضَ بِحَدِیثِ بَجَالَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢٢) بجالہ کہتے ہیں کہ میں اصنف بن قیس کے چچا جزی بن معاویہ کا کاتب تھا ۔ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا ایک خط آیا ان کی موت سے ایک سال پہلے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ہر جادو گر مرد و عورت کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں سے ہر ذی محرم کو الگ کر دو اور انھیں زمزمہ سے روک دو تو ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا اور ہم نے مجوسیوں میں ذی محرم عورت کہ جس سے محرم نے شادی کی تھی، ان کو جدا کیا اور بہت سارا کھانا بنوایا اور تلوار اس کی ران پر پیش کی اور مجوسیوں کو بلایا۔ انھوں نے ایک یا دو خچروں کی ہڈی کے برابر چاندی ڈالی اور بغیر زمزمہ کے کھایا اور شروع میں عمر (رض) مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
(۱۷۱۲۲) وَہُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ بَجَالَۃَ یَقُولُ : کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزِیِّ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَمِّ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَۃٍ : اقْتُلُوا کُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرَۃٍ وَفَرِّقُوا بَیْنَ کُلِّ ذِی مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَانْہُوہُمْ عَنِ الزَّمْزَمَۃِ فَقَتَلْنَا ثَلاَثَۃً سَوَاحِرَ وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَحَرِیمِہَا فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَصَنَعَ طَعَامًا کَثِیرًا وَعَرَضَ السَّیْفَ عَلَی فَخِذِہِ وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَیْنِ مِنْ فِضَّۃٍ فَأَکَلُوا بِغَیْرِ زَمْزَمَۃٍ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبِلَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَخَذَہَا مِنْ مَجُوسِ ہَجَرَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں بجالہ بھی مجہول ہے اور جزی بن معایہ حضرت عمر (رض) کا عامل کون تھا یہ بھی پتہ نہیں اور ہمیں یہ بھی پتہ کہ یہود کے رجم والے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ بھی آپ نے ان کے بارے میں کیا تھا ؟ اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کے صحابہ (رض) سے ایسی کوئی چیز ملتی۔ ایسے ہی امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب کسی امام کے پاس اللہ کی حدود میں سے کوئی فیصلہ آجائے تو اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے یا نہ کرے بلکہ حد کو قائم کرے اور انھوں نے دلیل پکڑی ہے : { حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٢٩] تو صغار کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حکم نافذ کیا جائے اور پھر کہتے ہیں کہ حدیث بجالہ متصل اور ثابت ہے اور بجالہ یہ حضرت عمر (رض) کے عمال میں سے ہے تو پتہ یہ چلتا ہے کہ جب امام شافعی نے کتاب الحدود لکھی تب بجالہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور جب کتاب الجزیہ لکھی تو ان کے حالات سے واقف ہوگئے تھے۔ حدیث بجالہ کے بارے میں بخاری و مسلم میں بھی اختلاف ہے۔ امام مسلم نے اس کی روایت نہیں لی امام بخاری نے لی ہے۔
(۱۷۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقُلْتُ لَہُ بَجَالَۃُ رَجُلٌ مَجْہُولٌ وَلَیْسَ بِالْمَشْہُورِ وَلَسْنَا نَحْتَجُّ بِرِوَایَۃِ مَجْہُولٍ وَلاَ نَعْرِفُ أَنَّ جَزِیَّ بْنَ مُعَاوِیَۃَ کَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ عَلَیْہِ إِلَی أَنْ قَالَ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ رَوَی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْحُکْمَ بَیْنَہُمْ إِلاَّ فِی الْمُوَادِعَیْنِ اللَّذَیْنِ رُجِمَا وَلاَ نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ بَعْدَہُ إِلاَّ مَا رَوَی بَجَالَۃُ مِمَّا یُوَافِقُ حُکْمَ الإِسْلاَمِ وَسِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِمَّا یُوَافِقُ قَوْلَنَا فِی أَنَّہُ لَیْسَ عَلَی الإِمَامِ أَنْ یَحْکُمَ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ وَہَاتَانِ الرِّوَایَتَانِ وَإِنْ لَمْ تُخَالِفَانَا غَیْرُ مَعْرُوفَتَیْنِ عِنْدَنَا وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ لاَ نَکُونَ مِمَّنْ تَدْعُوہُ الْحُجَّۃُ عَلَی مَنْ خَالَفَہُ إِلَی قَبُولِ خَبَرِ مَنْ لاَ یَثْبُتُ خَبَرُہُ بِمَعْرِفَتِہِ عِنْدَہُ۔کَذَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الْحُدُودِ وَنَصَّ فِی کِتَابِ الْجِزْیَۃِ عَلَی أَنَّ لَیْسَ لِلإِمَامِ الْخِیَارُ فِی أَحَدٍ مِنَ الْمُعَاہَدِینَ الَّذِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمُ الْحُکْمُ إِذَا جَاؤُوہُ فِی حَدٍّ لِلَّہِ وعَلَیْہِ أَنْ یُقِیمَہُ وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ} [التوبۃ: ۲۹] قَالَ فَکَانَ الصَّغَارُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُجْرَی عَلَیْہِمْ حُکْمُ الإِسْلاَمِ وَذَکَرَ فِی ہَذَا الْکِتَابِ حَدِیثَ بَجَالَۃَ فِی الْجِزْیَۃَ وَقَالَ حَدِیثُ بَجَالَۃَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ لأَنَّہُ أَدْرَکَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ رَجُلاً فِی زَمَانِہِ کَاتِبًا لِعُمَّالِہِ وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ لَمْ یَقِفْ عَلَی حَالِ بَجَالَۃَ بْنِ عَبْدٍ وَیُقَالُ ابْنِ عَبْدَۃَ حِینَ صَنَّفَ کِتَابَ الْحُدُودِ ثُمَّ وَقَفَ عَلَیْہِ حِینَ صَنَّفَ کِتَابَ الْجِزْیَۃِ إِنْ کَانَ صَنَّفَہُ بَعْدَہُ وَحَدِیثُ بَجَالَۃَ أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فَتَرَکَہُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَحَدِیثُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ وَقَابُوسُ بْنُ مُخَارِقٍ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ فِی کِتَابِ الْقَضَائِ وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِینَ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنِ الْحَسَنِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ فِی کِتَابِ الْقَضَائِ وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِینَ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنِ الْحَسَنِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢٤) عوفدیہاتی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے عدی بن ارطاہ کو لکھا کہ حسن بن ابوحسن سے پوچھو کہ ہم سے پہلے جو ائمہ تھے ان کو کس بات نے روکا تھا کہ وہ مجوسیوں میں ان کی ذی رحم عورتوں سے شادی کی صورت میں جدائی کروائیں ؟ تو عدی نے حسن سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا اور ان کو ان کے مذہب پر قائم رہنے دیا اور بحرین پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عامل علاء بن حضرمی (رض) تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کو ابو بکر، عمر اور عثمان (رض) نے بھی اسی طرح رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر دال ہے کہ جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو پھر ہم فیصلہ قرآن کے مطابق کریں اور آیت تخییر کے منسوخیت کے بارے میں ابن عباس سے اثر منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر دال ہے کہ جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو پھر ہم فیصلہ قرآن کے مطابق کریں اور آیت تخییر کے منسوخیت کے بارے میں ابن عباس سے اثر منقول ہے۔
(۱۷۱۲۴) وَإِنَّمَا عَنِیَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی عَدِیِّ بْنِ أَرْطَاۃَ أَمَّا بَعْدُ فَسَلِ الْحَسَنَ بْنَ أَبِی الْحَسَنِ مَا مَنَعَ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الأَئِمَّۃِ أَنْ یَحُولُوا بَیْنَ الْمَجُوسِ وَبَیْنَ مَا یَجْمَعُونَ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَجْمَعُہُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الْمِلَلِ غَیْرُہُمْ قَالَ فَسَأَلَ عَدِیٌّ الْحَسَنَ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ قَبِلَ مِنْ مَجُوسِ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ الْجِزْیَۃَ وَأَقَرَّہُمْ عَلَی مَجُوسِیَّتِہِمْ وَعَامِلُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْبَحْرَیْنِ الْعَلاَئُ بْنُ الْحَضْرَمِیِّ وَأَقَرَّہُمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَقَرَّہُمْ عُمَرُ بَعْدَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَقَرَّہُمْ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا الأَثَرُ إِنَّمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ یُتْرَکُونَ وَأَمْرَہُمْ فِیمَا بَیْنَہُمْ مَا لَمْ یَتَحَاکَمُوا إِلَیْنَا فَإِذَا تَرَافَعُوا إِلَیْنَا فِی حُکْمٍ حَکَمْنَا بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ آیَۃَ التَّخْیِیرِ فِی الْحُکْمِ صَارَتْ مَنْسُوخَۃً۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا الأَثَرُ إِنَّمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ یُتْرَکُونَ وَأَمْرَہُمْ فِیمَا بَیْنَہُمْ مَا لَمْ یَتَحَاکَمُوا إِلَیْنَا فَإِذَا تَرَافَعُوا إِلَیْنَا فِی حُکْمٍ حَکَمْنَا بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ آیَۃَ التَّخْیِیرِ فِی الْحُکْمِ صَارَتْ مَنْسُوخَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢٥) ابن عباس فرماتے ہیں کہ سورة مائدۃ سے دو آیتیں منسوخ کی گئیں : ایک آیۃ القلائد یعنی { فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ } [المائدۃ ٤٢] کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں اختیار دیا گیا تھا، چاہیں تو اس میں فیصلہ کردیں چاہیں تو نہ کریں اور ان کو ان کے حکام کی طرف لوٹا دیں۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ } [المائدۃ ٤٩] تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کے مطابق فیصلے کا حکم دیا گیا۔
(۱۷۱۲۵) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الصَّعْلُوکِیُّ إِمْلاَئً وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : آیَتَانِ نُسِخَتَا مِنْ ہَذِہ السُّورَۃِ یَعْنِی الْمَائِدَۃَ آیَۃُ الْقَلاَئِدِ وَقَوْلُہُ {فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ} [المائدۃ ۴۲] قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُخَیَّرًا إِنْ شَائَ حَکَمَ بَیْنَہُمْ وَإِنْ شَائَ أَعْرَضَ عَنْہُمْ فَرَدَّہُمْ إِلَی حُکَّامِہِمْ قَالَ ثُمَّ نَزَلَتْ {وَأَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَائَ ہُمْ} [المائدۃ ۴۹] قَالَ : فَأُمِرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ بِمَا فِی کِتَابِنَا۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَطِیَّۃُ الْعَوْفِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْحُکْمِ وَہُوَ قَوْلُ عِکْرِمَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کی حدکا بیان اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو اختیار ہے کہ وہ منزل من اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائے یا نہ فرمائے اور جو کہتے ہیں کہ اس میں امام کو کوئی اختیار نہیں ہے امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَ
(١٧١٢٦) عکرمہ کہتے ہیں : { فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ } [المائدۃ ٤٢] یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہوئی : { وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ } [المائدۃ ٤٩]
(۱۷۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ {فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ} [المائدۃ ۴۲] قَالَ : نَسَخَتْہَا ہَذِہِ الآیَۃُ {وَأَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَائَ ہُمْ} [المائدۃ ۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان کے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرنے کی دلیل سابقہ دلائل کے علاوہ جو ہم ذکر کیے ہیں
(١٧١٢٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں سوال کرتے ہو جب کہ اللہ نے اپنی سب سے بہترین کتاب جو تم پڑھتے ہو عطا کی ہے ؟ تم محض اسے پڑھتے ہو سیر نہیں ہوتے۔ کیا اللہ نے تمہیں بتایا نہیں کہ انھوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی اور اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تاکہ اس سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں ؟ واللہ ! ہم نے ان میں سے کوئی شخص نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کے بارے میں سوال کرتا ہو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہے۔
(۱۷۱۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : کَیْفَ تَسْأَلُونَ أَہْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ وَکِتَابُکُمُ الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی نَبِیِّہِ -ﷺ- أَحْدَثُ الأَخْبَارِ تَقْرَئُ ونَہُ مَحْضًا لَمْ یُشَبْ أَلَمْ یُخْبِرْکُمُ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ أَنَّہُمْ حَرَّفُوا کِتَابَ اللَّہِ وَبَدَّلُوا وَکَتَبُوا کِتَابًا بِأَیْدِیہِمْ فَقَالُوا ہَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ لِیَشْتَرُوا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلاً أَلاَ یَنْہَاکُمُ الْعِلْمُ الَّذِی جَائَ کُمْ عَنْ مَسْأَلَتِہِمْ وَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا رَجُلاً مِنْہُمْ قَطُّ یَسْأَلُکُمْ عَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ إِلَیْکُمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قذف کی حرمتکا بیان اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ۔۔۔} [النور ٢٣]
(١٧١٢٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات ہلاک کردینے والے گناہوں سے بچو۔ انھوں نے کہا : وہ کیا ہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ سے بھاگنا، اور غافل اور مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔
(۱۷۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی الْغَیْثِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ : الشِّرْکُ بِاللَّہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیمِ وَالتَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ غَیْرِہِ : وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قذف کی حرمتکا بیان اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ۔۔۔} [النور ٢٣]
(١٧١٢٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو اور نہ جاسوسی کرو اور نہ منہ موڑو اور نہ ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسواکرے اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے اور تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا : کسی مسلمان کے لیے اتناشرکافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا کا مال، اس کی جان اور اس کی عزت دوسرے پر حرام ہے۔
(۱۷۱۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ وَہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَیْزٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَلاَ یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَیْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّہِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یَخْذُلُہُ وَلاَ یَحْقِرُہُ التَّقْوَی ہَا ہُنَا یُشِیرُ إِلَی صَدْرِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہُ وَمَالُہُ وَعِرْضُہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلاموں پر بھی تہمت لگانا حرام ہے اگرچہ دنیا میں مالک پر حد نہیں لگے گی
(١٧١٣٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جو آدمی بھی اپنے غلام یا لونڈی پر تہمت لگائے اور وہ اس سے بری ہے جو اس نے کہا تو قیامت کے دن اسے حد لگائی جائے گی۔ اگر وہ ایسا نہ ہوا جیسا اس نے کہا۔
(۱۷۱۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا فُضَیْلُ بْنُ غَزْوَانَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ- یَقُولُ : أَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوکَہُ وَہُوَ بَرِیء ٌ مِمَّا قَالَ أُقِیمَ عَلَیْہِ الْحَدُّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ کَمَا قَالَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ إِسْحَاقَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ فُضَیْلٍ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ- یَقُولُ : أَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوکَہُ وَہُوَ بَرِیء ٌ مِمَّا قَالَ أُقِیمَ عَلَیْہِ الْحَدُّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ کَمَا قَالَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ إِسْحَاقَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ فُضَیْلٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب واقعہ افک میں اللہ تعالیٰ نے میری برأت نازل فرما دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا کہ انھیں حد قذف لگائی جائے۔ جن کو حد لگی تھی وہ یہ تھے : عبداللہ بن ابی، مسطح بن اثاثہ، حسان بن ثابت، زینب بنت جحش کی بہن حمنہ بنت جحش، انھوں نے حضرت عائشہ پر صفوان بن معطل سلمی کے ساتھ تہمت لگائی تھی۔
(۱۷۱۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا تَلاَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْقِصَّۃَ الَّتِی نَزَلَ بِہَا عُذْرِی عَلَی النَّاسِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَ بِرَجُلَیْنِ وَامْرَأَۃٍ مِمَّنْ کَانَ بَائَ بِالْفَاحِشَۃِ فِی عَائِشَۃَ فَجُلِدُوا الْحَدَّ قَالَ وَکَانَ رَمَاہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَۃَ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَحَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ أُخْتُ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَمَوْہَا بِصَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیِّ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٢) تقدم قبلہ
(۱۷۱۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِہَذَا الْحَدِیثِ لَمْ یَذْکُرْ عَائِشَۃَ قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجُلَیْنِ وَامْرَأَۃٍ مِمَّنْ تَکَلَّمَ بِالْفَاحِشَۃِ فَضُرِبُوا حَدَّہُمْ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النُّفَیْلِیُّ : وَیَقُولُونَ الْمَرْأَۃُ حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النُّفَیْلِیُّ : وَیَقُولُونَ الْمَرْأَۃُ حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٣) فلیح بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اہل علم لوگوں سے سنا کہ اصحاب افک کو حد کے طور پر کوڑے لگے تھے۔
(۱۷۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ وَسَمِعْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یَقُولُونَ : إِنَّ أَصْحَابَ الإِفْکِ جُلِدُوا الْحَدَّ وَلاَ نَعْلَمُ ذَلِکَ فَشَا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے کہ بنو لیث بن بکر کا ایک شخص آیا۔ پھر اس کے اقرار اور عورت کے انکار والی لمبی حدیث ذکر کی۔ وہ غیر شادی شدہ تھا تو آپ نے اس کو سو کوڑے لگائے اور پھر کہا کہ جس پر تو نے الزام لگایا ہے گواہ لا تو اس کے پاس گواہ نہیں تھے تو پھر آپ نے اسے حد قذف لگائی۔
(۱۷۱۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ابْنُ أَخِی خَلاَّدٍ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَخْطُبُ النَّاسَ أَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثِ بْنِ بَکْرٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی إِقْرَارِہِ بِالزِّنَا بِامْرَأَۃٍ وَإِنْکَارِہَا وَجَلْدِہِ مِائَۃً وَلَمْ یَکُنْ تَزَوَّجَ قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنْ شُہُودُکَ أَنَّکَ خَبَثْتَ بِہَا فَإِنَّہَا تُنْکِرُ فَإِنْ کَانَ لَکَ شُہَدَائُ جَلَدْتُہَا وَإِلاَّ جَلَدْتُکَ حَدَّ الْفِرْیَۃِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَاللَّہِ مَا لِی شُہَدَائُ فَأَمَرَ بِہِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْیَۃِ ثَمَانِینَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٣١٣٥) سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے معلوم کروایا تو اس نے انکار کردیا تو آپ نے اسے رجم کردیا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔
(۱۷۱۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّہُ زَنَی بِفُلاَنَۃَ امْرَأَۃٍ سَمَّاہَا فَبَعَثَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَیْہَا فَأَنْکَرَتْ فَرَجَمَہُ وَتَرَکَہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٦) سلمہ بن المحبق الحنفی کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اے اپنی ماں سے زیادتی کرنے والے تو ابوہریرہ (رض) نے مجھ پر حد لگائی۔
(۱۷۱۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْحَنَفِیِّ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ : یَا فَاعِلَ بِأُمِّہِ فَقَدَّمَنِی إِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَضَرَبَنِی الْحَدَّ۔ قَالَ یَعْقُوبُ : سَلَمَۃُ یُکْنَی بِأَبِی عُثَیْمَۃَ مِنْ بَنِی شَیْبَانَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٧) ابو میمونہ کہتے ہیں : میں مدینہ آیا، اپنی سواری کو باندھا اور مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص آیا اور میری سواری کو کھولنے لگا تو میں نے اسے کہا : اے اپنی ماں سے بدفعلی کرنے والے ! تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے مجھے اسی کوڑے مارے تو میں نے یہ شعر کہا : کاش اگر تم مجھے دیکھ لیتے آج کے دن مجھے کھڑا کرکے اسی کوڑے مارے گئے لیکن میں صبر کرنے والا ہوں۔
(۱۷۱۳۷) وَقَالَ شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی مَیْمُونَۃَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوبَ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی مَیْمُونَۃَ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ عَنْ رَاحِلَتِی فَعَقَلْتُہَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَجَائَ رَجُلٌ فَحَلَّ عِقَالَہَا فَقُلْتُ لَہُ : یَا فَاعِلَ بِأُمِّہِ۔ قَالَ فَقَدَّمَنِی إِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ فَضَرَبَنِی ثَمَانِینَ سَوْطًا قَالَ فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ :
أَلاَ لَوْ تَرَوْنِی یَوْمَ أُضْرَبُ قَائِمًا ثَمَانِینَ سَوْطًا إِنَّنِی لَصَبُورُ
قَالَ یَعْقُوبُ وَقَالَ شَرِیکٌ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمَجْنُونِ وَقَالَ الْفِرْیَابِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی شَیْبَانَ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُثَیْمَۃَ قَالَ : فَرَفَعَنِی إِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِالْبَحْرَیْنِ۔ [صحیح]
أَلاَ لَوْ تَرَوْنِی یَوْمَ أُضْرَبُ قَائِمًا ثَمَانِینَ سَوْطًا إِنَّنِی لَصَبُورُ
قَالَ یَعْقُوبُ وَقَالَ شَرِیکٌ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمَجْنُونِ وَقَالَ الْفِرْیَابِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی شَیْبَانَ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُثَیْمَۃَ قَالَ : فَرَفَعَنِی إِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِالْبَحْرَیْنِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔} [النور ٤]
(١٧١٣٨) ابو زناد اہل مدینہ کے فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ جو کسی کو کہے : اے لوطی ! تو اسے حد تہمت کے کوڑے لگیں گے۔
(۱۷۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ قَالَ لِلرَّجُلِ یَا لُوطِیُّ جُلِدَ الْحَدَّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آزاد پر تہمت لگائے
(١٧١٣٩) ابو زناد کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے غلام کو بھی حد قذف اسی کوڑے مارے۔
ابو زناد کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے اس بارے میں سوال کیا تو فرمایا : میں نے عمر، عثمان اور دوسرے بہت سارے خلفائ (رض) کو چالیس سے زیادہ مارتے نہیں دیکھا۔
ابو زناد کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے اس بارے میں سوال کیا تو فرمایا : میں نے عمر، عثمان اور دوسرے بہت سارے خلفائ (رض) کو چالیس سے زیادہ مارتے نہیں دیکھا۔
(۱۷۱۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ أَبِی الزِّنَادِ أَنَّہُ قَالَ : جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ عَبْدًا فِی فِرْیَۃٍ ثَمَانِینَ۔
قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَدْرَکْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَالْخُلَفَائَ ہَلُمَّ جَرًّا مَا رَأَیْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِی فِرْیَۃٍ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِینَ۔ [صحیح]
قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَدْرَکْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَالْخُلَفَائَ ہَلُمَّ جَرًّا مَا رَأَیْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِی فِرْیَۃٍ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِینَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام آزاد پر تہمت لگائے
(١٧١٤٠) سابقہ روایت سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ والی بات ۔ حضرت علی (رض) سے بھی چالیس کوڑے منقول ہیں۔
(۱۷۱۴۰) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ذَکْوَانَ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالَ لَقَدْ أَدْرَکْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِنَ الْخُلَفَائِ فَلَمْ أَرَہُمْ یَضْرِبُونَ الْمَمْلُوکَ فِی الْقَذْفِ إِلاَّ أَرْبَعِینَ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔وَعَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ کَانَ لاَ یَضْرِبُ الْمَمْلُوکَ إِذَا قَذَفَ حُرًّا إِلاَّ أَرْبَعِینَ۔[صحیح]
তাহকীক: