আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

صدقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫০ টি

হাদীস নং: ৭৮৪৪
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دے کر احسان جتلانے کا بیان اور ارشاد باری تعالیٰ : { لاَ تُبْطِلُوا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالأَذَی }
(٧٨٤١) حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین ایسے افراد ہوں گے جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی طرف دیکھیں گے اور نہ انھیں پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ دے کر احسان جتانے والا ، اپنی چادر کو لٹکانے والا ، اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والایافاجر۔
(۷۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُسْہِرٍ عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ثَلاَثَۃٌ لاَ یُکَلِّمُہُمُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَلاَ یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ ، وَلاَ یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۔ الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَی ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَہُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৫
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک پر اور ایسے شخص پر نفلی صدقہ کرنے جس کے افعال اچھے نہیں
(٧٨٤٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے قرابت داروں کو تھوڑاسا بھی فائدہ دیں اس حال میں کہ وہ مشرک ہوں تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : { لَیْسَ عَلَیْکَ ہَدَاہُمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ } { وَأَنْتُمْ لاَ تَظْلِمُونَ } پھر انھوں نے رخصت دے دی۔
(۷۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِیَاسٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَرْضَخُوا لأَنْسِبَائِہِمْ وَہُمْ مُشْرِکُونَ فَنَزَلَتْ {لَیْسَ عَلَیْکَ ہَدَاہُمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ} حَتَّی بَلَغَ {وَأَنْتُمْ لاَ تَظْلِمُونَ} قَالَ فَرُخِّصَ لَہُمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৬
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک پر اور ایسے شخص پر نفلی صدقہ کرنے جس کے افعال اچھے نہیں
(٧٨٤٣) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میری ماں میرے پاس آتی ہے اور وہ رغبت چاہتی ہے تو کیا میں اسے دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
(۷۸۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسَمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ جَدَّتِہَا أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : أَتَتْنِی أُمِّی وَہِیَ رَاغِبَۃٌ أَفَأُعْطِیہَا؟ قَالَ : نَعَمْ صِلِیہَا ۔ کَذَا قَالَ سَعْدَانُ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৭
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک پر اور ایسے شخص پر نفلی صدقہ کرنے جس کے افعال اچھے نہیں
(٧٨٤٤) ہشام بن عروہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اسماء بنت ابی بکر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری ماں میرے پاس عہد قریش میں آئی اور وہ رغبت رکھتی تھی تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں سفیان کہتے ہیں : انھیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔{ لاَ یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ }
(۷۸۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ أَنَّہُ سَمِع َأَبَاہُ یَقُولُ أَخْبَرَتْنِی أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : أَتَتْنِی أُمِّی رَاغِبَۃً فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- آصِلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ سُفْیَانُ : وَفِیہَا نَزَلَتْ {لاَ یَنْہَاکُمُ اللَّہ ُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ} الآیَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَأَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৮
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک پر اور ایسے شخص پر نفلی صدقہ کرنے جس کے افعال اچھے نہیں
(٧٨٤٥) ہشام بن عروہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر (رض) سے، پھر انھوں نے حمیدی کی روایت جیسی روایت بیان کی ہے۔
(۷۸۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَ مِثْلَ رِوَایَۃِ الْحُمَیْدِیِّ دُونَ قَوْلِ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৯
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک پر اور ایسے شخص پر نفلی صدقہ کرنے جس کے افعال اچھے نہیں
(٧٨٤٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک آدمی نے کہا کہ آج رات میں صدقہ ضرور کروں گا، وہ صدقہ لے کر نکلا اور زانیہ کو دے دیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کررہے تھے کہ زانیہ پر صدقہ کردیا گیا ہے تو اس نے کہا : اے اللہ تعریف تیرے لیے ہی ہے ، میں نے زانیہ پر صدقہ کردیا پھر اس نے کہا : آج رات میں پھر صدقہ کروں گا، وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک مال دار کو دے دیا ، صبح ہوئی تو لوگ باتیں کررہے تھے کہ آج رات مال دا رپر صدقہ کیا گیا ہے اس نے کہا : تعریف تیرے ہی لیے ہے مال دار پر صدقہ ہوگیا، پھر اس نے کہا : آج رات میں ضرور صدقہ کروں گا، وہ صدقہ لے کر نکلا اور چور کے ہاتھ پر صدقہ کردیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کررہے تھے کہ آج رات چور کو صدقہ کردیا گیا ہے۔ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے یہ کیا ہوا کہ زانیہ پر مال دار پر اور چور پر صدقہ ہوگیا اس کے پاس آنیوالا آیا، اس نے کہا کہ تیرا صدقہ قبول کرلیا گیا ہے جو زانیہ ہے ہوسکتا ہے وہ زنا سے باز آجائے اور مال دار عبرت حاصل کرے اور زکوۃ دے ، اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اور چوری کرنے سے شاید چور بازآ جائے۔
(۷۸۴۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُشَیْرِیُّ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسَمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَہَا فِی یَدِ زَانِیَۃٍ۔ فَأَصْبَحَ النَّاسُ یَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ عَلَی زَانِیَۃٍ ۔ فَقَالَ : اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِیَۃٍ۔ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَہَا فِی یَدِ غَنِیٍّ ۔ فَأَصْبَحُوا یَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلَی غَنِیٍّ قَالَ : اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی غَنِیٍّ۔ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَہَا فِی یَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا یَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلَی سَارِقٍ فَقَالَ : اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِیَۃٍ وَعَلَی غَنِیٍّ وَعَلَی سَارِقٍ فَأُتِیَ فَقِیلِ لَہُ : أَمَّا صَدَقَتُکَ فَقَدْ قُبِلَتْ۔ أَمَّا الزَّانِیَۃُ : فَلَعَلَّہَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِہَا عَنْ زِنَاہَا وَلَعَلَّ الْغَنِیَّ یَعْتَبِرُ فَیُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاہُ اللَّہُ ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ یَسْتَعِفُّ بِہَا عَنْ سَرِقَتِہِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫০
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو صدقات عطا کرنے سے کھلاتا ہے اور امین پورا پورا دیتا ہے جو اسے حکم دیا گیا
(٧٨٤٧) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک خازن امین ہے وہ اس قدر دیتا ہے جتنا اسے حکم دیا گیا اور اس کا دل صاف ہوتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اسے دے دے جس کے متعلق اسے حکم دیا گیا تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔
(۷۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ بْنِ مَعْقِلٍ الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ الْکُوفِیُّ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنِی بُرَیْدٌ عَنْ جَدِّہِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ الْخَازِنَ الأَمِینَ الَّذِی یُعْطِی مَا أُمِرَ بِہِ کَامِلاً مُوَفَّرًا طَیِّبَۃً بِہِ نَفْسُہُ حَتَّی یَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِی أُمِرَ لَہُ بِہِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِیْنِ أَوِ الْمُتَصَدِّقِینَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَجَمَاعَۃٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫১
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فسادڈالی کچھ خرچ کرسکتی ہے
(٧٨٤٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے کھلاتی ہے بغیر کسی فسادو خرابی کے تو اس کے لیے اس کا اجر ہوگا اور اس کے خاوند کے لیے بھی اس قدر ہوگا اور ایسے ہی خازن کے لیے بھی اس کا اجر ہوگا جو اس نے کمایا اور اس کے لیے ہے جو تو نے خرچ کیا۔
(۷۸۴۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا غَیْرَ مُفْسِدَۃٍ فَلَہَا أَجْرُہَا ، وَلَہُ مِثْلُہُ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِکَ بِمَا اکْتَسَبَ وَلَہَا بِمَا أَنْفَقَتْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫২
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فسادڈالی کچھ خرچ کرسکتی ہے
(٧٨٤٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر خرابی ڈالے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کا اجر ہوگا اور اس کے خاوند کو کمانے کا اجر ملے گا اور خازن کے لیے ایسے ہی ہے اور یہ دوسرے کے اجر میں کمی کیے بغیر ہوگا۔
(۷۸۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسَمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ طَعَامِ بَیْتِہَا غَیْرَ مُفْسِدَۃٍ کَانَ لَہَا أَجْرُہَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِزَوْجِہَا أَجْرُہُ بِمَا کَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِکَ لاَ یَنْقُصُ بَعْضُہُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَیْئًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقَالَ بَعْضُہُمْ عَنْ مَنْصُورٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : مِنْ طَعَامِ زَوْجِہَا ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৩
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فسادڈالی کچھ خرچ کرسکتی ہے
(٧٨٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی عورت روزہ نہ رکھے اس صورت میں کہ اس کا خاوند موجود ہو سوائے اس کی اجازت کے اور اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اجازت نہ دے اور جو اس نے بغیر اجازت اس کی کمائی میں سے خرچ کیا تو آدھا اجر اس کو ملے گا۔
(۷۸۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالَوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ : ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَصُومُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ ، وَلاَ تَأْذَنُ فِی بَیْتِہِ وَہُوَ شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہِ عَنْ غَیْرِ أَمْرِہِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِہِ لَہُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ حَدِیثِ الإِنْفَاقِ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৪
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فسادڈالی کچھ خرچ کرسکتی ہے
(٧٨٥١) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف عورتوں سے بیعت لی تو ایک بڑی عورت کھڑی ہوگئی گویا وہ مضر قبیلے سے تھی تو وہ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کہ ہم ساری کی ساری اپنے بیٹوں اور والدوں پر ہیں۔ ابوداؤدکہتے ہیں : میر اخیال ہے کہ خاوندوں پر بھی کہا، یعنی ہمارے لیے ان کے اموال میں سے کچھ جائز نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تازہ کھانا کھاؤ اور ہدیہ دو ۔
(۷۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکَرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ عَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَایَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النِّسَائَ قَامَتِ امْرَأَۃٌ جَلِیلَۃٌ کَأَنَّہَا مِنْ نِسَائِ مُضَرَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کَلٌّ عَلَی آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأُرَی فِیہِ : وَأَزْوَاجِنَا وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَلَی أَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ؟ قَالَ : الطَّعَامُ الرَّطْبُ تَأْکُلْنَہُ وَتُہْدِینَہُ ۔ لَیْسَ فِی حَدِیثِ ابْنِ سَوَّارٍ الطَّعَامُ تَابَعَہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৫
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فسادڈالی کچھ خرچ کرسکتی ہے
(٧٨٥٢) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اپنے والدوں اور بھائیوں پر ہیں کیا ان کے مال میں ہمارے لیے کچھ جائز نہیں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تازہ کھانا کھانے کی اجازت ہے جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ بھی دو ۔
(۷۸۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْفْقِیہُ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِیُّ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کَلٌّ عَلَی آبَائِنَا وَإِخْوَانِنَا فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ؟ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مِنْ رَطْبِ مَا تَأْکُلْنَ وَتُہْدِینَ))۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৬
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث اس پر محمول ہیں کہ بیوی وہ کھانا خرچ کرے جو اس کے خاوند نے اسے دیا اور اس نے اسے عورت کے حکم میں رکھا نہ کہ تمام اموال میں اس وجہ سے کہ اصل یہی ہے کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے
(٧٨٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) اس عورت کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کرتی ہے کہ وہ صرف اپنے کھانے میں سے کرسکتی ہے اور اجر دونوں کو ملے گا ۔ ویسے اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے بغیر اجازت کے صدقہ کرے۔
(۷۸۵۳) وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : فِی الْمَرْأَۃِ تَصَدَّقُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا قَالَ : لاَ إِلاَّ مِنْ قُوتِہَا وَالأَجْرُ بَیْنَہُمَا ، وَلاَ یَحِلُّ لَہَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِہَا إِلاَّ بِإِذْنِہِ۔ ہَذَا قَوْلُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ أَحَدُ رُوَاۃِ تِلْکَ الأَخْبَارِ۔[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৭
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث اس پر محمول ہیں کہ بیوی وہ کھانا خرچ کرے جو اس کے خاوند نے اسے دیا اور اس نے اسے عورت کے حکم میں رکھا نہ کہ تمام اموال میں اس وجہ سے کہ اصل یہی ہے کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے
(٧٨٥٤) ثمامہ بنت شوال (رض) کہتے ہیں : میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) ، حفصہ (رض) ، اور اُم سلمہ (رض) سے پوچھا کہ عورت کے لیے اس کے خاوند کے گھر میں سے کیا جائز ہے ان میں سے ہر ایک نے لکڑی اٹھائی اور کہا کہ نہیں اس کے وزن کے برابر بھی نہیں مگر اس کی اجازت سے۔
(۷۸۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحُرْصِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبغِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ : مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ النَّہْدِیُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أُمِّ حُمَیْدٍ بِنْتِ الْعَیْزَارِ عَنْ أُمِّہَا أُمِّ عَفَارٍ عَنْ ثُمَامَۃَ بِنْتِ شَوَّالٍ قَالَتْ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ وَأُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُنَّ مَا یَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا؟ فَرَفَعَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ مِنَ الأَرْضِ عُودًا ، ثُمَّ قَالَتْ : لاَ وَلاَ مَا یَزِنُ ہَذَا إِلاَّ بِإِذْنِہِ۔[ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৮
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث اس پر محمول ہیں کہ بیوی وہ کھانا خرچ کرے جو اس کے خاوند نے اسے دیا اور اس نے اسے عورت کے حکم میں رکھا نہ کہ تمام اموال میں اس وجہ سے کہ اصل یہی ہے کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے
(٧٨٥٥) تمیمہ بنت سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ کوفے کی عورتوں کے ساتھ آئیں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس اور ایک عورت نے ان میں سے سیدہ سے سوال کیا کہ اگر عورت اپنے خاوند کے گھر سے کوئی چیز لیتی ہے بغیر اجازت سے تو وہ غصے میں آگئیں اور اسے بُرابھلا کہا اس پر جو اس نے کہا تھا تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : نہ چوری کر اس کے گھر میں سے سونے چاندی اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی۔
(۷۸۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ لاَحِقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی تَمِیمَۃُ بِنْتُ سَلَمَۃَ : أَنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ فِی نِسْوَۃٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ قَالَتْ فَسَأَلَتْہَا امْرَأَۃٌ مِنَّا فَقَالَتِ : الْمَرْأَۃُ تُصِیبُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا شَیْئًا بِغَیْرِ إِذْنِہِ۔ فَغَضِبَتْ وَقَطَّبَتْ وَسَائَ ہَا مَا قَالَتْ : قَالَتْ : لاَ تَسْرِقِی مِنْہُ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃً وَلاَ تَأْخُذِی مِنْ بَیْتِہِ شَیْئًا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৯
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث اس پر محمول ہیں کہ بیوی وہ کھانا خرچ کرے جو اس کے خاوند نے اسے دیا اور اس نے اسے عورت کے حکم میں رکھا نہ کہ تمام اموال میں اس وجہ سے کہ اصل یہی ہے کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے
(٧٨٥٦) ابوامامہ (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوا ۔ میں نے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے۔۔۔ پھر حدیث بیان کی ۔ نیز فرمایا : خبردار ! کسی عورت کو جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے کچھ بغیر اجازت کے دے تو ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ہمارے عمدہ اموال میں سے ہے۔
(۷۸۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِیُّ سَمِعَ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ : شَہِدْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : ((أَلاَ لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ أَنْ تُعْطِیَ مِنْ مَالِ زَوْجِہَا شَیْئًا إِلاَّ بِإِذْنِہِ))۔ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلاَ الطَّعَامَ فَقَالَ : ((ذَاکَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا))۔[حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬০
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احادیث اس پر محمول ہیں کہ بیوی وہ کھانا خرچ کرے جو اس کے خاوند نے اسے دیا اور اس نے اسے عورت کے حکم میں رکھا نہ کہ تمام اموال میں اس وجہ سے کہ اصل یہی ہے کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے
(٧٨٥٧) عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں خاوند کے بیوی پر جو حقوق ہیں اُن کے بارے میں کہ وہ اس کے گھر میں سے اس کی اجازت سے بغیر کچھ بھی نہ دے۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کے لیے اجر ہوگا اور بیوی پر گناہ ہوگا۔
(۷۸۵۷) وَرَوَی لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَقِّ الزَّوْجِ عَلَی امْرَأَتِہِ قَالَ : لاَ تُعْطِی مِنْ بَیْتِہِ شَیْئًا إِلاَّ بِإِذْنِہِ۔ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِکَ کَانَ لَہُ الأَجْرُ وَعَلَیْہَا الْوِزْرُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ لَیْثٍ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطیالسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬১
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا غلام اپنے مالک کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہے
(٧٨٥٨) ابو لحم کے غلام عمیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں غلام تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالک کے مال میں سے صدقہ کرلوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اور اجر تم دونوں کو ملے گا۔
(۷۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ قَالَ : کُنْتُ مَمْلُوکًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِیَّ بِشَیْئٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَالأَجْرُ بَیْنَکُمَا نِصْفَانِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬২
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا غلام اپنے مالک کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہے
(٧٨٥٩) یزید بن ابی عبید کہتے ہیں : میں نے عمیر (رض) سے سنا جو ابو لحم کے غلام ہیں۔ انھوں نے کہا : میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت تیار کروں تو میرے پاس ایک مسکین آیا ۔ میں نے اس میں سے اسے کھلایا۔ اس بات کا میرے مالک کو علم ہوا تو اس نے مجھے مارا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا اور کہا : تو نے اسے کیوں مارا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرا کھانا میری اجازت کے بغیر دے دیتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اجر تم دونوں کے درمیان ہے۔
(۷۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ الْمَدَنِیَّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَیْرًا مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ قَالَ : أَمَرَنِی مَوْلاَیَ أَنِ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَائَ نِی مِسْکِینٌ فَأَطْعَمْتُہُ مِنْہُ ، فَعَلِمَ بِذَلِکَ مَوْلاَیَ فَضَرَبَنِی فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ۔ فَدَعَاہُ فَقَالَ : لِمَ ضَرَبْتَہُ؟ ۔ فَقَالَ : یُعْطِی طَعَامِی بِغَیْرِ أَنْ آمُرَہُ۔ فَقَالَ : الأَجْرُ بَیْنَکُمَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬৩
صدقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا غلام اپنے مالک کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہے
(٧٨٦٠) ابن ابی ذئب درھم سے بیان کرتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھ پر ایک درہم روزینہ مقرر کیا تو میں ابوہریرہ (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے کہا : اللہ سے ڈر اور جو اللہ کا حق اور تیرے مالک کا حق تجھ پر ہے۔ اس کو ادا کر کیونکہ تو اپنے مال کا مالک نہیں اور نہ ہی اپنے خون کا مگر یہ کہ تو اپنا ہاتھ رکھے یتیم پر یا تو مسکین کو لقمہ کھلائے۔

(ان میں سے جنہوں نے اس کے مال میں سے کچھ صدقہ کرنا جائز جاتا ہے، ابوہریرہ (رض) بھی ہیں اور سعید بن جبیر، حسن بصری وغیرہ ہیں) ۔
(۷۸۶۰) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ دِرْہَمٍ قَالَ : فَرَضَ عَلَیَّ سَیِّدِی کُلَّ یَوْمٍ دِرْہَمًا۔ فَأَتَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ وَأَدِّ حَقَّ اللَّہِ عَلَیْکَ وَحَقَّ مَوَالِیکَ فَإِنَّکَ لاَ تَمْلِکُ مِنْ مَالِکَ ، وَلاَ مِنْ دَمِکَ إِلاَّ أَنْ تَضَعَ یَدَکَ أَوْ تُطْعِمَ مِسْکِینًا لُقْمَۃً۔

وَمِمَّنْ رُوِیَ عَنْہُ : أَنَّہُ أَبَاحَ لَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِالشَّیْئِ الْیَسِیرِ مِنْ مَالِہِ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ، وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ ، وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، وَالْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ ، وَالشَّعْبِیُّ ، وَالنَّخَعِیُّ ، وَالزُّہْرِیُّ ، وَمَکْحُولٌ إِلاَّ أَنَّ مَکْحُولاً عَلَّلَ بِأَنَّہُ یَتَحَلَّلُہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الحصر]
tahqiq

তাহকীক: