আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

جزیہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৩ টি

হাদীস নং: ১৮৭৪৯
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان : { اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا }[التوبۃ ٢٨] مشرک پلید ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
(١٨٧٤٣) زید بن یثیع حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے چار چیزیں دے کر مکہ والوں کی طرف بھیجا گیا۔ 1 بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کیا جائے۔ 2 اس سال کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئے۔ 3 جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ 4 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا ہوا عھد اس کی مدت تک پورا کیا جائے گیا۔
(١٨٧٤٣) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أُرْسِلْتُ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ بِأَرْبَعٍ لاَ یَطُوفَنَّ بِالْکَعْبَۃِ عُرْیَانٌ وَلاَ یَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ مُشْرِکٌ بَعْدَ عَامِہِ وَلاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ نَفْسٌ مُؤْمِنَۃٌ وَمَنْ کَانَ لَہُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَہْدٌ فَعَہْدُہُ إِلَی مُدَّتِہِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫০
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان : { اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا }[التوبۃ ٢٨] مشرک پلید ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
(١٨٧٤٤) زید بن یثیع فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ آپ کو کوئی چیز دے کر بھیجا گیا ؟ فرمایا : چار چیزیں اور انھیں بیان کیا۔ پھر فرمایا : مشرک ومومن آئندہ حج میں جمع نہ ہوں گے اور جس کا معاہدہ ہے وہ صرف چار ماہ تک ہے۔
(١٨٧٤٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ قَالَ : سَأَلْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَیِّ شَیْئٍ بُعِثْتَ قَالَ : بِأَرْبَعٍ فَذَکَرَہُنَّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَلاَ یَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَمُشْرِکٌ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا فِی الْحَجِّ وَزَادَ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ عَہْدٌ فَأَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫১
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٤٥) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خیبر میں میرا جوڑ ٹوٹ گیا تو حضرت عمر (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو ان کے مالوں پر عامل بنایا تھا اور فرمایا : میں نے تمہیں برقرار رکھا جب تک اللہ نے تمہیں برقرار رکھا۔ جب عبداللہ بن عمر (رض) اپنے مال لیکر نکلے تو ان پر رات کے وقت زیادتی کی گئی۔ جس کی بنا کی پر ان کا جوڑ ٹوٹ گیا ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن بھی نہ تھا، وہ ہمارے ملزم تھے۔ میں نے ان کو جلا وطن ہوتے ہوئے دیکھا جب وہ اس بات پر جمع ہوگئے تو بنو ابو الحقیق کا ایک فرد آیا۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ نے ہمیں جلا وطن کردیا ہے۔ حالانکہ محمد نے ہمیں اپنے مالوں پر عامل بنایا تھا اور ہمیں یہاں برقرار رکھا ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بھول گیا ہوں۔ تمہاری حالت کیا ہوگی، جب تمہیں خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تجھے یکے بعد دیگرے کئی راتیں چلے گی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان کو جلا وطن کیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کے بدلے مال، اونٹ، سامان پالان، رسیاں وغیرہ دے دیں۔
(١٨٧٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْمُرَّارُ بْنُ حَمُّوَیْہِ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْکِنَانِیُّ قَالَ مُوسَی وَہُوَ أَبُو غَسَّانَ الْکِنَانِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا فُدِعْتُ بِخَیْبَرَ قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطِیبًا فِی النَّاسِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَلَ یَہُودَ خَیْبَرَ عَلَی أَمْوَالِہَا وَقَالَ : نُقِرُّکُمْ مَا أَقَرَّکُمُ اللَّہُ ۔ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَی مَالِہِ ہُنَاکَ فَعُدِیَ عَلَیْہِ فِی اللَّیْلِ فَفُدِعَتْ یَدَاہُ وَلَیْسَ لَنَا عَدُوٌّ ہُنَاکَ غَیْرُہُمْ وَہُمْ تُہْمَتُنَا وَقَدْ رَأَیْتُ إِجْلاَئَ ہُمْ فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَی ذَلِکَ أَتَاہُ أَحَدُ بَنِی أَبِی الْحُقَیْقِ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَی الأَمْوَالِ وَشَرَطَ ذَلِکَ لَنَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَظَنَنْتَ أَنِّی نَسِیتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کَیْفَ بِکَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَیْبَرَ تَعْدُو بِکَ قَلُوصُکَ لَیْلَۃً بَعْدَ لَیْلَۃٍ ۔ فَأَجْلاَہُمْ وَأَعْطَاہُمْ قِیمَۃَ مَا لَہُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالاً وَإِبِلاً وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَیْرِ ذَلِکَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ وَہُو مُرَّارُ بْنُ حَمُّوَیْہِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫২
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٤٦) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے یہود و نصاریٰ کو حجاز کی زمین سے جلا وطن کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح خیبر کے بعد یہود کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور فتح کے بعد زمین اللہ ورسول اور مومنوں کی ہونی تھی تو یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا کہ آدھے پھلوں کے عوض انھیں زمین پر کام کرنے کے لیے مقرر کردیا جائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک ہم چاہیں گے برقرار رکھیں گے۔ آپ نے برقرار رکھا ، پھر حضرت عمر (رض) نے اپنے دور میں انھیں تیماء اور اریحا کی جانب جلا وطن کردیا۔
(١٨٧٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا ابْنُ بَزِیعٍ وَأَبُو الأَشْعَثِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجْلَی الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا ظَہَرَ عَلَی خَیْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا وَکَانَتْ الأَرْضُ إِذَا ظَہَرَ عَلَیْہَا لِلَّہُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُسْلِمِینَ فَسَأَلَ الْیَہُودُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُقِرَّہُمْ بِہَا عَلَی أَنْ یَکْفُوا الْعَمَلَ وَلَہُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أُقِرُّکُمْ عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا ۔ فَأُقِرُّوا بِہَا وَأَجْلاَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی إِمَارَتِہِ إِلَی تَیْمَائَ وَأَرِیحَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৩
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٤٧) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : جمعرات کا دن۔ جمعرات کا دن کیا ہے ؟ پھر روئے اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری بڑھ گئی تو فرمایا : میرے پاس کوئی کاغذ لاؤ میں تمہیں تحریر کر دوں۔ پھر تم میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے۔ انھوں نے اس میں جھگڑا کیا حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا درست نہیں ہوتا۔ فرمایا : مجھے چھوڑ دو ۔ میں جس حالت میں ہوں، بہتر ہوں اس چیز سے جس کی جانب تم مجھے بلاتے ہو ۔ آپ نے ان چیزوں کا حکم دیا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور ان سے اتنا جزیہ لو جتنا میں لیتا تھا تیسری چیز میں بھلا دیا گیا۔
(١٨٧٤٧) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : یَوْمُ الْخَمِیسِ وَمَا یَوْمُ الْخَمِیسِ ثُمَّ بَکَی ثُمَّ قَالَ اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : ائْتُونِی أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَہُ أَبَدًا ۔ فَتَنَازَعُوا وَلاَ یَنْبَغِی عِنْدَ نَبِیٍّ تَنَازُعٌ فَقَالَ : ذَرُونِی فَالَّذِی أَنَا فِیہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُونِی إِلَیْہِ ۔ وَأَمَرَہُمْ بِثَلاَثٍ فَقَالَ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِینَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَأَجِیزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مِمَّا کُنْتُ أُجِیزُہُمْ ۔ وَالثَّالِثَۃُ نُسِّیتُہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَقُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِمَا عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৪
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٤٨) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں زندہ رہا یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دون گا۔ میں صرف مسلمانوں رہنے دوں گا۔
(١٨٧٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی الزُّہْرِیُّ الْقَاضِی بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَئِنْ عِشْتُ لأُخْرِجَنَّ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ حَتَّی لاَ أَتْرُکَ فِیہَا إِلاَّ مُسْلِمًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَوْحٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٦٧]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৫
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٤٩) حضرت ابو عبیدہ بن جراح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے آخری جو کلام فرمائییہ تھی کہ یہودیوں کو حجاز سے اور اھل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور جان لو ! بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔
(١٨٧٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : آخِرُ مَا تَکَلَّمَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَخْرِجُوا یَہُودَ الْحِجَازِ وَأَہْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شَرَّ النَّاسِ الَّذِینَ اتَّخَذُوا قُبُورَہُمْ مَسَاجِدَ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৬
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٥٠) حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آخری کلام یہ تھی کہ اللہ یہودیوں اور عیسائیوں کو برباد کرے جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے اور عرب میں دو دین باقی نہ رہیں گے۔
(١٨٧٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ : بَلَغَنِی أَنَّہُ کَانَ مِنْ آخَرِ مَا تَکَلَّمَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ قَالَ : قَاتَلَ اللَّہُ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ لاَ یَبْقَیَنَّ دِینَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৭
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٥١) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ ہوں گے۔ (ب) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہ ہوں گے۔ آپ نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کیا۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نجران وفدک کے یہود کو جلا وطن کیا۔
(١٨٧٥١) قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ یَجْتَمِعُ دِینَانِ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ ۔

قَالَ مَالِکٌ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَفَحَصَ عَنْ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی أَتَاہُ الثَّلْجُ وَالْیَقِینُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَجْتَمَعُ دِینَانِ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ ۔ فَأَجْلَی یَہُودَ خَیْبَرَ ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَقَدْ أَجْلَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَہُودَ نَجْرَانَ وَفَدَکَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৮
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٥٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دینوں والے ایک شہر میں نہیں رہ سکتے۔

(ب) قابوس بن ابی ظبیان اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جزیرہ عرب میں دو قبلہ والے جمع نہیں ہوسکتے۔

شیخ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر اور مدینہ کے یہود کو جلا وطن کردیا۔
(١٨٧٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یَکُونُ قِبْلَتَانِ فِی بَلَدٍ وَاحِدٍ ۔

وَرُوِّینَاہُ عَنْ أَبِی کُدَیْنَۃَ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ بِإِسْنَادِہِ : لاَ یَجْتَمِعُ قِبْلَتَانِ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ أَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ ثُمَّ یَہُودَ الْمَدِینَۃِ

وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫৯
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٥٣) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر و قریظہ کے یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے یہود کو جلا وطن کردیا یعنی بنو قینقاع جو عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنو حارثہ کو بھی جلا وطن کیا۔ حضرت عمر (رض) کے دور میں یہود و نصاریٰ اور کوئی بھی کافر تین دن سے زیادہ مدینہ میں نہ رہا۔ مجھے معلوم نہیں انھوں نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا یا نہیں۔
(١٨٧٥٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو السَّرِیِّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ بِالطَّابَرَانِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَہُودَ الْمَدِینَۃِ کُلَّہُمْ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ وَبَنِی حَارِثَۃَ وَکُلَّ یَہُودِیٍّ کَانَ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی وَمَنْ سِوَاہُمْ مِنَ الْکُفَّارِ لاَ یُقَرُّونَ فِیہَا فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ وَلاَ أَدْرِی أَکَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ بِہِمْ أَمْ لاَ ۔

[صحیح۔ مسلم ١٧٦٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬০
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارض حجاز میں مشرک کے نہ رہنے کا بیان
(١٨٧٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں ہمارے پاس آئے اور فرمایا : یہود کی جانب چلو۔ ہم آپ کے ساتھ بیت المدارس تک آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور فرمایا : اے یہود ! مسلمان ہو جاؤ ، تم سلامتی والے بن جاؤ گے۔ انھوں نے کہا : اے ابو القاسم ! آپ نے دعوت پہنچا دی۔ آپ نے فرمایا : میں بھی چاہتا ہوں کہ تم مسلمان بن جاؤ، سلامتی والے بن جاؤ گے۔ انھوں نے دوبارہ کہا : آپ نے دعوت پہنچا دی ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا : یہی میرا ارادہ ہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا۔ فرمایا : زمین اللہ ورسول کی ہے میں تمہیں یہاں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں۔ تم اپنا مال فروخت کر دو ، اور جان لو زمین اللہ ورسول کی ہے۔
(١٨٧٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ أَخْبَرَکَ أَبُوکَ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِی الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : انْطَلِقُوا إِلَی یَہُودَ ۔ فَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی جِئْنَا إِلَی بَیْتِ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَادَاہُمْ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ یَہُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ۔ قَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ذَلِکَ أُرِیدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ۔ قَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ذَلِکَ أُرِیدُ ۔ ثُمَّ قَالَہَا الثَّالِثَۃَ وَقَالَ : اعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُجْلِیَکُمْ مِنْ ہَذِہِ الأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ فَلْیَبِعْہُ وَإِلاَّ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬১
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٥٥) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب وادی قریٰ کے درمیان سے لے کر یمن کے کنارے تک اور عراق کی سرحد سے سمندر تک ہے۔
(١٨٧٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ قَالَ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : جَزِیرَۃُ الْعَرَبِ مَا بَیْنَ الْوَادِی إِلَی أَقْصَی الْیَمَنِ إِلَی تُخُومِ الْعِرَاقِ إِلَی الْبَحْرِ ۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬২
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٥٦) ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب ابو موسیٰ کے کنویں سے لے کر لمبائی میں یمن تک اور چوڑائی بحرین کے ریگستان سے لے کر سماوہ کے اختتام تک ہے۔ اصمعی کہتے ہیں کہ جزیرہ عرب عدن ابین کی سرحد سے عراق تک لمبائی میں اور چوڑائی جدہ سے لے کر ساحل سمندر اور شام تک۔
(١٨٧٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ : جَزِیرَۃُ الْعَرَبِ مَا بَیْنَ حَفَرِ أَبِی مُوسَی إِلَی أَقْصَی الْیَمَنِ فِی الطُّولِ وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمَا بَیْنَ رَمْلِ یَبْرِینَ إِلَی مُنْقَطَعِ السَّمَاوَۃِ ۔

قَالَ وَقَالَ الأَصْمَعِیُّ : جَزِیرَۃُ الْعَرَبِ مِنْ أَقْصَی عَدَنِ أَبْیَنَ إِلَی رِیفِ الْعِرَاقِ فِی الطُّولِ وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمِنْ جُدَّۃَ وَمَا وَالاَہَا مِنْ سَاحِلِ الْبَحْرِ إِلَی أَطْرَافِ الشَّامِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৩
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٥٧) ابو عبد الرحمن مقری فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب قادسیہ سے قعرعون اور بحرین تک ہے۔
(١٨٧٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی الْمُقْرِئَ : جَزِیرَۃُ الْعَرَبِ مِنْ لَدُنِ الْقَادِسِیَّۃِ إِلَی لَدُنِ قَعْرِ عَدَنَ إِلَی الْبَحْرَیْنِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৪
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٥٨) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اہل نجران کو جلا وطن کیا۔ لیکن بستی تیماء سے جلا وطن نہ کیے گئے۔ کیونکہ یہ عرب کا شہر نہیں ہے اور اس بستی سے یہود کو بھی جلا وطن نہ کیا گیا کیونکہ وہ عرب کی سرزمین نہیں ہے۔
(١٨٧٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قُرِئَ عَلَی الْحَارِثِ بْنِ مِسْکِینٍ وَأَنَا شَاہِدٌ أَخْبَرَکَ أَشْہَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ مَالِکٌ : عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجْلَی أَہْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ یُجْلَوْا مِنْ تَیْمَائَ لأَنَّہَا لَیْسَتْ مِنْ بِلاَدِ الْعَرَبِ فَأَمَّا الْوَادِی فَإِنِّی أَرَی إِنَّمَا لاَ یُجْلَی مَنْ فِیہَا مِنَ الْیَہُودِ أَنَّہُمْ لَمْ یَرَوْہَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৫
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٥٩) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : اگر ان سے سوال ہو کہ جزیہ کن سے لیا جائے گا اور حجاز، مکہ، مدینہ، یمامہ اور ان کی مخالف اطراف مکمل ہے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو۔ کیونکہ ان کے ساتھعہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : یمن عرب کی سرزمین ہے اہل نجران کو اس سے جلا وطن کیا گیا اور اہل حجاز کا عہد تھا نہ کہ اہل یمن کا۔ کیونکہ یہ حجاز نہ تھا اور نہ ہی ان کے خیال میں یہ عرب کی سرزمین تھی۔ حدیث میں تخصیص ہے۔ ابو عبیدہ بن جراح کہتے ہیں کہ مخصوص جگہ کے لیے دلیل یا شبہ دلیل کا ہونا ضروری ہے۔
(١٨٧٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنْ سَأَلَ مَنْ یُؤْخَذُ مِنْہُ الْجِزْیَۃُ أَنْ یُعْطِیَہَا وَیُجْرَی عَلَیْہِ الْحُکْمُ عَلَی أَنْ یَسْکُنَ الْحِجَازَ لَمْ یَکُنْ ذَلِکَ لَہُ وَالْحَجَازُ مَکَّۃُ والْمَدِینَۃُ وَالْیَمَامَۃُ وَمَخَالِیفُہَا کُلُّہَا۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أَجْلَی أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ مِنَ الْیَمَنِ وَقَدْ کَانَتْ بِہَا ذِمَّۃٌ وَلَیْسَتِ الْیَمَنُ بِحِجَازٍ فَلاَ یُجْلِیہِمْ أَحَدٌ مِنَ الْیَمَنِ وَلاَ بَأْسَ أَنْ یُصَالِحَہُمْ عَلَی مُقَامِہِمْ بِالْیَمَنِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ جَعَلُوا الْیَمَنَ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَالْجَلاَئُ وَقَعَ عَلَی أَہْلِ نَجْرَانَ وَذِمَّۃُ أَہْلِ الْحِجَازِ دُونَ ذِمَّۃِ أَہْلِ الْیَمَنِ لأَنَّہَا لَیْسَتْ بِحِجَازٍ لاَ لأَنَّہُمْ لَمْ یَرَوْہَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَفِی الْحَدِیثِ تَخْصِیصٌ وَفِی حَدِیثِ سَمُرَۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَلِیلٌ أَوْ شِبْہُ دَلِیلٍ عَلَی مَوْضِعِ الْخُصُوصِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৬
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وادی قریٰ کی جانب گئے۔ اس نے وادی قریٰ کی فتح کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ آپ نے وادی قریٰ میں چار قیام کیا۔ وادی القریٰ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا صحابہ میں تقسیم فرمایا اور زمین اور کھجوروں کے باغات پر یہود کو عامل بنادیا تو حضرت عمر (رض) نے اپنے دور میں خیبر وفدک کے یہود کو جلا وطن کردیا، لیکن تیماء اور وادی القریٰ کے لوگوں کو جلا وطن نہ کیا؛ کیونکہ یہ دونوں شام کی سرزمین میں شامل تھے اور ہمارے خیال میں وادی القریٰ کی اس طرف والی سرزمین حجاز میں شامل ہے جبکہ دوسری جانب والی شام میں داخل ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ آخری کلام اور واقدی کا قول ہے۔
(١٨٧٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ خَیْبَرَ إِلَی وَادِی الْقُرَی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی فَتْحِ وَادِی الْقُرَی قَالَ : فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِوَادِی الْقُرَی أَرْبَعَۃَ أَیَّامٍ وَقَسَمَ مَا أَصَابَ عَلَی أَصْحَابِہِ بِوَادِی الْقُرَی وَتَرَک الأَرْضَ وَالنَّخْلَ بِأَیْدِی یَہُودَ وَعَامَلَہُمْ عَلَیْہَا فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْرَجَ یَہُودَ خَیْبَرَ وَفَدَکَ وَلَمْ یُخْرِجْ أَہْلَ تَیْمَائَ وَوَادِی الْقُرَی لأَنَّہُمَا دَاخِلَتَانِ فِی أَرْضِ الشَّامِ وَنَرَی أَنَّ مَا دُونَ وَادِی الْقُرَی إِلَی الْمَدِینَۃِ حِجَازٌ وَأَنَّ مَا وَرَائَ ذَلِکَ مِنَ الشَّامِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْکَلاَمُ الأَخِیرُ أَظُنُّہُ مِنْ قَوْلِ الْوَاقِدِیِّ ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৭
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارضِ حجاز اور جزیرہ العرب کی تفسیر کا بیان
(١٨٧٦١) مالک بن انس (رض) فرماتے ہیں کہ کہ جزیرہ عرب، مدینہ، مکہ اور یمن ہے اور مصر یورپ کے ممالک سے ہے اور شام ملک روم سے ہے اور عراق فارس کے ملک سے ہے۔
(١٨٧٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ یَعْنِی النَّیْسَابُورِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ الرَّازِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِیزِ بْنِ یَحْیَی الْمَدَنِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ یَقُولُ : جَزِیرَۃُ الْعَرَبِ الْمَدِینَۃُ وَمَکَّۃُ وَالْیَمَنُ فَأَمَّا مِصْرُ فَمَنْ بِلاَدِ الْمَغْرِبِ وَالشَّامُ مِنْ بِلاَدِ الرُّومِ وَالْعِرَاقُ مِنْ بِلاَدِ فَارِسَ ۔ [موضوع ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬৮
جزیہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی انسان حجاز سے گذرتے ہوئے تین دن سے زیادہ قیام نہ کرے
(١٨٧٦٢) اسلم حضرت عمر بن خطاب (رض) کے غلام حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہود و نصاریٰ اور مجوس کے لیے مدینہ میں تین دن کا قیام مقرر فرمایا۔ وہ اپنی ضروریات کو پورا کرتے تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی تین دن سے زیادہ قیام نہ کرتا تھا۔
(١٨٧٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ضَرَبَ لِلْیَہُودِ وَالنَّصَارَی وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِینَۃِ إِقَامَۃَ ثَلاَثِ لَیَالٍ یَتَسَوَّقُونَ بِہَا وَیَقْضُونَ حَوَائِجَہُمْ وَلاَ یُقِیمُ أَحَدٌ مِنْہُمْ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: