আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
باغیوں سے قتال کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮৬ টি
হাদীস নং: ১৬৭৩৭
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣١) تقدم قبلہ
شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے لی ہے : ” الا بحقہا “ مگر اس کے حق کے ساتھ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ کے اس فرمان سے انھوں نے یہ سمجھا ہے : { وَمَا اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔۔۔} [البینۃ ٥] اللہ نے کلمہ حق کا اقرار اور نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے۔ جب کلمہ حق کو جو چھوڑتا ہے اس پر جو گناہ ہے تو ان کا انکار بھی اسی جیسا ہے اور شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے جو دلائل پیش کیے تھے، وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے لی ہے : ” الا بحقہا “ مگر اس کے حق کے ساتھ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ کے اس فرمان سے انھوں نے یہ سمجھا ہے : { وَمَا اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔۔۔} [البینۃ ٥] اللہ نے کلمہ حق کا اقرار اور نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے۔ جب کلمہ حق کو جو چھوڑتا ہے اس پر جو گناہ ہے تو ان کا انکار بھی اسی جیسا ہے اور شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے جو دلائل پیش کیے تھے، وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔
(۱۶۷۳۱) وَرَوَی الشَّافِعِیُّ وَغَیْرُہُ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَلَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَإِذَا قَالُوہَا عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ۔ فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: ہَذَا مِنْ حَقِّہَا لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا أَعْطُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ سَقَطَ مِنْہُ قَوْلُہُ: لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَاحْتَجَّ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بِشَیْئَیْنِ أَحَدُہُمَا أَنْ قَالَ قَدْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِلاَّ بِحَقِّہَا ۔ وَہَذَا مِنْ حَقِّہَا وَالآخَرُ أَنْ قَالَ : لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : یَعْنِی فِیمَا أَرَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ مُجَاہِدُہُمْ عَلَی الصَّلاَۃِ وَأَنَّ الزَّکَاۃَ مِثْلُہَا قَالَ الشَّافِعِیُّ وَلَعَلَّ مَذْہَبَہُ فِیہِ أَنَّ اللَّہَ یَقُولُ {وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ حُنَفَائَ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَذَلِکَ دِینُ الْقَیِّمَۃِ} وَأَنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَیْہِمْ شَہَادَۃَ الْحَقِّ وَالصَّلاَۃَ وَالزَّکَاۃَ وَأَنَّہُ مَتَی مَنَعَ فَرْضًا قَدْ لَزِمَہُ لَمْ یُتْرَکْ وَمَنْعَہُ حَتَّی یُؤَدِّیَہُ أَوْ یُقْتَلَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ یُرِیدُ أَنَّہُ انْشِرَاحُ صَدْرِہِ بِالْحُجَّۃِ الَّتِی أَدْلَی بِہَا وَالْبُرْہَانِ الَّذِی أَقَامَہُ وَقَالَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَہُمُ اللَّہُ قَدْ وَقَعَ اخْتِصَارٌ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ أَنَّہُ أَمَرَ بِالْقِتَالِ عَلَی الشَّہَادَتَیْنِ وَعَلَی إِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ فَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَاتَلَ مَانِعِی الزَّکَاۃِ بِالنَّصِّ مَعَ مَا ذَکَرَ مِنَ الدِّلاَلَۃِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا سَلَّمَ ذَلِکَ لَہُ حِینَ قَامَتْ عَلَیْہ الْحُجَّۃُ بِمَا رَوَی فِیہِ مِنَ النَّصِّ وَذَکَرَ فِیہِ مِنَ الدِّلاَلَۃِ لاَ أَنَّہُ قَلَّدَہُ فِیہِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ سَقَطَ مِنْہُ قَوْلُہُ: لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَاحْتَجَّ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بِشَیْئَیْنِ أَحَدُہُمَا أَنْ قَالَ قَدْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِلاَّ بِحَقِّہَا ۔ وَہَذَا مِنْ حَقِّہَا وَالآخَرُ أَنْ قَالَ : لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : یَعْنِی فِیمَا أَرَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ مُجَاہِدُہُمْ عَلَی الصَّلاَۃِ وَأَنَّ الزَّکَاۃَ مِثْلُہَا قَالَ الشَّافِعِیُّ وَلَعَلَّ مَذْہَبَہُ فِیہِ أَنَّ اللَّہَ یَقُولُ {وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ حُنَفَائَ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَذَلِکَ دِینُ الْقَیِّمَۃِ} وَأَنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَیْہِمْ شَہَادَۃَ الْحَقِّ وَالصَّلاَۃَ وَالزَّکَاۃَ وَأَنَّہُ مَتَی مَنَعَ فَرْضًا قَدْ لَزِمَہُ لَمْ یُتْرَکْ وَمَنْعَہُ حَتَّی یُؤَدِّیَہُ أَوْ یُقْتَلَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ یُرِیدُ أَنَّہُ انْشِرَاحُ صَدْرِہِ بِالْحُجَّۃِ الَّتِی أَدْلَی بِہَا وَالْبُرْہَانِ الَّذِی أَقَامَہُ وَقَالَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَہُمُ اللَّہُ قَدْ وَقَعَ اخْتِصَارٌ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ أَنَّہُ أَمَرَ بِالْقِتَالِ عَلَی الشَّہَادَتَیْنِ وَعَلَی إِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ فَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَاتَلَ مَانِعِی الزَّکَاۃِ بِالنَّصِّ مَعَ مَا ذَکَرَ مِنَ الدِّلاَلَۃِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا سَلَّمَ ذَلِکَ لَہُ حِینَ قَامَتْ عَلَیْہ الْحُجَّۃُ بِمَا رَوَی فِیہِ مِنَ النَّصِّ وَذَکَرَ فِیہِ مِنَ الدِّلاَلَۃِ لاَ أَنَّہُ قَلَّدَہُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৮
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٢) حضرت انس سے ١٦٧٣٠ نمبر والی حدیث۔
(۱۶۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَبَا بَکْرٍ أَتُرِیدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنِّی رَسُولُ اللَّہِ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ۔ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا کَانُوا یُعْطُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لأُقَاتِلَنَّہُمْ عَلَیْہِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَأْیَ أَبِی بَکْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَیْہِ عَلِمْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৯
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ کلمہ کا اقرار نہ کرلیں اور نماز قائم نہ کرلیں اور زکوۃ ادا نہ کریں۔ جب کرلیں گے تو انھوں نے اپنے نفس اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔
(۱۶۷۳۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِیدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ثُمَّ حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَاؤُہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ وَحِسَابُہُم عَلَی اللَّہِ تَعَالَی ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪০
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٤) سابقہ روایت۔
(۱۶۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَن أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا مَنَعُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪১
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٥) ابن عمر سے سابقہ روایت۔
(۱۶۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْمُسْنَدِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْمُسْنَدِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪২
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٦) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا یہ فرمان : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ۔۔۔} [المائدۃ ٥٤] نازل ہوا تو پتہ چل گیا کہ کچھ لوگ مرتد بھی ہوں گے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو بعض لوگ بھی مرتد ہوگئے، علاوہ تین جگہوں ” مسجدوں “ کے اہل، مدینہ، اہل مکہ، اہل جواثا بنو عبدالقیس اہل بحرین سے، عرب کہنے لگے : نماز تو ہم پڑھیں گے، لیکن زکوۃ نہیں دیں گے تو حضرت ابوبکر نے ان سے بات کی اور انھیں سمجھایا تو وہ کہنے لگے : اگر ہمیں یہ بات سمجھ آجائے تو ہم زکوۃ دیں گے تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نماز اور زکوۃ میں اللہ کی قسم فرق نہیں سمجھتا اور اللہ کی قسم ! اگر ایک رسی کا ٹکڑا جو یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے، اگر آج اس کا بھی انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ اللہ نے آپ کو طاقت دی۔ آپ نے ان سے لڑائی کی اور یہ لوگ فرض زکوۃ پر مان گئے۔ پھر ایک عرب کا وفد آیا تو آپ نے ان کو اختیار دیا کہ یا تو مال کا حق دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ تو انھوں نے جنگ سے کنارہ کشی کرلی اور خطہ کو پسند کرلیا، یعنی مال کا مقرر حصہ دینے پر راضی ہوگئے۔
(۱۶۷۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ} الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ : نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ وَقَدْ عَلِمَ اللَّہُ أَنَّہُ سَیَرْتَدُّ مُرْتَدُّونَ مِنَ النَّاسِ فَلَمَّا قَبَضَ اللَّہُ رَسُولَہُ -ﷺ- ارْتَدَّ النَّاسُ عَنِ الإِسْلاَمِ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ مَسَاجِدَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ وَأَہْلُ مَکَّۃَ وَأَہْلُ جُوَاثَا مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ وَقَالَتِ الْعَرَبُ أَمَّا الصَّلاَۃُ فَنُصَلِّی وَأَمَّا الزَّکَاۃُ فَوَاللَّہِ لاَ تُغْصَبُ أَمْوَالَنَا فَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنْہُمْ وَیُخَلِّیَ عَنْہُمْ وَقِیلَ لَہُ إِنَّہُمْ لَوْ قَدْ فَقِہُوا لأَعْطُوا الزَّکَاۃَ طَائِعِینَ فَأَبَی عَلَیْہِمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَاللَّہِ لاَ أُفَرِّقُ بَیْنَ شَیْئٍ جَمَعَ اللَّہُ بَیْنَہُ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہِ فَبَعَثَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ عَصَائِبَ فَقَاتَلُوا عَلَی مَا قَاتَلَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَقَرُّوا بِالْمَاعُونِ وَہِیَ الزَّکَاۃُ الْمَفْرُوضَۃُ ثُمَّ إِنَّ وَفْدَ الْعَرَبِ قَدِمُوا عَلَیْہِ فَخَیَّرَہُمْ بَیْنَ خُطَّۃٍ مُخْزِیَۃٍ أَوْ حَرْبٍ مُجْلِیَۃٍ فَاخْتَارُوا الْخُطَّۃَ وَکَانَتْ أَہْوَنَ عَلَیْہِمْ أَنْ یَشْہَدُوا أَنَّ قَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ وَقَتْلَی الْمُسْلِمِینَ فِی الْجَنَّۃِ وَمَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَہُوَ حَلاَلٌ وَمَا أَصَابُوا مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَدُّوہُ عَلَیْہِمْ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৩
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔
(١٦٧٣٧) عبدالرحمن بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر نے کچھ لشکر تیار کیے : کسی پر شرحبیل بن حسنہ ، کسی پر یزید بن ابی سفیان اور کسی پر عمرو بن عاص کو امیر مقرر فرمایا ۔ یہ چلے گئے، یہاں تک کہ شام میں اترے تو رومیوں نے ان کے مقابلے میں بہت بڑی فوج جمع کرلی۔ حضرت ابوبکر پتہ چلا تو آپ نے خالد بن ولید جو عراق میں تھے کو لکھا کہ شام پہنچو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور جلدی کرو تو حضرت خالد بڑی تیز رفتاری کے ساتھ متوجہ ہوئے، زمین پر ان کے ساتھ مشقت ہوگئی جو آپ کے ساتھ تھے، آپ ضمیر کی طرف نکلے جہاں مسلمان جابیہ سے لڑ رہے تھے اور جو رومی اعراب تھے۔ انھوں نے جب خالد بن ولید کے بارے میں سنا تو گھبرا گئے۔ اس کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے : ” ہائے کاش ! ہم گزر جائیں، ابوبکر کے شہسوار سے پہلے ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں “ اور مبسوط میں شافعی سے اس طرح منقول ہے۔
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے سال کے لحاظ سے ہم بخیل ہوگئے ہیں۔
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے سال کے لحاظ سے ہم بخیل ہوگئے ہیں۔
(۱۶۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ جَہَّزَ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- جُیُوشًا عَلَی بَعْضِہَا شُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَسَارُوا حَتَّی نَزَلُوا الشَّامَ فَجَمَعَتْ لَہُمُ الرُّومُ جُمُوعًا عَظِیمَۃً فَحُدِّثَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ بِالْعِرَاقِ أَوْ کَتَبَ أَنِ انْصَرِفْ بِثَلاَثَۃِ آلاَفِ فَارِسٍ فَأَمِدَّ إِخْوَانَکَ بِالشَّامِ وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ فَأَقْبَلَ خَالِدٌ مُغِذًّا جَوَادًا فَاشْتَقَّ الأَرْضَ بِمَنْ مَعَہُ حَتَّی خَرَجَ إِلَی ضُمَیْرٍ فَوَجَدَ الْمُسْلِمِینَ مُعَسْکِرِینَ بِالْجَابِیَۃِ وَتَسَامَعَ الأَعْرَابُ الَّذِینَ کَانُوا فِی مَمْلَکَۃِ الرُّومِ بِخَالِدٍ فَفَزِعُوا لَہُ فَفِی ذَلِکَ یَقُولُ قَائِلُہُمْ: أَلاَ یَا أَصْبَحِینَا قَبْلَ خَیْلِ أَبِی بَکْرِ لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی
وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْمَبْسُوطِ:
أَلاَ فَاصْبَحِینَا قَبْلَ نَائِرَۃِ الْفَجْرِ
أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کَانَ وَسْطَنَا
فَإِنَّ الَّذِی سَأَلُوکُمُ فَمَنَعْتُمُ
سَنَمْنَعُہُمْ مَا کَانَ فِینَا بَقِیَّۃٌ
لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی
فَیَا عَجَبًا مَا بَالُ مُلْکِ أَبِی بَکْرِ
لَکَالتَّمْرِ أَوْ أَحْلَی إِلَیْہِمْ مِنَ التَّمْرِ
کِرَامٌ عَلَی الْعَزَّائِ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرِ
وَہَذَا فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ فَذَکَرَ ہَذِہِ الأَبْیَاتَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالُوا لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بَعْدَ الإِسَارِ مَا کَفَرْنَا بَعْدَ إِیمَانِنَا وَلَکِنْ شَحَحْنَا عَلَی أَمْوَالِنَا۔
وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْمَبْسُوطِ:
أَلاَ فَاصْبَحِینَا قَبْلَ نَائِرَۃِ الْفَجْرِ
أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کَانَ وَسْطَنَا
فَإِنَّ الَّذِی سَأَلُوکُمُ فَمَنَعْتُمُ
سَنَمْنَعُہُمْ مَا کَانَ فِینَا بَقِیَّۃٌ
لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی
فَیَا عَجَبًا مَا بَالُ مُلْکِ أَبِی بَکْرِ
لَکَالتَّمْرِ أَوْ أَحْلَی إِلَیْہِمْ مِنَ التَّمْرِ
کِرَامٌ عَلَی الْعَزَّائِ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرِ
وَہَذَا فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ فَذَکَرَ ہَذِہِ الأَبْیَاتَ
قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالُوا لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بَعْدَ الإِسَارِ مَا کَفَرْنَا بَعْدَ إِیمَانِنَا وَلَکِنْ شَحَحْنَا عَلَی أَمْوَالِنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৪
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٣٨) طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر جب اہل الردۃ سے جہاد کے لیے بھیجتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم ان کے گھروں تک پہنچ جاؤ تو رک جاؤ۔ اگر تم اذان کی آواز سنو تو ان سے ان کی ناراضگی کا سبب پوچھو۔ اگر اذان کی آواز نہ سنو تو حملہ کر دو ، انھیں مارو قتل کرو جلاؤ زخمی کرو۔ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے تم میں موت کا خوف نہ آئے۔
(۱۶۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْمُرُ أُمَرائَ ہُ حِینَ کَانَ یَبْعَثُہُمْ فِی الرِّدَّۃِ إِذَا غَشِیتُمْ دَارًا فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِہَا أَذَانًا بِالصَّلاَۃِ فَکُفُّوا حَتَّی تَسْأَلُوہُمْ مَاذَا نَقَمُوا فَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوا آذَانًا فَشُنُّوہَا غَارَۃً وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَانْہِکُوا فِی الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ لاَ یُرَی بِکُمْ وَہْنٌ لِمَوْتِ نَبِیِّکُمْ -ﷺ-۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৫
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٣٩) براء بن عازب فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی (رض) نے اہل النہر کی طرف خوارج کے خلاف جہاد کے لیے بھیجا تو میں نے انھیں لڑنے سے پہلے ٣ مرتبہ دعوت دی۔
(۱۶۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا زِیَادٌ الْبَکَّائِیُّ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِیفٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْجَہْمِ أَبِی الْجَہْمِ مَوْلَی الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: بَعَثَنِی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّہَرِ إِلَی الْخَوَارِجِ فَدَعَوْتُہُمْ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ نُقَاتِلَہُمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৬
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤٠) ابن عباس کہتے ہیں کہ جب حروری نکلے تو وہ چھ ہزار تھے۔ میں حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیر المؤمنین ! ظہر کو ٹھنڈا کرلیں تاکہ میں اس قوم کے پاس جا کر ان سے بات کرسکوں، تو فرمایا : مجھے تمہارا ڈر ہے۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں۔ فرماتے ہیں : میں نکلا اور ایک بہترین یمنی حلہ پہنا اور ان کے پاس گیا۔ وہ ایک گھر میں سب جمع تھے۔ میں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور پوچھا : یہ حلہ کیسا ؟ میں نے کہا : تم اس حلے پر تعجب کرتے ہو ! میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے اعلیٰ حلے میں دیکھا ہے اور یہ آیت بھی اتری : { قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ } [آل عمران ٣٢] کہنے لگے : کیوں آئے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں مہاجرین و انصار صحابہ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ ان کی بات تم تک اور تمہاری ان تک پہنچا دوں۔ ان کے وقت میں قرآن نازل ہوا اور تم سے زیادہ وحی کو وہ جانتے ہیں اور تم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو بعض نے کہا : تم قریش سے نہ لڑو اللہ تو فرماتا ہے : { بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ } [الزخرف ٥٨] تو ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر اجتہاد کرنے والا نہیں دیکھا کہ جن کے چہرے رات کے جاگنے سے پھول گئے ہوں گویا ان کے ہاتھ پاؤں خشک ہوگئے ہوں اور ان کے بدن پر پسینے سے بھیگے ہوئے کپڑے ہوں تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور ان سے بات کریں گے اور غور کریں گے جو وہ کہتے ہیں، میں نے کہا : مجھے بتاؤ، تمہیں حضرت علی (رض) ان کی جماعت مہاجرین اور انصار سے کیا شکایت ہے ؟ انھوں نے کہا : تین میں نے کہا : کون سی ؟ پہلی یہ کہ انھوں نے اللہ کے امر میں لوگوں کو حاکم بنا لیا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے؛ { اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ } [الانعام ٥٧] تو لوگوں کے لیے کیا ہے اور حکم کے لیے کیا ہے ؟ میں نے کہا : یہ ایک ہے۔ میں نے کہا : دوسری شکایت ؟ کہنے لگے کہ انھوں نے آپس میں جنگ کی لیکن نہ تو کسی نے کسی کو قیدی بنایا نہ ہی مال غنیمت کا مال لوٹا۔ اگر ان میں سے ایک کافر تھا تو پھر قیدی اور غنیمت کیوں نہیں بنے، اگر دونوں مسلمان تھے تو پھر ان کی لڑائی کیسے حلال ہوئی ؟ میں نے کہا : یہ دو ہوگئیں، تیسری بتاؤ۔ کہنے لگے کہ انھوں نے اپنے نام کے ساتھ امیر المؤمنین مٹا دیا تو کیا وہ امیر الکافرین ہیں ؟ میں نے کہا : کیا اور بھی کوئی اعتراض ہے ؟ کہنے لگے : نہیں ۔ میں نے کہا کہ اگر میں قرآن و سنت سے تمہارے اعتراضات کے جواب دوں تو کیا مانو گے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ تو میں نے انھیں کہا تمہارا یہ اعتراض کہ انھوں نے لوگوں نے اللہ کے امر میں حاکم بنایا ہے فیصلہ کیا۔ میں تم پر قرآن کی آیت پڑھتا ہوں کہ جس میں حکم لوگوں کی طرف پھیرا گیا تھا درہم کی ربع قیمت میں ارنب کے بارے میں اور اس جیسے دوسرے شکارو کے بارے میں فرمایا { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ۔۔۔} [المائدۃ ٩٥] تو آپ یہ بتائیں کہ ان کا خرگوش کے بارے میں یہ فیصلہ تو قبول کرلیتے ہیں لیکن ان کے اپنے خون اور باہم اصلاح کے لیے ان کو حکم تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اللہ چاہتے تو ان کے درمیان فیصلہ کردیتے۔ اسے مردوں کی طرف نہ لوٹاتے، خاوند اور بیوی کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں : { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآاِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا } [النساء ٣٥] تو لوگوں میں حکم بنانا یہ اللہ کا قدیم طریقہ ہے تو کیا تمہاری اس بات کی اس سے تردید ہوتی ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں عائشہ (رض) کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہوجاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں ؟ اگر تم یہ کہتے ہیں کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : { اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ } [الاحزاب ٦] دونوں طرف تمہارے گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو ابن عباس نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا ؟ تو کہنے لگے : جی ہاں۔ تو کہنے لگے : جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انھوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابو سفیان تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المؤمنین سے کہا تھا : اے علی ! لکھ یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے تو مشرک کہنے لگے : نہیں واللہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔ تو آپ نے فرمایا تو جانتا ہے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں تو کیا نبی نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہوگئی تو ابن عباس فرماتے ہیں کہ ٢٠٠٠ آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں عائشہ (رض) کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہوجاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں ؟ اگر تم یہ کہتے ہیں کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : { اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ } [الاحزاب ٦] دونوں طرف تمہارے گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو ابن عباس نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا ؟ تو کہنے لگے : جی ہاں۔ تو کہنے لگے : جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انھوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابو سفیان تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المؤمنین سے کہا تھا : اے علی ! لکھ یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے تو مشرک کہنے لگے : نہیں واللہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔ تو آپ نے فرمایا تو جانتا ہے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں تو کیا نبی نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہوگئی تو ابن عباس فرماتے ہیں کہ ٢٠٠٠ آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔
(۱۶۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْیَمَامِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو زُمَیْلٍ سِمَاکٌ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِیَّۃُ اجْتَمَعُوا فِی دَارٍ وَہُمْ سِتَّۃُ آلاَفٍ أَتَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَبْرِدْ بِالظُّہْرِ لَعَلِّی آتِی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ فَأُکَلِّمُہُمْ۔ قَالَ : إِنِّی أَخَافُ عَلَیْکَ۔ قَالَ قُلْتُ : کَلاَّ۔ قَالَ : فَخَرَجْتُ آتِیہُمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا یَکُونُ مِنْ حُلَلِ الْیَمَنِ فَأَتَیْتُہُمْ وَہُمْ مُجْتَمِعُونَ فِی دَارٍ وَہُمْ قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِکَ یَا أَبَا عَبَّاسٍ فَما ہَذِہِ الْحُلَّۃُ؟ قَالَ قُلْتُ : مَا تَعِیبُونَ عَلَیَّ لَقَدْ رَأَیْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحْسَنَ مَا یَکُونُ مِنَ الْحُلَلِ وَنَزَلَتْ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَۃَ اللَّہِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} قَالُوا : فَمَا جَائَ بِکَ؟ قُلْتُ : أَتَیْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ لأُبْلِغَکُمْ مَا یَقُولُونَ وَتُخْبِرُونِی بِمَا تَقُولُونَ فَعَلَیْہِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ وَہُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْیِ مِنْکُمْ وَفِیہِمْ أُنْزِلَ وَلَیْسَ فِیکُمْ مِنْہُمْ أَحَدٌ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لاَ تُخَاصِمُوا قُرَیْشًا فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ {بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَتَیْتُ قَوْمًا لَمْ أَرَ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِہَادًا مِنْہُمْ مُسَہَّمَۃٌ وُجُوہُہُمْ مِنَ السَّہَرِ کَأَنَّ أَیْدِیَہُمْ وَرُکَبَہُمْ ثَفِنٌ عَلَیْہِمْ قُمُصٌ مُرَحَّضَۃٌ قَالَ بَعْضُہُمْ لَنُکَلِّمَنَّہُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا یَقُولُ۔ قُلْتُ : أَخْبِرُونِی مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَی ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَصِہْرِہِ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ قَالُوا: ثَلاَثًا۔ قُلْتُ: مَا ہُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاہُنَّ فَإِنَّہُ حَکَّمَ الرِّجَالَ فِی أَمْرِ اللَّہِ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ} وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحُکْمِ۔ فَقُلْتُ: ہَذِہِ وَاحِدَۃٌ۔ قَالُوا: وَأَمَّا الأُخْرَی فَإِنَّہُ قَاتَلَ وَلَمْ یَسْبِ وَلَمْ یَغْنَمْ فَلَئِنْ کَانَ الَّذِینَ قَاتَلَ کُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْیُہُمْ وَغَنِیمَتُہُمْ وَإِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ مَا حَلَّ قِتَالُہُمْ قُلْتُ: ہَذِہِ ثِنْتَانِ فَمَا الثَّالِثَۃُ؟ قَالُوا: إِنَّہُ مَحَا اسْمَہُ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَہُوَ أَمِیرُ الْکَافِرِینَ۔ قُلْتُ: أَعِنْدَکُمْ سِوَی ہَذَا؟ قَالُوا : حَسْبُنَا ہَذَا۔ فَقُلْتُ لَہُمْ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَیْکُمْ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ وَمِنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ -ﷺ- مَا یُرَدُّ بِہِ قَوْلُکُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا : نَعَمْ فَقُلْتُ لَہُمْ : أَمَّا قَوْلُکُمْ حَکَّمَ الرِّجَالَ فِی أَمْرِ اللَّہِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَیْکُمْ مَا قَدْ رُدَّ حُکْمُہُ إِلَی الرِّجَالِ فِی ثَمَنِ رُبُعِ دِرْہَمٍ فِی أَرْنَبٍ وَنَحْوِہَا مِنَ الصَّیْدِ فَقَالَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} إِلَی قَوْلِہِ {یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ} فَنَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ أَحُکْمُ الرِّجَالِ فِی أَرْنَبٍ وَنَحْوِہَا مِنَ الصَّیْدِ أَفْضَلُ أَمْ حُکْمُہُمْ فِی دِمَائِہِمْ وَإِصْلاَحِ ذَاتِ بَیْنِہِمْ وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ لَوْ شَائَ لَحَکَمَ وَلَمْ یُصَیِّرْ ذَلِکَ إِلَی الرِّجَالِ وَفِی الْمَرْأَۃِ وَزَوْجِہَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہُمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلاَحًا یُوَفِّقِ اللَّہُ بَیْنَہُمَا} فَجَعَلَ اللَّہُ حُکْمَ الرِّجَالِ سُنَّۃً مَاضِیَۃً أَخَرَجْتُ مِنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُکُمْ قَاتَلَ فَلَمْ یَسْبِ وَلَمْ یَغْنَمْ أَتَسْبُونَ أُمَّکُمْ عَائِشَۃَ ثُمَّ تَسْتَحِلُّونَ مِنْہَا مَا یُسْتَحَلُّ مِنْ غَیْرِہَا فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ کَفَرْتُمْ وَہِیَ أُمُّکُمْ وَلَئِنْ قُلْتُمْ لَیْسَتْ بِأُمِّنَا لَقَدْ کَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ} فَأَنْتُمْ تَدُورُونَ بَیْنَ ضَلاَلَتَیْنِ أَیَّہُمَا صِرْتُمْ إِلَیْہَا صِرْتُمْ إِلَی ضَلاَلَۃٍ فَنَظَرَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ قُلْتُ : أَخَرَجْتُ مِنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ وَأَمَّا قَوْلُکُمْ مَحَا نَفْسَہُ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَأَنَا آَتِیکُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ أُرِیکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ کَاتَبَ الْمُشْرِکِینَ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ: اکْتُبْ یَا عَلِیُّ ہَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ ۔ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ لاَ وَاللَّہِ مَا نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ مَا قَاتَلْنَاکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّی رَسُولُکَ اکْتُبْ یَا عَلِیُّ ہَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ۔ فَوَاللَّہِ لَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْرٌ مِنْ عَلِیٍّ وَمَا أَخْرَجَہُ مِنَ النُّبُوَّۃِ حِینَ مَحَا نَفْسَہُ۔ قَالَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ وَقُتِلَ سَائِرُہُمْ عَلَی ضَلاَلَۃٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৭
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤١) عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت علی کے شہید ہونے کی خبر آئی۔ حضرت عائشہ (رض) نے مجھے کہا : اے عبداللہ ! میں تجھ سے کچھ پوچھتی ہوں، سچ بتاؤ گے ؟ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جن کو حضرت علی نے قتل کیا تھا۔ میں نے کہا : میں آپ کو سچ کیوں نہیں بتاؤں گا ؟ تو کہنے لگیں : تو ان کا قصہ بیان کرو میں نے کہا کہ حضرت معاویہ سے جب علی (رض) نے مکاتبت کی اور کہا کہ دو میں سے ایک حکم مقرر کرلو تو ٨٠٠٠ لوگ ان سے جدا ہوگئے اور حروراء نامی جگہ میں چلے گئے اور کہنے لگے : علی (رض) کو اللہ نے جو قمیض پہنائی تھی، وہ انھوں نے پھاڑ دی۔ وہ حکم مقرر کرتے ہیں جبکہ حکم تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ جب یہ بات حضرت علی کو پہنچی تو انھوں نے تو اس پر عتاب کیا اور اسے چھوڑ دیا اور جدا ہوگئے تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ امیر المؤمنین کے پاس وہ لوگ آئیں جن کے پاس قرآن ہو۔ جب لوگوں میں سے قراء سے گھربھر گیا تو ایک بڑا مصحف منگوایا اور حضرت نے اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کرنے لگے اور کہنے لگے : اے مصحف ! لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ تو لوگ کہنے لگے : یہ تو کاغذ اور سیاہی ہے۔ یہ کیسے بولیں گے اس سے تو ہم ہی روایت کرسکتے ہیں آپ چاہتے کیا ہیں ؟ تو فرمایا : لوگوں نے تمہارے ساتھیوں میں سے میرے اور ان کے درمیان اس قرآن سے کچھ نکالا ہے اللہ فرماتے ہیں : { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ } [النساء ٣٥] اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ تمام مردوں اور عورتوں سے زیادہ حرمت والی ہے اور انھوں نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ میں نے معاویہ سے مکاتبت کرتے ہوئے علی بن ابی طالب لکھا تھا تو تمہیں یاد ہوگا کہ مشرکین سے مکاتبت کرتے ہوئے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ کے لفظ مٹائے تھے : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الاحزاب ٢١] اور ابن عباس کو علی نے ان لوگوں کی طرف بھیجا۔ میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم ان کے درمیان پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور لوگوں کو خطبہ دیا : اے حاملین قرآن ! یہ عبداللہ بن عباس ہیں تم میں سے جو نہیں پہچانتا، میں تو پہچانتا ہوں کہ قرآن میں ہے ” کہ یہ جھگڑالو قوم ہے۔ “ [الاحزاب ٥٨] اس کی بات نہ سننا اسے واپس لوٹا دو تو قوم کے خطباء کہنے لگے : ہم قرآن پر فیصلہ رکھیں گے، ان کی سنیں گے۔ اگر اچھا لگا تو مان بھی لیں گے، اگر باطل بیان کیا تو ہم اس باطل کا بدلہ بھی دیں گے اور اسے اس کے صاحب کی طرف واپس بھی لوٹا دیں گے۔ ابن عباس نے سمجھایا تو ٤٠٠٠ لوگ توبہ کر کے لوٹ آئے اور ان میں ابن الکواء بھی تھا۔ باقی لوگوں کی طرف حضرت علی (رض) نے لشکر بھیجا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ان کے اور ہمارے درمیان اب کیا ہے؛ لہٰذا امت محمدیہ کو اکٹھا کرنے کے لیے جو بھی ہوتا ہے کر گزرو۔ اگر کسی طرح بھی نہیں مانتے تو جنگ کرو۔ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ عائشہ فرمانے لگیں کہ کیا ان کو قتل کیا ؟ تو جواب دیا کہ واللہ انھوں نے جا کر راستہ کاٹ دیا، خون بہایا اور ابن خباب کو بھی قتل کردیا اور اہل الذمہ کو بھی حلال سمجھ لیا۔ کہنے لگی : اللہ کی قسم اٹھاؤ۔ میں نے کہا : واللہ ایسے ہی ہے تو حضرت عائشہ نے فرمایا : اہل عراق سے مجھے جو بات بھی پہنچی، وہ یہی کہتے تھے ” بڑے پستانوں والی ! بڑے پستانوں والی ! “ میں نے کہا کہ میں وہاں حضرت علی کے ساتھ کھڑا تھا تو لوگوں کو بلایا اور کہا : اسے پہچانتے ہو تو جو بھی آتا وہ یہی جواب دیتا، میں نے بنو فلاں کی مسجد میں اسے نماز پڑھتے دیکھا۔ میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں دیکھا۔ کہنے لگیں : علی اس وقت کیا کہہ رہے تھے ؟ میں نے کہا : وہ کہہ رہے تھے : ” صدق اللہ و رسولہ “ پوچھا : کیا تو نے خود ان سے یہ سنا، میں نے کہا : ہاں اور کہا اور کچھ بھی سنا تھا ؟ میں نے کہا : نہیں تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں : اللہ علی پر رحم فرمائے، جب بھی وہ کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو اسی طرح کہا کرتے تھے۔
(۱۶۷۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ قَالَ قَدِمْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَبَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَہَا مَرْجِعَہَا مِنَ الْعِرَاقِ لَیَالِیَ قُوتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ قَالَتْ لِی یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ شَدَّادٍ ہَلْ أَنْتَ صَادِقِی عَمَّا أَسْأَلُکَ عَنْہُ حَدِّثْنِی عَنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ عَلِیٌّ قُلْتُ وَمَا لِی لاَ أَصْدُقُکِ قَالَتْ فَحَدِّثْنِی عَنْ قِصَّتِہِمْ قُلْتُ إِنَّ عَلِیًّا لَمَّا أَنْ کَاتَبَ مُعَاوِیَۃَ وَحَکَّمَ الْحَکَمَیْنِ خَرَجَ عَلَیْہِ ثَمَانِیَۃُ آلاَفٍ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ فَنَزَلُوا أَرْضًا مِنْ جَانِبِ الْکُوفَۃِ یُقَالُ لَہَا حَرُورَائُ وَإِنَّہُمْ أَنْکَرُوا عَلَیْہِ فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِیصٍ أَلْبَسَکَہُ اللَّہُ وَأَسْمَاکَ بِہِ ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَکَّمْتَ فِی دِینِ اللَّہِ وَلاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِیًّا مَا عَتَبُوا عَلَیْہِ وَفَارَقُوہُ أَمَرَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لاَ یَدْخُلَنَّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلاَّ رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا أَنِ امْتَلأَ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ الدَّارُ دَعَا بِمُصْحَفٍ عَظِیمٍ فَوَضَعَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَطَفِقَ یَصُکُّہُ بِیَدِہِ وَیَقُولُ أَیُّہَا الْمُصْحَفُ حَدِّثِ النَّاسَ فَنَادَاہُ النَّاسُ فَقَالُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا تَسْأَلُہُ عَنْہُ إِنَّمَا ہُوَ وَرَقٌ وَمِدَادٌ وَنَحْنُ نَتَکَلَّمُ بِمَ رُوِّینَا مِنْہُ فَمَاذَا تُرِیدُ قَالَ أَصْحَابُکُمُ الَّذِینَ خَرَجُوا بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ کِتَابُ اللَّہِ تَعَالَی یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ} فَأُمَّۃُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- أَعْظَمُ حُرْمَۃً مِنِ امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ ، وَنَقَمُوا عَلَیَّ أَنِّی کَاتَبْتُ مُعَاوِیَۃَ وَکَتَبْتُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَقَدْ جَائَ سُہَیْلُ بْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْحُدَیْبِیَۃِ حِینَ صَالِحَ قَوْمُہُ قُرَیْشًا فَکَتَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ فَقَالَ سُہَیْلٌ لاَ تَکْتُبْ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ قُلْتُ : فَکَیْفَ أَکْتُبُ؟ قَالَ : اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اکْتُبْہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَمْ نُخَالِفْکَ فَکَتَبَ ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قُرَیْشًا یَقُولُ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الآخِرَ} فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَخَرَجْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْکَرَہُمْ قَامَ ابْنُ الْکَوَّائِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ یَا حَمَلَۃَ الْقُرْآنِ إِنَّ ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ یَکُنْ یَعْرِفُہُ فَأَنَا أَعْرِفُہُ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ ہَذَا مَنْ نَزَلَ فِیہِ وَفِی قَوْمِہِ {بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ}فَرُدُّوہُ إِلَی صَاحِبِہِ وَلاَ تُوَاضِعُوہُ کِتَابَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ قَالَ : فَقَامَ خُطَبَاؤُہُمْ فَقَالُوا وَاللَّہِ لَنُوَاضِعَنَّہُ کِتَابَ اللَّہِ فَإِذَا جَائَ نَا بِحَقٍّ نَعْرِفُہُ اتَّبَعْنَاہُ وَلَئِنْ جَائَ نَا بِالْبَاطِلِ لَنُبَکِّتَنَّہُ بِبَاطِلِہِ وَلَنَرُدَّنَّہُ إِلَی صَاحِبِہِ فَوَاضَعُوہُ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَرَجَعَ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃُ آلاَفِ کُلُّہُمْ تَائِبٍ فَأَقْبَلَ بِہِمُ ابْنُ الْکَوَّائِ حَتَّی أَدْخَلَہُمْ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَعَثَ عَلِیٌّ إِلَی بَقِیَّتِہِمْ فَقَالَ قَدْ کَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَیْتُمْ قِفُوا حَیْثُ شِئْتُمْ حَتَّی تَجْتَمِعَ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- وَتَنْزِلُوا فِیہَا حَیْثُ شِئْتُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَنْ نَقِیَکُمْ رِمَاحَنَا مَا لَمْ تَقْطَعُوا سَبِیلاً أَوْ تَطْلُبُوا دَمًا فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِکَ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَیْکُمُ الْحَرْبَ عَلَی سَوَائٍ إِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْخَائِنِینَ فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا ابْنَ شَدَّادٍ فَقَدْ قَتَلَہُمْ فَقَالَ وَاللَّہِ مَا بَعَثَ إِلَیْہِمْ حَتَّی قَطَعُوا السَّبِیلَ وَسَفَکُوا الدِّمَائَ وَقَتَلُوا ابْنَ خَبَّابٍ وَاسْتَحَلُّوا أَہْلَ الذِّمَّۃِ فَقَالَتْ آللَّہِ قُلْتُ آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَقَدْ کَانَ قَالَتْ فَمَا شَیْء ٌ بَلَغَنِی عَنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ یَتَحَدَّثُونَ بِہِ یَقُولُونَ ذُو الثُّدَیِّ ذُو الثُّدَیِّ قُلْتُ قَدْ رَأَیْتُہُ وَوَقَفْتُ عَلَیْہِ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْقَتْلَی فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ ہَلْ تَعْرِفُونَ ہَذَا فَمَا أَکْثَرَ مَنْ جَائَ یَقُولُ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَسْجِدِ بَنِی فُلاَنٍ یُصَلِّی وَرَأَیْتُہُ فِی مَسْجِدِ بَنِی فُلاَنٍ یُصَلِّی فَلَم ْیَأْتُوا بِثَبَتٍ یُعْرَفُ إِلاَّ ذَلِکَ قَالَت فَمَا قَوْلُ عَلِیٍّ حِینَ قَامَ عَلَیْہِ کَمَا یَزْعُمُ أَہْلُ الْعِرَاقِ قُلْتُ سَمِعْتُہُ یَقُولُ صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ قَالَتْ فَہَلْ سَمِعْتَ أَنْتَ مِنْہُ قَالَ غَیْرَ ذَلِکَ قُلْتُ اللَّہُمَّ لاَ قَالَتْ أَجَلْ صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ یَرْحَمُ اللَّہُ عَلِیًّا إِنَّہُ مِنْ کَلاَمِہِ کَانَ لاَ یَرَی شَیْئًا یُعْجِبُہُ إِلاَّ قَالَ صَدَق اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৮
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤٢) تقدم قبلہ
(۱۶۷۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ عَبْدَۃَ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ قَالَ عُرِضَ عَلَی مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِیِّ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ : أَنَّہُ دَخَل عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَنَحْنُ عِنْدَہَا مَرْجِعَہُ مِنَ الْعِرَاقِ لَیَالِیَ قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ الثُّدَیَّۃِ حَدِیثٌ صَحِیحٌ قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیمَا مَضَی وَیَجُوزُ أَنْ لاَ یَسْمَعَہُ ابْنُ شَدَّادٍ وَسَمِعَہُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ الثُّدَیَّۃِ حَدِیثٌ صَحِیحٌ قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیمَا مَضَی وَیَجُوزُ أَنْ لاَ یَسْمَعَہُ ابْنُ شَدَّادٍ وَسَمِعَہُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৯
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤٣) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان کیا کہ جب ہم جنگ جمل کے لیے تیار ہوئے تو حضرت علی نے فرمایا : کوئی تیر سے نہ مارے اور نہ نیزے سے اور نہ تلوار سے تم نے لڑائی میں پہل نہیں کرنی اور ان سے نرم بات کرنی ہے اور مجھے گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا : جو آج کامیاب ہوگیا، وہ روز قیامت بھی کامیاب ہوگا۔ ہم اسی حالت میں رہے کہ دن ہوگیا تو ایک شخص نے بلند آواز سے پکارا : ہائے عثمان کے خون کا بدلہ ! تو حضرت علی نے محمد بن حنفیہ کو پکارا ، وہ ہمارے آگے تھے ان کے پاس جھنڈا تھا پوچھا : اے ابن حنفیہ ! وہ کیا پکار رہے ہیں ؟ جواب دیا : وہ عثمان کے خون کا بدلہ کی بات کر رہے ہیں، اے امیر المؤمنین ! تو حضرت علی نے فرمایا : اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا : اے اللہ ! آج ان کے منہ سے قتل عثمان کو پچھاڑ دے۔
(۱۶۷۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ قَالَ أُرَاہُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی أَوْ عَمٌّ لِی قَالَ : لَمَّا تَوَاقَفْنَا یَوْمَ الْجَمَلِ وَقَدْ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ صَفَّنَا نَادَی فِی النَّاسِ لاَ یَرْمِیَنَّ رَجُلٌ بِسَہْمٍ وَلاَ یَطْعُنُ بِرُمْحٍ وَلاَ یَضْرِبُ بِسَیْفٍ وَلاَ تَبْدَئُ وا الْقَوْمَ بِالْقِتَالِ وَکَلِّمُوہُمْ بِأَلْطَفِ الْکَلاَمِ وَأَظُنُّہُ قَالَ فَإِنَّ ہَذَا مَقَامٌ مَنْ فَلَجَ فِیہِ فَلَجَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَمْ نَزَلْ وُقُوفًا حَتَّی تَعَالَی النَّہَارُ حَتَّی نَادَی الْقَوْمُ بِأَجْمُعِہِمْ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَادَی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُحَمَّدَ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ وَہُوَ أَمَامَنَا وَمَعَہُ اللِّوَائُ فَقَالَ یَا ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ مَا یَقُولُونَ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃَ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ فَرَفَعَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ فَقَالَ اللَّہُمَّ کُبَّ الْیَوْمَ قَتَلَۃَ عُثْمَانَ لِوُجُوہِہِمْ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫০
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤٤) محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے جنگ جمل میں اس وقت تک لڑائی شروع نہ کی جب تک تین دن تک لوگوں کو دعوت نہ دیتے رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر آپ کے پاس آئے اور کہا : ہمارے زخمی زیادہ ہو رہے ہیں تو فرمایا : اے بھتیجے ! میں سب دیکھ رہا ہوں، میرے لیے پانی لاؤ، پھر آپ نے وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا کی اور پھر ان کو کہا : اگر اس قوم پر غلبہ دے تو انھیں پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ کرنا، کسی زخمی پر زیادتی نہ کرنا اور جنگ میں جو برتن ہیں انھیں قبضہ میں لے لینا اور جو اس کے علاوہ ہے وہ ان کے وارثوں کے لیے ہے۔
فرماتے ہیں : یہ منقطع ہے؛ کیونکہ حضرت علی نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔
فرماتے ہیں : یہ منقطع ہے؛ کیونکہ حضرت علی نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔
(۱۶۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِی الْجَنَاحَیْنِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یُقَاتِلْ أَہْلَ الْجَمَلِ حَتَّی دَعَا النَّاسَ ثَلاَثًا حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ دَخَلَ عَلَیْہِ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالُوا قَدْ أَکْثَرُوا فِینَا الْجِرَاحَ فَقَالَ یَا ابْنَ أَخٍ وَاللَّہِ مَا جَہِلْتُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِہِمْ إِلاَّ مَا کَانُوا فِیہِ وَقَالَ صُبَّ لِی مَائً فَصَبَّ لَہُ مَائً فَتَوَضَّأَ بِہِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَدَعَا رَبَّہُ وَقَالَ لَہُمْ إِنْ ظَہَرْتُمْ عَلَی الْقَوْمِ فَلاَ تَطْلُبُوا مُدْبِرًا وَلاَ تُجِیزُوا عَلَی جَرِیحٍ وَانْظُرُوا مَا حُضِرَتْ بِہِ الْحَرْبُ مِنْ آنِیَۃٍ فَاقْبِضُوہُ وَمَا کَانَ سِوَی ذَلِکَ فَہُوَ لِوَرَثَتِہِ۔
قَالَ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالصَّحِیحُ أَنَّہُ لَمْ یَأْخُذْ شَیْئًا وَلَمْ یَسْلُبْ قَتِیلاً۔ [ضعیف]
قَالَ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالصَّحِیحُ أَنَّہُ لَمْ یَأْخُذْ شَیْئًا وَلَمْ یَسْلُبْ قَتِیلاً۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫১
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے
(١٦٧٤٥) ابوبشیرشیبانی جنگ جمل کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سب بصرہ میں جمع ہوئے تو علی نے فرمایا : مصحف کون پکڑے گا ؟ پھر انھیں کہا : تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ہمارے اور اپنے خون بہا رہے ہو ؟ ایک شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں تو فرمایا : تو قتل ہوجائے گا۔ کہا : کوئی بات نہیں تو فرمایا : مصحف لے لو۔ وہ گیا تو انھوں نے اسے قتل کردیا۔ اس طرح حضرت علی نے ٣ لوگوں کو مصحف دے کر بھیجا، لیکن انھوں نے قتل کردیا تو حضرت علی نے فرمایا : اب قتال حلال ہوگیا تو بہت گھمسان کی جنگ ہوئی اور پھر آگے مکمل وہ حدیث بیان کی جو جنگ جمل کے بارے میں گزر چکی ہے۔
(۱۶۷۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی بَشِیرٍ الشَّیْبَانِیِّ فِی قِصَّۃِ حَرْبِ الْجَمَلِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا بِالْبَصْرَۃِ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَنْ یَأْخُذُ الْمُصْحَفَ ثُمَّ یَقُولُ لَہُمْ مَاذَا تَنْقِمُونَ تُرِیقُونَ دِمَائَ نَا وَدِمَائَ کُمْ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : خُذِ الْمُصْحَفَ۔
قَالَ : فَذَہَبَ إِلَیْہِمْ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ مَا قَالَ بِالأَمْسِ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا۔ قَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ کَمَا قُتِلَ صَاحِبُکَ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : فَذَہَبَ فَقُتِلَ ثُمَّ قُتِلَ آخِرَ کُلِّ یَوْمٍ وَاحِدٌ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَلَّ لَکُمْ قِتَالُہُمُ الآنَ قَالَ فَبَرَزَ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ فَاقْتَتَلُوا قِتَالاً شَدِیدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ أَبُو بَشِیرٍ فَرَدَّ عَلَیْہِمْ مَا کَانَ فِی الْعَسْکَرِ حَتَّی الْقِدْرَ۔
قَالَ : فَذَہَبَ إِلَیْہِمْ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ مَا قَالَ بِالأَمْسِ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا۔ قَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ کَمَا قُتِلَ صَاحِبُکَ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : فَذَہَبَ فَقُتِلَ ثُمَّ قُتِلَ آخِرَ کُلِّ یَوْمٍ وَاحِدٌ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَلَّ لَکُمْ قِتَالُہُمُ الآنَ قَالَ فَبَرَزَ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ فَاقْتَتَلُوا قِتَالاً شَدِیدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ أَبُو بَشِیرٍ فَرَدَّ عَلَیْہِمْ مَا کَانَ فِی الْعَسْکَرِ حَتَّی الْقِدْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫২
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر باغی بھاگ جائیں تو نہ ان کا پیچھا کیا جائے، نہ ہی قیدیوں کو قتل کیا جائے، نہ ان کے زخمی کو مارا جائے اور ان کے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے
(١٦٧٤٦) علی بن حسین فرماتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس آیا تو کہنے لگے : میں نے تیرے باپ سے بڑھ کر زیادہ عزت والا غالب نہیں دیکھا جو انھوں نے جنگِ جمل کے دن کیا تھا اور اعلان کروا دیا تھا کہ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرنا، زخمی کو نہیں مارنا۔
(۱۶۷۴۶) فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ وَأَظُنُّہُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَقَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَکْرَمَ غَلَبَۃً مِنْ أَبِیکَ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ وَلَّیْنَا یَوْمَ الْجَمَلِ فَنَادَی مُنَادِیہِ لاَ یُقْتَلُ مُدْبِرٌ وَلاَ یُذَفَّفُ عَلَی جَرِیحٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ذَکَرْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ لِلدَّرَاوَرْدِیِّ فَقَالَ مَا أَحْفَظَہُ تَعَجَّبَ لِحِفْظِہِ ہَکَذَا ذَکَرَہُ جَعْفَرٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔
قَالَ الدَّرَاوَرْدِیُّ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَأْخُذُ سَلَبًا وَأَنَّہُ کَانَ یُبَاشِرُ الْقِتَالَ بِنَفْسِہِ وَأَنَّہُ کَانَ لاَ یُذَفِّفُ عَلَی جَرِیحٍ وَلاَ یَقْتُلُ مُدْبِرًا۔ [ضعیف]
قَالَ الدَّرَاوَرْدِیُّ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَأْخُذُ سَلَبًا وَأَنَّہُ کَانَ یُبَاشِرُ الْقِتَالَ بِنَفْسِہِ وَأَنَّہُ کَانَ لاَ یُذَفِّفُ عَلَی جَرِیحٍ وَلاَ یَقْتُلُ مُدْبِرًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫৩
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر باغی بھاگ جائیں تو نہ ان کا پیچھا کیا جائے، نہ ہی قیدیوں کو قتل کیا جائے، نہ ان کے زخمی کو مارا جائے اور ان کے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے
(١٦٧٤٧) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے بصرہ والے دن یہ اعلان کروایا تھا کہ بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، زخمی اور قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو اپنا دروازہ بند کرلے وہ امن میں ہے اور جو اسلحہڈال دے وہ بھی امن میں ہے اور ان کے سامان سے کچھ بھی نہیں لیا۔
(۱۶۷۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَمَرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُنَادِیَہُ فَنَادَی یَوْمَ الْبَصْرَۃِ لاَ یُتْبَعُ مُدْبِرٌ وَلاَ یُذَفَّفُ عَلَی جَرِیحٍ وَلاَ یُقْتَلُ أَسِیرٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَلَمْ یَأْخُذْ مِنْ مَتَاعِہِمْ شَیْئًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫৪
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر باغی بھاگ جائیں تو نہ ان کا پیچھا کیا جائے، نہ ہی قیدیوں کو قتل کیا جائے، نہ ان کے زخمی کو مارا جائے اور ان کے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے
(١٦٧٤٨) یزید بن ضبیعہ عبسی کہتے ہیں کہ یوم جملکو حضرت عمار یا علی نے اعلان کیا تھا کہ لوگ پھرگئے ہیں ؛لہٰذا کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے اور نہ قیدی کو اور جو اسلحہ ڈال دے وہ امن میں ہے تو یہ بات ہم پر شاق گزری۔
(۱۶۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ضُبَیْعَۃَ الْعَبْسِیِّ قَالَ نَادَی مُنَادِی عَمَّارٍ أَوْ قَالَ عَلِیٍّ یَوْمَ الْجَمَلِ وَقَدْ وَلَّی النَّاسُ : أَلاَ لاَ یُدَافُّ عَلَی جَرِیحٍ وَلاَ یُقْتَلُ مَوْلًی وَمَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْنَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫৫
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر باغی بھاگ جائیں تو نہ ان کا پیچھا کیا جائے، نہ ہی قیدیوں کو قتل کیا جائے، نہ ان کے زخمی کو مارا جائے اور ان کے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے
(١٦٧٤٩) عمار بن یاسر نے حضرت علی سے جنگ ِجمل کے قیدیوں کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی نے جواب دیا : وہ قیدی نہیں ہیں جو ہم سے لڑے۔ ہم نے بھی ان سے لڑائی کی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ کہو گے تو میں تمہاری مخالفت کروں گا۔
(۱۶۷۴۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ خُمَیْرِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ سَأَلَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ سَبْیِ الذُّرِّیَّۃِ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِمْ سَبْیٌ إِنَّمَا قَاتَلْنَا مَنْ قَاتَلَنَا۔ قَالَ : لَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَلِکَ لَخَالَفْتُکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫৬
باغیوں سے قتال کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر باغی بھاگ جائیں تو نہ ان کا پیچھا کیا جائے، نہ ہی قیدیوں کو قتل کیا جائے، نہ ان کے زخمی کو مارا جائے اور ان کے مال سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے
(١٦٧٥٠) شقیق بن سلمہ کہتے ہیں : یوم الجمل اور یوم النہروان میں حضرت علی نے کوئی قیدی نہیں بنایا۔
(۱۶۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بِہْرَامَ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ : لَمْ یَسْبِ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ الْجَمَلِ وَلاَ یَوْمَ النَّہْرَوَانِ۔ [صحیح]
তাহকীক: