আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮০ টি

হাদীস নং: ১৯৭৫৩
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقابلہ بازی صرف اونٹوں یا گھوڑ دوڑ میں یا تیر اندازی میں ہے۔
(۱۹۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِی نَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِی خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৪
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٤٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اونٹوں کی دوڑ، تیر اندازی یا گھوڑ دوڑ میں مقابلہ بازی کرنا جائز ہے۔
(۱۹۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ

(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الْبَغْدَادِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْقُرَشِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِی نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِی خُفٍّ أَوْ نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৫
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٤٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقابلہ بازی صرف تیر اندازی یا گھوڑ دوڑ یا اونٹوں کی دوڑ میں ہے۔
(۱۹۷۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِی نَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِی نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৬
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقابلہ بازی صرف گھوڑ دوڑ یا اونٹوں کی دوڑ میں ہے۔

(ب) عباد بن ابی صالح کی روایت میں ہے کہ مقابلہ بازی صرف تیر اندازی یا گھوڑ دوڑ یا اونٹوں کی دوڑ میں ہے۔
(۱۹۷۵۰) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِی حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ قَالَ لِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَیْبَۃَ أَخْبَرَنِی ابْنَ أَبِی الْفُدَیْکِ فَذَکَرَ حَدِیثَ عَبَّادِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ وَقَالَ : إِلاَّ فِی نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৭
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقابلہ بازی صرف اونٹوں یا گھوڑ دوڑ میں ہے۔

محمد بن عمرو فرماتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : یا تیر اندازی میں۔
(۱۹۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامِ بْنِ أَبِی الدُّمَیْکِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ زِیَادٍ سَبَلاَنُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُہَلَّبِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی الْحَکَمِ مَوْلَی اللَّیْثِیِّینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ سَبْقَ إِلاَّ فِی خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ ۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو یَقُولُونَ أَوْ نَصْلٍ۔ تَابَعَہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی الْجَنْدَعِیِّینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ نَحْوَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৮
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٢) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تضمیر شدہ گھوڑوں میں حفیاء سے لے کر ثنیۃ الوداع تک مقابلہ بازی کروائی اور وہ گھوڑے جو تضمیر شدہ نہیں ان کا مقابلہ ثنیہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروایا اور ابن عمر (رض) بھی ان کے درمیان مقابلہ کروایا کرتے تھے۔
(۱۹۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَابَقَ بِالْخَیْلِ الَّتِی قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْیَائِ إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بِالْخَیْلِ الَّتِی لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ فِیمَنْ سَابَقَ بِہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫৯
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی عضباء تھی، وہ کبھی ہاری نہ تھی، لیکن ایک دیہاتی کا اونٹ اس سے سبقت لے گیا تو مسلمانوں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہروں میں ناپسندیدگی دیکھی۔ ایک شخص نے کہہ بھی دیا : اے اللہ کے رسول ! عضباء ہار گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا یہ قانون ہے جس کو وہ دنیا میں عروج دیتا ہے۔ اس پر زوال بھی آتا ہے۔
(۱۹۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَاقَۃٌ تُسَمَّی الْعَضْبَائُ لاَ تُسْبَقُ فَجَائَ أَعْرَابِیُّ عَلَی قَعُودٍ لَہُ فَسَبَقَہَا فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا رَأَی مَا فِی وُجُوہِہِمْ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ سُبِقَتِ الْعَضْبَائُ قَالَ : إِنَّ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ لاَ یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ وَضَعَہُ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬০
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٤) سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن اسلم قبیلہ کے لوگوں کی طرف گئے جو بازار میں نیزہ بازی کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تم نیزہ بازی کرو، تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں فلاں لوگوں کے ساتھ ہوں تو دوسروں نے تیر اندازی روک دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ تم تیراندازی کرو۔ انھوں نے کہا : ہم کیسے تیر اندازی کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں کے ساتھ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(۱۹۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ بُنْدَارٍ الصُّوفِیُّ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ الْجُمَحِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الأَکْوَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ یَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ : ارْمُوا یَا بَنِی إِسْمَاعِیلَ فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلاَنٍ ۔ لأَحَدِ الْفَرِیقَیْنِ فَأَمْسَکُوا أَیْدِیَہُمْ قَالَ : مَا لَکُمُ ۔ ارْمُوا قَالُوا وَکَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَ بَنِی فُلاَنٍ؟ قَالَ : ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۹۹۔ ۳۳۷۳۔ ۳۸۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬১
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٥) محمد بن ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس سے گزرے۔ وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا ہے دو مرتبہ کہا۔ تم تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ تم تیر اندازی کرو۔ میں ابن ادرع کے ساتھ ہوں تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم تیر اندازی نہیں کریں گے، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں کے ساتھ ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تیر اندازی کرو، میں تمہارے سب کے ساتھ ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس دن عام تیر اندازی کی۔ پھر وہ بکھر گئے۔ انھوں نے آپس میں تیر اندازی نہیں کی۔
(۱۹۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ عَلَی نَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ یَتَنَاضَلُونَ قَالَ : حَسَنٌ ۔ لِہَذَا اللَّہْوِ مَرَّتَیْنِ : ارْمُوا فَإِنَّہُ کَانَ لَکُمْ أَبٌ یَرْمِی ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ ۔ قَالَ فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ أَیْدِیَہُمْ فَقَالَ : مَا لَکُمْ؟ ۔ فَقَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِذًا یَنْضُلَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ جَمِیعًا ۔ قَالَ فَقَالَ رَمَوُا عَامَّۃَ یَوْمِہِمْ ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَلَی السَّوَائِ مَا نَضَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬২
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ بازی صرف اونٹ یا گھوڑے کی دوڑیا تیر اندازی میں ہے
(١٩٧٥٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حبشی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے نیزوں سے کھیل رہے تھے تو حضرت عمر (رض) آئے اور ان کو کنکری ماری تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر (رض) ! ان کو چھوڑ دو ۔
(۱۹۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا الْحَبَشَۃُ یَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِحِرَابِہِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَہْوَی إِلَی الْحَصْبَائِ فَحَصَبَہُمْ بِہَا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : دَعْہُمْ یَا عُمَرُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৩
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوڑ میں مقابلہ بازی کا بیان
(١٩٧٥٧) ایاس بن سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے۔ انھوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی عضباء کے پیچھے بٹھا لیا۔ میں مدینہ کی طرف آرہا تھا اور ہم چل رہے تھے۔ انصار کا ایک آدمی جو بہت تیز دوڑتا تھا وہ کہہ رہا تھا : کوئی مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے گا۔ ہے کوئی مقابلہ کرنے والا۔ بار بار یہ کہہ رہا تھا۔ جب میں نے اس کی بات سنی تو کہا : کیا تو معزز کی عزت نہیں کرتا اور تو شریف سے نہیں ڈرتا۔ اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے ماں باپ فدا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو چاہے تو کرلو۔ کہتے ہیں : میں کو دا ، پھر میں ایک یا دو گھاٹیوں تک دوڑا پھر میں نے پیچھے سے مل کر اپنی برتری ظاہر کی اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھے۔ میں نے کہا : میں تجھ سے مقابلہ بازی کروں گا۔ کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ پھر میں نے مدینہ تک اس کے ساتھ دوڑ لگائی۔
(۱۹۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْیَمَامِیُّ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَأَرْدَفَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَرَائَ ہُ عَلَی الْعَضْبَائِ فَأَقْبَلْتُ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَبَیْنَمَا نَحْنُ نَسُوقُ وَکَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاَ یُسْبَقُ شَدًّا فَجَعَلَ یَقُولُ أَلاَ مِنْ مُسَابِقٍ إِلَی الْمَدِینَۃِ ہَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ یَقُولُ ذَلِکَ مِرَارًا فَلَمَّا سَمِعْتُ کَلاَمَہُ قُلْتُ لَہُ أَمَا تُکْرِمُ کَرِیمًا وَلاَ تَہَابُ شَرِیفًا قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ائْذَنَ لِی فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ : إِنْ شِئْتَ ۔ قَالَ فَطَفَرْتُ ثُمَّ عَدَوْتُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ ثُمَّ إِنِّی تَرَفَّعْتُ حِینَ لَحِقْتُہُ فَاصْطَکَّہُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ فَقُلْتُ سَبَقْتُکَ وَاللَّہِ قَالَ إِنَّ أَظُنَّ قَالَ فَسَبَقْتُہُ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔

[متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৪
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوڑ میں مقابلہ بازی کا بیان
(١٩٧٥٨) ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور چھوٹی عمر تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : آگے چلو، آگے چلو۔ پھر فرمایا : آؤدوڑ میں مقابلہ کریں تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوڑ میں سبقت لے گئی ، یعنی جیت گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : آگے چلو۔ پھر فرمایا : آؤ میں تیرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتا ہوں۔ لیکن میں پہلی والی دوڑ بھول چکی تھی اور میرا جسم بھاری ہوچکا تھا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس حالت میں دوڑ میـں مقابلہ بازی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ضرور ایسا کرو گی۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوڑ میں مقابلہ بازی کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیت گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس دوڑ کے مقابلہ میں ہے۔
(۱۹۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی سَفَرٍ وَہِیَ جَارِیَۃٌ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : تَقَدَّمُوا ۔ فَتَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ : تَعَالِ أُسَابِقْکِ ۔ فَسَابَقْتُہُ فَسَبَقْتُہُ عَلَی رِجْلِی فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ خَرَجْتُ أَیْضًا مَعَہُ فِی سَفَرٍ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ تَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ : تَعَالِ أُسَابِقْکِ ۔ وَنَسِیتُ الَّذِی کَانَ وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْمَ فَقُلْتُ وَکَیْفَ أُسَابِقُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا عَلَی ہَذِہِ الْحَالِ فَقَالَ : لَتَفْعَلِنَّ ۔ فَسَابَقْتُہُ فَسَبَقَنِی فَقَالَ ہَذِہِ بِتِلْکَ السَّبْقَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৫
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوڑ میں مقابلہ بازی کا بیان
(١٩٧٥٩) ابوسلمہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھی اور دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں جیت گئی۔ جب میرا جسم بھاری ہوگیا، پھر دوڑ میں مقابلہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیت گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ پہلی دوڑ کے عوض میں ہے۔
(۱۹۷۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاکِیُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَعَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی سَفَرٍ فَسَابَقَتُہُ فَسَبَقَتُہُ عَلَی رِجْلِی فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُہُ فَسَبَقَنِی فَقَالَ ہَذِہِ بِتِلْکَ السَّبْقَۃِ۔

وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَرَوَاہُ جَرِیرٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৬
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کشتی کا بیان
(١٩٧٦٠) سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہر سال انصار کے دو بچے پیش کیے جاتے۔ آپ اس کو اپنے ساتھ ملا لیتے جس کو درست پاتے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک سال پیش کیا گیا۔ ایک بچے کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کردیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کردیا۔ اگر میں اس کے ساتھ کشتی میں مقابلہ کروں تو میں اس کو گرا دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کشتی کرو۔ میں نے اس سے کشتی کی تو میں نے اس کو گرا دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔
(۱۹۷۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَرِّضُ غِلْمَانَ الأَنْصَارِ فِی کُلِّ عَامٍ فَیُلْحِقُ مَنْ أَدْرَکَ مِنْہُمْ قَالَ وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلاَمًا وَرَدَّنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَلْحَقْتَہُ وَرَدَدْتَنِی وَلَوْ صَارَعْتُہُ لَصَرَعْتُہُ قَالَ : فَصَارِعْہُ ۔ فَصَارَعْتُہُ فَصَرَعْتُہُ فَأَلْحَقَنِی۔ [صحیح۔ تقدم ۹/۱۷۸۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৭
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کشتی کا بیان
(١٩٧٦١) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطحاء نامی جگہ پر تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید آیا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ میرے ساتھ کشتی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے ؟ کہنے لگا : ایک بکری۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کشتی کی تو اس کو گرا دیا اور ایک بکری لے لی۔ رکانہ کہتا ہے : دوبارہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے۔ کہتا ہے : دوسری بکری۔ کئی مرتبہ ایسے ہوا۔ کہنے لگا : اے محمد ! میری کمر کسی نے زمین پر نہیں لگائی، یعنی گرا نہیں، لیکن آپ نے تو مجھے گرا دیا۔ وہ مسلمان ہوگیا تو آپ نے اس کی بکریاں واپس کردیں۔
(۱۹۷۶۱) وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ بِالْبَطْحَائِ فَأَتَی عَلَیْہِ یَزِیدُ بْنُ رُکَانَۃَ أَوْ رُکَانَۃُ بْنُ یَزِیدَ وَمَعَہُ أَعْنُزٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ یَا مُحَمَّدُ ہَلْ لَکَ أَنْ تُصَارِعَنِی فَقَالَ : مَا تُسْبِقْنِی ۔ قَالَ شَاۃً مِنْ غَنَمِی فَصَارَعَہُ فَصَرَعَہُ فَأَخَذَ شَاۃً قَالَ رُکَانَۃُ ہَلْ لَکَ فِی الْعُودِ قَالَ : مَا تُسْبِقْنِی؟ قَالَ أُخْرَی ذَکَرَ ذَلِکَ مِرَارًا فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا وَضَعَ أَحَدٌ جَنْبِی إِلَی الأَرْضِ وَمَا أَنْتَ الَّذِی تَصْرَعُنِی یَعْنِی فَأَسْلَمَ وَرَدَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- غَنَمَہُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولاً إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৮
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کبوتروں کے ساتھ کھیلنے کا بیان
(١٩٧٦٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا۔ وہ کبوتری کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطاننی کا شیطان پیچھا کررہا ہے۔

(ب) حصین بن مصعب فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) کبوتروں کی شرط کو ناپسند خیال کرتے تھے۔
(۱۹۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً یَتْبَعُ حَمَامَۃً فَقَالَ : شَیْطَانٌ یَتْبَعُ شَیْطَانَۃً ۔

(ت) خَالَفَہُ شَرِیکٌ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُ فَقَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَحَدِیثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَرَوَی عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ مُصْعَبٍ قَالَ : کَرِہَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ التَّرَاہُنَ بِالْحَمَامَتَیْنِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬৯
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کے درمیان ایک جگہ سے دوسری جگہ تک دوڑ کا مقابلہ کروانے والے امیر کا بیان
(١٩٧٦٣) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تضمیر شدہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا حفیاء سے لے کر ثنیۃ الوداع جگہ تک اور وہ گھوڑے جو تضمیر شدہ نہ تھے ان کی دوڑ کی مسافت تثنیۃ الوداع سے مسجد بنوزریق تک تھی اور حضرت عمر (رض) بھی مقابلہ کروایا کرتے تھے، یعنی گھوڑ دوڑ کرواتے تھے۔
(۱۹۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ یُرْسِلُہَا مِنَ الْحَفْیَائِ وَکَانَ أَمَدُہَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِی لَمْ تُضَمَّرْ وَکَانَ أَمَدُہَا مِنَ الثَّنِیَّۃِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ سَابَقَ بِہَا۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ قَتَادَۃَ وَحَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ فِی الَّتِی لَمْ تُضَمَّرْ لَمْ یُذْکَرْ مَا قَبْلَہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৭০
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کے درمیان ایک جگہ سے دوسری جگہ تک دوڑ کا مقابلہ کروانے والے امیر کا بیان
(١٩٧٦٤) لیث بن سعد نے بھی ایسے ہی ذکر کیا ہے۔
(۱۹۷۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ بِتَمَامِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ مُخْتَصَرًا وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৭১
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کے درمیان ایک جگہ سے دوسری جگہ تک دوڑ کا مقابلہ کروانے والے امیر کا بیان
(١٩٧٦٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تضمیر شدہ گھوڑوں کی مسافت حفیاء سے لے کر تثنیۃ الوداع تک مقرر کی اور غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کی مسافت تثنیہ سے لے کر مسجد بنو زریق تک مقرر کی۔
(۱۹۷۶۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَجْرَی النَّبِیُّ -ﷺ- مَا ضُمِّرَ مِنَ الْخَیْلِ مِنَ الْحَفْیَائِ إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ وَأَجْرَی مَا لَمْ یُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ عُقْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৭২
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کے درمیان ایک جگہ سے دوسری جگہ تک دوڑ کا مقابلہ کروانے والے امیر کا بیان
(١٩٧٦٦) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تضمیر شدہ گھوڑوں کی دوڑ حفیاء سے شروع کی جبکہ غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کی دوڑ کی ابتداء ثنیہ سے لے کر مسجد بنو زریق تک تھی۔
(۱۹۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ضَمَّرَ الْخَیْلَ وَأَرْسَلَہَا مِنَ الْحَفْیَائِ وَمَا کَانَ مِنْہَا غَیْرَ مُضَمَّرٍ أَرْسَلَہُ مِنْ ثَنِیَّۃِ کَذَا إِلَی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: