আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৭ টি

হাদীস নং: ১৫৯১৭
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کردے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔
قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيَهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَنَّ مَنْ كَانَ اصْطَبَحَ فَلْيُمْسِكْ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ اصْطَبَحَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৮
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے تو نبی ﷺ نے متفرق مقامات پر کچھ آگ روشن دیکھی، نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ آگ کس مقصد کے لئے جلا رکھی ہے ؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لئے، نبی ﷺ نے فرمایا ہانڈیاں الٹ دو اور جو کچھ اس میں ہے سب بہا دو ، لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن کو بھی دھوئیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تو اور کیا ؟
قَالَ صَفْوَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِيرَانًا تُوقَدُ فَقَالَ عَلَامَ تُوقَدُ هَذِهِ النِّيرَانُ قَالُوا عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ قَالَ كَسِّرُوا الْقُدُورَ وَأَهْرِيقُوا مَا فِيهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُهْرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوَذَاكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৯
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " غابہ " جانے کے لئے مدینہ منورہ سے نکلا، جب میں اس کی چوٹی پر پہنچا تو مجھے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کا ایک غلام ملا، میں نے اس سے پوچھا ارے کیا بات ہے ؟ (کیوں گھبرائے ہوئے ہو ؟ ) اس نے کہا نبی ﷺ کی اونٹنیاں چھین لی گئی ہیں، میں نے پوچھا کہ کس نے چھینی ہیں ؟ اس نے بتایا کہ ابوغطفان اور بنو فزارہ نے، اس پر میں نے تین مرتبہ اتنی بلند آواز سے " یا صباحاہ " کا نعرہ لگایا کہ مدینہ منورہ کے دونوں کانوں تک میری آواز پہنچ گئی۔ پھر میں وہاں سے ان کے پیچھے روانہ ہوا یہاں تک کہ انہیں جا لیا، انہوں نے واقعتا نبی ﷺ کی اونٹیاں پکڑ لی تھیں، میں ان پر تیروں کی بارش کرنے اور یہ شعر پڑھنے لگا کہ میں ہوں اکوع کا بیٹا، آج کا دشمنوں کو کھٹکھٹانے کا دن ہے، بالآخر میں نے ان سے وہ انٹیاں بازیاب کرا لیں، جبکہ ان لوگوں نے ابھی تک پانی بھی نہیں پیا تھا۔ پھر انہیں ہانکتا ہوا لے کر واپس روانہ ہوگیا، راستے میں نبی ﷺ سے ملاقات ہوگئی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ لوگ ابھی پیاسے ہی تھے کہ میں نے ان کے پانی پینے سے قبل تیزی سے انہیں جالیا، اس لئے آپ ان کے پیچھے روانہ ہوجائیے، نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن اکوع ! تم نے ان پر قابو پالیا (اور اپنی چیز واپس لے لی) اب ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو، اب اپنی قوم میں ان لوگوں کی مہمان نوازی ہو رہی ہوگی۔
قَالَ حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْغَابَةِ لَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ قُلْتُ وَيْحَكَ مَا لَكَ قَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ وفَزَارَةُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعَتْ مَنْ بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَا صَبَاحَاهْ يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ أَخَذُوهَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمٌ أَقْرَعُ قَالَ فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوقُهَا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّي أَعْجَلْتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَاذْهَبْ فِي أَثَرِهِمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ فِي قَوْمِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২০
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں ضرب کا ایک نشان دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابومسلم ! یہ نشان کیسا ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ ضرب غزوہ خیبر کے موقع پر لگی تھی، جب مجھے یہ ضرب لگی تو لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گئے، لیکن پھر مجھے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، نبی ﷺ نے اس پر تین مرتبہ پھونک ماری اور اب تک مجھے دوبارہ اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ قَالَ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ خَرَجْتُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَكِّيٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ وَزَادَ فِيهِ وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২১
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
یزید بن ابوعبید (رح) کہتے ہیں کہ میں حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کے ساتھ مسجد میں آتا تھا، وہ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے تھے جو مصحف کے قریب تھا، میں نے پوچھا اے ابومسلم ! میں آپ کو اس ستون کا خاص اہتمام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اہتمام کے ساتھ اس ستون کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي مَعَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২২
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے، بخدا ! میں یہ نہیں کہتا، یہ اللہ کا کہنا ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا أَمَا وَاللَّهِ مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৩
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے اور بیٹھ کر یا تو آپ نے دعا فرمائی اور یا اس میں آپ نے اپنا لعاب دہن ڈالا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا۔ پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ نے فرمایا سلمہ بیعت کرو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی (اس کے بعد) پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ نے فرمایا اے سلمہ ! کیا تو نے بیعت نہیں کی ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی۔ آپ نے فرمایا پھر کرلو۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ نے مجھے فرمایا اے سلمہ ! وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی، اے اللہ ! مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھروالوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے، وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ! ابن زنیم شہید کردئیے گئے، میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر بھی ابن مکرز کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ کی خدمت میں لائے رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت مبارکہ) نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا مکہ کی وادی میں اس کے بعد تم کو ان پر فتح اور کامیابی دے دی تھی، پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے، راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے مشرکوں کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے پہرہ دے، حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ کا غلام تھا، میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا، جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ کے چرواہے کو قتل کردیا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبَاهَا فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِالْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ وَبَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا سَلَمَةُ بَايِعْنِي قَالَ قَدْ بَايَعْتُكَ فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ وَرَآنِي أَعْزَلًا فَأَعْطَانِي حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْتُ أَوَّلَ النَّاسِ وَأَوْسَطَهُمْ وَآخِرَهُمْ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ دَرَقَتُكَ أَوْ حَجَفَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ أَعْزَلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ اللَّهُمَّ ابْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَضَحِكَ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحُسُّ فَرَسَهُ وَأَسْقِيهِ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ الشَّجَرَةَ فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا وَاضْطَجَعْتُ فِي ظِلِّهَا فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا وَهُمْ مُشْرِكُونَ يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلْتُ عَنْهُمْ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا آلَ الْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَشَدَدْتُ عَلَى الْأَرْبَعَةِ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي أَكْرَمَ مُحَمَّدًا لَا يَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي يَعْنِي فِيهِ عَيْنَاهُ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِابْنِ مِكْرَزٍ يَقُودُ بِهِ فَرَسَهُ يَقُودُ سَبْعِينَ حَتَّى وَقَفْنَاهُمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَكُونُ لَهُمْ بُدُوُّ الْفُجُورِ وَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَتْ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ الْجَبَلَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ كَانَ طَلِيعَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ غُلَامِهِ رَبَاحٍ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৪
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی (مہمان ظاہر کر کے) کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہو تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرسکے، میں نے اس کا پیچھا کر کے اس کی سواری کو بٹھایا اور اس کی گردن اڑادی، نبی ﷺ نے اس کا سازوسامان مجھے بطور انعام کے دے دیا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَتَصَبَّحُونَ فَدَعَوْهُ إِلَى طَعَامِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَكِبَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَذَهَبَ مُسْرِعًا لِيُنْذِرَ أَصْحَابَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَهُ وَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَغَنَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৫
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے بٹن لگالیا کرو اگرچہ کانٹا ہی ملے۔
قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُونُ أَحْيَانًا فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي فِي قَمِيصِي فَقَالَ زُرَّهُ وَلَوْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৬
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب نماز عشاء اور رات کا کھانا جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔
قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৭
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے بٹن لگالیا کرو، اگرچہ کانٹا ہی ملے۔
قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَّافٌ عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ قَالَ فَزُرَّهُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৮
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ہوازن کے خلاف جہاد میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا، نبی ﷺ نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی مہمان ظاہر کر کے کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوا تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرسکے، نبی ﷺ کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کا ایک آدمی بہترین قسم کی خاکستیری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے لگ گیا، میں بھی دوڑتا ہوا نکلا اور اسے پکڑ لیا، اونٹنی کا سر اونٹ کے سرین کے پاس تھا اور میں اونٹنی کے سرین کے پاس، میں تھوڑا سا آگے بڑھ کر اونٹ کے سرین کے قریب ہوگیا، پھر تھوڑا سا قریب ہو کر اس کے اونٹ کی لگام پکڑ لی، میں نے اس کی سواری کو بٹھایا اور جب وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کی گردن اڑادی، میں اس کی سواری اور اس کے سازوسامان کو لے کر ہانکتا ہوا نبی ﷺ کی طرف روانہ ہوا راستہ میں نبی ﷺ سے آمنا سامنا ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کو کس نے قتل کیا ؟ لوگوں نے کہا ابن اکوع نے، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا سازوسامان بھی اسی کا ہوگیا۔
قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّى وَعَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعَفَةٌ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ طَلَقًا عَنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ رَجُلٌ شَابٌّ ثُمَّ جَاءَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ وَرِقَّةَ ظَهْرِهِمْ خَرَجَ إِلَى جَمَلِهِ فَأَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ فَخَرَجَ يَرْكُضُ وَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ هِيَ أَمْثَلُ ظَهْرِ الْقَوْمِ فَأَتْبَعَهُ قَالَ وَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ وَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُ بِهِ رَأْسَهُ فَنَدَرَ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا قَالَ مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৯
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرتا ہے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولُ أَحَدٌ عَلَيَّ بَاطِلًا أَوْ مَا لَمْ أَقُلْ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩০
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا اے عامر ! ہمیں حدی کے اشعار تو سناؤ، وہ اتر کر اشعار پڑھنے لگے اور یہ شعر پڑھا واللہ اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، اس کے علاوہ بھی انہوں نے اشعار پڑھے جو مجھے یاد نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ حدی خوان کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا عامر بن اکوع، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، تو ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ نے ہمیں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا ؟ بہرحال ! جب لوگوں نے لڑائی کے لئے صف بندی کی تو دوران جنگ عامر کو اپنی ہی تلوار کی دھار لگ گئی اور وہ اس سے جاں بحق ہوگئے، جب رات ہوئی تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی، نبی ﷺ نے فرمایا یہ کیسی آگ ہے اور کس چیز پر جلائی گئی ہے ؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں پر ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس میں جو کچھ ہے سب بہادو اور ہنڈیاں توڑ دو ، ایک آدمی نے پوچھا کہ برتن میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن دوھ نہ لیں، نبی ﷺ نے فرمایا تو اور کیا ؟
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَيْ عَامِرُ لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ قَالَ فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ وَيَذْكُرُ تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَكِنْ لَمْ أَحْفَظْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ فَلَمَّا اصَّافَّ الْقَوْمُ قَاتَلُوهُمْ فَأُصِيبَ عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ بِقَائِمِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ قَالُوا عَلَى حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ قَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩১
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩২
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی ﷺ نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں تین دینار، نبی ﷺ نے اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جہنم کے تین داغ ہیں، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی ﷺ نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں ! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ؟ لوگوں نے بتایا نہیں ! نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری صحابی جن کا نام ابوقتادہ تھا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالُوا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا ثَلَاثَ دَنَانِيرَ قَالَ ثَلَاثُ كَيَّاتٍ قَالَ فَأُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩৩
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قبیلہ اسلم کے ایک گروہ کے پاس سے گذرے جو کہ بازار میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا اے بنی اسماعیل ! تیر اندازی کرتے رہو کیونکہ تمہارے جد امجد (حضرت اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے، تیرا اندازی کرو اور میں بھی فلاں گروہ کے ساتھ شریک ہوجاتا ہوں، اس پر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے، نبی ﷺ نے فرمایا تیر پھینکو، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ ان کے ساتھ تو آپ بھی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ تیر پھینکو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلُّكُمْ
tahqiq

তাহকীক: