আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২ টি

হাদীস নং: ১৬২০৬
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پیشہ ور بدکارہ تھی، ایک دن اسے ایک آدمی ملا اور اس سے دل لگی کرنے لگا، اسی اثناء میں اس نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھائے تو وہ کہنے لگی پیچھے ہٹو، اللہ تعالیٰ نے شرک کو دور کردیا اور ہمارے پاس اسلام کی نعمت لے آیا، وہ آدمی واپس چلا گیا، راستے میں کسی دیوار سے ٹکر ہوئی اور اس کا چہرہ زخمی ہوگیا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنا دیا، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہارے ساتھ خیر کا ارادہ کرلیا ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کی سزا فوری دے دیتے ہیں اور جب کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کو روک لیتے ہیں اور قیامت کے دن اس کا مکمل حساب چکائیں گے اور وہ گدھوں کی طرح محسوس ہوگا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ مَهْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২০৭
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا تمہارا مقصد کیا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی ﷺ سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں ؟ میں نے نبی ﷺ کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں نے مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا ہر برتن چناچہ میں بازار گیا اور چمڑے کا بڑا ڈول خرید لیا اور وہی میرے گھر میں لٹکا رہا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ وَقَدْ غَزَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ فِي إِمْرَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ هَذَا الشَّرَابِ فَقَالَ الْخَمْرَ قَالَ هَذَا فِي الْقُرْآنِ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ بِالرِّسَالَةِ قَالَ شَرْعِي أَنِّي اكْتَفَيْتُ قَالَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ قَالَ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ الْأَخْضَرُ وَالْأَبْيَضُ قَالَ مَا الْمُقَيَّرُ قَالَ مَا لُطِخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ فَحَدَّثَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَخْطَأَ فِيهِ مَعْمَرٌ لِأَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ لَمْ يَلْقَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ
tahqiq

তাহকীক: