আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০ টি
হাদীস নং: ১৬৫১০
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا سیدالاستغفار یہ ہے کہ انسان یوں کہے (اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ) اے اللہ ! آپ میرے رب ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ نے مجھے پیدا کیا ہے، میں آپ کا بندہ ہوں اور اپنے عہد اور وعدے پر حسب امکان قائم ہوں، میں آپ کے احسانات کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، مجھے بخش دیجئے کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی شخص صبح کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی دن فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا اور اگر کوئی شخص شام کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی شام فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ مَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ الْعَدَوِيُّ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১১
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے بستر پر آئے اور قرآن کریم کی کوئی بھی سورت پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیج دے گا جو اس کے بیدار ہونے تک خواہ وہ جس وقت بھی بیدار ہو ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کرتا رہے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ الْحَنْظَلِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا يَحْفَظُهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১২
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
اور نبی ﷺ ہمیں یہ کلمات سکھاتے تھے جنہیں ہم نماز میں یا نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں آپ سے دین میں ثابت قدمی، ہدایت پر استقامت، آپ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق، آپ کی بہترین عبادت کرنے کا سلیقہ قلب سلیم اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، نیز آپ جن چیزوں کو جانتے ہیں ان کی خیر مانگتا ہوں اور ان کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور ان تمام گناہوں سے معافی مانگتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں۔
قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِنَا أَوْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاتِنَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৩
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز عشاء کے بعد شعروشاعری کی مجلس جائے اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ فائدہ : علامہ ابن جوزی (رح) وسلم نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے، دیگر محدثین اس کی سند کو انتہائی ضعیف قرار دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ فَقَالَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৪
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کے بدترین لوگ پہلے اہل کتاب کے طور طریقے مکل طور پر ضرور اختیار کریں گے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ حَدَّثَنَا شَهْرٌ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِي ابْنُ غَنْمٍ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سَنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৫
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کردیا کرو، کیونکہ آنکھیں روح کا پیچھا کرتی ہیں (اس لئے کھلی رہ جاتی ہیں) اور خیر کی بات کہا کرو اس لئے کہ میت کے گھرانے والے جو کچھ کہتے ہیں، اس پر (فرشتوں کی طرف سے) آمین کہی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا قَزَعَةُ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّهُ يُؤَمَّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْمَيِّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৬
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوذر غفاری (رض) (کامعاملہ کچھ یوں تھا کہ وہ) نبی ﷺ سے کوئی ایسا حکم سنتے جس میں سختی ہوتی، وہ اپنی قوم میں واپس جاتے اور ان تک یہ پیغام پہنچا دیتے، بعد میں نبی ﷺ اس میں رخصت دے دیتے، لیکن حضرت ابوذر (رض) اسے سننے سے رہ جاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ اسی سختی والے حکم کے ساتھ چمٹے رہتے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الشِّدَّةُ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى قَوْمِهِ يُسَلِّمُ لَعَلَّهُ يُشَدِّدُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِيهِ بَعْدُ فَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو ذَرٍّ فَيَتَعَلَّقَ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِيدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৭
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ماہ رمضان کی اٹھارویں رات کو سینگی لگا رہا تھا کہ نبی ﷺ اس کے پاس سے مقام بقیع میں گذرے، اس وقت نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والا اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي الْبَقِيعِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي فَقَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৮
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دو چیزیں نبی ﷺ سے یاد کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر مہربانی کرنے کا حکم لکھ دیا ہے، اس لئے جب تم میدان جنگ میں کسی کو قتل کرو تو بھلے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تمہیں اپنی چھری تیز اور اپنے جانور کو آرام پہنچانا چاہئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১৯
حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات
ابن غنم (رح) وسلم کہتے ہیں کہ جب میں حضرت ابودرداء (رض) کے ساتھ جابیہ کی مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ اور اپنے دائیں ہاتھ سے حضرت ابودرداء (رض) کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور خود ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم راستہ میں باتیں کرتے جارہے تھے جن کا علم اللہ ہی کو زیادہ ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کہنے لگے کہ اگر تم دونوں کی یا کسی ایک کی عمر لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک بہترین مسلمان جس نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن پڑھا ہو، اسے دہرایا ہو، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھا ہو اور اس کی منازل پر اترا ہو، یا اپنے اس بھائی سے قرآن پڑھا ہو جس نے نبی ﷺ سے پڑھا تھا اور مذکورہ سارے اعمال کئے ہوں، اس طرح حیران ہوگا جیسے مردار گدھے کا سر حیران ہوتا ہے۔ اس گفتگو کے دوران حضرت شداد بن اوس (رض) اور عوف بن مالک (رض) بھی تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے، حضرت شداد (رض) کہنے لگے لوگو ! میں نبی ﷺ کے فرمان کی روشنی میں تم پر سب سے زیادہ جس چیز سے خطرہ محسوس کرتا ہوں وہ شہوت خفیہ اور شرک ہے، یہ سن کر حضرت ابودرداء (رض) اور عبادہ بن صامت (رض) کہنے لگے اللہ معاف فرمائے ! کیا نبی ﷺ نے ہم سے یہ بیان نہیں فرمایا تھا کہ شیطان جزیرہ عرب میں اپنی عبادت کی امید سے مایوس ہوچکا ہے ؟ شہوت خفیہ تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد دنیا کی خواہشات مثلا عورتیں اور ان کی خواہشات ہیں، لیکن شداد ! یہ کون ساشرک ہے جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہو ؟ حضرت شداد (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ کسی دوسرے کو دکھانے کے لئے نماز، روزہ، یا صدقہ کرتا ہے، کیا وہ شرک کرتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! واللہ وہ شرک کرتا ہے، حضرت شداد (رض) نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو دکھاوے کے لئے نماز پڑھتا ہے، وہ شرک کرتا ہے، جو دکھاوے کے لئے روزہ رکھتا ہے وہ شرک کرتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے صدقہ کرتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔ حضرت عوف بن مالک (رض) کہنے لگے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسے تمام اعمال میں اخلاص کا حصہ قبول کرلیا جائے اور شرک کا حصہ چھوڑ دیا جائے ؟ حضرت شداد (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بہتریں حصہ دار ہوں اس شخص کے لئے جو میرے ساتھ شرک کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ جو شخص میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو اس کا تھوڑا یا زیادہ سب عمل اس کے شریک کا ہوجاتا ہے اور میں اس سے بیزار ہوجاتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ قَالَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ ابْنُ غَنْمٍ لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ لَقِينَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ وَشِمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا نَتَنَاجَى وَذَاكَ قَوْلُهُ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَيُوشِكَنَّ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي مِنْ وَسَطٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ لَا يَحُورُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُورُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَجَلَسَا إِلَيْنَا فَقَالَ شَدَّادٌ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنْ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ اللَّهُمَّ غَفْرًا أَوَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتِهَا فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ فَقَالَ شَدَّادٌ أَرَأَيْتُكُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ أَوْ يَصُومُ لَهُ أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ قَالُوا نَعَمْ وَاللَّهِ إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ شَدَّادٌ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ أَفَلَا يَعْمِدُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ فِيهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلَ مَا خَلَصَ لَهُ وَيَدَعَ مَا يُشْرَكُ بِهِ فَقَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ وَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ
তাহকীক: