আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০১ টি
হাদীস নং: ১৭৪৭৬
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ یہاں تک کہ یہ ختم ہوجائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭৭
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو ؟ انہوں نے جواباً لکھا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل و قال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭৮
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنْ التَّوَكُّلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭৯
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے ( آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا وَيَمِينَهَا وَشِمَالَهَا قَرِيبًا وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ يُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ قَالَ يُونُسُ وَأَهْلُ زِيَادٍ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَحْفَظُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮০
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
عمرو بن وہب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم ﷺ نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور فرمایا مغیرہ ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَسُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَادَهُ عِنْدِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ مِنْ السَّحَرِ ضَرَبَ عَقِبَ رَاحِلَتِي فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً فَعَدَلْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى بَرَزْنَا عَنْ النَّاسِ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ قُلْتُ مَا لِي حَاجَةٌ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ أَوْ قَالَ سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا قَالَ وَأَشُكُّ أَقَالَ دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ أَمْ لَا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدِهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمِّ فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ قَالَ فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ رَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮১
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ (رض) کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮২
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ أَبِي شَبِيبٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৩
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھتے تھے نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ہم سے فرمایا نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৪
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ فَقَالَ يَا سُفْيَانُ بْنَ أَبِي سَهْلٍ لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৫
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا مغیرہ پانی کا برتن پکڑ لو میں اسے پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چل پڑا نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیرگذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور پانی منگوایا۔ اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ لِي يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ قَالَ فَأَخَذْتُهَا قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ قَالَ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْهَا فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ مَسَحَ خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৬
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ (رض) کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو اور اس میں آپ کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کوئی راوی نہ ہو ؟ انہوں نے جواباً لکھوا بھیجا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل و قال کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم ﷺ نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال دراز کرنا حرام قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ سَوْقَةَ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ قَالَ فَأَمْلَى عَلَيَّ وَكَتَبْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ فَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهُنَّ فَقِيلَ وَقَالَ وَإِلْحَافُ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةُ الْمَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৭
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ (رض) کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৮
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم ﷺ نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دورچلے گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ رَفَعَهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَزَ ظَهْرِي أَوْ كَتِفِي بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَتَبِعْتُهُ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ وَمَعِي سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَرَفَعَ الْجُبَّةَ عَلَى عَاتِقِهِ وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ قَالَ وَذَكَرَ النَّاصِيَةَ بِشَيْءٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا فَأَدْرَكْنَا الْقَوْمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮৯
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ فَأَدْرَكَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ وَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯০
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان پر مسح کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯১
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ وضو کیا اور موزے کے نچلے اور اوپر والے حصے پر مسح فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯২
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دئیے ہیں پھر اتنی محنت ؟ نبی کریم ﷺ فرماتے کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ فَقَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯৩
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ (رض) کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدَةَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعَا وَرَّادًا كَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯৪
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّتَيْنِ أَوْ اكْتَوَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯৫
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں
حضرت مغیرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے " نجران " کی طرف بھیجا وہاں کے عیسائی مجھ سے کہنے لگے کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو " اے ہارون کی بہن " (حضرت مریم (علیہا السلام) کو لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش پر اس طرح مخاطب کیا تھا) حالانکہ حضرت موسیٰ (جن کے بڑے بھائی حضرت ہارون تھے) تو حضرت عیسیٰ سے اتنا عرصہ پہلے گذر چکے تھے ( تو حضرت مریم علیہا ان کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ) جب میں واپس آیا تو نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے انہیں یہ جواب کیوں نہ دیا کہ پہلے کے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ قَالَ فَقَالُوا أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ
তাহকীক: