আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮০ টি
হাদীস নং: ১৮৫২৬
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی فسطاط کے آخر سے آیا اور ان سے کسی بیماری کے متعلق پوچھا انہوں نے دوران گفتگو فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں میمون ایک دوسری سند سے یہ اضافہ بھی نقل کرتے ہیں کہ، اے اللہ ! جو علی (رض) سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْفَسْطَاسِ فَسَأَلَهُ عَنْ دَاءٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَى قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ مَيْمُونٌ فَحَدَّثَنِي بَعْضُ الْقَوْمِ عَنْ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৭
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت علی (رض) یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو ؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَجْلَحَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِالْيَمَنِ فَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ وَطِئَهَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ حَتَّى فَرَغَ يَسْأَلُ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ عَنْ وَاحِدٍ فَلَمْ يُقِرُّوا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ فَرُفِعَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৮
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء (رض) اور زید (رض) سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ہم تجارت کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے بھی ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر معاملہ نقد کا ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھارہو تو پھر صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولَانِ سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّرْفِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ إِذَا كَانَ دَيْنًا فَلَا يَصْلُحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৯
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ ! میں خبیث مذکرومؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَدْخُلَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩০
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ ! میں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩১
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ کسی غزوے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھا، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میرے چچا مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذر نازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَمِّي فِي غَزَاةٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَهُ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِيبُنِي مِثْلُهُ قَطُّ وَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ قَالَ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩২
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ میں کسی غزوے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھا، لوگوں کو اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذر نازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالُوا كَذَّبَ زَيْدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ تَعَالَى كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ قَالَ كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৩
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کتنے غزوات فرمائے ؟ انہوں نے جواب دیا انیس میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ؟ انہوں نے فرمایا ان میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا میں پہلے غزوے کا نام پوچھا تو انہوں نے ذات العیسریاذات العشیرہ بتایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ قُلْتُ كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَا قَالَ ذَاتُ الْعُشَيْرِ أَوْ الْعُشَيْرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৪
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
ابوحمزہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انصارنے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہر نبی کے پیروکار ہوتے ہیں ہم آپ کے پیروکار ہیں آپ اللہ سے دعاء کردیجئے کہ ہمارے پیروکاروں کو ہم میں ہی شامل فرمادے چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں دعاء فرمادی کہ اللہ ان کے پیروکاروں کو ان ہی میں شامل فرمادے۔ یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت زید بن ارقم (رض) کا بھی یہی خیال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا قَالَ فَدَعَا لَهُمْ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৫
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید بن ارقم (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ لِأَنَسٍ وَلَدٌ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৬
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
ابومنہال (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب (رض) اور حضرت زید بن ارقم (رض) سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال ! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ فَقَالَا جَمِيعًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৭
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے انیس غزوات فرمائے ؟ جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৮
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے متعلق کچھ شکوک شبہات تھے اس نے حضرت زید بن ارقم (رض) کو بلابھیجا اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا انہوں نے اسے اس حوالے سے ایک عمدہ حدیث سنائی جسے سن کر وہ خوش ہوا اور کہنے لگا کہ آپ نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، بلکہ میرے بھائی نے مجھ سے بیان کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَوْضِ فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا مُوَنَّقًا أَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ أَخِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৯
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم (رض) تشریف لائے تو حضرت ابن عباس (رض) نے ان سے کریدتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی نے کسی شکار کا ایک حصہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیۃ ًپیش کیا لیکن نبی کریم ﷺ نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاسکتے کیونکہ ہم محرم ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامًا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ رِجْلُ عُضْوٍ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪০
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت علی (رض) یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو ؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں بھی اس کا حل وہی جانتاہوں جو علی نے بتایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَجْلَحَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ نَفَرًا وَطِئُوا امْرَأَةً فِي طُهْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمْ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا فَأَقْبَلَ عَلَى الْآخَرَيْنِ فَقَالَ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا قَالَ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ قَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪১
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
نضربن انس (رح) کہتے ہیں کہ واقعہ حرہ میں حضرت انس (رض) کے جو بچے اور قوم کے لوگ شہید ہوگئے تھے ان کی تعزیت کرنے کے لئے حضرت زید بن ارقم (رض) نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتاہوں میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما اور انصار کی عورتوں کی ان کے بیٹوں کی عورتوں کی اور ان کے پوتوں کی عورتوں کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كَتَبَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ بِمَنْ أُصِيبَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪২
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت علی (رض) یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِذْ كَانَ بِالْيَمَنِ اشْتَرَكُوا فِي وَلَدٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَضَمِنَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَجَعَلَ الْوَلَدَ لَهُ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৩
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید بن ارقم (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں کس طرح نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے اپنے منہ صور سے لگا رکھا ہے پیشانی جھکا رکھی ہے اور کان متوجہ کر رکھے ہیں کہ کب اسے حکم ہوتا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) کو یہ بات سن کر بہت سخت معلوم ہوئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہتے رہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوسعیدخدری (رض) بھی مروی ہے کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ خَالِدٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْخَفَّافِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ قَالَ فَسَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৪
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید بن ارقم (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى مَسْجِدِ قُبَاءَ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءَ بَعْدَمَا أَشْرَقَتْ الشَّمْسُ فَإِذَا هُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ كَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৫
حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات
حضرت زید بن ارقم (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوگیا تو نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے جب میں صحیح ہوگیا تو گھر سے نکلا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں اسی بیماری میں رہتیں تو تم کیا کرتے ؟ میں نے جواب دیا کہ اگر میری آنکھیں اسی طرح رہتیں تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتا نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تم اللہ سے اس طرح ملتے کہ تمہارا کوئی گناہ نہ ہوتا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ أَصَابَنِي رَمَدٌ فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا بَرَأْتُ خَرَجْتُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا مَا كُنْتَ صَانِعًا قَالَ قُلْتُ لَوْ كَانَتَا عَيْنَايَ لِمَا بِهِمَا صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ قَالَ لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ذَنْبَ لَكَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَأَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ الْجَنَّةَ
তাহকীক: