আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬১ টি
হাদীস নং: ১৮৯১০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے اپنا سرجھکا رکھا تھا اس کا سوال سن کر نبی کریم ﷺ نے سر اٹھایا اگر وہ کھڑا ہوا نہ ہوتا تو نبی کریم ﷺ سر اٹھا کر اسے نہ دیکھتے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ ثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَن أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى سَأَلَ رَجُلٌ أَوْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مُنَكِّسٌ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَغَضَبًا فَلَهُ أَجْرٌ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا أَوْ كَانَ قَاعِدًا الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس کچھ اشعری لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس چلو، ہمیں ان سے کوئی کام ہے میں ان کے ساتھ چلا گیا، وہاں انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی عہدہ مانگا میں نے ان کی بات پر نبی کریم ﷺ سے معذرت کی اور عرض کیا کہ مجھے ان کی اس ضرورت کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا نبی کریم ﷺ نے میری تصدیق فرمائی اور میرا عذر قبول کرلیا اور فرمایا ہم کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ ثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَقَالَ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَقَالُوا اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً قَالَ فَقُمْتُ مَعَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَالُوا وَقُلْتُ لَمْ أَدْرِ مَا حَاجَتُهُمْ فَصَدَّقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَذَرَنِي وَقَالَ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا مَنْ سَأَلَنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اور حضرت معاذ (رض) کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنْ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنْ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَن زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي قَالَ شُعْبَةُ قَدْ كُنْتُ أَحْفَظُ اسْمَهُ قَالَ كُنَّا عَلَى بَابِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَنْتَظِرُ الْإِذْنَ عَلَيْهِ فَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ طَعْنُ أَعْدَائِكُمْ مِنْ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ قَالَ زِيَادٌ فَلَمْ أَرْضَ بِقَوْلِهِ فَسَأَلْتُ سَيِّدَ الْحَيِّ وَكَانَ مَعَهُمْ فَقَالَ صَدَقَ حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ ثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ قَالَ ثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْنَا فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِأَبِي مُوسَى فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي الطَّاعُونِ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم ﷺ نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ ثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَأَهْبَطَنَا وَهْدَةً مِنْ الْأَرْضِ قَالَ فَرَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا قَالَ ثُمَّ دَعَانِي وَكُنْتُ مِنْهُ قَرِيبًا فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ قَالَ ثَنَا يُونُسُ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکا رہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَا ثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ قَالَ سَمِعْتُ غُنَيْمًا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَرَوْحٌ قَالَا ثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ غُنَيْمًا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم ﷺ کو ان کی قسم یاد دلا دیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَن أَبِي السَّلِيلِ عَن زَهْدَمٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ فَلَمَّا رَجَعْنَا أَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى قَالَ فَقُلْتُ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا فَحَمَلْتَنَا فَقَالَ لَمْ أَحْمِلْكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهُ أَبُو السَّلِيلِ ضُرَيْبُ بْنُ نُقَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے بعد میں حضرت عمر (رض) کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی، جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا حضرت ابوموسیٰ (رض) انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری (رض) ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر (رض) نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَن أَبِي نَضْرَةَ عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذِهِ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ تَعَالَى فَقُلْتُ أَنَا مَعَكَ فَشَهِدُوا لَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْمُسْلِمَانِ تَوَاجَهَا بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَهُمَا فِي النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ مَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت، امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، پریشانیاں اور زلزلے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِلَّا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَاءُ وَالزَّلَازِلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
بوبردہ اور یزید بن ابی کبثہ ایک مرتبہ سفر میں اکٹھے تھے یزید دوران سفر روزہ رکھتے تھے ابوبردہ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ (رض) کو کئی مرتبہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے یا سفر پر چلا جاتا ہے تو اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا مقیم اور تندرست ہونے کی حالت میں اعمال پر ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَعْنَى قَالَ ثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقُولُ لِيَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ وَاصْطَحَبَا فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرِضَ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ كَمَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ كَتَبَ اللَّهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن قیس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا ثَلَاثًا قَالَ أَبُو مُوسَى فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى سَدَّدَ بِهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم ﷺ نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَسْرَعْنَا الْأَوْبَةَ وَأَحْسَنَّا الْغَنِيمَةَ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الرُّزْدَاقِ جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يُكَبِّرُ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ وَجَعَل يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَوَصَفَ يَزِيدُ كَأَنَّهُ يُشِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تُنَادُونَ دُونَ رُءُوسِ رِكَابِكُمْ ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوْ يَا أَبَا مُوسَى أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ! آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے نبی کریم ﷺ ہمارے سامنے موجود ہیں اور فرما رہے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ آؤ آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں اور انہوں نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں زمین میں اتر جاؤں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ فَقَالَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ هَلُمَّ فَلَنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذَا الْقَلْبَ كَرِيشَةٍ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ يُقِيمُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ ثَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَن أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبِي لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن قَتَادَةَ عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو مُوسَى يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَنَا الْمَطَرُ وَجَدْتَ مِنَّا رِيحَ الضَّأْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ابومجلز (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ (رض) مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جا رہے تھے تو راستے میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، انہوں نے عشاء کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت میں سورت نساء کی سو آیات پڑھ ڈالیں اس پر کسی نے نکیر کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس چیز میں کوئی کمی نہیں کی جہاں نبی کریم ﷺ نے قدم رکھا ہو، میں بھی وہیں قدم رکھوں اور نبی کریم ﷺ نے جس طرح کیا ہے میں بھی اسی طرح کروں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ ثَنَا ثَابِتٌ قَالَ ثَنَا عَاصِمٌ عَن أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ صَلَّى أَبُو مُوسَى بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক: