আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬১ টি
হাদীস নং: ১৮৭৩০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ابوبردہ (رح) کہتے ہیں کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوموسیٰ (رض) نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ میرے جنازے کو لے روانہ ہو تو تیزی سے چلنا، انگیٹھی ساتھ لے کر نہ جانامیری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، میری قبر پر کچھ تعمیر نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں ہر اس شخص سے بری ہوں جو بال نوچے، واویلا کرے اور گریبان چاک کرے لوگوں نے پوچھا کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ سن رکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی کریم ﷺ سے۔
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدِيثَ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ قَالَ أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ وَلَا يَتَّبِعُنِي مُجَمَّرٌ وَلَا تَجْعَلُوا فِي لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ وَلَا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً وَأُشْهِدُكُمْ أَنَّنِي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ أَوْ سَالِقَةٍ أَوْ خَارِقَةٍ قَالُوا أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم ﷺ ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کأہلال النبی ﷺ کہہ کر، نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو ؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقُلْتُ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ قُلْتُ لَا قَالَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَلَا رِيحَ لَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ أَوْ أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ فَقُلْتُ لِغَالِبٍ عَشْرٌ عَشْرٌ فَقَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس چیز کا رنگ آگ نے بدل ڈالا ہو اسے کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ لَوْنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ (رض) کی نگہداشت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مکمل حدیث ذکر کی
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گند کھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسے تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجًا فَتَنَحَّى فَقَالَ إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرًا فَقَالَ ادْنُهُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہیں تین مرتبہ اجازت مانگنی چاہئے مل جائے تو بہت اچھا اور اگر تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِيَسْتَأْذِنْ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَالِبٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ مَسْرُوقٍ أَوْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ الْيَرْبُوعِيِّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ عَشْرًا عَشْرًا قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم ﷺ کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ارْجِعُوا بِنَا أَيْ حَتَّى نُذَكِّرَهُ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ قَالَ إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس چیز کی حفاظت کرلے جو اس کے منہ میں ہے (زبان) اور شرمگاہ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَرْجَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گذشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز (رح) کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَفَ لَهُ قَالَ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ رَجُلًا مِنَّا كَانَ أَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَغَزَا فِي خِلَافَتِهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ عَشْرٌ عَشْرٌ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِي دَخَلَ النَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ خصوصیت اور عمومیت دونوں طریقوں پر انصار کے ساتھ کثرت سے ملاقات فرماتے تھے اگر خصوصیت کے ساتھ ملنا ہوتا تو متعلقہ آدمی کے گھر تشریف لے جاتے اور عمومی طور پر ملنا ہوتا تو مسجد میں تشریف لے جاتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ وَإِذَا زَارَ عَامَّةً أَتَى الْمَسْجِدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کوئی نیکی کرے اور اس پر اسے خوشی ہو اور کوئی گناہ ہونے پر غم ہو تو وہ مؤمن ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نماز مغرب نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ادا کی پھر سوچا کہ تھوڑی دیر انتظار کرلیتے ہیں اور عشاء کی نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھیں گے چناچہ ہم انتظار کرتے رہے نبی کریم ﷺ جب تشریف لائے تو پوچھا کہ تم اس وقت یہیں پر ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! یارسول اللہ ﷺ ! ہم نے سوچا کہ عشاء کی نماز آپ کے ساتھ ہی پڑھیں گے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ ﷺ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے ہی تھے اور فرمایا ستارے آسمان میں امن کے علامت ہیں جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان پر وہ قیامت آجائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے صحابہ کرام (رض) کے لئے امن کی علامت ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ (رض) پر وہ آفت آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ کرام (رض) میری امت کے لئے امن کی علامت ہیں جو وہ بھی ختم ہوجائیں گے تو میری امت پر وہ آزمائش آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ
তাহকীক: