আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯ টি
হাদীস নং: ১৮৯৭১
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
سیار بن سلالہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت میرے کانوں میں بالیاں تھیں، میں نوعمر تھا، حضرت ابوبرزہ (رض) فرمانے لگے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ قریش کے اس قبیلے کو ملامت کرتا رہتا ہوں، یہاں فلاں فلاں آدمی دنیا کی، خاطر قتال کرتا ہے یعنی عبدالملک بن مروان، حتیٰ کہ انہوں نے ابن ازرق کا بھی تذکرہ کیا، پھر فرمایا میرے نزدیک اس گروہ میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کا پیٹ مسلمانوں کے مال سے خالی ہو اور اس کی پشت ان کے خون سے بوجھل نہ ہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ قَالَ وَإِنِّي لَغُلَامٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ إِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ أَنِّي أَصْبَحْتُ لَائِمًا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ فُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا وَفُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ حَتَّى ذَكَرَ ابْنَ الْأَزْرَقِ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ لَهَذِهِ الْعِصَابَةُ الْمُلَبَّدَةُ الْخَمِيصَةُ بُطُونُهُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ وَالْخَفِيفَةُ ظُهُورُهُمْ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ لِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭২
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ بنی (علیہ السلام) نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے، یہ بات میں نہیں کہہ رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ بات فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بَرْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৩
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
عبیداللہ بن زیاد نے ایک مرتبہ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے پوچھا کیا آپ نے حوض کوثر کے حوالے سے نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک دو مرتبہ نہیں، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو طَالُوتَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ قَالَ لِأَبِي بَرْزَةَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهُ قَطُّ يَعْنِي الْحَوْضَ قَالَ نَعَمْ لَا مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৪
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
شریک بن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ نبی ﷺ کے کسی صحابی سے ملاقات ہوجائے اور وہ مجھ سے خوارج کے متعلق حدیث بیان کریں، چناچہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت ابوبرزہ (رض) سے ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہوگئی، میں نے ان سے عرض کیا اے ابوبرزہ ! خوارج کے حوالے سے آپ نے نبی ﷺ کو اگر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو تو وہ حدیث ہمیں بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے کانوں نے سنی اور میری آنکھوں نے دیکھی۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے ہوئے تھے، نبی ﷺ وہ تقسیم فرما رہے تھے، وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے، اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشانات تھے، وہ نبی ﷺ کے سامنے آیا، نبی ﷺ نے اسے کچھ نہیں دیا، دائیں جانب سے آیا لیکن نبی ﷺ نے کچھ نہیں دیا، بائیں جانب سے اور پیچھے سے آیا تب بھی کچھ نہیں دیا، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا واللہ اے محمد ! ﷺ آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں، آپ نے انصاف نہیں کیا، اس پر نبی ﷺ کو شدید غصہ آیا اور فرمایا بخدا ! میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤ گے، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے، غالباً یہ بھی ان ہی میں سے ہے اور ان کی شکل و صورت بھی ایسی ہی ہوگی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، ان کی علامت سر منڈانا ہوگی، یہ لوگ ہر زمانے میں نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص بھی نکل آئے گا، جب تم انہیں دیکھنا تو انہیں قتل کردینا، تین مرتبہ فرمایا اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَيُونُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ شَرِيكَ بْنَ شِهَابٍ قَالَ يُونُسُ الْحَارِثِيُّ وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ لَيْتَ أَنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنِي عَنْ الْخَوَارِجِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوَارِجِ قَالَ أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَرَأَتْهُ عَيْنَايَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ فَقَسَمَهَا وَثَمَّ رَجُلٌ مَطْمُومُ الشَّعْرِ آدَمُ أَوْ أَسْوَدُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَجَعَلَ يَأْتِيهِ مِنْ قِبَلِ يَمِينِهِ وَيَتَعَرَّضُ لَهُ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ الْيَوْمَ فِي الْقِسْمَةِ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ كَانَ هَذَا مِنْهُمْ هَدْيُهُمْ هَكَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الدَّجَّالِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنِي عَنْ الْخَوَارِجِ فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৫
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ جلیبیب عورتوں کے پاس سے گذرتا اور انہیں تفریح مہیا کرتا تھا، میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس جلیبیب کو نہیں آنا چاہیے، اگر وہ آیا تو میں ایسا ایسا کردوں گا، انصار کی عادت تھی کہ وہ کسی بیوہ عورت کی شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک نبی ﷺ کو اس سے مطلع نہ کردیتے، کہ نبی ﷺ کو تو اس سے کوئی ضرورت نہیں ہے، چناچہ نبی ﷺ نے ایک انصاری آدمی سے کہا کہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردو، اس نے کہا زہے نصیب یارسول اللہ ! بہت بہتر، نبی ﷺ نے فرمایا میں اپنی ذات کے لئے اس کا مطالبہ نہیں کر رہا، اس نے پوچھا یارسول اللہ ! پھر کس کے لئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جلیبیب کے لئے، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں، چناچہ وہ اس کی ماں کے پاس پہنچا اور کہا کہ نبی ﷺ تمہاری بیٹی کو پیغام نکاح دیتے ہیں، اس نے کہا بہت اچھا، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، اس نے کہا کہ نبی ﷺ اپنے لئے پیغام نہیں دے رہے بلکہ جلیبیب کے لئے پیغام دے رہے ہیں، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا بخدا ! کسی صورت میں نہیں، نبی ﷺ کو جلیبیب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کردیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سے سن رہی تھی۔ باہم صلاح مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی ﷺ کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کہ کیا آپ لوگ نبی ﷺ کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی ﷺ کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کردیں، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چناچہ اس کا باپ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے سے راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا میں راضی ہوں، چناچہ نبی ﷺ نے جلیبیب سے اس لڑکی کا نکاح کردیا، کچھ ہی عرصے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبیب بھی سوار ہو کر نکلے۔ جب جنگ سے فراغت ہوئی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم کسی کو غائب پا رہے ہو، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! فلاں فلاں لوگ ہمیں نہیں مل رہے، نبی ﷺ نے فرمایا لیکن مجھے جلیبیب غائب نظر آ رہا ہے، اسے تلاش کرو، لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو وہ سات آدمیوں کے پاس مل گئے، حضرت جلیبیب (رض) نے ان ساتوں کو قتل کیا تھا بعد میں خود بھی شہید ہوگئے، نبی ﷺ تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے، بعد میں مشرکین نے اسے شہید کردیا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ جملے دو مرتبہ دہرائے، پھر جب اسے نبی ﷺ کے سامنے اٹھایا گیا تو نبی ﷺ نے اسے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور تدفین تک نبی ﷺ کے دونوں بازو ہی تھے جو ان کے لئے جنازے کی چارپائی تھی، راوی نے غسل کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ أَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ فَقَالَ نِعِمَّ وَنُعْمَةُ عَيْنٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا قَالَ فَلِمَنْ قَالَ لِجُلَيْبِيبٍ قَالَ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا فَأَتَاهَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ قَالَتْ نِعِمَّ وَنُعْمَةُ عَيْنٍ زَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُهَا لِنَفْسِهِ قَالَتْ فَلِمَنْ قَالَ لِجُلَيْبِيبٍ قَالَتْ حَلْقَى أَجُلَيْبِيبٌ ابْنَهْ مَرَّتَيْنِ لَا لَعَمْرُ اللَّهِ لَا أُزَوِّجُ جُلَيْبِيبًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْفَتَاةُ لِأُمِّهَا مِنْ خِدْرِهَا مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمَا قَالَتْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَتَرُدُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ادْفَعُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَا يُضَيِّعُنِي فَأَتَى أَبُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَأْنَكَ بِهَا فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْزًى لَهُ وَأَفَاءَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَفْقِدُ فُلَانًا وَنَفْقِدُ فُلَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَانْظُرُوهُ فِي الْقَتْلَى فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ قَالَ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ثُمَّ حَمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ مَا لَهُ سَرِيرٌ غَيْرَ سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حُفِرَ لَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي لَحْدِهِ وَمَا ذَكَرَ غُسْلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৬
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
سیار ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی ﷺ فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی ﷺ عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَيَّارٌ نَسِيتُهَا وَالْعِشَاءَ لَا يُبَالِي بَعْدَ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ وَجْهَ جَلِيسِهِ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ قَالَ سَيَّارٌ لَا أَدْرِي فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ فِي كِلْتَيْهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৭
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں جب کوئی مجلس طویل ہوجاتی تو آخر میں اٹھتے ہوئے نبی ﷺ یوں کہتے سبحانک اللھم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک ایک مرتبہ ہم میں سے کسی نے عرض کیا کہ یہ جملہ ہم نے آپ سے پہلے کبھی نہیں سنا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ بِآخِرَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَقُولُ الْآنَ كَلَامًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا خَلَا قَالَ هَذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৮
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
ابوالوضئی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سفر میں تھے، ہمارے ساتھ حضرت ابوبرزہ (رض) بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ وَمَعَنَا أَبُو بَرْزَةَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭৯
حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
عبداللہ بن بریدہ (رح) کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے ثبوت میں شک تھا، اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) کو بلا بھیجا، وہ آئے تو عبیداللہ کے ہم نشینوں نے ان سے کہا کہ امیر نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ سے حوض کوثر کے متعلق دریافت کرے، کیا آپ نے اس حوالے سے نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی ﷺ کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنْ الْحَوْضِ فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ
তাহকীক: