আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৭ টি
হাদীস নং: ১৯৬৫৭
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل کو ختم کرنے کا حکم دیتا لہذا جو انتہائی سیاہ کتا ہو اسے قتل کردیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا وَلَكِنْ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৫৮
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری اسی سے لگتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৫৯
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ سَأَلَتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَّخِذُ الْكَلْبَ فِي دَارِهِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬০
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تھا اگر لوگ میرے پاس مجمع نہ لگاتے تو میں تمہیں نبی ﷺ کے انداز میں پڑھ کر سناتا نبی ﷺ نے سورت فتح کی تلاوت فرمائی تھی معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی مجمع لگ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو تمہیں تمہارے سامنے حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان کردہ طرز نقل کرکے دکھاتا کہ نبی ﷺ نے کس طرح قرأت فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَاكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى نَاقَتِهِ قَالَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِيهَا قَالَ أَبُو إِيَاسٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬১
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابتداءً کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر بعد میں فرمادیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور شکاری کتے اور بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔ اور فرمایا کہ جب کسی برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَكُمْ وَلِلْكِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ وَقَالَ فِي الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ اغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ فِي الثَّامِنَةِ بِالتُّرَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬২
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ خیبر کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی میں نے اسے پکڑ کر اپنی بغل میں رکھ لیا اچانک میری نظر پڑی تو نبی ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے اس پر مجھے شرم آگئی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَزَوْتُ وَأَخَذْتُهُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৩
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیت یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کی اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ كَلْبِ غَنَمٍ أَوْ كَلْبِ زَرْعٍ فَإِنَّهُ يُنْتَقَصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৪
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری لگتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ فَخَذَفَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৫
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل کو ختم کرنے کا حکم دیتا لہذا جو انتہائی سیاہ کتا ہو اسے قتل کردیا کرو۔ جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیتی یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৬
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اونٹوں کے ریوڑ میں نہیں کیونکہ ان کی پیدائش شیطان سے ہوئی ہے۔ (انکی فطرت میں شیطانیت ہے)
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ الشَّيَاطِينِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৭
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے عورت، کتا یا گدھا گذر جانے سے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৮
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی کو کنکری سے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے دشمن زیر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی شکار پکڑا جاسکتا ہے البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھ پھوٹ سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ وَتَكْسِرُ السِّنَّ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً لَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ وَلَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬৯
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے پڑھ لے (دو مرتبہ فرمایا) ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ وَكَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭০
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت کا انتظار کرے اسے دو قیراط ثواب ملے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭১
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیت یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلَا زَرْعٍ وَلَا غَنَمٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭২
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا اور حضرت عبداللہ کہنے لگے کہ شراب حرام ہے میں نے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہارا کیا مقصد ہے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی ﷺ سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں میں نے نبی ﷺ کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا میں نے مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن اور نبی ﷺ نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں نے دباغت دی ہوئی کھال کا برتن خرید لیا یہ دیکھو وہ لٹک رہا ہے اسی میں نبیذ بنائی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقَاشِيُّ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ غَزَا مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ مَا حُرِّمَ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ قَالَ الْخَمْرَةُ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَسُولَ اللَّهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ بَدَأَ بِالرِّسَالَةِ أَوْ يَكُونَ بَدَأَ بِالِاسْمِ فَقُلْتُ شَرْعِي بِأَنِّي اكْتَفَيْتُ قَالَ فَقَالَ نَهَى عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الْقَرْعُ وَنَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ مَا لُطِّخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ وَنَهَى عَنْ النَّقِيرِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَاكَ اشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَهِيَ هُوَ ذَا مُعَلَّقَةٌ يُنْبَذُ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭৩
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کے بارے میں کچھ کہنے سے اللہ سے ڈرو میرے پیچھے میرے صحابہ کو نشان طعن مت بنانا جو ان سے محبت کرتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے نفرت کرتا ہے وہ مجھ سے نفرت کی وجہ سے ان سے نفرت کرتا ہے جو انہیں ایذاء پہنچاتا ہے وہ مجھے ایذاء پہنچاتا ہے اور جو مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ اللہ کو ایذاء پہنچاتا ہے اللہ اسے عنقریب ہی پکڑ لے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْحَذَّاءُ التَّمِيمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ
তাহকীক: