আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫ টি
হাদীস নং: ২০১৬৮
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
حضرت خباب (رض) بن ارت سے مروی ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور میں عاص بن وائل کے لئے کام کرتا تھا ایک مرتبہ اس کے ذمے میرے کچھ درہم اکٹھے ہوگئے میں اس سے ان کا تقاضا کرنے کے لے آیا تو کہنے لگا کہ میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہیں کروں جب تک تم محمد کا انکار نہ کردوگے میں نے کہا کہ میں تو محمد کا انکار اس وقت نہیں کروں گا اگر تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ اس نے کہا جب میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو میرے پاس مال واولاد ہوگی (اس وقت تمہارا قرض چکادوں گا) میں نے نبی ﷺ سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے وہاں بھی مال واولاد سے نوازا جائے گا "۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ حَقٌّ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ سَيَكُونُ لِي ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ حَقَّكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمْ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৬৯
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
حضرت خباب (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے ہمراہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ہجرت کی تھی لہذا ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اب ہم میں سے کچھ لوگ دنیا سے چلے گئے اور اپنے اجروثواب میں سے کچھ نہ کھا سکے۔ ان ہی افراد میں حضرت مصعب بن عمیر بھی شامل ہیں جو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور ہمیں کوئی چیز انہیں کفنانے کے لئے نہیں مل رہی تھی صرف ایک چادر تھی جس سے ہم اس کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھلے رہتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈال دیں اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا پھل تیار ہوگیا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ وَسَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً إِذَا غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَطُّوا رَأْسَهُ وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا قَالَ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَ الثِّمَارَ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৭০
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نماز ظہر میں قرأت کیا کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا ؟ فرمایا نبی ﷺ کی داڑھی مبارک ہلنے کی وجہ سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قُلْنَا لِخَبَّابٍ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْنَا فَبِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৭১
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
قیس کہتے ہیں حضرت خباب (رض) کی عیادت کے لئے میں حاضر ہوا وہ اپنے باغ کی تعمیر میں مصروف تھے انہوں نے سات مرتبہ اپنے پیٹ پر داغنے کا علاج کیا تھا اور کہہ رہے تھے اگر نبی ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی ضرور دعا کرتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ أَتَيْتُ خَبَّابًا أَعُودُهُ وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৭২
حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت خ بن ارت (رض) کی مرویات۔
حضرت ذی العزہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی ﷺ اس وقت چہل قدمی کررہے تھے اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ بعض اوقات ابھی ہم لوگ اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت آجاتا ہے تو کیا ہم وہیں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کہ بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي قَاضِي الرَّيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ذِي الْغُرَّةِ قَالَ عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَنُصَلِّي فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَقَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا قَالَ لَا
তাহকীক: