আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৬ টি

হাদীস নং: ২০৪৭২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
زید بن وہب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر (رض) کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر (رض) کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَهُ فَسَأَلَهُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِكَ هَذَا فَقَالَ إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ هَذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَهُ دَعْوَتُهُ قَالَ وَمَا دُعَاءُ الْبَهِيمَةِ مِنْ الْبَهَائِمِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَهُوَ يَدْعُو كُلَّ سَحَرٍ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عِبَادِكَ وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ قَالَ أَبِي وَوَافَقَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
فلان عنزی کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر (رض) کے ساتھ کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک جگہ لوگ منتشر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوذر ! میں آپ سے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا اگر کوئی راز کی بات ہوئی تو وہ نہیں بتاؤں گا میں نے عرض کیا کہ راز کی بات نہیں ہے اگر کوئی آدمی نبی کریم ﷺ سے ملتا تو نبی کریم ﷺ اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا نبی کریم ﷺ سے جب بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ سب سے آخر میں واقعہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے قاصد بھیج کر مجھے بلایا میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ مرض الوفات میں تھے میں نے نبی کریم ﷺ کو لیٹا ہوا دیکھا تو نبی کریم ﷺ پر جھک گیا نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے سینے سے لگالیا۔ ﷺ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ وَلَمْ يَقُلْ الْغُبَرِيِّ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ قُلْتُ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَكِنْ كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مدینہ منورہ کے کسی کنارے سے نکلے تو میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بوذر ! نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ سُيِّرَ مِنْ الشَّامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ فَقَالَ مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنا ردیف بنالیا اور فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوجائیں گے اور تم اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک نہیں جاسکو گے تو اس وقت تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس وقت بھی اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچانا پھر فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدت کے ساتھ بکثرت مرنے لگیں گے اور آدمی کا گھر قبر ہی ہوگی تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس وقت بھی صبر کرنا، پھر فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے اور حجارۃ الزیت " خون میں ڈوب جائے گا تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے گھر میں رہنے ہی نہ دیا جائے تو کیا کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو اور ان میں شامل ہوجانا انہوں نے عرض کیا میں تو اپنا اسلحہ پکڑ لوں گا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو تم بھی ان کے شریک سمجھے جاؤ گے اس لئے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی دھار سے تمہیں خطرہ ہے تو تم اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹ جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْنَا مِنْ حَاشِي الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَإِنْ جِئْتَ وَقَدْ صَلَّى الْإِمَامُ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ قَبْلَ ذَلِكَ وَإِنْ جِئْتَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَّيْتَ مَعَهُ وَكَانَتْ صَلَاتُكَ لَكَ نَافِلَةً وَكُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ جَاعُوا حَتَّى لَا تَبْلُغَ مَسْجِدَكَ مِنْ الْجَهْدِ أَوْ لَا تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ مِنْ الْجَهْدِ فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ تَصَبَّرْ يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ مَاتُوا حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ تَعَفَّفْ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ قُتِلُوا حَتَّى يَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنْ الدِّمَاءِ كَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ تَدْخُلُ بَيْتَكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ أَنَا دُخِلَ عَلَيَّ قَالَ تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ قَالَ قُلْتُ وَأَحْمِلُ السِّلَاحَ قَالَ إِذًا شَارَكْتَ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنْ خِفْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتٰی کہ دوران نماز کنکریوں کو ہٹانے کے متعلق بھی پوچھا ہے جس کا جواب نبی کریم ﷺ نے یہ دیا ہے کہ صرف ایک مرتبہ برابر کرلو یا چھوڑ دو (اسی طرح رہنے دو )
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَمُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ وَاحِدَةً أَوْ دَعْ قَالَ مُؤَمَّلٌ عَنْ تَسْوِيَةِ الْحَصَى أَوْ مَسْحِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم ﷺ نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم ﷺ نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنالمبا قیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے ؟ نبی کریم ﷺ فرمایا نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ اگلی رات نبی کریم ﷺ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ٢٨ ویں شب کو نبی کریم ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہمیں " فلاح " کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگا میں نے " فلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی سحری بتایا پھر فرمایا اے بھتیجے ! اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہینے کی کسی رات میں ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ وَقَالَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৭৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا تُحَرِّكُوا الْحَصَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ أَيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ فَدَعْ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ " عکاف بن بشر تمیمی " نام کا ایک آدمی آیا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا عکاف ! تمہاری کوئی بیوی ہے ؟ عکاف نے کہا نہیں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کوئی باندی ؟ اس نے کہا نہیں، نبی کریم ﷺ نے پوچھا تم مالدار بھی ہو ؟ عرض کیا جی الحمدللہ ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں شمار ہوتے لیکن ہماری سنت تو نکاح ہے تم میں سے بدترین لوگ کنوارے ہیں اور گھٹیا ترین موت مرنے والے کنوارے ہیں کیا تم شیطان سے لڑتے ہو ؟ شیطان کے پاس نیک آدمیوں کے لئے عورتوں سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں سوائے اس کے کہ وہ شادی شدہ ہوں یہی لوگ پاکیزہ اور گندگی سے مبرا ہوتے ہیں عکاف یہ عورتیں تو حضرت ایوب (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اور کرسف (علیہ السلام) کی ساتھی رہی ہیں بشر بن عطیہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کرسف کون تھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ ایک آدمی تھا جو کسی ساحل پر تین سو سال تک اللہ کی عبادت میں مصروف رہا دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قیام کرتا تھا لیکن پھر ایک عورت کے عشق کے چکر میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کر بیٹھا اور اللہ کی عبادت بھی چھوڑ دی بعد میں اللہ نے اس کی دستگیری فرمائی اور اس کی توبہ قبول فرمالی ارے عکاف ! نکاح کرلو ورنہ تم تذبذب کا شکار رہو گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ خود ہی میرا نکاح کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تمہارا نکاح کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ قَالَ لَا قَالَ وَلَا جَارِيَةٍ قَالَ وَلَا جَارِيَةَ قَالَ وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ وَلَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ أَبِالشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ مَا لِلشَّيْطَانِ مِنْ سِلَاحٍ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنْ الْخَنَا وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَةِ عَامٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنْ الْمُذَبْذَبِينَ قَالَ زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
احنف بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں تھا کہ ایک آدمی پر نظرپڑی جسے دیکھتے ہی لوگ اس سے کنی کترانے لگتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نبی کریم ﷺ کا صحابی ابوذر (رض) ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ لوگ کیوں آپ سے کنی کترا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں انہیں مال جمع کرنے سے اسی طرح روکتا ہوں جیسے نبی کریم ﷺ روکتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا يُفِرُّ النَّاسَ قَالَ إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنْ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا وہ رکوع سجدہ کرتا پھر کھڑا ہو کر رکوع سجدہ کرتا اور درمیان میں نہ بیٹھتا، میں نے کہا بخدا ! یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتا کہ جفت یا طاق رکعتوں پر سلام پھیر کر فارغ ہوجائے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر ان کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ہو ؟ میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا اور اس سے کہا کہ اے بندہ خدا ! لگتا ہے کہ آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ جفت یا طاق رکعتوں پر نماز سے فارغ ہوجائیں، اس نے کہا کہ اللہ تو جانتا ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے کوئی سجدہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ابوذر ہوں تو میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آکر کہا کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کی طرف سے برا بدلہ دے تم مجھے نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی (رض) کو دین سکھانے کے لئے بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَوَجَدْتُ فِيهِ رَجُلًا يُكْثِرُ السُّجُودَ فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ أَتَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ إِنْ أَكُ لَا أَدْرِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْرِي ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری (رض) کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سا مال ہے ؟ انہوں نے فرمایا میرا مال میرے اعمال ہیں میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن دو مسلمان یہاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔ اور جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَزِيدُ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنِي صَعْصَعَةُ قَالَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يَقُودُ جَمَلًا لَهُ وَفِي عُنُقِهِ قِرْبَةٌ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا تُحَدِّثُنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ وَقَالَ يَزِيدُ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
نعیم بن قعنب کہتے ہیں کہ میں " ربذہ " کی طرف روانہ ہوا تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوذر (رض) بھی آگئے انہوں نے اپنی بیوی سے کوئی بات کی اس نے انہیں آگے سے جواب دے دیا دو مرتبہ اسی طرح ہوا تو حضرت ابوذر (رض) کہنے لگے کہ تم لوگ نبی کریم ﷺ کے فرمان سے آگے نہیں بڑھ سکتے کہ عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے موڑو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ورنہ اسی ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ عَلَيْهِ وَعَادَ فَعَادَتْ فَقَالَ مَا تَزِدْنَ عَلَى مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ كَالضِّلْعِ فَإِنْ ثَنَيْتَهَا انْكَسَرَتْ وَفِيهَا بَلْغَةٌ وَأَوَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ أَحْسَبُهُ قَالَ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ فَقَالَ إِنَّهُ شَيْطَانٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابوذر (رض) اپنی قوم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے بنوغفار ! جو بات کہا کرو اس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ نبی صادق و مصدوق ﷺ نے مجھے بتایا ہے کہ لوگوں کو تین گروہوں کی شکل میں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا ایک تو سواروں کا ہوگا جو کھاتے پیتے اور لباس پہنے ہوں گے دوسرا گروہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا ہوگا جن کے چہروں پر فرشتے آگ مسلط کردیں گے اور انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا کسی نے پوچھا کہ ان دو گروہوں کی بات تو ہمیں سمجھ میں آگئی یہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا کیا معاملہ ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ سواری پر کوئی آفت نازل کردے گا حتٰی کہ کوئی سواری نہ رہے گی یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایک آدمی کے پاس ایک نہایت عمدہ باغ ہو اور اسے کوئی غضبناک اونٹنی دے دی جائے تو ظاہر ہے کہ وہ اس پر سواری نہیں کرسکے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ يَا بَنِي غِفَارٍ قُولُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى النَّارِ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ هَذَانِ قَدْ عَرَفْنَاهُمَا فَمَا بَالُ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ قَالَ يُلْقِي اللَّه الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا يَبْقَى ظَهْرٌ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ الْمُعْجِبَةُ فَيُعْطِيهَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْ أَيْلَةَ قَالَ مَرَرْتُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ نِعْمَ الْغُلَامُ فَاتَّبَعَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي ادْعُ اللَّهَ لِي بِخَيْرٍ قَالَ قُلْتُ وَمَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي مِنِّي لَكَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ مَرَرْتُ بِهِ آنِفًا يَقُولُ نِعْمَ الْغُلَامُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৮৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میرا قرب اسے ملے گا جو دنیا سے اسی حال پر واپس چلاجائے جس پر میں اسے چھوڑ کر جاؤں واللہ میرے علاوہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے دنیا سے کچھ نہ کچھ تعلق وابستہ نہ کرلیا ہو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنْ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৯০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلاجا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ "
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ بَرْذَعَةٌ أَوْ قَطِيفَةٌ قَالَ فَذَاكَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغِيبُ هَذِهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِئَةٍ تَنْطَلِقُ حَتَّى تَخِرَّ لِرَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ سَاجِدَةً تَحْتَ الْعَرْشِ فَإِذَا حَانَ خُرُوجُهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُطْلِعَهَا مِنْ حَيْثُ تَغْرُبُ حَبَسَهَا فَتَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّ مَسِيرِي بَعِيدٌ فَيَقُولُ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ غِبْتِ فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪৯১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ایک آدمی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے کچھ چیزیں اکٹھی کیں تاکہ حضرت ابوذر (رض) کو جا کر دے آئیں چناچہ ہم " ربذہ " میں پہنچے اور انہیں تلاش کرنے لگے لیکن وہ وہاں نہیں ملے کسی نے بتایا کہ انہوں نے حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی جو انہیں مل گئی چناچہ ہم منٰی میں پہنچے ابھی ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے ہی تھے کہ کسی نے آکر انہیں بتایا کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے منٰی میں چار رکعتیں پڑھائی ہیں حضرت ابوذر (رض) کی طبیعت پر اس کا بہت بوجھ ہوا اور انہوں نے کچھ تلخ باتیں کہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں اور میں نے حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ بھی اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ پھر حضرت ابوذر (رض) کھڑے ہوئے تو چار رکعتیں پڑھیں کسی نے ان سے کہا کہ آپ نے پہلے تو امیرالمؤمنین کے فعل کو معیوب قرار دیا پھر خود وہی کام کرنے لگے انہوں نے فرمایا اختلاف کرنا زیادہ شدید ہے نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا تم اسے ذلیل نہ کرنا جو شخص اسے ذلیل کرنا چاہئے گا تو گویا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی تاآنکہ وہ اس سوراخ کو بند کر دے جسے اس نے کھولا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا پھر اگر وہ واپس آجاتا ہے تو وہ عزت کرنے والوں میں ہوگا نبی کریم ﷺ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہم تین چیزوں سے مغلوب نہ رہیں امربالمعروف کرتے رہیں نہی عن المنکر کرتے رہیں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم کرتے رہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ رَجُلٍ قَالَ كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلْدَةِ وَهِيَ مِنًى فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ صَنَعْتَ قَالَ الْخِلَافُ أَشَدُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ كَائِنٌ بَعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ الَّتِي ثَلَمَ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعِزُّهُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ
tahqiq

তাহকীক: