আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪ টি
হাদীস নং: ২০৭২৭
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
قیس بن کثیر (رح) کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ سے ایک آدمی حضرت ابودرداء (رض) کے پاس دمشق میں آیا انہوں نے آنے والے سے پوچھا کہ بھائی ! کیسے آنا ہوا ؟ اس نے کہا کہ ایک حدیث معلوم کرنے کے لئے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ کسی تجارت کے سلسلے میں نہیں آئے ؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے پوچھا کسی اور کام کے لئے ؟ اس نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ صرف اسی حدیث کے طلب میں آئے ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے میں چلتا ہے اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے اور فرشتے اس طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چاند کی دوسرے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں جو وراثت میں دینار و درہم نہیں چھوڑتے، بلکہ وہ تو وراثت میں علم چھوڑ کر جاتے ہیں، سو جو اسے حاصل کرلیتا ہے وہ اس کا بہت سا حصہ حاصل کرلیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ مَا أَقْدَمَكَ أَيْ أَخِي قَالَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ قَالَ لَا قَالَ أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ قَالَ لَا قَالَ مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭২৮
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
ایک آدمی کو اس کی ماں یا باپ یا دونوں نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا اور) کہا کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس پر سو غلام آزاد کرنا واجب ہوں گے، پھر وہ آدمی حضرت ابودرداء (رض) کے پاس آیا تو وہ چاشت کی لمبی نماز پڑھ رہے تھے پھر انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان نماز پڑھی پھر اس شخص نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا اپنی منت پوری کرلو (سو غلام آزاد کردو) اور اپنے والدین کی بات مانو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ أَوْ أَبُوهُ أَوْ كِلَاهُمَا قَالَ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يُطِيلُهَا وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْفِ نَذْرَكَ وَبَرَّ وَالِدَيْكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ أَوْ اتْرُكْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭২৯
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
ابو حبیبہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینا اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء (رض) سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَبِيبَةَ قَالَ أَوْصَى رَجُلٌ بِدَنَانِيرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسُئِلَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩০
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
ابو حبیبہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینار اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء (رض) سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ قَالَ أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقُلْتُ إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ أَضَعُهُ فِي الْفُقَرَاءِ أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ أَوْ فِي الْمَسَاكِينَ قَالَ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩১
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! تو ایک انصاری نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَبَتْ هَذِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩২
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں " اور اس منادی کو جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ وہ تھوڑا جو کافی ہوجائے، اس زیادہ سے بہتر ہے جو غفلت میں ڈال دے اسی طرح جب بھی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں اور اس منادی کو بھی جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطاء فرما اور اے اللہ ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৩
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، ٹھکانہ اثر اور اس کا رزق۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ مِنْ أَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَمَضْجَعِهِ وَأَثَرِهِ وَرِزْقِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৪
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، اثر اور اس کا رزق اور یہ کہ وہ شقی ہوگا یا سعید۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ قَاضِي الْبَلْقَاءِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ مِنْ أَجَلِهِ وَرِزْقِهِ وَأَثَرِهِ وَشَقِيٍّ أَمْ سَعِيدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৫
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن غنم (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابودرداء (رض) سے ملاقات کے لئے " حمص " گئے اور چند دن تک ان کے یہاں قیام کیا پھر حکم دیا تو ان کے گدھے پر پلان لگا دیا گیا، حضرت ابودرداء (رض) نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلوں گا، چناچہ ان کے حکم پر ان کے گدھے پر بھی زین کس دی گئی اور وہ دونوں اپنی اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے، راستے میں انہیں ایک آدمی ملا جس نے گذشتہ دن جمعے کی نماز حضرت امیر معاویہ (رض) کے ساتھ جابیہ میں پڑھی تھی، اس نے ان دونوں کو پہچان لیا لیکن وہ دونوں اسے نہ پہچان سکے، اس نے انہیں وہاں کے لوگوں کے حالات بتائے پھر کہنے لگا کہ ایک خبر اور بھی ہے لیکن وہ آپ کو بتانا مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا ہے کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس سے آپ کی طبیعت پر بوجھ ہوگا حضرت ابودرداء (رض) نے فرمایا شاید حضرت ابوذر (رض) کو جلا وطن کردیا گیا ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! یہی خبر ہے۔ اس پر حضرت ابودرداء (رض) اور ان کے ساتھی نے تقریباً دس مرتبہ " انا للہ " پڑھا پھر حضرت ابودرداء (رض) نے فرمایا کہ تم اسی طرح انتظار اور صبر کرو جیسے اونٹنی والوں (قوم ثمود) سے کہا گیا تھا اے اللہ ! اگر یہ لوگ ابوذر کو جھٹلا رہے ہیں تو میں ابوذر کو جھٹلانے والوں میں شامل نہیں ہوں، اے اللہ ! اگر وہ تہمت لگا رہے ہیں تو میں انہیں متہم نہیں کرتا، اے اللہ اگر وہ ان پر چھا رہے ہیں تو میں ایسا نہیں کر رہا، کیونکہ نبی کریم ﷺ اس وقت انہیں امین قرار دیتے تھے جب کسی کو امین قرار نہیں دیتے تھے اس وقت ان کے پاس خود چل کر جاتے تھے جب کسی کے پاس نہیں جاتے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابودرداء (رض) کی جان ہے اگر ابوذر میرا داہنا ہاتھ بھی کاٹ دیں تو میں ان سے کبھی بغض نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر (رض) زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ أَنَّهُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ لَيَالِيَ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُوكِفَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مَا أَرَانِي إِلَّا مُتَّبِعَكَ فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِيعًا عَلَى حِمَارَيْهِمَا فَلَقِيَا رَجُلًا شَهِدَ الْجُمُعَةَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بِالْجَابِيَةِ فَعَرَفَهُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ فَأَخْبَرَهُمَا خَبَرَ النَّاسِ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ وَخَبَرٌ آخَرُ كَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَكُمَا أُرَاكُمَا تَكْرَهَانِهِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِيَ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَصَاحِبُهُ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ كَمَا قِيلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَةِ اللَّهُمَّ إِنْ كَذَّبُوا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّي لَا أُكَذِّبُهُ اللَّهُمَّ وَإِنْ اتَّهَمُوهُ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُهُ اللَّهُمَّ وَإِنْ اسْتَغَشُّوهُ فَإِنِّي لَا أَسْتَغِشُّهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتَمِنُهُ حِينَ لَا يَأْتَمِنُ أَحَدًا وَيُسِرُّ إِلَيْهِ حِينَ لَا يُسِرُّ إِلَى أَحَدٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ يَمِينِي مَا أَبْغَضْتُهُ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৬
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شہر غوطہ میں جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) " دمشق " نامی شہر کے پہلو میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ قَالَ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْغُوطَةُ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৭
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابودرداء (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی میرے چچا کی بیٹی ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے لیکن میری والدہ مجھے حکم دیتی ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور نہ یہ کہ اپنی والدہ کی نافرمانی کرو البتہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے کہ والدہ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تم چاہو تو اسے روک کر رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَقَالَ لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৮
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
ثابت یا ابوثابت سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء (رض) نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کریم کی اس آیت فمنہم ظالم لنفسہ کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلاحساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا بِالْخَيْرَاتِ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا فَأُولَئِكَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحْبَسُونَ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ ثُمَّ هُمْ الَّذِينَ تَلَافَاهُمْ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ فَهُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ إِلَى قَوْلِهِ لُغُوبٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩৯
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت انس جہنی (رض) ایک مرتبہ حضرت ابودرداء (رض) کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْمَرَضِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الصُّدَاعَ وَالْمَلِيلَةَ لَا تَزَالُ بِالْمُؤْمِنِ وَإِنَّ ذَنْبَهُ مِثْلُ أُحُدٍ فَمَا تَدَعُهُ وَعَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪০
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ ثِيَابَهُ وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ يُؤْذِهِ وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪১
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ نے برسر منبر سورت برأت کی تلاوت فرمائی اس وقت نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر اللہ کے احسانات کا تذکرہ فرما رہے تھے حضرت ابی بن کعب (رض) نبی کریم ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہمراہ حضرت ابودرداء (رض) اور ابوذر غفاری (رض) بھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے حضرت ابی (رض) کو چٹکی بھری اور کہا کہ ابی ! یہ سورت کب نازل ہوئی ہے ؟ یہ تو میں ابھی سن رہا ہوں حضرت ابی بن کعب (رض) نے انہیں اشارے سے خاموش رہنے کا حکم دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی تو آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ حضرت ابی (رض) نے فرمایا آج تو تمہاری نماز صرف اتنی ہی ہوئی ہے جتنا تم نے اس میں یہ لغو کام کیا وہ نبی ﷺ کے پاس چلے گئے اور حضرت ابی (رض) کی یہ بات ذکر کی تو نبی ﷺ نے فرمایا ابی نے سچ کہا۔ جب تم امام کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھو تو خاموش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے۔
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ يَا أُبَيُّ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ مَا لَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلْتُهُ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ أَنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتُ فَقَالَ صَدَقَ أُبَيٌّ فَإِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪২
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے کمزوروں کو تلاش کر کے میرے پاس لایا کرو کیونکہ تمہیں رزق اور فتح ونصرت تمہارے کمزوروں کی برکت سے ملتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ أَبِي وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَبْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪৩
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ام درداء (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ابودرداء (رض) جب بھی کوئی حدیث سناتے تو مسکرایا کرتے تھے میں نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ کہیں لوگ آپ کو " احمق " نہ کہنے لگیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی کریم کو کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے جب بھی دیکھا یا سنا ہے تو آپ ﷺ مسکرا رہے ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَنَا بَقِيَّةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ شَيْخٍ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا تَبَسَّمَ فَقُلْتُ لَا يَقُولُ النَّاسُ إِنَّكَ أَيْ أَحْمَقُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪৪
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے کتاب کے ستونوں کو دیکھا کہ انہیں میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، میں سمجھ گیا کہ اسے لیجایا جارہا ہے چناچہ میری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی رہیں پھر اسے شام پہنچا دیا گیا یاد رکھو ! جس زمانے میں فتنے رونما ہوں گے اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪৫
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ابودرداء (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام قبول کرلو اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِي الْعَذْرَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ يَعْنِي أَسْلِمُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪৬
حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء (رض) کی مرویات
حضرت ام درداء (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ابودرداء (رض) جب بھی کوئی حدیث سناتے تو مسکرایا کرتے تھے میں نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ کہیں لوگ آپ کو " احمق " نہ کہنے لگیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی کریم کو کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے جب بھی دیکھا یا سنا ہے تو آپ ﷺ مسکرا رہے ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُحَمِّقَكَ النَّاسُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ
তাহকীক: