আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৯ টি
হাদীস নং: ২২৫৭১
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت کعب بن عاصم اشعری (رض) سے مروی ہے کہ جو کہ اصحاب سقیفہ میں سے تھے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ السَّقِيفَةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৪
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک انصاری صحابی (رض) کی روایت
ایک انصاری صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عہد نبوت میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دیا پھر خیال آنے پر اپنی بیوی سے کہا چناچہ اس نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی بھی ایسا کرلیتے ہیں اس عورت نے اپنے شوہر کو بتایا انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو تو بہت سے کاموں کی اجازت حاصل ہے تم واپس جا کر ان سے یہ بات کہو چناچہ اس نے واپس جا کر عرض کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو تو بہت سے کاموں کی اجازت حاصل ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کو جاننے والا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَقَالَ أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৫
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی حدیثیں
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی (رض) آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَيْنَا فِي الْبَحْرِ سِتَّ سِنِينَ فَخَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُحَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ النَّاسِ قَالُوا قَالَ فَشَدَّدُوا عَلَيْهِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُنْذِرُكُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أُنْذِرُكُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَهُوَ رَجُلٌ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّهُ قَالَ الْيُسْرَى يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا مَعَهُ جِبَالُ خُبْزٍ وَأَنْهَارُ مَاءٍ يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ فَذَكَرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ وَالْمَدِينَةَ غَيْرَ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّ فِي حَدِيثِهِ يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْبَشَرِ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৬
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی حدیثیں
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی (رض) آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنِي عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ مُصَدَّقًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنْذَرْتُكُمْ فِتْنَةَ الدَّجَّالِ فَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ أَوْ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ آدَمُ جَعْدٌ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى وَإِنَّهُ يُمْطِرُ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَةَ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا ثُمَّ يُحْيِيهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ وَنَهْرٌ وَمَاءٌ وَجَبَلُ خُبْزٍ وَإِنَّ جَنَّتَهُ نَارٌ وَنَارَهُ جَنَّةٌ وَإِنَّهُ يَلْبَثُ فِيكُمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَرِدُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا أَرْبَعَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَالطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَإِنْ شَكَلَ عَلَيْكُمْ أَوْ شُبِّهَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৭
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی حدیثیں
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی (رض) آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذْكَرُ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْذَرْتُكُمْ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَمَا يُشَبَّهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৮১
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ رابع عشرالانصار-r-nحضرت محیصہ بن مسعود (رض) کی حدیثیں
حضرت محیصہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم ﷺ کے سامنے دہرایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ نَافِعٌ أَبُو طَيِّبَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ خَرَاجِهِ فَقَالَ لَا تَقْرَبْهُ فَرَدَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اعْلِفْ بِهِ النَّاضِحَ وَاجْعَلْهُ فِي كِرْشِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬৭
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ خامس عشرالانصار-r-nحضرت عبداللہ بن سلام (رض) کی حدیثیں
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہم سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جمعہ میں ایک ساعت آتی ہے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں نے سوچا واللہ اگر میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا چناچہ میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے یہاں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اس دن انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کی روح قبض ہوئی اسی دن قیامت قائم ہوگی لہٰذا یہ آخری ساعت ہوئی میں نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ساعت نماز کے وقت ہوتی ہے اور عصر کے بعد نماز کا وقت نہیں ہوتا ؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں واللہ وہی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْهَا فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَبَضَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ فَهِيَ آخِرُ سَاعَةٍ وَقَالَ سُرَيْجٌ فَهِيَ آخِرُ سَاعَتِهِ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةٍ وَلَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ قَالَ أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ فِي صَلَاةٍ قُلْتُ بَلَى هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০২
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت سعید بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک آدمی رہتا تھا جو ناقص الخلقت اور انتہائی کمزور تھا ایک مرتبہ اس نے لوگوں کو حیرت زدہ کردیا کہ وہ گھر کی ایک لونڈی کے ساتھ " خباثت " کرتا ہوا پکڑا گیا تھا تو حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی عدالت میں پیش کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس پر حد جاری کردو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو اتنا کمزور ہے کہ اگر ہم نے اسے سو کوڑے مارے تو یہ تو مرجائے گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر سو ٹہنیوں کا ایک گچھا لو اور اس سے ایک ضرب اسے لگا دو اور پھر اس کا راستہ چھوڑ دو ۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৩
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت طلق بن علی (رض) سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ میں نے بھی حصہ لیا ہے نبی کریم ﷺ (میرے متعلق صحابہ کرام (رض) سے) فرماتے تھے کہ گارا اس یمامی کے قریب کرو کیونکہ یہ تم سے اچھے طریقے سے لگا رہا ہے اور تم سے زیادہ مضبوط کندھے والا ہے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৪
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت طلق (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران قبیلہ عبدالقیس کے " صحار " نامی آدمی آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اپنے علاقے میں پھلوں سے جو شراب بناتے ہیں اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا حتیٰ کہ انہوں نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ نشہ آور چیزوں کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ تم خود بھی اسے نہ پینا اور اپنے کسی مسلمان بھائی کو بھی نہ پلانا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ جو آدمی بھی اس کے نشے سے لذت حاصل کرنے کے لئے اسے پیتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن اپنی پاکیزہ شراب نہ پلائے گا۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৭
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت عمارہ بن حزم (رض) (یا عمرو بن حزم (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے کسی قبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا جبکہ میں نے اس کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا قبر سے نیچے اترو صاحب قبر کو اذیت نہ دو تاکہ کوئی تمہیں اذیت نہ دے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৯
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
محمد بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر (رض) شہید ہوئے تو عمرو بن حزم (رض) حضرت عمرو بن عاص (رض) کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ حضرت عمار (رض) شہید ہوگئے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১০
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت عمرو بن حزم (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبروں پر مت بیٹھا کرو۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৩
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت نوفل اشجعی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ سوتے وقت کیا پڑھ لیا کروں نبی کریم ﷺ نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت کو پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو کہ یہ شرک سے برأت کا اعلان ہے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৬
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فطری سادگی ایمان کا حصہ ہے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৭
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
عمیر " جو حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار " جو حضرت میمونہ (رض) کے آزاد کردہ غلام تھے " حضرت ابوجہیم بن حارث (رض) کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ بئر جمل کی طرف سے آرہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی اس نے سلام کیا لیکن نبی کریم ﷺ نے جواب نہیں دیا بلکہ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں پر اس سے تیمم کیا اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৯
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
ابن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جب خیبر کی طرف ابن ابی الحقیق کے پاس ایک دستہ روانہ فرمایا تو اسے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৫
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
زہیر بن قیس کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوگیا تو میں نے سوچ لیا کہ مرتے دم تک اس شخص کے ساتھ رہوں گا جس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৬
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت علی بن شیبان (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہے تو نبی کریم ﷺ ٹھہر گئے جب وہ آدمی بھی نماز سے فارغ ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنی نماز ازسر نو پڑھو کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہوئے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔
مسنگ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৭
حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
حضرت عمرو بن تغلب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا علامات قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مال و دولت خوب پھیل اور بڑھ جائے گا قلم کا ظہور ہوگا اور تجارت خوب وسیع ہوجائے گی عمرو (رض) کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی خریدوفروخت کرے گا تو کہے گا کہ پہلے میں بنو فلاں کے تاجروں سے مشورہ کرلوں اور ایک بڑے محلے میں کاتب کو تلاش کیا جائے گا لیکن وہ نہیں ملے گا۔
مسنگ
তাহকীক: