আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮০ টি

হাদীস নং: ২১৭৫৫
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر ! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم ﷺ یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے ؟ حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا تمہاری مرضی چناچہ حضرت بلال (رض) نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر (رض) نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر (رض) پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر (رض) پیچھے آگے اور نبی کریم ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم ﷺ سے آگے بڑھے پھر نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں ؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَقَالَ يَا بِلَالُ إِنْ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ بِهِمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَوْهُ صَفَّحُوا وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ فَالْتَفَتَ فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ امْضِهْ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّاسِ إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحْ النِّسَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৫৬
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام " ریان " ہے قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں ؟ ریان کی طرف آؤ جب ان کا آخری آدمی بھی اندر داخل ہوچکے گا تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ قَالَ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلُمُّوا إِلَى الرَّيَّانِ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ ذَلِكَ الْبَابُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৫৭
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام " ریان " ہے قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں ؟ ریان کی طرف آؤ جب ان کا آخری آدمی بھی اندر داخل ہوچکے گا تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُدْعَى الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَإِذَا دَخَلُوهُ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ غَيْرُهُمْ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا حَازِمٍ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ غَيْرَ أَنِّي لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْفَظُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৫৮
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৫৯
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ خیبر پر فتح عطاء فرما دے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا لوگوں کی رات اسی اشتیاق میں گذر گئی کہ دیکھیں جھنڈا کس کو ملتا ہے ؟ صبح ہوئی تو لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہر ایک کی خواہش یہی تھی کہ جھنڈا اسے ملے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ تو بیمار ہیں چناچہ انہیں قاصد بھیج کر بلایا گیا نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا اور ان کے لئے دعاء کی تو وہ ٹھیک ہوگئے اور یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ کبھی بیمار ہی نہیں ہوئے تھے پھر نبی کریم ﷺ نے وہ جھنڈا انہیں دے دیا حضرت علی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں ان سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ ہم جیسے نہ ہوجائیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رکو جب تم ان کے علاقے میں پہنچو تو انہیں اسلام کی طرف دعوت دو اور انہیں اللہ کے حقوق سے آگاہ کرو، بخدا ! تمہارے ذریعے کسی ایک آدمی کو ہدایت مل جانا تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬০
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا جو شخص وہاں آئے گا وہ اس کا پانی بھی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہنچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر ان کے اور میرے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ حضرت نعمان بن ابی عیاش نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو کہنے لگے کیا تم نے حضرت سہل (رض) کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمائیں گے یہ میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا اعمال سر انجام دیئے تھے ؟ میں کہوں گا کہ دور ہوجائیں وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُ يَزِيدَ فَيَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬১
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬২
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ کوئی مشروب لایا گیا نبی کریم ﷺ نے اسے نوش فرمایا آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب عمر رسیدہ افراد نبی کریم ﷺ نے اس لڑکے سے پوچھا کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ اپنا پس خودرہ انہیں دے دوں ؟ اس لڑکے نے " نہیں " کہا اور کہنے لگا اللہ کی قسم ! میں آپ کے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا چناچہ نبی کریم ﷺ نے وہ برتن اس کے ہاتھ پر پٹک دیا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৩
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بنی ہوئی چادر " جس پر دونوں طرف کناری لگی ہوئی تھی " لے کر آئی (حضرت سہل (رض) نے لوگوں کو چادر کی وضاحت بھی بتائی) اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ یہ میں اپنے ہاتھ سے بن کر آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ آپ اسے پہن لیں نبی کریم ﷺ کو چونکہ ضرورت تھی اس لئے وہ چادر اس سے لے لی، تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ جب باہر آئے تو وہ چادر آپ ﷺ کے جسم مبارک پر تھی ایک آدمی نے " جس کا نام حضرت سہل (رض) نے بتایا تھا " اسے چھو کر دیکھا اور کہنے لگا کہ کیسی عمدہ چادر ہے یا رسول اللہ ! ﷺ یہ مجھے پہننے کے لئے دے دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا، گھر جا کر اسے لپیٹا اور اس آدمی کے پاس اسے بھجوا دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا بخدا ! تم نے اچھا نہیں کیا یہ چادر نبی کریم ﷺ کو کسی نے دی تھی اور نبی کریم ﷺ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر تم نے ان سے مانگ لی جب کہ تم جانتے بھی کہ وہ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے اس نے جواب دیا واللہ میں نے یہ چادر پہننے کے لئے نہیں مانگی بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ دم واپسی یہ میرا کفن بنایا جائے چناچہ جس دن وہ فوت ہوا اس کا کفن وہی چادر تھی۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتَاهَا قَالَ سَهْلٌ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ قَالُوا نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي فَجِئْتُ بِهَا لِأَكْسُوَكَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَسَّهَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاهُ فَقَالَ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهَا وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ قَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৪
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی ایک مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم ﷺ جنت کے احوال بیان فرما رہے تھے جب گفتگو کا اختتام ہونے لگا تو آخر میں فرمایا وہاں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا ہوگا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفا وطمعا و مما رزقناہم ینفقون فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاء بماکانوایعملون "۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ خَطَرَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৫
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سوال کرنے کو ناپسند اور معیوب قرار دیا ہے (مکمل تفصیل کے لئے حدیث نمبر ٢٣٢١٨ دیکھئے)
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৬
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৭
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کے زخم کا علاج کسی طرح کیا گیا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت علی (رض) اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہ (رض) چہرہ مبارک سے خون دھوتی جاتی تھیں پھر انہوں نے ایک چٹائی لے کر اسے جلایا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی (جس سے خون رک گیا)
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ قَالَ وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৮
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عویمر (رض) ایک مرتبہ عاصم بن عدی (رض) کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھئے کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ عاصم (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے اس سوال کو اچھا نہیں سمجھا۔ پھر عویمر (رض) کی عاصم (رض) سے ملاقات ہوئی تو عویمر نے پوچھا کیا بنا ؟ عاصم (رض) نے کہا بننا کیا تھا ؟ تم نے مجھے اچھا کام نہیں بتایا میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے اس سوال کو ہی اچھا نہیں سمجھا عویمر (رض) کہنے لگے کہ بخدا ! میں خود نبی کریم ﷺ کے پاس جاؤں گا اور ان سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا چناچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو اس وقت تک نبی کریم ﷺ پر اس سلسلے میں وحی نازل ہوچکی تھی اس لئے نبی کریم ﷺ نے ان دونوں میاں بیوی کو بلا کر ان کے درمیان لعان کرا دیا پھر عویمر (رض) کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میں اسے اپنے ساتھ لے گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس پر ظلم کیا ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو جدا کردیا (طلاق دے دی) اور یہ چیز لعان کرنے والوں کے درمیان رائج ہوگئی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس عورت کا خیال رکھنا اگر اس کے یہاں سیاہ رنگ سیاہ آنکھوں اور بڑی سرینوں والا بچہ پیدا ہوا تو میں عویمر کو سچا ہی سمجھوں گا اور اگر اس کے یہاں سرخ رنگت والا اور چھپکلی کی مانند بچہ پیدا ہوا تو میں اسے جھوٹا سمجھوں گا چناچہ اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ ناپسندیدہ صفات کے ساتھ تھا (جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر ان صفات پر بچہ پیدا ہوا تو میں عویمر کو سچا سمجھوں گا)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ فَقَالَ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ قَالَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ قَالَ فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قَالَ مَا صَنَعْتُ إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا قَالَ فَدَعَا بِهِمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ لَئِنْ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৯
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے جب عویمر نے ابنی بیوی سے لعان کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میں نے اسے اپنے پاس ہی رکھا تو گویا میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا لہٰذا میں اسے طلاق دیتا ہوں طلاق، طلاق۔ حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں لوگوں کے ساتھ تھا کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں قرآن بھی کچھ آتا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فلاں فلاں سورت نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح قرآن کریم کی ان سورتوں کی وجہ سے کردیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ امْرَأَتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَهَلْ تَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ قَالَ مَاذَا قَالَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا وَسُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا قَالَ فَقَدْ أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭০
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک میں کسی سوراخ سے جھانکنے لگا نبی کریم ﷺ کے دست مبارک میں اس وقت ایک کنگھی تھی جس سے نبی کریم ﷺ اپنے سر میں کنگھی فرما رہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھوں پردے مارتا اجازت کا حکم نظر ہی کی وجہ سے تو دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ حُجْرَتِهِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى آتِيَهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭১
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ انگلی اس انگلی کے قریب ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭২
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان بظاہر لوگوں کی نظروں میں اہل جنت والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ اہل جہنم میں ہوتا ہے اسی طرح انسان بظاہر لوگوں کی نظروں میں اہل جہنم والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ جنتی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৩
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے عورت اور گھر میں ہوتی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي الْمَسْكَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৪
حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عاصم بن عدی (رض) سے فرمایا اس عورت کو اپنے ساتھ لے جاؤ تاکہ تمہارے یہاں یہ اپنے بچے کو جنم دے اگر اس کا بچہ سرخ رنگت کا ہوا تو اس کا باپ وہی ہوگا جس نے اپنے نسب کی اس سے نفی کردی یعنی عویمر کا اور اگر اس کے گھنگھریالے بالوں اور کالی زبان والا بچہ پیدا ہو تو وہ ابن سحماء کا ہوگا۔ عاصم کہتے ہیں کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو میں نے اسے اٹھایا اس کا سر بکری کے چھوٹے بچے کی پوستین جیسا تھا پھر میں نے اس کا منہ پکڑا تو وہ بیر کی طرح سرخ تھا اور اس کی زبان کھجور کی طرح کالی تھی میں نے یہ دیکھ کر بےساختہ کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ اقْبِضْهَا إِلَيْكَ حَتَّى تَلِدَ عِنْدَكَ فَإِنْ تَلِدْهُ أَحْمَرَ فَهُوَ لِأَبِيهِ الَّذِي انْتَفَى مِنْهُ لِعُوَيْمِرٍ وَإِنْ وَلَدَتْهُ قَطَطَ الشَّعْرِ أَسْوَدَ اللِّسَانِ فَهُوَ لِابْنِ السَّحْمَاءِ قَالَ عَاصِمٌ فَلَمَّا وَقَعَ أَخَذْتُهُ إِلَيَّ فَإِذَا رَأْسُهُ مِثْلُ فَرْوَةِ الْحَمَلِ الصَّغِيرِ ثُمَّ أَخَذْتُ قَالَ يَعْقُوبُ بِفُقْمَيْهِ فَإِذَا هُوَ أُحَيْمِرٌ مِثْلُ النَّبْقَةِ وَاسْتَقْبَلَنِي لِسَانُهُ أَسْوَدُ مِثْلُ التَّمْرَةِ قَالَ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক: