আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৪৯৬৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی ﷺ کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ (رض) پر ہوتا اور نبی ﷺ پڑھتے رہتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو یہ چیز ناپسند تھی کہ ان سے ایسی مہک آئے جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ يُتَأَذَّى مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کیلئے تین دن سے سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، نبی ﷺ اسے بھیج کر بھی کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يُحْرِمْ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک عورت نے ان سے نبی کے صوم وصال کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کیا تم نبی ﷺ جیسے اعمال کرسکتی ہو، ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے تھے اور ان کے اعمال تو نفلی تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے اس حائضہ عورت کے متعلق پوچھا جس کے کپڑوں کو دم حیض لگ جائے، تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات مجھے نبی ﷺ کے یہاں تین مرتبہ مسلسل ایام آتے اور میں اپنے کپڑے نہ دھو پاتی تھی اور بعض اوقات نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میرے جسم پر جو کپڑا ہوتا تھا، اس کا کچھ حصہ نبی ﷺ پر ہوتا تھا اور میں ایام کی حالت میں ان کے قریب سو رہی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَهِيَ جَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيِّ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ فَقَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا وَقَالَتْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ وَأَنَا حَائِضٌ نَائِمَةٌ قَرِيبًا مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ حَرِيصٌ عَلَى أَدَائِهِ كَانَ مَعَهُ مِنْ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ وَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے چہرے کو مل دل کر صاف کرنے والی، جسم گودنے والی اور گودوانے والی، بال ملانے اور ملوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ نَهَارٍ بِنْتُ دِفَاعٍ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا شَهِدَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ عَنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہیں ان کے چچا نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو ان پر لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی ﷺ اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آجاتے تو نبی ﷺ ان سے فرماتے تھے اے عثیم ! لکھو اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا فَقَالَ إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ فَقَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ وَإِنَّ جِبْرِيلَ لَيُوحِي إِلَيْهِ الْقُرْآنَ وَإِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ اكْتُبْ يَا عُثَيْمُ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَهُ تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ إِلَّا كَرِيمًا عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، سوائے فرض نمازوں کے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا، ایک مرتبہ حالت احرام میں نبی ﷺ کو کسی بچھو نے ڈس لیا تو نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةَ وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں، جو نبی ﷺ بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَفَّانُ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ قَالَ وَمَا يُؤْمِنُنِي وَإِنَّمَا قُلُوبُ الْعِبَادِ بَيْنَ أُصْبُعَيْ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُقَلِّبَ قَلْبَ عَبْدٍ قَلَّبَهُ قَالَ عَفَّانُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ وَأَمَرَنَا أَنْ نَعُقَّ عَنْ الْجَارِيَةِ شَاةً وَعَنْ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ایک کجھور اور لقمہ کی اس پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ وَاللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی ﷺ کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی ﷺ کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی ؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی ﷺ کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا نہیں، یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی ﷺ نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی، جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق (رض) بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے اے عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چناچہ ان دنوں میں حضرت صدیق اکبر (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ایک دن نبی ﷺ کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ ﷺ ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس (رض) تھے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی ﷺ کو حضرت صدیق اکبر (رض) کے پہلو میں بٹھا دیا، حضرت صدیق اکبر (رض) کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی ﷺ کے مرض الوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ (رض) نے مجھے سنائی ہے ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چناچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کردی، انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس (رض) کے ساتھ تھا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی (رض) تھے، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا تَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأَخَّرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ تَأَخَّرْ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ قَالَتْ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ
তাহকীক: