আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৫১৪৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے رمضان المبارک میں لوگ رات کے وقت مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں میں نماز پڑھا کرتے تھے، جس آدمی کو تھوڑا سا قرآن یاد ہوتا اس کے ساتھ کم و بیش چھ آدمی کھڑے ہوجاتے اور اس کے ساتھ نماز پڑھتے، ایک دن نبی ﷺ نے مجھے حجرے کے دروازے پر چٹائی بچھانے کا حکم دیا، میں نے اسی طرح کیا، پھر نماز عشاء کے بعد نبی ﷺ درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی ﷺ کی نماز میں شریک ہوگئے، صبح ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی ﷺ نصف رات کو گھر سے نکلے تھے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، چناچہ اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، نبی ﷺ حسب سابق باہر تشریف لائے اور نماز پڑھنے لگے، لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی ﷺ گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی ﷺ باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کی گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ لہٰذا اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ قَالَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَنْصِبَ لَهُ حَصِيرًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَتَرَكَ الْحَصِيرَ عَلَى حَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَأَمْسَى الْمَسْجِدُ رَاجًّا بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ وَثَبَتَ النَّاسُ قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِكَ الْبَارِحَةَ بِمَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوا لِذَلِكَ لِتُصَلِّيَ بِهِمْ قَالَتْ فَقَالَ اطْوِ عَنَّا حَصِيرَكِ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَكَانَهُمْ حَتَّى خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَقَالَتْ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَيْلَتِي هَذِهِ غَافِلًا وَمَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَاكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৪৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ خویلہ بنت حکیم پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حال آئیں تو نبی ﷺ نے مجھے سے فرمایا عائشہ ! خویلہ کی یہ خراب حالت کیوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ ایسی عورت ہے جس کا شوہر نہیں کیونکہ وہ سارا دن روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا ہے تو یہ ایسے ہی جیسے کسی کا شوہر نہ ہو، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو اسی حال میں چھوڑ دیا ہے۔ نبی ﷺ ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان ! کیا تم میری سنت سے اعراض کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں واللہ یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی سنت کا تو میں متلاشی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اس لئے اے عثمان ! اللہ سے ڈرو، کہ تمہارے اہل خانہ، مہمان اور خود تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو، نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৪৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس سے حولاء بنت تویت نامی عورت گذری، کسی نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ یہ عورت رات بھر نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو رسی باندھ کر اس سے لٹک جاتی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اسے چاہیے کہ جب تک طاقت ہو، نماز پڑھتی رہے اور جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی ﷺ کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ وَكَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو نہ روکا جائے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک اعرابی سے ایک یا کئی اونٹ خریدے اور اس کا بدلہ ایک وسق ذخیرہ کھجور ( عجوہ) قرار دی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے، نبی ﷺ نے وہاں کجھوریں تلاش کیں تو نہیں مل سکیں، نبی ﷺ اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے تم سے ایک وسق ذخیرہ کجھور کے عوض اونٹ خریدے ہیں لیکن میرے پاس اس وقت کجھوریں نہیں ہیں، وہ اعرابی کہنے لگا ہائے ! میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہنے لگے تجھ پر اللہ کی مار ہو، کیا نبی ﷺ دھوکہ دیں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو ، کیونکہ حقدار بات کہہ سکتا ہے پھر نبی ﷺ نے دو تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اور ہر مرتبہ اس نے یہی کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے ڈانٹا، بالآخر نبی ﷺ نے جب دیکھا کہ وہ بات سمجھ نہیں پا رہا تو اپنے کسی صحابی سے فرمایا خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نبی ﷺ فرما رہے ہیں اگر تمہارے پاس ایک وسق ذخیرہ کجھور ہوں تو ہمیں ادھار دے دو ، ہم تہ میں واپس لوٹا دیں گے، ان شاء اللہ۔ وہ صحابی چلے گئے، پھر واپس آکر بتایا کہ وہ کہتی ہیں یا رسول اللہ ! ﷺ میرے پاس کجھوریں موجود ہیں، آپ کسی آدمی کو بھیج دیجئے جو آکر لے جائے، نبی ﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور پوری کر کے دے دو ، وہ صحابی اس اعرابی کو لے گئے اور اسے پوری پوری کجھوریں دے دیں، پھر اس اعرابی کا گذر نبی ﷺ کے پاس سے ہوا جو صحابہ (رض) کے ساتھ بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگا " جزاک اللہ خیرا " آپ نے پورا پورا ادا کردیا اور خوب عمدہ ادا کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین بندے وہی پورا کرنے والے اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے والے ہی ہوں گے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ الْعَجْوَةُ فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ قَالَتْ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّه إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میری پرورش میں ایک انصاری بچی تھی، میں نے اس کا نکاح کردیا اس کی شادی والے دن نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو کوئی کھیل کود کی آواز نہ سنی، نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ ! انصار کا یہ قبیلہ فلاں چیز کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجْتُهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا فَلَمْ يَسْمَعْ لَعِبًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ كَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، ان میں سے جس کے نام نکل آتا، اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ مَا خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! ﷺ ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹے کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں، جس کی وجہ سے اب مجھے ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نظر آتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اسے دس گھونٹ اپنا دودھ پلا دو ، چناچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھتی تھیں کہ یہ حکم سب مسلمانوں کے لئے عام ہے اور دیگر ازواج مطہرات اسے سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے ساتھ خاص سمجھتی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ لَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ آیت رجم نازل ہوئی تھی اور بڑی عمر کے آدمی کو دس گھونٹ دودھ پلانے سے رضاعت کے ثبوت کی آیت نازل ہوئی تھی، جو میرے گھر میں چار پائی کے نیچے ایک کاغذ میں لکھی پڑی ہوئی تھی، جب نبی ﷺ بیمار ہوئے اور ہم ان کی طرف مشغول ہوگئے تو ایک بکری آئی اور اسے کھا گئی۔ فائدہ : ہر ذی شعور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ وَدَخَلَتْ دُوَيْبَةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بریرہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، وہ آزاد ہوئی تو نبی ﷺ نے اسے اپنے معاملات کا اختیار دے دیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے ( یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی ﷺ کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلا انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی نبی ﷺ کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے۔ "
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی ﷺ نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَعْدٌ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَتْ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ فَقَالَ وَأَنَا صَائِمٌ ثُمَّ قَبَّلَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی ﷺ نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَائِمَةٌ قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ ثُمَّ قَبَّلَنِي حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ابوبکر صدیق (رض) رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی ﷺ نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی ﷺ نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو ( جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ وَإِنَّهُ إِنْ قَامَ فِي مُصَلَّاكَ بَكَى فَمُرْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلْيُصَلِّ بِهِمْ قَالَتْ فَقَالَ مَهْلًا مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَعُدْتُ لَهُ فَقَالَ مَهْلًا مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَعُدْتُ لَهُ فَقَالَتْ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جس وقت نبی ﷺ کا وصال ہوا ہے تو ان کا سر میری گود میں تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِي حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْقَاهُ السَّحَرَ الْآخِرَ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے پاس ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں سے اس آیت کی شرائط پر امتحان لیا کرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ جب آپ کے پاس مومن عورتیں ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری اور بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو آپ انہیں بیعت کرلیا کریں اور اللہ سے ان کے لئے بخشش کی دعا کیا کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے " حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ جو مومن عورت ان شرائط کا اقرار کرلیتی تو نبی ﷺ زبان سے کہہ دیتے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا ہے، واللہ نبی ﷺ نے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ لگا کر بیعت نہیں لی، بلکہ صرف یہی کہہ کر بیعت فرما لیتے تھے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے سنا کہ نبی ﷺ نماز میں مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
tahqiq

তাহকীক: