আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৫১৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ وصال کے دن مسجد سے واپس آکر میری گود میں لیٹ گئے، اسی دوران حضرت صدیق اکبر کے گھر کا کوئی فرد ہاتھ میں سبز مسواک لئے ہوئے آیا، نبی ﷺ نے اس کی طرف اس طرح دیکھا کہ میں سمجھ گئی نبی ﷺ مسواک کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے اسے لے کر چبا کر نرم کیا اور نبی ﷺ کو پیش کی، نبی ﷺ نے اس طرح عمدگی سے مسواک کی جس طرح میں انہیں پہلے کرتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر نبی ﷺ نے اسے رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ نبی ﷺ کا جسم بھاری ہو رہا ہے، میں نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی تو ان کی نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے " جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ " میں نے کہا آپ کو اختیار دیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ نے اسے اختیار کرلیا اور اسی دن نبی ﷺ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ قَالَتْ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ نَظَرًا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أَلَنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ قَالَتْ فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدِّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ وَهُوَ يَقُولُ بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنْ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَالَتْ وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی ﷺ کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی ﷺ کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ مَحَمَّدٌ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو باربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ ﷺ کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ ﷺ کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ دراصل نبی ﷺ ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَتْ فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
رباح کہتے ہیں کہ میں نے معمر سے پوچھا نبی ﷺ کا وصال بیٹھنے کی حالت میں ہوا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ قَالَ قُلْتُ لِمَعْمَرٍ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی آخری وصیت یہ تھی کہ جزیرہ عرب میں دو دینوں کو نہ رہنے دیا جائے (صرف ایک دین ہو اور وہ اسلام ہو) ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ ﷺ کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ ﷺ کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ یہود و انصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ دراصل نبی ﷺ ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا قَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ مَا صَنَعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے غزوہ ذات کے موقع پر لوگوں کو نماز خوف پڑھائی اور وہ اس طرح کے نبی ﷺ نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، ایک گروہ نے نبی ﷺ کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے تکبیر کہی اور جو لوگ پیچھے کھڑے تھے انہوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی ﷺ نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا، نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، نبی ﷺ نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر نبی ﷺ کچھ دیر رکے رہے اور مقتدیوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کرلیا اور کھڑے ہو کر ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پہلے گروہ کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور اس گروہ نے آکر نبی ﷺ کے پیچھے صف بنالی، تکبیر کہی اور خود ہی رکوع کیا، پھر نبی ﷺ نے دوسرا سجدہ کہا تو انہوں نے بھی نبی ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر نبی ﷺ تو دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا۔ اس کے بعد دونوں گروہ اکٹھے نبی ﷺ کے پیچھے صف بستہ ہوگئے اور نبی ﷺ نے انہیں ساتھ لے کر رکوع کیا، پھر سب نے اکٹھا سجدہ کیا اور اکٹھے سر اٹھایا اور ان میں سے ہر رکن نبی ﷺ نے تیزی کے ساتھ ادا کیا اور حتی الامکان اسے مختصر کرنے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر نبی ﷺ نے سلام پھیرا تو لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا اور نبی ﷺ کھڑے ہوگئے، اس طرح تمام لوگ مکمل نماز میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک ہوگئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ قَالَتْ فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صِدْعَيْنِ فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ تُجَاهَ الْعَدُوِّ قَالَتْ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتْ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ قَالَتْ فَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامَتْ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں جب نبی ﷺ کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَةً عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ صُدْغَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَا يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ ابو امامہ " جو اس مجلس میں عمر بن عبد العزیز (رح) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے " کہنے لگے اے ابو عبداللہ ! شاید انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نبی ﷺ کے پہلو میں ہوتی تھی، عروہ نے کہا کہ میں آپ کو یقینی بات بتارہا ہوں اور آپ شک کی بناء پر اسے رد کر رہے ہیں، انہوں نے یہی فرمایا تھا کہ میں ان کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبِيرِ قَالَ حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزَّبِيرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ قَالَ فَقَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے چھ رکعتیں دو دو کر کے ہوتی تھیں اور پانچوں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ اللَّيْلِ سِتٌّ مِنْهُنَّ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ " ام حسان " کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ میں جل گیا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا ہوا ؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، نبی ﷺ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا، اسی ثناء میں میں ایک آدمی گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کجھوروں کا ایک ٹو کرا تھا، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ میرا صدقہ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ میں یہاں موجود ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو، اس نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے علاوہ اور کس پر صدقہ ہوسکتا ہے ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ نہیں پاتا، نبی ﷺ نے فرمایا پھر تم ہی یہ لے جاؤ، چناچہ اس نے وہ لے لیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ فَارِعِ أُجُمِ حَسَّانَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ احْتَرَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ قَالَتْ وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ فَأَتَى رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَيْهِ غِرَارَةٌ فِيهَا تَمْرٌ قَالَ هَذِهِ صَدَقَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا فَقَالَ هَا هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ وَأَيْنَ الصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا عَلَيَّ وَلِي فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ أَنَا وَعِيَالِي شَيْئًا قَالَ فَخُذْهَا فَأَخَذَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
محمد بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے عدی بن عدی کندی کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے کلید بردار شیبہ بن عثمان کی صاحبزادی صفیہ کے پاس کچھ چیزیں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے سنی ہوئی تھیں، تو صفیہ (رض) نے مجھے جو حدیثیں سنائیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے زبر دستی مجبور کرنے پر دی جانے والی طلاق یا آزادی واقع نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ صَاحِبِ الْكَعْبَةِ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعَتْهَا مِنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے مقتولین قریش کے متعلق نبی ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے، چناچہ انہیں پھینک دیا گیا، سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، صحابہ (رض) نے اسے ہلانا چاہا لیکن مشکل پیش آئی تو اسے وہیں رہنے دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال کر اسے چھپا دیا اور گڑھے میں باقی سب کو پھینکنے کے بعد نبی ﷺ ان کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل قلیب ! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا ؟ کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں ؟ نبی ﷺ سے فرمایا واللہ یہ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ جانتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہیں سنتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنْ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى قَالَ فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ عَلِمُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ بھیجا تو نبی ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب (رض) نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے لئے مال بھیجا، جس میں وہ ہار بھی شامل تھا، جو حضرت خدیجہ (رض) کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص سے شادی کے موقع پر دیا تھا، نبی ﷺ نے جب اس ہار کو دیکھا تو آپ ﷺ پر شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی چھوڑ دو اور اس کا بھیجا ہوا مال اسے واپس لوٹا دو ، لوگوں نے عرض کیا ٹھیک ہے، یا رسول اللہ ! ﷺ چناچہ انہوں نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا اور حضرت زینب (رض) کا ہار بھی واپس لوٹا دیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ اور عبدالرحمن بن رواحہ (رض) کی شہادت کی خبر آئی، تو نبی ﷺ زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کردو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی ﷺ تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ يَقُولُ وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ فَإِنْ أَبْيَنَ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ قَالَتْ قُلْتُ فِي نَفْسِي أَبْعَدَكَ اللَّهُ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی صرف ایک عورت کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، وہ بھی میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، جبکہ باہر نبی ﷺ اس کی قوم کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے اس کا نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا واللہ ! یہ تو میں ہوں، میں نے اس سے کہا افسوس ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ مجھے قتل کردیا جائے گا، میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک حرکت ایسی کی ہے، چناچہ اسے لیجا کر اس کی گردن اڑا دی گئی، واللہ میں اپنے تعجب کو کبھی بھلا نہیں سکتی کہ وہ کتی ہشاش بشاش تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً قَالَتْ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ قَالَتْ قُلْتُ وَيْلَكِ وَمَا لَكِ قَالَتْ أُقْتَلُ قَالَتْ قُلْتُ وَلِمَ قَالَتْ حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ قَالَتْ فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کرلی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، واللہ جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی ﷺ بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چناچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! ﷺ میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کرلی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے حامی بھر لی، نبی ﷺ نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی ﷺ نے جویریہ سے شادی کرلی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چناچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کردیئے، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہوگئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنْ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ (رض) سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، نبی ﷺ نے میری طرف دیکھا تو مجھے روئے انور پر غصے کے آثار نظر آئے، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ وہ آج مجھ پر لعنت کریں پھر میں نے عرض کے یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا کفارہ کیا ہے ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ قَالَ أَبِي سُفْيَانُ يَقُولُ فُلَيْتٌ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ وَهُوَ عِنْدِي فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ أَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقَلَّنِي أَفْكَلُ فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ فَرَمَيْتُ بِهَا قَالَتْ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ قَالَتْ قَالَ أَوْلَى قَالَتْ قُلْتُ وَمَا كَفَّارَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ طَعَامٌ كَطَعَامِهَا وَإِنَاءٌ كَإِنَائِهَا
tahqiq

তাহকীক: