আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৩১৬৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور جب یقین ہوجاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا قَالَ وَكِيعٌ يَغْسِلُ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ أُصُولَ شَعَرِ رَأْسِهِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ اغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهُنَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ غَرَفَ بِيَدَيْهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৬৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی رات کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ نبی ﷺ کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی ﷺ بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৬৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے یہاں ایک قیدی کو لے کر آئے، میں عورتوں کے ساتھ لگ کر اس سے غافل ہوگئی اور وہ بھا گ گیا، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ واپس آئے تو فرمایا وہ قیدی کہاں گیا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں عورتوں کے ساتھ لگ کر غافل ہوگئی تھی، اسی دوران وہ بھاگ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹیں، یہ تم نے کیا کیا ؟ پھر نبی ﷺ نے باہر جا کر لوگوں میں اس کی منادی کرا دی، لوگ اس کی تلاش میں نکلے اور اسے پکڑ لائے پھر نبی ﷺ میرے پاس آئے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ تم دیوانی تو نہیں ہوگئیں ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے مجھے بددعادی تھی، اس لئے میں اپنے ہاتھ پلٹ کر دیکھ رہی ہوں کہ ان میں سے کون سا ہاتھ ٹوٹے گا ؟ اس پر نبی ﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اور دوسرے انسانوں کی طرح مجھے بھی غصہ آتا ہے، سو میں نے جس مومن مرد و عورت کو بددعا دی ہو تو اسے اس کے حق میں تزکیہ اور طہارت کا سبب بنادے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسِيرٍ فَلَهَوْتُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْأَسِيرُ قَالَتْ لَهَوْتُ عَنْهُ مَعَ النِّسْوَةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَا لَكِ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ أَوْ يَدَيْكِ فَخَرَجَ فَآذَنَ بِهِ النَّاسَ فَطَلَبُوهُ فَجَاءُوا بِهِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ فَقَالَ مَا لَكِ أَجُنِنْتِ قُلْتُ دَعَوْتَ عَلَيَّ فَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ أَنْظُرُ أَيُّهُمَا يُقْطَعَانِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَوْ مُؤْمِنَةٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَطُهُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ قَالَ يَحْيَى أُرَاهُ سَمَّى لِي أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ وَلَكِنْ نَسِيتُ اسْمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ حَرْبٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ فِي بَيْتِهِ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا نَقَضَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے مرض الوفات میں، ان کے منہ میں دوا ٹپکا دی، نبی ﷺ ہمیں اشارہ سے منع کرتے رہ گئے کہ میرے منہ میں دوا نہ ڈالو، ہم سمجھے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے ہر بیمار دوائی کو ناپسند کرتا ہے، نبی ﷺ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ میرے منہ میں دوا نہ ڈالو، اب عباس کے علاوہ اس گھر میں کوئی بھی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قُلْتُ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قَالَ لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے لئے باعث اجر اور کفارہ بن جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهُ أَجْرًا وَكَفَّارَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں جمع کئے جاؤ گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! اس وقت کا معاملہ اس سے بہت سخت ہوگا کہ لوگ اس طرف توجہ کرسکیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَاتِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا عائشہ ! اس پردے کو بدل دو ، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَيْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوِّلِيهِ فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ نَلْبَسُهَا يَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک یہودی عورت کچھ مانگنے آئی اور کہنے لگی کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے بچائے، جب نبی ﷺ آئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہمیں قبروں میں عذاب ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ ! اور سواری پر سوار ہوگئے، اسی دوران سورج گرہن ہوگیا، میں بھی نکلی اور دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ ابھی حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی ﷺ آگئے، وہ اپنے مصلیٰ پر تشریف لے گئے، لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز کی نیت باندھ لی، نبی ﷺ نے طویل قیام کیا، پھر طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر کافی دیر تک کھڑے رہے، پھر دوبارہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا، پھر لمبا سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے لیکن اس مرتبہ کا قیام پہلی رکعت کی نسبت مختصر تھا، اسی طرح پہلا رکوع پہلی رکعت کے پہلے رکوع، قیام پہلے قیام سے، دوسرا رکوع پہلے رکوع سے اور سجدہ پہلے سجدہ کی نسبت مختصر تھا، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اسی دوران سورج بھی روپوش ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا قبروں میں تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی جیسے دجال کے ذریعے آزمائش ہوگی، اس کے بعد میں نے نبی ﷺ کو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُعَذَّبُ فِي الْقُبُورِ قَالَ عَائِذٌ بِاللَّهِ فَرَكِبَ مَرْكَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَةِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ أَيْسَرَ مِنْ سُجُودِهِ الْأَوَّلِ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فَتَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت زرارہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد (رض) کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی حیاۃ طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں بھی اس طرح کرنے سے روک دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے ؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد (رض) سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنا لیا۔ پھر وہ حضرت ابن عباس (رض) کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں جانتا ہے ؟ حضرت سعد (رض) نے کہا کہ وہ کون ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا حضرت عائشہ (رض) تو ان کی طرف جا اور ان سے پو چھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا۔ (حضرت سعد (رض) نے کہا) کہ میں پھر حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی طرف چلا (اور پہلے میں) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) کی طرف لے کر چلو۔ وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی طرف لے کر نہیں جاسکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں (علی (رض) اور معاویہ (رض) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ (رض) کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے حکیم بن افلح کو پہچان لیا اور فرمایا کیا یہ حکیم ہیں ؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں ! حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا : تیرے ساتھ کون ہے ؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ (عائشہ (رض) نے فرمایا : ہشام کون ہے ؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ (رض) نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے۔ میں نے عرض کیا اے ام المومنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتایئے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کیا پڑھتا ہوں، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہو کر جاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ (کی نماز) کے قیام کے بارے میں بتائیے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے یا ایھا المزمل نہیں پڑھی ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کا قیام فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام (تہجد) فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا۔ حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ کو رات کو جب چاہتا بیدار کردیتا تو آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے۔ پھر آپ سلام پھیرتے اور سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے۔ پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں۔ اے میرے بیٹے ! پھر جب اللہ کے نبی ﷺ کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نور رکعتیں ہوئی۔ اے میرے بیٹے ! اور اللہ کے نبی ﷺ جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام (ہمیشگی) کی جائے اور جب آپ پر نیند کا غلبہ ہوتا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کا قیام (تہجد) نہ ہوسکتا ہو تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ نے صبح تک ساری رات نماز پڑھی ہو اور نہ ہی یہ کہ آپ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ثُمَّ يُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْتِ عَائِشَةَ فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ حَكِيمٌ وَعَرَفَتْهُ قَالَ نَعَمْ أَوْ بَلَى قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَتِهِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وَتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِي رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخِذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقْتَ أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر اور بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي حَزْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کی اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شوال کے مہینے میں مجھ سے نکاح فرمایا اور شوال ہی میں مجھے ان کے یہاں رخصت کیا گیا، اب یہ بتاؤ کہ نبی ﷺ کے نزدیک مجھ سے زیادہ کس بیوی کا حصہ تھا ؟ (لہٰذا یہ کہنا کہ شوال کا مہینہ منحوس ہے، غلط ہے) اسی وجہ سے حضرت عائشہ (رض) اس بات کو پسند فرماتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی ماہ شوال ہی میں ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي فَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بلال اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھا پی سکتے ہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں، وہ کہتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق وہ اتنی ہی مقدار بنتی تھی کہ جس میں کوئی اتر آئے اور کوئی چڑھ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب نبی ﷺ سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں میں چٹکی بھر دیتے، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور وہ سجدہ کرلیتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا إِلَيَّ ثُمَّ سَجَدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ابو سلمہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے پو چھا اماں جان ! نماز عشأ کے بعد نبی ﷺ کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نور کعتیں کھڑے ہو کر، دو رکعتیں بیٹھ کر اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيْ أُمَّتَاهُ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَالَتْ تِسْعًا قَائِمًا وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ گھر میں داخل ہوتے وقت کچھ پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ گھر میں داخل ہوتے وقت یوں کہتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں رہے گا اور اس کا منہ مٹی کے علاوہ کسی چیز سے نہیں بھر سکتا، ہم نے تو مال بنایا ہی اس لئے تھا کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور جو تو بہ کرتا ہے، اللہ اس کی تو بہ کو قبول فرمالیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبْغَضُ الرِّجَالِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
তাহকীক: