আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৩৬০৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس میں مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابوقحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی ﷺ نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ فَقَالَتْ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬০৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی ﷺ کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی ﷺ اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ كَانَ جُنُبًا فَاغْتَسَلَ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬০৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی ﷺ تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) پوچھا کیا نبی ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی ﷺ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی ﷺ تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا وَصَدِيقًا فَقُلْتُ أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ وَثَبَ وَمَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَمَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کرتی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں تک پہنچ کر اسود رک گئے) آگے حضرت ابن زبیر نے اسے مکمل کردیا کہ میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ قَالَ قُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ قَالَ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی ﷺ کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے، یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ حَدَّثَنَا بِهِ حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں مثلاً ماموں، چچا، بھتیجا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوْ ابْنِ أَخٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں عورت فوت ہوگئی اور اسے راحت نصیب ہوگئی، نبی ﷺ نے ناراضگی سے فرمایا اصل راحت تو اسے ملتی ہے جس کی بخشش ہوجائے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھوکر کھاتے پیتے۔
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ إِنْ شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور اکثر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آپ ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، نبی ﷺ جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں اسی بستر پر ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس پر نبی ﷺ آرام فرماتے تھے اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں بھی کھڑی ہو کر وتر پڑھ لیتی، پھر نبی ﷺ لیٹ جا تے، جب اذان کی آواز سن لیتے تو اٹھ کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھتے پھر اپنے پہلو کو زمین پر لگا دیتے اور اس کے بعد نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً وَكَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَائِمًا فَلَمَّا كَبُرَ وَثَقُلَ كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا وَكَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ حَتَّى يُرِيدَ أَنْ يُوتِرَ فَيَغْمِزُنِي فَأَقُومُ فَيُوتِرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ حَتَّى يَسْمَعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يُلْصِقُ جَنْبَهُ الْأَرْضَ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن کسی شخص کا حساب نہیں کیا جائے گا کہ اسے بخش دیا جائے، مسلمان تو اپنے اعمال کا انجام اپنی قبر میں ہی دیکھ لیتا ہے، ارشاد ربانی ہے " اس دن کسی کے گناہ سے متعلق کسی انسان یا جن سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی "۔۔۔۔ اور " مجرم اپنی علامات سے پہچان لئے جائیں گے۔ "
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کردیئے، جس کے میں نے دو تکیے بنا لئے اور نبی ﷺ ان پر ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ نَظَرَ إِلَيْهِ فَهَتَكَهُ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكُنْتِ تَغْتَسِلِينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی ﷺ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی ﷺ پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہرکیف ! نزول وحی کے بعد نبی ﷺ نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا عائشہ ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ ﷺ نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقُلْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ فَقَرَأَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی ﷺ بہت خوش ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَ الْخِيَارُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا لَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قُلْتُ مَا هُوَ فَقَرَأَ آيَةَ الْخِيَارِ فَقُلْتُ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرِحَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی ﷺ سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
তাহকীক: