আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৩৭২৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں سے کم کردیا تھا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر حضرت عائشہ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی اور نبی ﷺ یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں کے مطابق ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةَ أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الاّ یہ کہ جب نبی ﷺ کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کرلیتی تو نبی ﷺ اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جب بھی نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی ﷺ کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی ﷺ اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی ﷺ کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أُرَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت سے نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک تھالی میں انہیں کچھ کھجوریں ہدیہ کیں، انہوں نے تھوڑی سی کھالیں اور کچھ چھوڑ دیں، اس عورت نے کہا آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ باقی کھجوریں بھی کھالیں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی قسم پوری کردو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی ﷺ پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحِي مِنْهُمْ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی کوئی بات (جب وہ دوسرے سے کر رہے ہوں) کان لگا کر کبھی نہیں سنی، البتہ ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ حضرت عثمان غنی دوپہر کے وقت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سمجھی کہ شاید وہ خواتین کے معاملات میں گفتگو کررہے ہیں تو مجھے غیرت آئی اور میں نے کان لگا کر سنا تو نبی ﷺ ان سے فرما رہے تھے، عثمان ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، پھر جب میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان لوگوں کے سارے مطالبات پورے کردیتے ہیں سوائے خلافت سے دستبرداری کے تو میں سمجھ گئی کہ یہ وہی عہد ہے جو نبی ﷺ نے ان سے لیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا اسْتَمَعْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً فَإِنَّ عُثْمَانَ جَاءَهُ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاءَهُ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ فَحَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى أَنْ أَصْغَيْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُكَ قَمِيصًا تُرِيدُكَ أُمَّتِي عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ فَلَمَّا رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَبْذُلُ لَهُمْ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا خَلْعَهُ عَلِمْتُ أَنَّهُ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَسْرُوقٍ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِمَرِيضٍ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدنا چاہا تو انہوں نے " ولاء " کی شرط لگا دی، نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی ﷺ نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) اس کا خاوند غلام تھا، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِي النِّعْمَةَ قَالَ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) یہ پوچھا تھا کہ نبی ﷺ کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی ﷺ نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْبَيْتِ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اپنے گھر میں بیٹھی تھیں کہ مدینہ منورہ میں ایک شور و غلغلہ کی آواز سنائی دی، انہوں نے پوچھا کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا قافلہ شام سے آیا ہے اور اس میں ہر چیز موجود ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا اور مدینہ منورہ میں اس کا ایک غلغلہ بلند ہوگیا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر میرے لئے ممکن ہوا تو میں کھڑا ہونے کی حالت میں ہی جنت میں داخل ہوں گا، یہ کہہ کر انہوں نے ان اونٹوں کا سارا سامان حتیٰ کہ رسیاں تک اللہ کے راستہ میں خرچ کردیں۔ فائدہ : اس حدیث کو محدثین نے موضوع روایت قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ مَا هَذَا قَالُوا عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ قَالَ فَارْتَجَّتْ الْمَدِينَةُ مِنْ الصَّوْتِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ إِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَفَّانُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَالَ عَفَّانُ قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِهِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رات کے وقت میرے پاس چلے گئے، مجھے بڑی غیرت آئی، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ واپس آگئے اور میری کیفیت دیکھ کر فرمایا : عائشہ ! کیا بات ہے ؟ کیا تمہیں غیرت آئی ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے جیسی بیوی آپ جیسے شوہر پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں تمہارے شیطان نے پکڑ لیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے عرض کیا کہ کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ أَبِي قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ قَالَتْ فَقُلْتُ وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَمَعِي شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی ﷺ کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی ﷺ اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي أَمْرٍ يُنْتَهَكُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُرْمَةٌ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক: