আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৩৭৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو ، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی ﷺ پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی ﷺ کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی ﷺ اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ يَدَهُ فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں مہمان نوازی کرتا، قیدیوں کو چھڑاتا، صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار ! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفُكُّ الْعَانِيَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ فَقَالَ إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي وَاللَّهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوْ الصَّادِقُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب دیکھتے کہ ہوا تیز ہوتی جا رہی ہے تو نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَدْ اشْتَدَّتْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَ قُلْتُ وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَدْرِ مُدٍّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس تمام ازواج مطہرات جمع تھیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آکر ملے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جس کا ہاتھ تم میں سب سے زیادہ لمبا ہوگا، ہم ایک لکڑی لے کر اس سے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگے، حضرت سودہ بنت زمعہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا نکلا، پھر نبی ﷺ کے وصال کے بعد جلد ہی حضرت سودہ ان سے جاملیں، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد صدقہ خیرات میں کشادگی تھی اور وہ صدقہ خیرات کرنے کو پسند کرنے والی خاتون تھیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْنَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا فَقَالَ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا فَقَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا فَعَرَفْنَا بَعْدُ إِنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنْ الصَّدَقَةِ وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً قَصَبَةً نَذْرَعُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا تَسَوَّكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے میں ان کا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ پروردگار ! یہ میرے امتی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے پیچھے کیا عمل کئے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹتے چلے گئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْكُمْ فَلَيُقَطَّعَنَّ رِجَالٌ دُونِي فَلَأَقُولَنَّ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَلَيُقَالَنَّ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ (رض) پوچھا کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی ﷺ اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر سے پہلے دور رکعتیں پڑھ کر بعض اوقات دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ رُبَّمَا اضْطَجَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا تو ان کا سر مبارک میرے حلق اور سینہ کے درمیان تھا اور جس وقت نبی ﷺ کی روح نکلی تو اس کے ساتھ ایک ایسی مہک آئی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي قَالَتْ فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ لَمْ أَجِدْ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی ﷺ مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی ﷺ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ نے بھی طواف وسعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت عائشہ ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کرکے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر آکر ہم سے ملنا۔ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نبی ﷺ سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی ﷺ نیچے اتر رہے تھے اور میں اوپر چڑھ رہی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ وَلَمْ يَحْلِلْ وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَطَافَ مَنْ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ وَحَاضَتْ هِيَ فَقَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ النَّفْرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجٍّ فَقَالَ أَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ فَقَالَ عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَمَا كُنْتِ طُفْتِ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَى قَالَ لَا بَأْسَ فَانْفِرِي قَالَتْ فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْلِجًا وَهُوَ مُصْعِدٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهِمْ أَوْ هُوَ مُنْهَبِطٌ عَلَيْهِمْ وَأَنَا مُصْعِدَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! جب میں پاک ہوجاؤں تو غسل کس طرح کیا کروں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا خوشبو لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کیا کرو، اس نے پھر یہی سوال کیا تو سبحان اللہ کہہ کر نبی ﷺ نے اپنا چہرہ ہی پھیرلیا اور پھر فرمایا اس سے پاکی حاصل کرو، میں سمجھ گئی کہ نبی ﷺ کا کیا مقصد ہے ؟ چناچہ میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے بتایا کہ نبی ﷺ کا کیا مقصد ہے ؟
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ فَقَالَ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ تَوَضَّئِي بِهَا قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ قَالَ تَوَضَّئِي بِهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی ﷺ روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی ﷺ ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی ﷺ ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان جس چیز کے ذریعے کسی عورت کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرتا ہے مثلاً مہر یا کوئی اور سامان تو وہ اس عورت کی ملکیت میں ہوتا ہے اور جس چیز سے اس عورت کے باپ، بھائی یا سرپرست کا معاملہ نکاح کے بعد اکرام کیا جاتا ہے تو وہ اس کا ہوجا تا ہے اور انسان کی بیٹی یا بہن اس بات کی زیادہ حقدار ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا اکرام کیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَحَدَّثَنِيهِ مَكْحُولٌ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
tahqiq

তাহকীক: