আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৩৮৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہوا۔ اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْهُ يَقُولُ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا ؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجایئے، حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دروازے کے درمیان سے نظر آرہے تھے اور ان کے سر پر گردوغبار اٹا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ لِيَغْتَسِلَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَوَقَدْ وَضَعْتُمْ السِّلَاحَ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ پر نظر بد سے حفاظت کے لئے دم کرتی تھی اور وہ اس طرح کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی اور یہ دعا کرتی اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَيْنِ فَأَضَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو تہجد کی نماز میں رکوع میں لا الہ الا انت کہتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ (رض) نے ہمارے سامنے ایک چادر جسے ملبدہ کہا جاتا ہے اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی ﷺ انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ نے نبی ﷺ کے ہمراہ اعتکاف کیا تو انہیں ایک طے شدہ حد سے زیادہ ایام آنے لگے۔ اور وہ زردی اور سرخی دیکھتی تھیں اور بعض اوقات ہم ان سے نیچے طشت رکھ دیتے تھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی ﷺ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ السُّدِّىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا تھا۔ نبی ﷺ نے انہیں دباء نقیر، مقیر اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، پھر انہوں سے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی ﷺ کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی ﷺ کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تو جب صبح ہوتی تو نبی ﷺ اسے نوش فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَتْ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ وَدَعَتْ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً فَقَالَتْ لِي سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ مِنْ اللَّيْلِ أُوكِئُهُ وَأُعَلِّقُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب ! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ (رض) کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب (رض) کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی ؟ اس پر نبی ﷺ نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو ماہ یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے۔ وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چارپائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی ﷺ کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا (اور نبی ﷺ مجھ سے راضی ہوگئے) ۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ ثَابِتٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ فَقَالَتْ أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً لَا يَأْتِيهَا قَالَتْ حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ بَعْدُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ قَالَ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی۔ اس چادر کی سیاہی اور نبی ﷺ کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی ﷺ نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی ﷺ کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی ﷺ نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی ﷺ اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهُ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں۔ ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر (رض) کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی ﷺ کا وصال کس دن ہوا تھا ؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، انہوں نے پوچھا کہ تم نے نبی ﷺ کو کس چیز میں کفن دیا تھا، ہم نے بتایا تین سفید یمنی سحولی چادروں میں، جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا، وہ کہتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر (رض) کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیرو کے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر (رض) نے انہیں ایک دھاری دار یمنی چادر دی، جس میں نبی ﷺ کو لپیٹ دیا گیا، پھر لوگوں نے وہ چادر نکال کر نبی ﷺ کو تین چادروں میں کفن دے دیا، عبداللہ نے اپنی چادر لے لی اور کہنے لگے میں اس چادر کو اپنے کفن میں شامل کرلوں گا جس سے نبی ﷺ کا جسم لگا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی رائے یہ ہوئی کہ میں اس چیز کو اپنے کفن میں شامل نہیں کروں گا جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے کفن میں شامل نہیں ہونے دی، بہرحال ! وہ منگل کی رات کو انتقال کرگئے اور راتوں رات ہی ان کی تدفین بھی ہوگئی، اسی طرح حضرت عائشہ (رض) کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے انہیں بھی رات ہی کو دفن کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَ فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٌ فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَتِ هُوَ خَلِقٌ قَالَ إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ قَالَ فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ وَدُفِنَ لَيْلًا وَمَاتَتْ عَائِشَةُ فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَآزِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی ﷺ جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سنبلہ بارگاہ نبوت میں دودھ کا ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، اس وقت نبی ﷺ گھر میں موجود نہ تھے، حضرت عائشہ (رض) نے ان سے کہہ دیا کہ نبی ﷺ نے دیہاتیوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اسی اثناء میں نبی ﷺ اور ان کے ہمراہ حضرت ابوبکر (رض) بھی آگئے اور فرمایا اے ام سنبلہ ! یہ تمہارے ساتھ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! دودھ ہے، جو میں آپ کے لئے ہدیہ لائی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا اے ام سنبلہ ! اسے نکالو، انہوں نے نکالا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ ابوبکر کو دو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، دوسری مرتبہ حضرت عائشہ (رض) کے لئے ڈالنے کو کہا، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کو انڈیل کردیا اور نبی ﷺ اسے نوش فرمانے لگے، جب نبی ﷺ قبیلہ اسلم کا دودھ نوش فرما رہے تھے اور وہ جگر کو ٹھندک بخش رہا تھا تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا یارسول اللہ ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ ! یہ لوگ گنوار نہیں ہیں، یہ تو ہمارا دیہات ہیں اور ہم ان کا شہر ہیں، جب انہیں بلایا جائے تو یہ لبیک کہتے ہیں، یہ گنوار نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدِهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا الْأَعْرَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دباء اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
tahqiq

তাহকীক: