আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৩৯৬৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں تو اس پر لعنت بھیجی، نبی ﷺ نے فرمایا اس پر سواری نہ کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا رَكِبَتْ جَمَلًا فَلَعَنَتْهُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْكَبِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৬৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ بُزَاقًا فِي الْمَسْجِدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৬৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ میں نے جنت میں عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی دیکھی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی گفتگو بالکل واضح ہوتی تھی اور ہر شخص اسے سمجھ لیتا تھا، نبی ﷺ اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک نماز پڑھتی ہوں جو میں نبی ﷺ کے دور باسعادت میں بھی پڑھا کرتی تھی اگر میرے والد بھی زندہ ہو کر مجھے اس سے منع کریں تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّيْتُ صَلَاةً كُنْتُ أُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَبِي نُشِرَ فَنَهَانِي عَنْهَا مَا تَرَكْتُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
کسی نے حضرت عائشہ (رض) سے اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگیں کہ یہ بات نبی ﷺ نے ایک کافر کے متعلق فرمائی تھی کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ كَافِرٍ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت اسماء (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ و قَالَ أُسَامَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید (رض) دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گرپڑے اور ان کے خون نکل آیا، نبی ﷺ انہیں چوسنے اور فرمانے لگے اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُسَامَةَ عَثَرَ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَدَمِيَ قَالَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ وَيَقُولُ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهَا وَلَكَسَوْتُهَا حَتَّى أُنْفِقَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی ﷺ کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی ﷺ نے روزہ رکھا ہو، ناغہ نہ کیا ہو یا ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں لیکن عورتوں کو پھر بھی اجازت نہیں دی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ رَجُلٌ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَآزِرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ سہیلہ بنت سہل کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوگیا تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کر کے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّمَا هِيَ سُهَيْلَةُ بِنْتُ سَهْلٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ وَأَنْ تَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي فَضْلَ الْمَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عباد بن عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس تھا، وہاں سے ایک آدمی گذرا جسے حضرت عائشہ (رض) کے گھر کے دروازے پر شراب پینے کی وجہ سے مارا جا رہا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے جب لوگوں کی آہٹ سنی تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ میں نے بتایا کہ ایک آدمی کو شراب کے نشے میں مد ہوش پکڑ لیا گیا ہے اسے مارا جا رہا ہے، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ! میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص شراب پیتا ہے وہ شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص بدکاری کرتا ہے وہ بدکاری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص چوری کرتا ہے وہ چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور جو شخص کوئی قیمتی چیز " جس کی طرف لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ہوں " لوٹتا ہے، وہ لوٹتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے تم ان کاموں سے بچو، بچو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهَا إِذْ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضُرِبَ فِي خَمْرٍ عَلَى بَابِهَا فَسَمِعَتْ حِسَّ النَّاسِ فَقَالَتْ أَيُّ شَيْءٍ هَذَا قُلْتُ رَجُلٌ أُخِذَ سَكْرَانًا مِنْ خَمْرٍ فَضُرِبَ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ مُنْتَهِبٌ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا رُءُوسَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عوت میرے دروازے پر آکر کھانا مانگتے ہوئے کہنے لگی کہ مجھے کھانا کھلاؤ اللہ تمہیں دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے محفوط رکھے، میں نے اسے اپنے پاس روکے رکھا حتی کہ نبی ﷺ آگئے، میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ یہودیہ کیا کہہ رہی ہے ؟ نبی ﷺ نے پوچھا کیا کہہ رہی ہے ؟ میں نے کہا یہ کہہ رہی ہے کہ اللہ تمہیں دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھے، تو نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ پھیلا کر اللہ سے دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے بچنے کی دعاء کرنے لگے، پھر فرمایا جہاں تک فتنہ دجال کا تعلق ہے تو کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نہ ہو اور میں تمہیں اس کے متعلق اس طرح متنبہ کروں گا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو نہ کہا ہوگا، یاد رکھو ! وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہوسکتا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ باقی رہا فتنہ قبر تو میرے ذریعے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور میرے متعلق تم سے پوچھا جائے گا، اگر مرنے والا نیک آدمی ہو تو فرشتے اسے اس کی قبر میں اس طرح بٹھاتے ہیں کہ اس پر کوئی خوف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے کس دین میں وقت گذارا ؟ وہ کہتا ہے اسلام میں، پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون آدمی تھا جو درمیان میں تھا ؟ وہ کہتا ہے محمد ﷺ جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے اور ہم نے ان کی تصدیق کی، اس پر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ برا ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، تم شک میں مبتلا تھے، اسی حال میں مرے اور اسی حال میں اٹھائے جاؤ گے (انشاء اللہ) پھر اسے سزا دی جاتی ہے، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ ! " جو پاکیزہ جسم میں رہا " یہاں سے نکل، قابل تعریف ہو کر نکل اور روح و ریحان کی خوشخبری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے، آواز آتی ہے کون ؟ جواب دیا جاتا ہے ؟ " فلاں " آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا، خوش آمدید ! قابل تعریف ہو کر داخل ہوجاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاتات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگار عالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہگار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح " جو خبیث جسم میں رہی " نکل، قابل مذمت ہو کر نکل کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، پوچھا جاتا ہے کون ؟ بتایا جاتا ہے کہ " فلاں " وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی، کوئی خوش آمدید نہیں، اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ جا، تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، چناچہ وہ آسمان سے واپس آ کر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلے مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہگار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ فَاسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي فَقَالَتْ أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ قَالَ وَمَا تَقُولُ قُلْتُ تَقُولُ أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ وَسَأُحَذِّرُكُمُوهُ تَحْذِيرًا لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ وَعَنِّي تُسْأَلُونَ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَصَدَّقْنَاهُ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا وَيُقَالُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا فَيُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيُقَالُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ فَيَقُولُ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا فَتُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكَ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا كُنْتَ عَلَى الشَّكِّ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُعَذَّبُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ وَاخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي وَيُقَالُ بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي مِنْهُ ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَمَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنْ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَيُقَالُ لَهُ وَيَرُدُّ مِثْلَ مَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ سَوَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ (رض) نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اسے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی ﷺ جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي دِقْرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں جل گیا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا ہوا ؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، (نبی ﷺ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا) اسی اثناء میں میں ایک آدمی ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا تھا (وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ میرا صدقہ ہے) نبی ﷺ نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہاں موجود ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ احْتَرَقَ فَسَأَلَهُ مَا شَأْنُهُ فَقَالَ أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ فَأَتَاهُ مِكْتَلٌ يُدْعَى الْعَرَقَ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رات کو جاگ رہے تھے اور وہ نبی ﷺ کے پہلو میں لیٹی تھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کاش ! میرے ساتھیوں میں سے کوئی نیک آدمی آج پہرہ دیتا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میں نے اسلحہ کے کھنکھنانے کی آواز سنی، نبی ﷺ نے پوچھا کون ہے ؟ اس نے جواب دیا میں سعد بن مالک ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کیسے آنا ہوا انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ ! آپ کی چوکیداری کے لئے آیا ہوں، حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نیند کے دوران نبی ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ (رض) کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمنے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ فَفَطَّرَتْنِي فَكَانَتْ ابْنَةَ أَبِيهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ
তাহকীক: