আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৪২৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
علقمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی ﷺ کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَتْ دِيمَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ (رض) سے فرمایا کہ آپ کے پاس آپ کا غلام بےجھجک آتا ہے، لیکن مجھے اس کا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا، انہوں نے فرمایا کیا نبی ﷺ کی ذات میں آپ کے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے، حضرت ابوحذیفہ (رض) کی بیوی ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے یہاں آسکے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قَالَتْ إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی ﷺ میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْروِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، محسوس ہونے لگا کہ نبی ﷺ پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرا بھائی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ غَضِبَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي قَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، جب نبی ﷺ آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! عذاب قبر برحق ہے، اس کے بعد میں نے نبی ﷺ کو جو نماز بھی پڑھتے دیکھا، نبی ﷺ نے اس میں عذاب قبر سے پناہ مانگی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا نبی ﷺ نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ وَحَجَّاجٌ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَجَّاجٌ وَبَهْزٌ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ بَهْزٌ : ابْنُ وَرْدَانَ وَقَالَ حَجَّاجٌ مُجَاهِدُ بْنُ وَرْدَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ قَالَ بَهْزٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آدمی اپنے احرام پر (احرام کی نیت سے قبل) خوشبو لگا سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایسا کرنے سے زیادہ پسند یہ کہ اپنے کپڑوں پر تار کول مل لوں، انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے یہی مسئلہ پوچھا اور حضرت ابن عمر (رض) کا جواب بھی ان سے زیادہ ذکر کردیا تو انہوں نے فرمایا ابوعبدالرحمن پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں تو خود نبی ﷺ کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے، پھر صبح کو احرام کی نیت کرلیتے اور ان کے احرام سے خوشبو مہک رہی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ فَقَالَ لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ قَالَ فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ وَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ مہینے میں متعین دنوں کا روزہ رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ الْمَعْلُومَةَ مِنْ الشَّهْرِ فَقَالَتْ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں ؟ نبی ﷺ بےفرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو غصے کی حالت میں تھے، میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے ؟ اللہ اسے جہنم رسید کرے، نبی ﷺ نے فرمایا دیکھو تو سہی، میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا، پھر انہیں تردد کا شکار دیکھ رہا ہوں، اگر یہ چیز جواب میرے سامنے آئی ہے، پہلے آجاتی تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لاتا بلکہ یہاں آ کر خرید لیتا، پھر نبی ﷺ نے احرام کھولا جیسے لوگوں نے احرام کھول لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ فَقَالَ وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَأَرَاهُمْ يَتَرَدَّدُونَ قَالَ الْحَكَمُ كَأَنَّهُمْ أَحْسَبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا أَحَلُّوا قَالَ رَوْحٌ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسَبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ (میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہیوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے حج کے بعد واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہ (رض) کو اپنے خیمے کے دوازے پر غمگین اور پریشان دیکھا کیونکہ ان کے ایام شروع ہوگئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَقَدْ حَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَانْفِرِي إِذًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْروِ بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی ﷺ نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَجَّاجٌ ابْنُ عَوْفٍ و حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ قَالَ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَبَّلَنِي قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ لِي سَعْدٌ طَلْحَةُ عَمُّ أَبِي سَعْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ بَهْزٌ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سَعْدٌ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ وَهِيَ حَائِضٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی ﷺ کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی کہ نبی ﷺ کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے "۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا قَالَتْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ قَالَ رَوْحٌ إِنَّهُ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
তাহকীক: