আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৩৬৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی ﷺ اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑ تے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا وَلَا يَدَعُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ (رض) فجر کی سنتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ یہ دو رکعتیں مختصر پڑھتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافرون سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُهُمَا قَالَتْ فَأَظُنُّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِنَحْوٍ مِنْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَائِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ بِهِ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ صبح کے وقت اختیاری طوری پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی ﷺ بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو کر دس یا زیادہ آیات پڑھتے پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ الْقَصَّابَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ قَامَ فَقَرَأَ قَدْرَ عَشْرِ آيَاتٍ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَكَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی ﷺ چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ (رض) نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ بَابُنَا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَفْتَحْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں موجود نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہوگی، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنْ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَوْ مَا كُنْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ (رض) نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد انہوں نے کچھ لوگوں کو نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ اندر چلے گئے، اسی اثناء میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بھی ان کے پاس پہنچ گئے جن کے ہمراہ میں بھی تھا، حضرت معاویہ (رض) نے انہیں ساتھ تخت پر بٹھایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے جو میں نے لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ جبکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) اس کا فتویٰ دیتے ہیں، اتنے میں حضرت ابن زبیر (رض) بھی آگئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے، حضرت معاویہ (رض) نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر ! آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت عائشہ (رض) نے بتایا ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر میں یہ نماز پڑھی ہے۔ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زبیر (رض) آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ ابن زبیر صحیح طرح یاد نہیں رکھ سکے، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ ایک دن نبی ﷺ نے میرے یہاں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسیم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑ نا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر (رض) نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے ؟ واللہ میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت ہی کرنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ فَجَلَسَ مَعَهُ قَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا قَالَ ذَاكَ مَا يُفْتِيهِمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا قَالَ فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا فَقَالَتْ لَمْ يَحْفَظْ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَذِهِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي فَسَأَلْتُهُ قُلْتُ إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا قَالَ إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَأَتَانِي بِلَالٌ فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا فَلَا نَدَعُهُمَا فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے ! تو بہت بابرکت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنِ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! میں آپ کو کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی وجہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی ﷺ نے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا پوری سورت تلاوت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ مَوْتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ وَكَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَمًا فِي أُمَّتِي وَأَنِّي إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعَلَمَ أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ فَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی ﷺ صبح کے وقت حالت نبی ﷺ خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ (رض) کو بتادو، حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ قَالَ فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنْ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ قَالَ وَقَالَتْ الْأُخْرَى كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ قَالَ فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں یہ سورتیں پست آواز سے پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ خَالِدٍ وَهِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ و حَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي عَلِيًّا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ بِهِمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ عُمَرُ مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ عِرَاكٌ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی ﷺ کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عید گاہ لے جایا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكِعَابُ مِنْ خِدْرِهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) یا حفصہ (رض) سے یا دونوں سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ حَفْصَةُ أَوْ هُمَا تَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی ﷺ کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے کھسک گئی، نبی ﷺ نے فرمایا کیا ہوا ؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہوگئے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ لِي أَحِضْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكَ ثُمَّ عُودِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! میرا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ! آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ فَقَالَ الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی ﷺ اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں کو کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری دوسری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی چیز کھوں گا، میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں اس چیز کے متعلق نہ بتائیے گا جسے میں نے اختیار کیا ہے، لیکن نبی ﷺ نے ایسا نہیں کیا اور وہ انہیں حضرت عائشہ (رض) کا جواب بتا کر کہتے تھے کہ عائشہ نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تھا لیکن ہم نے اسے طلاق نہیں سمجھا۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَيَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أُشَاوِرُ أَبَوَيَّ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ فَلَا تُخْبِرْهُنَّ بِالَّذِي اخْتَرْتُ فَلَمْ يَفْعَلْ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ ثُمَّ يَقُولُ قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا
tahqiq

তাহকীক: