আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৪৪৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت حبیش (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا یہ حیض نہیں، ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ لَا قَالَ يَحْيَى لَيْسَ ذَلِكَ الْحَيْضُ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي قَالَ يَحْيَى قُلْتُ لِهِشَامٍ أَغُسْلٌ وَاحِدٌ تَغْتَسِلُ وَتَوَضُّؤٌ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تھے تو بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے تھے جس بیوی کا نام نکل آتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے ایک مرتبہ کسی جہاد کے موقع پر جو آپ ﷺ نے قرعہ ڈالا تو میرا نکل آیا، میں حضور ﷺ کے ساتھ چل دی اور چونکہ پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا اس لئے میں ہودج کے اندر سوار تھی ہودج ہی اٹھایا جاتا تھا اور وہی اتارا جاتا تھا۔ (اسی طرح) ہم برابر چلتے رہے جب رسول اللہ ﷺ اس جہاد سے فارغ ہو کر واپس ہوئے اور واپس ہو کر مدینہ منورہ کے قریب آگئے تو ایک شب آپ ﷺ نے کوچ کرنے کا اعلان کیا۔ اعلان ہونے کے بعد میں اٹھی اور لشکر سے آگے بڑھ گئی اور رفع ضرورت کے بعد اپنے کجاوہ کے پاس آگئی، یہاں جو سینہ ٹٹول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ موضع ظفار کے پوتھ کا بنا ہوا میرا ہار کہیں ٹوٹ کر گرگیا ۔ میں لوٹ کر ہار کی جستجو کرنے لگی اور ہار تلاش کرنے کی وجہ سے (جلد) واپس نہ ہوسکی ادھر جو لوگ مجھے کجاوہ پر سوار کرایا کرتے تھے انہوں نے میرے ہودج کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی اور ان کا خیال یہی ہوا کہ میں ہودج کے اندر موجود ہوں کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں بھاری بھر کم اور فربہ اندام نہ ہوتی تھیں کیونکہ عورتوں کی خوراک کم ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ اٹھاتے وقت لوگوں کو علم نہ ہوسکا اور میں تو ویسے ہی کم عمر لڑکی تھی۔ لوگ اونٹ اٹھا کر چل دئے اور لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھے ہار مل گیا۔ پڑاؤ پر لوٹ کر آئی تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ مجبوراً میں نے اسی جگہ پر بیٹھے رہنے کا قصد کیا جہاں اتری تھی۔ اور یہ خیال کیا کہ جب میں وہاں نہ ہوں گی تو لوگ میرے پاس لوٹ کر آئیں گے وہاں بیٹھے بیٹھے میں نیند سے مغلوب ہو کر سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل (رض) سلمی لشکر کے پیچھے رہ گئے تھے۔ صبح کو میری جگہ پر آکر کسی کو سوتے ہوئے انسان کا بدن دیکھ کر انہوں نے مجھے پہچان لیا کیونکہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے پہچان کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ میں ان کی آواز سن کر بیدار ہوگئی اور چادر سے اپنا چہرہ چھپالیا۔ اس کے علاوہ اللہ کی قسم نہ میں نے کچھ کلام کیا نہ انہوں نے مجھ سے کوئی لفظ کہا۔ پھر انہوں نے جھک کر اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اونٹ کے اگلے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھا (تاکہ اونٹ اٹھ نہ جائے) میں کھڑی ہو کر اونٹ پر سوار ہوگئی وہ مہار پکڑ کر آگے آگے اونٹ لے کر چل دیئے یہاں تک کہ کڑکتی دوپہر ہی میں ہم لشکر میں پہنچ گئے کیونکہ لشکر والے ایک جگہ پڑاؤ پر اتر گئے تھے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس کے بعد کچھ لوگ مجھ پر افترا بندی کرکے ہلاک ہوگئے اور اس طوفان کا اصل بانی منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی تھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مدینہ منورہ پہنچ کر میں ایک مہینہ کے لئے بیمار ہوگئی اور لوگ طوفان انگیزوں کے قول کا چرچا کرتے تھے اور مجھے اس کا علم نہ تھا ہاں بیماری کی حالت میں مجھے شک ضرور ہوتا تھا کیونکہ جو مہربانیاں گذشتہ بیماریوں کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ سے دیکھتی تھی وہ اس بیماری میں نہیں دیکھتی تھی، صرف آپ ﷺ تشریف لا کر سلام کرکے اتنا پوچھ لیتے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے اور یہ پوچھ کر واپس چلے جاتے تھے اس سے مجھے شک ضرور ہوتا تھا لیکن برائی کی مجھے کچھ اطلاع نہ تھی۔ آخر کار جب مجھے کچھ صحت ہوئی تو میں مسطح کی ماں کے ساتھ رفع ضرورت کے لئے خالی میدان کی طرف گئی کیونکہ میدان ہی رفع ضرورت کا مقام تھا اور صرف رات کے وقت ہی ہم وہاں جاتے تھے اور یہ ذکر اس وقت کا ہے جب کہ مکانوں کے قریب بیت الخلاء نہ ہوتے تھے جاہلیت کا طریقہ ہم کو بیت الخلاء بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ ام مسطح ابورہم بن عبدالمطلب کی بیٹی تھی اور اثاثہ بن عباد بن مطلب کی بیوی تھی ام مسطح کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھی اور حضرت ابوبکر (رض) کی خالہ تھی جب ہم دونوں ضرورت سے فارغ ہو کر اپنے مکان کے قریب آئے تو ام مسطح کا پاؤں چادر میں الجھا اور وہ گرگئی، گرتے ہوئے اس نے کہا مسطح ہلاک ہو، میں نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہی ہو، کیا آپ ایک ایسے آدمی کو برا بھلا کہہ رہی ہو جو غزوہ بدر میں شریک تھا، اس نے کہا او بیوقوف لڑکی کیا تو نے مسطح کا قول نہیں سنا ؟ میں نے کہا مسطح کا قول کیا ہے ؟ توام مسطح نے مجھے افترا بندوں کے قول کی خبر دی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں یہ سن کر میری بیماری میں اور اضافہ ہوگیا، جب میں اپنے گھر آئی اور رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور سلام کہہ کر کے حال دریافت کیا تو میں نے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں وہاں جانے سے میری غرض یہ تھی کہ والدین سے یقینی خبر مجھے معلوم ہوجائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے جا کر پوچھا اماں لوگ کیا چرچا کر رہے ہیں۔ والدہ نے کہا بیٹی تم کو گھبرانا نہ چاہیے اللہ کی قسم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو عورت خوبصورت ہوتی ہے اور اپنے شوہر کی چہیتی ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں ہمیشہ اس میں عیب نکالتی رہتی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ لوگ ! یہ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس شب میں رات بھر روتی رہی صبح تک میرے آنسو نہ تھمے اور نہ آنکھوں میں نیند آئی اور صبح کو بھی میں روتی رہی ادھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) اور اسامہ (رض) کو بلایا کیونکہ وحی میں توقف ہوگیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہر دو حضرات سے مشورہ کیا اور مجھے طلاق دینے کے متعلق دریافت کیا۔ اسامہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے میری پاک دامنی ہی بیان کی اور وہی مشورہ دیا جس کی محبت اہل بیت تقاضا کرتی تھی۔ چناچہ حضور ﷺ سے انہوں نے عرض کردیا کہ وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم ان میں نیکی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ حضرت علی (رض) نے کہا یارسول اللہ ﷺ اللہ نے آپ کے لئے کوئی تنگی نہیں کی ہے اس کے سوا عورتیں بھی بہت ہیں۔ آپ باندی سے دریافت فرمائیے وہ آپ سے سچ سچ بیان کردے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو بلا کر فرمایا کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تجھے کبھی شک پڑا ہو۔ بریرہ نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حقانیت کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے اس میں نکتہ چینی کے قابل کبھی کوئی بات نہیں دیکھی ہاں چونکہ وہ نوعمر لڑکی ہے آٹا چھوڑ کر سو جاتی تھی اور بکری آکر آٹا کھا جاتی تھی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور منبر پر جا کر عبداللہ بن ابی سے معذرت کرنے کو فرمایا۔ چناچہ ارشاد فرمایا : اے گروہ مسلمانان کون شخص میرا بدلہ لے سکتا ہے جس کی طرف سے مجھے اپنی بیوی کے متعلق تکلیف پہنچی ہے۔ اللہ کی قسم میں اپنی بیوی میں نیکی کے سوا کچھ نہیں جانتا اور جس شخص کا لوگوں نے نام لیا ہے اس کو بھی میں نیک ہی جانتا ہوں اور وہ تو میرے گھر میں بغیر میری ہمراہی کے جاتا بھی نہ تھا۔ یہ سن کر سعد بن معاذ (رض) نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حضور ﷺ کا بدلہ لوں گا۔ اگر وہ (فتنہ پرور) قبیلہ اوس میں سے ہوگا تو میں اس کی گردن ماردوں گا اور اگر ہمارے خزرجی بھائیوں میں سے ہوگا تو جو آپ حکم دیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ یہ سن کر ایک شخص (سعد بن عبادہ) کھڑا ہوا یہ شخص حسان کی ماں کا رشتہ کا بھائی تھا اور قبیلہ خزرج کا سردار تھا اگرچہ یہ نیک آدمی تھا لیکن حمیت آگئی اور قوم کی حمیت کی وجہ سے کہنے لگا سعد تو جھوٹا ہے اللہ کی قسم تو اس کو نہیں مارے گا اور نہ مار سکے گا اور اگر وہ تیری قوم میں ہوتا تو اس کے مارے جانے کو نہ چاہتا۔ ادھر سے سعد بن معاذ کا چچیرا بھائی اسید بن حضیر جواب دینے کو کھڑا ہوا اور سعد بن عبادہ سے کہا تو جھوٹا ہے اللہ کی قسم ہم اس کو مار ڈالیں گے یقینا تو منافق ہے کہ منافقوں کی طرف سے لڑتا ہے۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں قبیلے (اوس و خزرج) مشتعل ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ بھی خاموش ہوگئے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں اس روز بھی دن بھر روتی رہی نہ آنسو بند ہوئے نہ آنکھوں میں نیند آئی اسی طرح دو راتیں اور ایک دن بغیر سوئے گزر گیا آنکھ سے آنسو نہ تھمتا تھا اور میرا خیال تھا کہ رونے سے میرا جگر پھٹ جائے گا۔ صبح کو میرے والدین میرے پاس آئے وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک انصاری عورت نے آنے کی اجازت طلب کی میں نے اجازت دے دی وہ بھی آ کر میرے ساتھ رونے لگی تھوڑی دیر بعد رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور السلام علیکم کرکے بیٹھ گئے وہ تہمت کے دن سے اس وقت تک میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اس وقت آکر بیٹھے اور ایک مہینہ تک میرے متعلق رسول اللہ ﷺ پر کوئی وحی نہ ہوئی۔ حضور ﷺ نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا عائشہ ! میں نے تیرے حق میں اس قسم کی باتیں سنی ہیں اگر تو گناہ سے پاک ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ تیری پاک دامنی بیان کردے گا اور اگر تو گناہ میں آلودہ ہوچکی ہے تو خدا تعالیٰ سے معافی کی طالب ہو اور اسی سے توبہ کر کیونکہ بندہ جب گناہ کا اقرار کرکے توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ معاف کردیتا ہے۔ حضور اقدس ﷺ جب یہ کلام کرچکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے اور قطرہ بھی نہ نکلا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے حضرت کو جواب دیجئے۔ والد نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے والدہ سے کہا تم جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں۔ میں اگرچہ کم عمر لڑکی تھی اور بہت قرآن بھی پڑھی نہ تھی لیکن میں کہا اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ یہ بات آپ نے سنی ہے اور یہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کروں (اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے اللہ کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا۔ فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون۔ یہ کہہ کر میں بستر پر جا کر لیٹ گئی اللہ کی قسم مجھے اپنی برأت کا یقین تو تھا اور یہ بھی یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ میری برأت ظاہر فرمائے گا لیکن یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے حق میں قرآن ( کی آیت) نازل فرمائے گا جو (قیامت تک) پڑھی جائے گی کیونکہ میں اپنی ذات کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے کسی امر کے متعلق کلام فرمائے گا۔ ہاں مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی خواب ضرور نظر آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی ظاہر فرمائے گا۔ لیکن اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ گھروالوں میں سے کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ پر اپنی کیفیت کے ساتھ وحی نازل ہوئی یہاں تک کہ چہرہ مبارک سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگا حالانکہ یہ واقعہ موسم سرما کا تھا جب وحی کی حالت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے ہنستے ہوئے سب سے پہلے یہ الفاظ فرمائے عائشہ اللہ تعالیٰ نے تیری پاک دامنی بیان فرما دی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر حضور ﷺ کو تعظیم دے اور آپ کا شکریہ ادا کر کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ تیری پاک دامنی کا اظہار کیا۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں اٹھوں گی اور نہ کسی کا شکریہ یا تعریف سوائے اللہ کے کروں گی کیونکہ اسی نے میری پاک دامنی کا اظہار کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے میری برأت کے متعلق یہ دس آیتیں نازل فرمائی تھیں انَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) مسطح بن اثاثہ کو رشتہ داری اور اس کی غربت کی وجہ سے مصارف دیا کرتے تھے لیکن آیت مذکورہ کو سن کر کہنے لگے اللہ کی قسم اب میں کبھی اس کو کوئی چیز نہ دوں گا۔ اس پر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۔ حضرت ابوبکر (رض) کہنے لگے اللہ کی قسم میں دل سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میری مغفرت فرما دے۔ یہ کہہ کر پھر مسطح کو وہی خرچہ دینے لگے جو پہلے دیا کرتے تھے اور فرمایا اللہ کی قسم اب میں کبھی خرچ بند نہیں کروں گا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب (رض) سے دریافت کیا تھا کہ تم کو کیا علم ہے ؟ حضرت زینب (رض) نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے آنکھ کان محفوظ رکھنا چاہتی ہوں، (تہمت لگانا نہیں چاہتی) میں نے ان میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت زینب (رض) ہی (حسن و جمال میں) حضور ﷺ کی تمام بیویوں میں میرا مقابلہ کرتی تھی لیکن خوف اللہ نے ان کو (مجھ پر تہمت لگانے سے) محفوظ رکھا لیکن ان کی بہن اس سے لڑتی ہوئی آئی (کہ تم نے تہمت کیوں نہ لگائی) چناچہ جہاں اور افتراء انگیز تباہ حال ہوئے وہاں وہ بھی ہلاک ہوگئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ جب سفر پر جانے کا اراداہ کرتے تھے تو بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے تھے جس بیوی کا نام نکل آتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے ........ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی کہ موضع ظفار کے پوتھ کا بنا ہوا میرا ہار کہیں ٹوٹ کر گرگیا ، پڑاؤ پر لوٹ کر آئی تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ مجبوراً میں نے اس جگہ پر بیٹھے رہنے کا قصد کیا جہاں اتری تھی، حضرت عروہ کہتے ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ بن ابی کے سامنے جب اس معاملہ کی گفتگو کی جاتی تھی تو وہ کان لگا کر سنتا تھا اور واقعہ کی تائید کرتا تھا اور اس کو شہرت دیتا تھا۔ حضرت عروہ (رض) کہتے ہیں کہ افترا بندوں میں حسان بن ثابت مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے نام تو مجھے معلوم ہیں اور لوگوں کے نام میں جانتا نہیں اتنا ضرور ہے کہ افترا انگیزوں کی جماعت تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے اور اس کا بانی مبانی عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حسان کو برا کہا جائے اور فرماتی تھیں کہ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ شعر کہا تھا۔ " میرا باپ میرا دادا اور میری آبرو محمد ﷺ کے لئے تم لوگوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے "۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب کہ مکانوں کے قریب بیت الخلاء نہ ہوتے تھے جاہلیت کا طریقہ ہم کو بیت الخلاء بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ چونکہ وہ نوعمر لڑکی ہے وہ نوعمر لڑکی ہے آٹا چھوڑ کر سو جاتی تھی اور بکری آکر آٹا کھا لیتی تھی۔ یہ سن کر سعد بن عبادہ کھڑا ہوا یہ شخص حسان کی ماں کا رشتہ کا بھائی تھا اور قبیلہ خزرج کا سردار تھا اگرچہ یہ آدمی نیک تھا لیکن حمیت آگئی۔ حضور اقدس ﷺ جب یہ کلام کرچکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے۔ ان کی بہن ان سے لڑتی ہوئی آئی (کہ تم نے تہمت کیوں نہ لگائی) چناچہ جہاں اور افتراء انگیز تباہ حال ہوئے وہاں وہ بھی ہلاک ہوگئی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی تھی، کہتا تھا قسم اللہ کی میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا (نہ حلال طریقہ سے نہ حرام ......) بعد میں وہ ایک جہاد میں شہید ہوگیا تھا۔ (٢٦١٤٣) گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مختلف الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي بِطَائِفَةٍ مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأَنْزِلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ قَدْ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَاحْتَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِي كَانُوا يَرْحَلُونَ بِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ قَالَتْ كَانَتْ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبِّلْهُنَّ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرْ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا فَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُوا إِلَيَّ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ وَرَاءَ الْجَيْشِ فَأَدْلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيَّ الْحِجَابُ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي فَوَاللَّهِ مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ وَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ كَيْفَ تِيكُمْ فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَمَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُتَّخَذَ الْكُنُفُ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا وَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ وَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَمَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا قَدْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَتْ أَيْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ كَيْفَ تِيكُمْ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَبَوَيَّ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا قَالَتْ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ لِيَسْتَشِيرَهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ قَالَتْ فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنْ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ قَالَ أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَقَدْ أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنْ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنْ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ قَالَتْ وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَاكَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَايَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي شَيْءٌ قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ ثُمَّ تُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ فَقَالَ مَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنْ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ تُصَدِّقُونِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي قَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ وَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنْ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنْ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَاتِ بَرَاءَتِي قَالَتْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرِي وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ أَوْ مَا بَلَغَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ قَالَ بَهْزٌ قُلْتُ لَهُ ابْنُ كَيْسَانَ قَالَ نَعَمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ قَالُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ آذَنَ لَيْلَةَ الرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ وَقَالَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ وَقَالَ يُهَبَّلْنَ وَقَالَ فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي وَقَالَ قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ إِلَّا أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ كَانَ يُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ وَقَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَقَالَ لَهَا ضَرَائِرُ وَقَالَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ وَقَالَ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ وَقَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ قَالَتْ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ وَقَالَ قَلَصَ دَمْعِي وَقَالَ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا وَقَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَإِسْنَادَهُ وَقَالَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ وَقَالَ يُهَبِّلُهُنَّ وَقَالَ تَيَمَّمْتُ وَقَالَ فِي الْبَرِّيَّةِ وَقَالَ لَهَا ضَرَائِرُ وَقَالَ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ وَقَالَ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَقَالَ قَلَصَ دَمْعِي وَقَالَ تُحَارِبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے والدین کو دین کی پیروی کرتے ہوئے ہی پایا اور کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ دن کے دونوں حصوں میں یعنی صبح شام رسول اللہ ہمارے گھر تشریف نہ لاتے ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں کو زیادہ ایذا دی جانے لگی تو حضرت ابوبکر (رض) سرزمین حبش کی طرف ہجرت کرنے کے ارادہ سے چل دیئے، مقام برک الغماد پر ابن دغنہ سردار قبیلہ قارہ ملا اور کہنے اے ابوبکر ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے ................ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں ہی تھے اور آپ ﷺ نے مسلمانوں سے فرما دیا تھا کہ تمہاری ہجرت گاہ مجھے خواب میں دکھا دی گئی ہے جو دو پتھریلی زمینوں کے درمیان واقع ہے اور اس میں کجھور کے درخت بہت ہیں چناچہ جن لوگوں نے مدینہ کو ہجرت کی انہوں نے تو کر ہی لی، باقی جو لوگ ترک وطن کرکے ملک حبش کو چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ کو لوٹ آئے اور حضرت ابوبکر (رض) نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تیاری کرلی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ذرا ٹھہرو ! امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کے میرے ماں باپ نثار، کیا حضور ﷺ کو اس کی امید ہے ؟ فرمایا ہاں ! چناچہ حضرت ابوبکر (رض) کو ہمراہ لینے کے لئے رک گئے اور دو اونٹنیوں کو کیکر کے پتے کھلا کر چار مہینے تک پالتے رہے۔ ایک روز دوپہر کی سخت گرمی کے وقت ہم مکان کے اندر بیٹھے تھے کہ کسی نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں، حضور ﷺ منہ لپیٹے ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جو آپ ﷺ کے آنے کا وقت نہ تھا، حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا میرے والدین حضور ﷺ پر نثار، اس وقت کسی اہم کام کی وجہ سے تشریف لائے ہیں ؟ حضور ﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور حضرت ابوبکر (رض) نے اجازت دے دی تو اندر تشریف لا کر فرمایا : ان پاس والے آدمیوں کو باہر کردو کیونکہ ایک پوشیدہ بات کرنا ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے جواب دیا یہ تو صرف گھر والے ہی ہیں ارشاد فرمایا مجھے یہاں سے ہجرت کر جانے کی اجازت مل گئی، حضرت صدیق (رض) کے کہا کیا مجھے رفاقت کا شرف ملے گا ؟ فرمایا : ہاں ! حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے والدین نثار، ان دونوں اونٹنیوں میں سے آپ ایک لے لیجئے فرمایا میں مول لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے دونوں کے سفر کا سامان نہایت جلد تیار کردیا اور ایک تھیلا کھانے کا تیار کر کے رکھ دیا، اسماء نے اپنے کمر بند کا ٹکڑا کاٹ کر اس سے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کا نام ذات النطاق ہوگیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کوہ ثور کے غار میں چلے گئے اور تین رات دن تک وہیں چھپے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَايَ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمْرُرْ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيْ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ قَدْ رَأَيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ أُرِيتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا حَرَّتَانِ فَخَرَجَ مَنْ كَانَ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ مِنْ وَرَقِ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلَانٍ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَاءٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لَأَمْرٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَالصُّحْبَةَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَبَّ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْكَتْ الْجِرَابَ فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ فَمَكَثَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي مَلِيحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا فَقَدْ هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی ﷺ کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی ﷺ نماز پڑھتے رہتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ هَذِهِ الْمُرَحَّلَاتِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ وَالْمِرْطُ مِنْ أَكْسِيَةٍ سُودٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء چیز تاخیر کردی حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چناچہ نبی ﷺ باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ غَيْرُكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةُ تَمَاثِيلَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا رک جاؤ۔ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤگے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ حَسَنَةُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ هَذِهِ فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ مَهْ مَهْ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَأَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی ﷺ سے گھر آنے کی اجازت چاہی اور السَّامُ عَلَيْكُمْ کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) یہ سن کر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ (رض) ! اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے، انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وَعَلَيْكُمْ ( تم پر ہی موت طاری ہو) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلًا يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے جس میں ایک فرق کے برابر پانی آتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِيهِ قَدْرُ الْفَرَقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا اس کے نقش ونگار نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ عَلَمٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ الشَّمْسُ مِنْ حُجْرَتِي طَالِعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ أَوْ رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فجر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا طلوع و غروب کے وقت کا اہتمام کر کے اس میں نماز نہ پڑھا کرو۔
قَالَتْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی، اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی ﷺ نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی ﷺ ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی ﷺ کے ہاتھ سے گرگئی اور فرمایا " اللہم الرفیق الاعلیٰ " اور اس دم نبی ﷺ کی روح مبارک پرواز کرگئی، بہر حال ! اللہ کا شکر ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يَسْتَنُّ بِهِ فَثَقُلَتْ يَدُهُ وَثَقُلَ عَلَيَّ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مَرَّتَيْنِ قَالَتْ ثُمَّ قُبِضَ تَقُولُ عَائِشَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی ﷺ کے احرام پر " ذریرہ " خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی ﷺ احرام باندھتے تھے اور طواف زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَالْأَنْصَارِيُّ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا میں نبی ﷺ کے ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی ﷺ اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ
তাহকীক: