আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৮০৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮০৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی ﷺ کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی ﷺ گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے حتیٰ کہ میں بعض لوگوں کو " نماز نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی ﷺ باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کو گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَعَهُ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى الثَّانِيَةَ فَاجْتَمَعَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ مِنْ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَوْ الرَّابِعَةُ امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ حَتَّى اغْتَصَّ بِأَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا زَالَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ أَمْرُهُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْهِمْ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ يَعْنِي صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮০৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی تو نبی ﷺ اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ اور جب بھی نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً وَلَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا كَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ أَيْسَرُهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْ الْإِثْمِ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَكُونَ هُوَ يَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى النِّسَاءَ الْيَوْمَ نَهَاهُنَّ عَنْ الْخُرُوجِ أَوْ حَرَّمَ عَلَيْهِنَّ الْخُرُوجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ایک علاقے میں بھیجا، وہاں ایک آدمی نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں ابوجہم سے جھگڑا کیا، ابوجہم نے اسے مارا اور زخمی ہوگیا، اس قبیلے کے لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں قصاص دلوائے، نبی ﷺ نے فرمایا تم قصاص کا مطالبہ چھوڑ دو ، میں تمہیں اتنا مال دوں گا، لیکن وہ لوگ راضی نہ ہوئے، نبی ﷺ نے اس کی مقدار میں مزید اضافہ کیا، لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، البتہ تیسری مرتبہ اضافہ کرنے پر وہ لوگ راضی ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضا مندی کے متعلق بتادوں ؟ انہوں نے کہا جی ضرور۔ چناچہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قبیلہ کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کی درخواست لے کر آئے تھے، میں نے انہیں اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور یہ راضی ہوگئے ہیں، پھر ان سے فرمایا کیا تم راضی ہوگئے ؟ انہوں نے انکار کردیا، اس پر مہاجرین کو بہت غصہ آیا لیکن نبی ﷺ نے انہیں رکنے کا حکم دے دیا، وہ رک گئے، نبی ﷺ نے انہیں بلا کر مقررہ مقدار میں مزید اضافہ کردیا اور فرمایا اب تو راضی ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتادوں ؟ انہوں نے کہا جی ضرور، چناچہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا اور ان سے پوچھا کیا تم راضی ہوگئے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں !
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا رَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ پر اول سچی خوابوں سے وحی کا نزول شروع ہوا، آپ ﷺ جو خواب دیکھتے وہ بالکل صبح روشن کی طرح ٹھیک پڑتا تھا۔ اس کے بعد حضور ﷺ خلوت پسند ہوگئے تھے اور غار حرا میں جا کر گوشہ گیری اختیار کرلی، آپ ﷺ کئی کئی روز تک وہیں پر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی اثناء میں گھر پر بالکل نہ آتے تھے لیکن جس وقت کھانے پینے کا سامان ختم ہوجاتا تھا تو پھر اتنے ہی دنوں کا کھانا لے کر چلتے تھے، آخر کار اسی غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ ایک فرشتہ نے آکر حضور ﷺ سے کہا پڑھئے ! آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں) یہ سن کر اس فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں بےطاقت ہوگیا، پھر اس فرشتہ نے مجھ کو چھوڑ کر کہا پڑھئے ! میں نے کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے دوبارہ مجھ کو پکڑ کر اس قدر دبوچا کہ مجھ میں طاقت نہیں رہی اور پھر چھوڑ کر مجھ سے کہا پڑھئے میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تیسری بار اس نے مجھ کو اس قدر زور سے دبایا کہ میں بےبس ہوگیا اور آخر کار مجھ کو چھوڑ کر کہا ! کہ " پڑھ " اپنے رب کے نام کی برکت سے جس نے ( ہر شئ کو) پیدا کیا ( اور) انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھ اور تیرا رب بڑے کرم والا ہے "۔ ( ام المومنین فرماتی ہیں) آپ یہ بات پڑھتے ہوئے گھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا، چناچہ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس پہنچ کر آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ (رض) نے آپ کو کپڑا اوڑھایا، جب آپ کی بےقراری دور ہوئی اور دل ٹھکانے ہوا تو ساری کیفیت خدیجہ (رض) سے بیان فرمائی اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ حضرت خدیجہ (رض) نے عرض کیا اللہ کی قسم ! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آپ کو بالکل فکر نہ کرنی چاہیے، خدائے تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرے گا کیونکہ آپ تو برادر پرور ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، کمزوروں کا کام کرتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور جائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ (رض) حضور ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا اور انجیل کا ( سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے، بہت ضعیف العمر اور نابینا بھی تھے، حضرت خدیجہ (رض) نے اس کے پاس پہنچ کر کہا ابن عم ذرا اپنے بھتیجے کی حالت تو سنئے ! ورقہ بولا کیوں بھتیجے کیا کیفیت ہے ؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا ورقہ سے بیان کردیا جب ورقہ حضور ﷺ سے سب حال سن چکے تو بولے یہ فرشتہ وہی ناموس ہے، جس کو خدائے تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا تھا کاش ! میں عہد نبوت میں جوان ہوتا کاش ! میں اس زمانہ میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو قوم والے ( وطن سے) نکالیں گے، حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ بولے جی ہاں ! جو شخص بھی آپ کی طرح دین الٰہی لایا ہے اس سے عداوت کی گئی ہے، اگر میں آپ کے عہد نبوت میں موجود ہوا تو کافی امداد کروں گا، لیکن اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہوگیا اور سلسلہ وحی بند گیا، فترتِ وحی کی وجہ سے نبی ﷺ اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی مرتبہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانے کا ارادہ کیا، لیکن جب بھی وہ اس ارادے سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سامنے آجاتے اور عرض کرتے اے محمد ﷺ ! آپ اللہ کے برحق رسول ہیں، اسے سے نبی ﷺ کا جوش ٹھنڈا اور دل پر سکون ہوجاتا تھا اور وہ واپس آجاتے، پھر جب زیادہ عرصہ گذر جاتا تو نبی ﷺ پھر اسی طرح کرتے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انہیں تسلی دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَالِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَيَّ فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنْ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونَ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ وَفَتَرَ الْوَحْيُ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی ﷺ کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی ﷺ نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، نبی ﷺ میری سہلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی بھیجا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ قَالَ لِي عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام بھی فرماتے تھے اور انہیں سب سے زیادہ پسند بھی وہی نماز تھی جس پر دوام ہو، اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے کثرت کے ساتھ نبی ﷺ کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی ﷺ نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا اور میں نے عمرہ کرلیا، پھر میں نبی ﷺ سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ فَبَعَثَ مَعِي أَخِي فَاعْتَمَرْتُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ابتداء نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، بعد میں نبی ﷺ نے حکم الٰہی کے مطابق حضر کی نماز میں اضافہ کردیا اور سفر کی نماز کو اسی حالت پر دو رکعتیں ہی رہنے دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ عَلَى نَحْوِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جوں ہی وہ نبی ﷺ کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی ﷺ انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ وَتَسَاقَطَ شَعَرُهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا فَأَصِلُ شَعْرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُوصِلَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ النَّصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی ﷺ چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى السَّامِيُّ حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حلان کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا
tahqiq

তাহকীক: