আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮০ টি
হাদীস নং: ২৫৭৮০
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میرے پاس حضرت زبیر کی قمص کے دو بازو موجود ہیں جو ریشمی ہیں جو نبی ﷺ نے انہیں بوقت جنگ پہننے کے لئے عطا فرمائے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ عِنْدِي لِلزُّبَيْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِيبَاجٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ يُقَاتِلُ فِيهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮১
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب انسان کو اس کی قبر میں داخل کردیا جاتا ہے اور وہ مؤمن ہو تو اس کے اعمال مثلا نماز، روزہ اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں، فرشتہ عذاب نماز کی طرف سے آنا چاہتا ہے تو نماز اسے روکی دیتی ہے، روزے کی طرف سے آنا چاہے تو روزہ روک دیتا ہے، وہ اسے پکار کر بیٹھنے کے لئے کہتا ہے چناچہ انسان بیٹھ جاتا ہے، فرشتہ اس سے پوچھتا ہے کہ تو اس آدمی یعنی نبی ﷺ کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ وہ پوچھتا ہے کون آدمی ؟ فرشتہ کہتا ہے محمد ﷺ وہ کہتا ہے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا اور اسی پر تجھے موت آگئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔ اور اگر مردہ فاجریا کافر ہو تو جب فرشتہ اس کے پاس آتا ہے تو درمیان میں اسے واپس لوٹا دینے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ اسے بٹھاکرپوچھتا ہے کہ تو اس آدمی کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ مردہ پوچھتا ہے کون آدمی وہ کہتا ہے محمد ﷺ ، مردہ کہتا ہے کہ واللہ میں کچھ نہیں جانتا، میں لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنتا تھا، وہی کہہ دیتا تھا، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا، پھر اس پر قبر میں ایک جانور کو مسلط کردیا جاتا ہے اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے جس کے سرے پر چنگاری ہوتی ہے جیسے اونٹ کی نوک ہو جب تک اللہ کو منظور ہوگا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جانور بہرا ہے جو آواز سن ہی نہیں سکتا کہ اس پر رحم کھالے۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ كَانَتْ أَسْمَاءُ تُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ قَالَ فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَتَرُدُّهُ وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ قَالَ فَيُنَادِيهِ اجْلِسْ قَالَ فَيَجْلِسُ فَيَقُولُ لَهُ مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ وَمَا يُدْرِيكَ أَدْرَكْتَهُ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ يَقُولُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ قَالَ وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا أَوْ كَافِرًا قَالَ جَاءَ الْمَلَكُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ قَالَ فَأَجْلَسَهُ قَالَ يَقُولُ اجْلِسْ مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ قَالَ أَيُّ رَجُلٍ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ قَالَ فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ قَالَ وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ مَعَهَا سَوْطٌ تَمْرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ غَرْبِ الْبَعِيرِ تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮২
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي بِغَيْرِ الَّذِي يُعْطِينِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৩
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَكَلْنَا فَرَسًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৪
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي بُنَيَّةً عَرِيسًا وَإِنَّهُ تَمَرَّقَ شَعَرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ إِنْ وَصَلْتُ رَأْسَهَا وَقَالَ وَكِيعٌ تَمَرَّطَ شَعْرُهَا قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৫
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ أَفَأَرْضَخُ مِنْهُ قَالَ ارْضَخِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৬
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے کھرچ دے، پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبُهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ قَالَ تَحُتُّهُ ثُمَّ لِتَقْرِضْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ تَنْضَحْهُ ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৭
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کردکھایا اور بتایا کہ یہ جبہ نبی ﷺ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يَا جَارِيَةُ نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخْرَجَتْ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৮
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ أَوْ مِنْ لَحْمِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮৯
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیرگھر میں لاتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ سَمِعَاهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ وَيَأْتِينِي الْمِسْكِينُ فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْضَخِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯০
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯১
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں کف ریشم کے بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی ﷺ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٍ بِالدِّيبَاجِ يَلْقَى فِيهَا الْعَدُوَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯২
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ عَلَى بَيْتِي فَأُعْطِي مِنْهُ قَالَ أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৩
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ كِسْرَوَانِيٌّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৪
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کردینا شروع کردے گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَنْفِقِي أَوْ انْضَحِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ أَوْ لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৫
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کردینا شروع کردے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ مُحْصِيَةً وَعَنِ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَنْفِقِي أَوْ انْضَخِي أَوْ انْفَحِي هَكَذَا وَهَكَذَا وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৬
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوگیا، اس دن میں حضرت عائشہ کے یہاں گئی، تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس وقت نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں اس موقع پر نبی ﷺ نے طویل قیام کیا حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے اپنے پہلو میں رکھے ہوئے ایک مشکیزے کو پکڑا اور اس سے اپنے سر پر پانی بہانے لگی نبی ﷺ نے نماز سے جب سلام پھیرا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔ پھر نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا حمد وصلوۃ کے بعد ! اب تک میں نے جو چیزیں نہیں دیکھی تھیں وہ اپنے اس مقام پر آج دیکھ لیں حتی کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو اپنی قبروں میں مسیح دجال کے برابریا اس کے قریب قریب فتنے میں مبتلا کیا جائے گا تمہارے پاس فرشتے آئیں گے اور پوچھیں گے کہ اس آدمی کے متعلق تم کیا جانتے ہو ؟ تو جو مؤمن ہوگا وہ جواب دے گا کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور ہمارے پاس واضح معجزات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے ان کی پکار پر لبک کہا اور ان کی اتباع کی (تین مرتبہ) اس سے کہا جائے گا ہم جانتے تھے کہ تو اس پر ایمان رکھتا ہے لہذا سکون کے ساتھ سوجاؤ ! اور جو منافق ہوگا تو وہ کہے گا میں نہیں جانتا میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا وہی میں بھی کہہ دیتا تھا اور میں نے پچاس یا ستر ہزار ایسے آدمی دیکھے جو جنت میں چودھویں رات کے چاند کی طرح داخل ہوں گے، ایک آدمی نے اٹھ کر عرض کیا اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھ کو بھی ان میں شامل کردے، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرمادے، اے لوگوں اس وقت تم میرے منبر سے اترنے سے پہلے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب ضروردوں گا، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تیرا باپ فلاں آدمی ہے جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ آيَةٌ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي فَازِعٍ فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ قَالَتْ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَغَ مِنْ سَجْدَتِهِ الْأُولَى قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا طَوِيلًا حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَ مَنْ يُصَلِّي يَنْتَضِحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ قِيَاما طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَإِلَى الصَّدَقَةِ وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا وَقَدْ أُرِيتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ يُسْأَلُ أَحَدُكُمْ مَا كُنْتَ تَقُولُ وَمَا كُنْتَ تَعْبُدُ فَإِنْ قَالَ لَا أَدْرِي رَأَيْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَصْنَعُونَ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ قِيلَ لَهُ أَجَلْ عَلَى الشَّكِّ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْ النَّارِ وَإِنْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قِيلَ عَلَى الْيَقِينِ عِشْتَ قَالَ مِتَّ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْ الْجَنَّةِ وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ فُلَانٌ الَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৭
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں کف ریشم کے بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی ﷺ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي عُمَرَ خَتَنٌ كَانَ لِعَطَاءٍ أَخْرَجَتْ لَنَا أَسْمَاءُ جُبَّةً مَزْرُورَةً بِدِيبَاجٍ قَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الْحَرْبَ لَبِسَ هَذِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৮
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک اور ضرورت مند تھیں، میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمْ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ صِلِيهَا قَالَ وَأَظُنُّهَا ظِئْرَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯৯
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں گندم کے دو مد صدقہ فطر کے طور پر ادا کرتے تھے، اس مد کی پیمائش کے مطابق جس سے تم پیمائش کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ كُنَّا نُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ بِالْمُدِّ الَّذِي تَقْتَاتُونَ بِهِ
তাহকীক: