আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت علی (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৭৯ টি
হাদীস নং: ৯৩০
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی ﷺ سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا منی میں تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩১
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
عامر کہتے ہیں کہ شراحہ نامی ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا وہ شام گیا ہوا تھا، یہ عورت امید سے ہوگئی، اس کا آقا اسے حضرت علی (رض) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس عورت نے بدکاری کی ہے، اس عورت نے بھی اعتراف کرلیا، حضرت علی (رض) نے اسے پہلے پچاس کوڑے لگائے، پھر جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی اور اس کے لئے ناف تک ایک گڑھا کھدوایا، میں بھی اس وقت موجود تھا۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ رجم نبی ﷺ کی سنت ہے، اگر اس کا یہ جرم کسی گواہ کی شہادت سے ثابت ہوتا تو اسے پتھر مارنے کا آغاز وہی کرتا کیونکہ گواہ پہلے گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد پتھر مارتا ہے لیکن چونکہ اس کا یہ جرم اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے اس لئے اب میں اسے سب سے پہلے پتھر ماروں گا، چناچہ حضرت علی (رض) نے اس کا آغاز کیا، بعد میں لوگوں نے اسے پتھر مارنا شروع کئے، ان میں میں بھی شامل تھا اور بخدا ! اس عورت کو اللہ کے پاس بھیجنے والوں میں میں بھی تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَإِنَّهَا حَمَلَتْ فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ فَاعْتَرَفَتْ فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يَرْمِي الشَّاهِدُ يَشْهَدُ ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَى النَّاسُ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩২
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت علی (رض) سے کسی نے پوچھا کہ کیا آدمی حج کے موقع پر قربانی کا جو جانور لے کر جارہا ہو جسے ہدی کہتے ہیں اس پر سوار ہوسکتا ہے ؟ فرمایا کوئی حرج نہٰیں، نبی ﷺ کا جب پیدل چلنے والوں کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی ﷺ انہیں ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم دیتے اور تم اپنے نبی ﷺ کی سنت سے زیادہ افضل کسی چیز کی پیروی نہ کرسکو گے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ وَهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَا تَتَّبِعُونَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৩
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ قَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ سرخ رنگ کے پھول دار کپڑوں، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا نَعَمْ وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ ذَكَرَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৬
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) نے جب اہل نہروان سے قتال کیا تو ایک مخصوص آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے تلاش کرو، لوگوں کو وہ مقتولین میں ایک گڑھے میں مل گیا، انہوں نے اسے باہر نکالا تو حضرت علی (رض) نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوهُ فَوَجَدُوهُ فِي حُفْرَةٍ تَحْتَ الْقَتْلَى فَاسْتَخْرَجُوهُ وَأَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ مَنْ يَقْتُلُ هَؤُلَاءِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ عُشْرِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৯
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪০
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَتْقَاهُ وَأَهْدَاهُ وَخَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْنَا حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْوِتْرِ هَذَا حِينُ وِتْرٍ حَسَنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪১
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کے پاس تھا، ان کی خدمت میں ایک کرسی اور ایک برتن پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا وضو دیکھنا چاہتا ہے تو یہ ہے نبی ﷺ کا وضو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ وَتَوْرٍ قَالَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَصَفَ يَحْيَى فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَقَالَ وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْقُطَيْعِيُّ قَالَ لَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر کو صلاۃ وسطی سمجھتے تھے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُرَاهَا الْفَجْرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ يَعْنِي صَلَاةَ الْوُسْطَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৪
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৫
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
یوسف بن مسعود کی دادی کہتی ہیں کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر ان کے پاس سے گذرا جو منیٰ کے میدان میں ایام تشریق میں اپنا اونٹ دوڑا رہا ہے اور کہتا جارہا ہے کہ یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں، میں نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ عَلَى بَعِيرٍ يُوضِعُهُ بِمِنًى فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৬
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور اشتر حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ ﷺ نے آپ کو وصیت کی ہو اور عام لوگوں کو اس میں شامل نہ کیا ہو ؟ فرمایا نبی ﷺ نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی ﷺ سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے درمیان رکھ لیا ہے۔ انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو نیز یہ کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا قَالَ وَكِتَابٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهِ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৭
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ قُبُورَهُمْ نَارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৮
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ فَقُلْتُ لَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৯
حضرت علی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ (رض) نے مجھ سے شکایت کی کہ چکی چلا چلا کر ہاتھوں میں گٹے پڑگئے، چناچہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فاطمہ آپ کے پاس چکی چلانے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑجانے والے گٹوں کی شکایت لے کر آئی ہیں اور آپ سے ایک خادم کی درخواست کر رہی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہو ؟ پھر نبی ﷺ نے ہمیں سوتے وقت ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاطِمَةُ تَشْتَكِي إِلَيْكَ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ وَتَسْأَلُكَ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ فَأَمَرَنَا عِنْدَ مَنَامِنَا بِثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ مِنْ تَسْبِيحٍ وَتَحْمِيدٍ وَتَكْبِيرٍ
তাহকীক: