আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩১ টি
হাদীস নং: ১৩৫১
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ سے فراغ کے بعد مال غنیمت میں سے انہیں ایک حصہ دیا تھا۔ ان کی والدہ کو بھی ایک حصہ دیا تھا اور گھوڑے کے دو حصے مقرر فرمائے تھے (یعنی ہر گھڑ سوار کو دو حصے اور ہر پیدل کو ایک حصہ دیا تھا )
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا وَأُمَّهُ سَهْمًا وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت زبیر (رض) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کردوں ؟ فرمایا ہرگز نہیں ! اور ویسے بھی ان کے ساتھ اتنا بڑا لشکر ہے کہ تم انہیں قتل کر ہی نہیں سکتے ؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَقَالَ أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا قَالَ لَا وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ قَالَ أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ قَالَ لَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فَقَالَ أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا قَالَ وَكَيْفَ تَسْتَطِيعُ قَتْلَهُ وَمَعَهُ النَّاسُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت زبیر (رض) سے پوچھا کہ آپ نبی ﷺ کی احادیث کیوں نہیں بیان کرتے ؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی ﷺ سے کبھی جدا نہیں ہوا لیکن میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ (اس لئے میں ڈرتا ہوں )
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لَكَ لَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا فَارَقْتُهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر بن العوام (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَجِيءَ بِحُزْمَةٍ مِنْ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَبَّ إِلَيْكُمْ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَبَّ إِلَيْكُمْ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت زبیر (رض) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کردوں ؟ فرمایا تم انہیں کس طرح قتل کرسکتے ہو ؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلزُّبَيْرِ أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا قَالَ كَيْفَ تَقْتُلُهُ قَالَ أَفْتِكُ بِهِ قَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے، تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں، یہی جھگڑا دوبارہ ہوگا یہاں تک کہ حقدار کو اس کا حق مل جائے، اس پر حضرت زبیر (رض) نے کہا واللہ یہ تو بہت سخت بات ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ قَالَ نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جنات کے قرآن کریم سننے کا جو تذکرہ قرآن شریف میں آیا ہے وہ وادی نخلہ سے متعلق ہے جبکہ نبی ﷺ نماز عشاء پڑھ رہے تھے اور آیت قرآن " کادوا یکونون علیہ لبدا " کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے سفیان کہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر چڑھے چلے آرہے تھے (یعنی نبی ﷺ کو عبادت میں مصروف دیکھ کر مشرکین بھیڑ لگا کر اس طرح اکٹھے ہوجاتے تھے کہ اب حملہ کیا اور اب حملہ کیا، ایسا محسوس ہوتا تھا)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنِ الزُّبَيْرِ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ قَالَ بِنَخْلَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا قَالَ سُفْيَانُ كَانَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ كَاللِّبَدِ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৯
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے (اور واپس آکر ٹیلوں میں بیج بکھییرنے لگ جاتے تھے) اس موقع پر ہمیں سوائے اپنے قدموں کی جگہ کے کہیں سایہ نہ ملتا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ جُنْدُبٍ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نُبَادِرُ فَمَا نَجِدُ مِنْ الظِّلِّ إِلَّا مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا أَوْ قَالَ فَلَا نَجِدُ مِنْ الظِّلِّ مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬০
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) یا حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب ہمیں نصیحت فرماتے تھے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو اس کے اثرات آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر دکھائی دیتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ اس قوم کو ڈرا رہے ہیں جن کا معاملہ صبح صبح ہی طے ہوجائے گا اور جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے عنقریب ملاقات ہوئی ہوتی تو نبی ﷺ اس وقت تک نہ ہنستے تھے جب تک وحی کی کیفیت کے اثرات ختم نہ ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ أَوْ مَسْلَمَةَ قَالَ كَثِيرٌ وَحِفْظِي سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمْ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১
حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگوں کی اچھی خاصی تعداد تھی کہ اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی) تو ہم کہنے لگے کہ یہ کون سی آزمائش ہوگی ؟ لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آگئی۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ آخِرُ حَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
তাহকীক: